Thursday, April 30, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldننھا مجرم

ننھا مجرم

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

زبید خان

آج پھر سے وہی حالت تھی۔ماسٹر جی ہاتھ میں چھڑی لیے کھڑے تھے اور کامل کونے میں چپ چاپ سر جھکائے کھڑا تھا۔وہ اس مجرم کی طرح تھا جو کسی سنگین جرم کے الزام میں پکڑا گیا ہو اور کچھ ہی دیر میں اسے سزا سنائی جانے والی ہو۔ماسٹر جی کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا اور دوسرے تمام طلباء سہمی ہوئی نظروں سے ماسٹر جی کو گھور رہے تھے۔جماعت میں اجلاس ماتم کی سی خاموشی طاری تھی۔
چٹاک! چھڑی کے چلنے کی زور دار آواز کے ساتھ ہی جماعت کی خاموشی ٹوٹ گئی اور ساتھ ہی کامل کی زور سے رونے کی آواز آئی ۔”خوف سے طلباء نے اپنے سر جھکا لیے ۔ان میں ماسٹر جی کی غصیلی آنکھوں کا سامنا کرنے کی تاب نہ تھی”۔اب ماسٹر جی زور زور سے چلانے لگے۔غصے میں ایک دو گالیاں بھی نکل آئیں جن کا احساس شاید ہی انہیں ہوا ہو
آج مسلسل چوتھا دن تھا جب کامل سبق یاد کرکے نہیں لایا تھا ۔اب وہ جماعت میں اکیلا ایسا طالب علم تھا جو ایک جملے سے آگے ہی نہیں پڑھ پا رہا تھا ۔حالانکہ وہ پچھلے کئی روز سے میلا کچیلا بھی آرہا تھا۔اس کے کپڑے بھی جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ان تمام باتوں سے ماسٹر جی کامل سے سخت ناراض تھے اور اس کے دل میں کامل کے لیے نفرت سی ہو گئی تھی ۔اس دن ماسٹر جی نے اپنا آپا کھو دیا اور کامل کو اتنی مار پڑی کہ وہ گھنٹوں تک ایک کونے میں سسکتا رہا۔
سن بے لڑکے کل اگر تونے پورا سبق یاد نہیں کیا تو منھ میں بتیسی نہیں رکھوں گا،سنا تونے!
چھٹی کے وقت ماسٹر جی نے کامل کو آگاہ کیا ۔ کامل نے سر ہلایا اور چپ چاپ گھر کی طرف چل دیا ۔
اگلے دن حاضری لیتے وقت جب ماسٹر جی نےکامل کا نام پکارا تو کوئی جواب نہیں آیا۔ماسٹر جی نےنظر اٹھا کر دیکھا تو کونے میں آج کامل کی جگہ خالی پڑی تھی۔ماسٹر جی نے زیر لب کچھ کہا اور اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔
اگلے دن بھی یہی حالت تھی ،کامل آج بھی اسکول نہیں آیا تھا۔ماسٹر جی نے آس پاس کے بچوں سے جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ وہ گھر پر ہی تھا ۔اب یہ روز کی بات تھی۔ماسٹر جی نے کامل کے آنے جانے پر توجہ دینا بھی بند کر دیا تھا۔کچھ دن گزر گئے تو ماسٹر جی نے اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کو اس کی اطلاع دی اور کہا کہ کامل کا نام کاٹ دینا چاہیے۔
یہ کامل ہے کہاں؟ہیڈ ماسٹر صاحب نے ماسٹر جی سے پوچھا۔
گھر پر ہی ہوگا۔پڑھنا لکھنا تو ہے نہیں۔نہ رہنے کا طریقہ نہ اسکول آنے کا کوئی طریقہ ،ایسے بچے اسکول نہ آئیں تو ہی ٹھیک ہے۔”ماسٹر جی نے جواب دیا۔
سو تو ٹھیک ہے پر آپ نے پتہ کیا کہ گھر ہی ہونے کے باوجود بھی وہ اسکول کیوں نہیں آرہا ؟پتہ کیا کرنا ،پڑھنا نہیں ہے اس کو اور کیا؟
ایسا کیجیے ایک بار اس کے گھر چلے جائیے اور اس کے والدین سے اس سے متعلق گفتگو کیجیے،پتہ کیجیے کہ بچہ اسکول کیوں نہیں آرہا ؟پھر دیکھتے ہیں کہ نام کاٹے یا رکھیں۔
ہیڈ ماسٹر صاحب کا جواب سن ماسٹر جی کا ماتھا ٹھنکا۔زیر لب بڑبڑاتے ہوئے آفس سے باہر نکل گیے۔
اب ہم ان کے پیچھے ہی گھومتے رہیں،بس یہی تو کام رہ گیا ہے ہمارا۔
من مارکر ماسٹر جی نے اپنا تھیلا(جو پچھلے سال شالو میم نے بڑی محنت سے بنایا تھا)اٹھایا اور گاؤں کی طرف چل دیے۔
