9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

سید عالم حسین رضوی
امریکہ کے ایک سائنسدان ڈاکٹر ایلیس سلور (Ellis silver)نے 2013 میں ایک کتاب “Humans are not from earth” یعنی’’ انسان اس کرّۂ ارض کے نہیں ہیں‘‘ لکھ کر سائنس کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس کتاب میں دی گئی تھیوری نے ڈارون (Darwin)کی تھیوری (انسان پہلے بندر تھا) کو بھی رد کر دیا ہے اور ایک نئی دنیا کا سفر کر ایا ہے۔
ان کے دعوے کے مطابق انسان اس سیّارۂ زمین کا اصل باشندہ نہیں ہے بلکہ اس کی تخلیق کسی دوسرے سیّارہ پر ہوئی ہے اور اسے اس کے اصل سیّارہ سے کرّۂ ارض پر بھیج دیا گیا یا پھینک دیا گیا۔ڈاکٹر ایلس ،سائنسدان کے ساتھ ساتھ محقق ،مصنف اور امریکہ کے نامور ماہر ماحولیات(Ecologist) ہیں۔ یہ بھی دھیان رہے کہ بحیثیت سائنسداں وہ کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ان کا کہنا ہے کہ انسان جس سیّارہ میں پیدا کیا گیا اور جہاں وہ رہتا رہا وہ جگہ اس قدر آرام دہ، پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی (VVIP)جگہ کہاجاسکتا ہے۔وہاں انسان بہت ہی نرم ونازک ماحول میں رہتا تھا ۔اس کی موجودہ نازک مزاجی اور آرام پسند طبیعت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنے اصل سیّارہ پر غذا کے لئے کچھ بھی تردّد نہیں کرنا پڑتا تھا۔اس سیّارہ کی یہ ایسی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی آرام دہ لائف میسر تھی۔وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کے بجائے مسلسل بہار جیسا موسم رہتا تھا اور وہاں سورج جیسے خطرناک سیّارے کی دھوپ کی الٹراوائلٹ (Ultra Violet)شعاعیں بالکل نہیں تھیں۔ جو اس کی برداشت سے باہر اور تکلیف دہ ہو سکتی تھی۔کبھی اس مخلوق یعنی انسان سے کوئی غلطی ہوئی اور اسی غلطی کی وجہ سے اسے آرام دہ ماحول سے نکال کر زمین میں پھینک دیا گیا۔جس نے انسان کو اس سیّارہ سے نکالا، لگتا ہے کہ وہ کوئی طاقتور ہستی تھی اس کے کنٹرول میں سیّاروں اور ستاروں کا نظام بھی تھا۔وہ جسے چاہتا جس سیّارہ پر چاہتا ،جزا یا سزا کے طور پر کسی بھی طرح بھجوا سکتا تھا۔وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ہے کہ جہاں صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔کیونکہ زمین کی شکل کالا پانی جیل کی طرح ہے۔خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جسکے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ہے۔ اور وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔ ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہیں جو مشاہدات کے بعد ہی کوئی رائے قائم کرتے ہیں۔ان کی کتاب میں اس تھیوری کے سلسلے میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔ان کے دلائل کی بڑی بنیاد جن نقطوں پر ہے ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ زمین کی کشش ثقل (Gravity) میں اور جہاں سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے۔جس سیّارہ سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ،جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا ،بوجھ اٹھانا وغیرہ بہت آسان تھا ۔اسی لئے انسان کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ تر کشش ثقل کی وجہ سے ہے ۔کیوں کہ یہاں زمین پر رہنے والی تمام مخلوق کی ریڑھ کی ہڈی ان کے متوازی (Parallel)پائی جاتی ہے .جبکہ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کی ریڑھ کی ہڈی نوے درجے کے زاویہ پر ہے۔
۲۔انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں ۔ڈاکٹر ایلس لکھتے ہیں کہ آپ اس دنیا میں ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعویٰ سے دست بردار ہو سکتا ہوں ۔وہیں کسی ایک بھی جانور کو دیکھٔیے اسے وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر ایک بھی دائمی مرض نہیں ملے گا۔
۳۔ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کرسکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور وہ سن سٹروک (Sun Stroke)یعنی حدت کا شکار ہو جاتا ہے۔ جبکہ جانوروں کے لئے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ لگاتار دھوپ میں رہنے کے باوجود جانور نہ تو جلدی بیماری کے شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ،جن کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
۴۔ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے ،اور ہر وقت اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اس سیّارہ کا نہیں ۔کبھی اس پر بلا وجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے کہ جیسے کسی پردیس کے رہنے والے پر ہوتی ہے ۔چاہے وہ بیشک اپنے یہاں کے گھر میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے پاس ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔
۵۔ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر (Temperature)آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ کے بعد معمول پر(Regulate) ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ہے تو ان کے جسم کا درجۂ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہوجائے گا ۔جبکہ اسی وقت بادل آ جاتے ہیں تو اس کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا ۔وہیں انسان کے جسم میں ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے ۔بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کی وجہ سے بیمار ہونے لگتا ہے۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ہی پایا جاتا ہے۔
۶۔ انسان اس سیارہ پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے۔ اس کا ڈی این اے (DNA)اور جینس (Genes)کی تعداد اس سیّارۂ زمین پر پائے جانے والے دوسرے تمام جانداروں سے بہت مختلف ہے۔
۷۔زمین کے اصل باشندوں یعنی جانوروں کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں ہے ۔ وہ ان کے لئے پیدا غذا کو براہ راست کھاتے ہیں۔ جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کے لیے ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ۔پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کر نا پڑتا ہے پھراس کے معدے اور جسم کے مطابق غذا استعمال کے قابل ہوتی ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ہے ۔جب یہ اپنے اصل سیّارۂ پر تھا تو وہاں اسے بھی کھانا پکانے کا جھنجٹ اٹھانا نہیں پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو براہ راست غذا کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا ۔اس کے علاوہ یہ کہ یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا جاندار ہے جو ان کے یہاں ایلین (Alien)ہونے کی نشانی ہے۔
۸۔انسان کو زمین پر رہنے کے لیے بہت ہی نرم و گداز بستر کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ زمین کے اصل باشندے یعنی جانوروں کو اس طرح کے نرم بستروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ انسان کے اصل سیّارہ پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی۔
۹۔ انسان زمین کے سارے دوسرے رہنے والوں سے بالکل الگ ہے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور بندر یا چمپینزی وغیرہ کی ارتقائی شکل نہیں ہے بلکہ کسی اور سیّارہ سے اسے زمین پر کسی نے پھینک دیا ہے ۔انسان کو جس اصل سیّارہ پر خلق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا ماحول نہیں تھا ۔اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہو جاتی ہے ،اسے پیدائشی سیّارہ کے بالکل مطابق بنائی گئی تھی ۔لیکن یہ اس سیّارہ کا اتنا حساس جاندار تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نرم و نازک مزاجی کو دھیان میں رکھ کر اس کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔جس طرح اسے اپنے سیّارہ پر آرام دہ اور نرم و نازک بستر پر سونے کی عادت تھی زمین پر آنے کے بعد وہ یہاں بھی کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکے۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات ،مکانات اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی ان ہی جیسے مکانات کو بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔باقی سب زمین کے جاندار اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ اس زمین کی مخلوقات عقل سے عاری ہیں۔ جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے اور نہ ہی اچھا رہنے کی ۔یہ اور بات ہے کہ انسان زمین کے سخت ماحول میں رہ کر سخت مزاج ہو گیا ہے جبکہ اصل سیّارہ میں اس کی فطرت میں محبت تھی اور وہ امن و سکون کی زندگی گزار سکتا تھا انسان زمین پر ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیّارہ پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کی معیاد گزار کر اپنے اصل سیّارہ کو واپس جا سکے۔
ڈاکٹر ایلس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل اور شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کے اپنے سیّارہ سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ہے ابھی کچھ ہزار سال گزرے ہیں ۔یہاں بھی اپنی زندگی کو پہلے والے سیّارہ کی طرح آرام دہ بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ کبھی گاڑی ایجاد کرتا ہے تو کبھی موبائل فون۔اگر انسان کو آئے ہوئے چند لاکھ سال بھی گزرے ہوتے تو یہ جو ایجادیں آج کے دور میں دکھائی دے رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آچکی ہوتیں۔ کیونکہ انسان کو بنانے والے نے اس کے پاس اپنی زندگی بہتر بنانے کی تمام تر صلاحیتیں دی ہیں۔
ڈاکٹر ایلس سلور نے جو بھی نقطے اپنی کتاب میں اٹھائے ہیں انھیں ابھی تک کوئی جھوٹا ثابت نہیں کرسکا ۔یہ تمام تحقیق ایک سائنسدان کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔یہ کوئی کہانی نہیں ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ جو نتائج ڈاکٹر سلور نے نکالی ہیں وہ کم و بیش تمام الہامی کتابوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔
قارئین! ڈاکٹر سلور کی تحقیق پڑھتے وقت کیا آپ کا دھیان قرآن کی آیتوں کی طرف نہیں گیا ،جس میں اللہ نے حضرت آدم و حوا کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ نے آدم کو جنت میں رکھا اور ایک پابندی کے علاوہ جنت میں جس طرح چاہے رہنے کی آزادی دی۔ یہ جنت وہ تھی جس میں آدم و حوا کو غذا کے لیے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی تھی ۔اور انھیں محل سمیت سہولتیں حاصل تھیں۔ شاید اسی جنت کو ڈاکٹر سلور انسان کا اصل سیّارہ مان رہے ہیں ۔دوسرے یہ کہ حضرت آدم و حوا کو ترک اولیٰ کی وجہ سے جنت (ڈاکٹر سلور کے مطابق سیّارے) سے نکال دیا گیا۔ ظاہر ہے کوئی طاقت ایسی تھی جس نے ان دونوں کو سیّارۂ زمین پر بھیج دیا ۔ڈاکٹر سلور کا پھینکنا لفظ زیادہ مناسب لگ رہا ہے کیونکہ دونوں کو اس طرح زمین پر اتارا گیا کہ آدم کو سری لنکا میں کوہ آدم پر اتارا گیااور حوا کو عرب میں ۔دونوں ایک دوسرے کی تلاش میں رہے اور بڑی کوششوں کے بعد دونوں ایک دوسرے کو ڈھونڈھ پائے ۔تیسرے یہ کہ ڈاکٹر سلور کی تھیوری کے مطابق انسان سزا کے طور پر سیّارۂ زمین پر ہے لیکن یہ اس کا آخری پڑاؤ نہیں ہے بلکہ ایک دن وہ اپنے اصل سیارے پر واپس جائے گا۔ قرآن بھی تو یہی کہہ رہا ہے کہ اے انسانو!یہ دنیا کی زندگی تمہارے لئے آزمائش ہے ۔یہ تمہارا مستقل ٹھکانا نہیں ہے ،جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ملے گی ۔اچھے اعمال پر تم کو جنت ملے گی جہاں کی زندگی انتہائی خوبصورت اور پرسکون ہے اور وہی تمہارا اصل گھر ہے۔
مضمون کے آخر میں ،میں علماء اسلام سے اپیل کروں گا کہ وہ ڈاکٹر سلور سے مل کر انہیں قرآن پڑھنے کی دعوت دیں اور بتائیں کہ جو انہوں نے آج تحقیق کی ہے وہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کردیا تھا ۔اس کے بعد انہیں اسلام کی دعوت دیں۔ میرے خیال سے فصل تیار ہے بس اسے گودام میں لانے کی دیر ہے۔ اللہ ڈاکٹر سلور کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے آمین۔٭٭٭
ریٹائرڈ اسسٹنٹ جنرل مینیجر یونین بینک
حال مقیم B.3/330شوالہ بنارس
موبائل 9450543234





