9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

محمد وصی اختر معروفی
مرزا صاحب بوکھلائے ہوئے اپنے گھر سے نکلے۔ ایک پیر میں جوتا تھا اور ایک جوتا ان کے ہاتھ میں تھا۔ پسینے میں شرا بور ۔سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔ نخاس چوراہے کی طرف بھاگے ہوئے چلے جارہے تھے۔مرزا صاحب خود بھی بوکھلائے ہوئے تھے اور راہ گیروں کو بھی بوکھلاہٹ میں مبتلا کئے ہوئے چلے جارہےتھے۔ ایک موچی کی دکان پر پہنچے اور کہا میاں کیسے جوتے کے تلے کو بنایا تھا ۔ دوبارہ ٹوٹ گیا :
موچی : مرزا صاحب جیسے ہر روز بناتا ہوں ویسے ہی بنایا ہے ۔
مرزا صاحب : میاں دیکھ لو جوتے کی کیلیں باہر نکلی ہوئی ہیں ۔میرا پیر لہو لہان ہوگیا۔
موچی : مرزا صاحب اس جوتے میں کسی نے کاریگری کی ہے۔ میں نے اچھا بنایا تھا۔
مرزا صاحب : کون کاریگری کرے گا ۔ میں اپنے گھر میں اکیلا ہی ہوں۔ نہ میری شادی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی میرے آگے پیچھے ہے۔ میرے پڑوس کے بچے بھی میرے گھر نہیں آتے ۔ کون ہے جو اس جوتے میں گڑبڑی کرے گا۔
موچی: مرزا صاحب کسی نے شرارت کی ہے۔
مرزا صاحب: نہیں میاں ایسا کوئی نہیںکرسکتا۔
موچی : مرزا صاحب لائیے پھر بنا دیتا ہوں۔
مر زا صاحب : ٹھیک ہے جلدی بنادو!!
موچی:مرزا صاحب آپ کو جانا کہاں ہے ، اتنی عجلت میں کہاں جائیں گے ۔
مرزاصاحب : میاں کیا بتاؤں مجھے آنکھ کے لئے علاج کے لئے ڈاکٹر کے یہاں جانا ہے ۔
موچی : کیا پریشانی ہے مرزا صاحب ۔
مرزا صاحب: میاں کیا بتاؤں آنکھ کے ایک چشمہ لینا ہے۔
موچی : مرزا صاحب ہوا کیا تھا؟
مرزا صاحب: میاں یہ بہت طویل داستان ہے ۔
ابھی حال ہی میںمیرا ممبئی جانا ہوا ایک دوست کی شادی میں۔ میں بڑے ہی اہتمام کے ساتھ ان دوست کی شادی میں ممبئی پہنچا شادی میں شرکت کی اچھے اچھے پکوان کھائے ۔ اب لکھنؤ سے ممبئی کا سفر طویل ہے اس لئے میں پندرہ بیس دن کا انتظام کرکے وہاں پہنچا۔ شادی ہوگئی اب کرنا کیا تھا روزانہ گھومنے کے لئے نکل جاتا تھا۔
ایک دن سائیکل سے گھومنے کےلئے نکل گیا اور عادل لکھنوی کی نظم پڑھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا :
اک روز جا رہے تھے کہیں سائیکل سے ہم
پہنچے جو ۔۔ ایک موڑ پہ ۔۔۔ نازل ہوا ستم
پیڈل سے سائیکل کے ، جو پاؤں اُکھڑ گئے
ہم جا کے ایک شوخ ۔۔ حسینہ سے لڑ گئے
اتفاق دیکھئے بالکل ایسا ہی ہوا ایک موڑ پر ایک خاتون سے ٹکر ہوگئی ۔ ان خاتون کو بھی شاید عادل لکھنوی کی نظم یاد تھی ، اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
کہنے لگی کہ اندھے ہیں ۔۔۔ آتا نہیں نظر
یہ حرکتیں جناب کی ۔۔۔۔ یہ ریشِ معتبر!
پھرتے ہیں کیا شریفوں کی صورت بنا کے آپ
یوں عورتوں پہ گرتے ہیں داڑھی رکھا کے آپ
میں نے کہا محترمہ غصہ کو تھوک دو۔ اور جواب الجواب دیا
ہم نے کہا کہ تھوک دو ۔۔ غصے کو نازنیں
سائیکل لڑی ہے تم سے یہ داڑھی لڑی نہیں
داڑھی کا نام لے کے ہمیں کیوں ہو ٹوکتی
داڑھی کوئی بریک ہے جو سائیکل کو روکتی
جب تالیوں کی گڑ گڑاہٹ سنائی دی تو میں خواب سے بیدار ہوتا ۔ تو کیا دیکھا ایک درجن بچے میرے سرہانے تالیاں بجارہے تھے۔
موچی : پھر کیا ہوا مرزا صاحب
مرزا صاحب : پھر کیا ہونا تھا میں نے گوشے پڑے جھاڑو کو اٹھایا اور بچوں کو دوڑا یا ۔اسی درمیان ہوسکتا ہے جوتے کا تلا ٹوٹ گیا ہو۔ ٭