گاؤں میں زیادہ تر گھر اپنے اپنے کھیتوں پر ترچھے ترچھے بنائے ہوئے تھے۔راستے کے نام پر پگڈنڈیاں تھیں “جن کو سڑک میں تبدیل کرنے کی ہر بار گاؤں کا سر پنچ کہتا تھا لیکن نہ کر سکا۔ “جن کے دونوں طرف سرسوں کی فصل جھکی کھڑی تھی۔بارش کی وجہ سے پگڈنڈیاں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھیںجن میں بارش کا پانی بھرا ہوا تھا ،جس کی وجہ سے ماسٹر جی کی سائکل کا گزرنا محال تھا۔اس سے ماسٹر جی کا غصہ اور بڑھ گیاتھا۔کبھی کبھی ان کے منھ سے کچھ الفاظ بچے اور ہیڈ ماسٹر صاحب کے لیے بھی نکل رہے تھے۔
اچانک ماسٹر جی کے کانوں میں آواز آئی السلام علیکم سر!
وعلیکم السلام!ماسٹر جی نے اپنی سائکل روکتے ہوئےجواب دیا ۔
یہ فرحان تھا ۔ماسٹر جی کا پرانا شاگرد ،جو اب کسی دکان پر کام کرتا ہے۔
سر !آج اس طرف کیسے آنا ہوا؟
ارے کچھ نہیں ،وہ کامل کئی دنوں سے اسکول نہیں آرہا ،اسی کو رونے جا رہا ہوں،کہیں زندہ ہے یا ۔۔۔۔۔! ماسٹر جی یہ کہہ کر ہنس پڑے۔
اس عجیب سے مزاق پر فرحان بھی مسکرا دیا۔
چل مجھے اس کا گھر بھی بتا دینا!
ماسٹر جی نے فرحان کو اپنے ساتھ لیا۔
تھوڑے ہی وقت میں وہ ایک کھیت کے کونے میں بنے ایک کھنڈر نما گھر کے باہر کھڑے تھے جس کی چھت لوہے کی ٹین سے ڈھکی ہوئی تھی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ اپنے آخری دن گن رہا ہو۔باہر آنگن کافی بڑا تھا جس میں ادھر ادھر کئی چیزیں بکھری پڑی تھیں۔کھنڈر نما گھر میں کھاٹ پر لیٹے ہوئے کسی شخص کے پاؤں دکھائی دے رہے تھے،جس کی بار بار کھانسنے کی آواز سے پورا گھر کسی مرض میں مبتلا تھا۔
یہ کیا ؟اچانک ہی ایک جگہ پر ماسٹر جی کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔
آنگن کے ایک کونے میں کامل نصف ننگا اپنے پیروں پر اکڑو بیٹھا ہوا تھا،کپڑوں کے نام پر اس کے بدن پر صرف ایک نکر تھی جس سے ان کی غریبی صاف ظاہر ہو رہی تھی ،اس کے ہاتھ میں بیلن تھا اور سامنے ایک چکلا پڑا تھا۔توے پر ایک روٹی پڑی تھی ۔پاس ہی اس کی چھوٹی بہن توے کو گھور رہی تھی ۔لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی توے سے اترنے والی روٹی کے انتظار میں ہو۔آٹھ سال کا کامل روٹیاں بنا رہا تھا۔
یہ تو اس کا روز کا کام ہے۔
ماسٹر جی کو ایک ٹک دیکھتے ہوئے فرحان بولا،”اس کا باپ شرابی تھا۔روز پینا اور گھر میں مارپیٹ کرنا اس کا روز کا معمول ہے۔اس سب سے پریشان ہوکر ان کی ماں ان کو چھوڑ کسی دوسرے شخص کے ساتھ چلی گئی۔کچھ وقت کے بعد اس کے باپ کو ٹی-وی (دق ) ہو گیا۔اب اس کا باپ یہاں کھاٹ پر پڑا رہتا ہے۔کامل ہی گھر کا سارا کام کرتا ہے،اس کے باپ اور بہن کو کھانا بنا کر دیتا ہے اور وقت وقت پر اسے دوائی بھی دیتا ہے۔صبح شام حمید جی کے گھر جاکر صاف صفائی کرتا ہے اور اس کی گائے،بھینسوں کی دیکھ بھال کرتا ہے، وہ تھوڑا آٹا ،دال اور کچھ روپیہ دیتے ہیں،جس سے ان کا کام چلتا ہے۔
ماسٹر جی چپ چاپ فرحان کی بات سن رہے تھے۔
ان کی آنکھیں ابھی بھی کامل پر ٹکی ہوئی تھیں۔وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے توے پر رکھی بے ڈھنگ اور بے ڈول روٹی الٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔اس کی اس کوشش میں بار بار اس کے ہاتھ توے سے لگ رہے تھے اور وہ بار بار اپنے ہاتھوں کو جھٹک کر پھونک مارتا اور روٹی کو الٹنے کی کوشش کرتا۔
اچانک ہی ایک بوند ماسٹر جی کی آنکھوں سے ان کے گالوں پر ٹپک آئی۔ان کی آنکھوں میں اس کی جماعت کے نظارے آنے لگے،گلے سے ہلکی سی سسک نکلی۔وہ ان ماضی کے خیالوں میں کہیں کھو گیے تھے۔ماسٹر جی دھیرے دھیرے کامل کی طرف بڑھے،پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،کامل اس محبت بھرے ہاتھ کو محسوس کر پیچھے کی طرف مڑا اور ہڑ بڑا کر احتراما کھڑا ہو گیا، ماسٹر جی کی آنکھوں سے کچھ بوندیں لڈھک پڑیں۔
فرحان حیرت زدہ تھا۔
بھائی لوتی جل لہی ہے اس کی بہن نے تتلاتی آواز میں دھیرے سے کہا ۔
کامل پھر سے روٹی پلٹنے میں لگ گیا۔٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular