9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

ڈاکٹر مہتاب عالم
ہندوستان دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ مذہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ اس ملک میں پانچ خاندانوں کی زبانوں کا چلن ہے۔ ملک میں ایک ہزار چھ سو پندرہ بولیوں کے بولنے والے لوگ آباد ہیں۔ ساہتیہ اکادمی دہلی کے ذریعہ چوبیس زبانوں کے ادیبوں کو اعزاز سے سرفراز کیا جاتا ہے اس میں شیریں زبان اُرد‘و بھی بھی شامل ہے۔ ان زبانوں میں اُرد‘و ہی ایک ایسی زبان ہے جس کا خمیر یہاں کے مخلوط کلچر اور زبانوں کی آپسی آمیزش سے تیار ہوا ہے۔ ہندوستان صوفیا کا ملک کہا جاتا ہے ۔ اس وسیع اور عریض ملک میں ا ب تک کی تحقیق کے مطابق سب سے پہلے جس بزرگ نے اسلام کے پیغام حق کو بلند کیا تھا وہ حضرت تمیم انصاری ؓ کی ذاتِ اقدس ہے ۔ حضرت تمیم انصاریؓ پانچ ہجری سے سرزمینِ ہند کو اپنی ریاضت کا مرکز بنایا تھا۔ اس کے بعد یہاں پر سمندری اور ساحلی علاقوں سے اہلِ سلاسل کے صوفیا بڑی تعداد میں اندرون ملک آئے اور رشد و ہدایت کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔
ہندوستان میں یوں تو محمدبن قاسم کو سب سے پہلے مسلم کمانڈر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ لیکن محمد بن قاسم سے قبل محمود اور عدیل نامی کمانڈر سندھ کے ساحلی علاقہ تک آچکے تھے لیکن وہ سندھ کے ساحلی علاقہ پر ہی شہید ہو گئے ۔ محمد بن قاسم پہلا ایسا کمانڈر تھا جس نے سندھ کے اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ محمد بن قاسم نے ملتان کے حکمراں کو الٹی میٹم دیا ہی تھا کہ اسی عہد میں خلیفہ ولید بن مروان اور حجاج بن یوسف کے انتقال ہوجانے سے نہ صرف اسلامی فتوحات کا سلسلہ منقطع ہو گیا بلکہ محمد بن قاسم کو سلیمان بن مروان نے بلا کر قتل بھی کروا دیا ۔ الغرض محمد بن قاسم سندھ میں ایک فاتح کی حیثیت سے ۷۱۰ھ میں داخل ہوا لیکن سندھ سے دہلی تک کا سفر طے کرنے میں مسلم بادشاہوں کو تین سو سال کا عرصہ لگ گیا ۔ محمود غزنوی دہلی میں داخل ہونے والا پہلا مسلم بادشاہ تھا ۔ محمد بن قاسم سات سو دس میں سندھ میں داخل ہوا تو محمود غزنوی دس سو دس میں دہلی میں داخل ہوا ۔ لیکن سندھ سے دکن پہونچنے میں مسلم بادشاہوں کو پانچ سو چھیاسی سال کا عرصہ لگ گیا۔ علاوالدین خلجی پہلا مسلم بادشاہ تھا جو دکن میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا تھا ۔ علاوالدین خلجی کے بنائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ہی محمد تغلق نے دکن میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ محمد تغلق نے جب دیوگری پر قبضہ کیا تو اس کو یہ جگہ اتنی پسند آئی کہ اس نے نہ صرف اس جگہ کو اپنا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا بلکہ اسے دولت آباد کا نام دے کر دہلی کو بھی اس نے یہاں منتقل کرنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ دہلی کی عربی اور فارسی کی زبان بولنے والوں کی ایک کہکشاں جب دکن پہونچی اور دکن کے بازار میں مقامی زبان سے دہلی کی عربی اور فارسی زبان کی ملاقات ہوئی تو ہندی کی راہ ہموار ہوئی ۔ اُرد‘ و کا ابتدائی سفر’ہندی ‘ ریختہ سے ہوتا ہوا ہم آپ تک اُرد‘و کی شکل میں پہنچا ہے۔ اس زبان کی تربیت میں صوفیا نے بنیاد کا کردار ادا کیا ہے۔ صوفیا کی ریاضت کا مرکز ہندوستان کا کوئی ایک خطہ نہیں ہے بلکہ اہل سلاسل کے بزرگوں نے پورے ہندوستان کو اپنے حلقے میں لیکر اسلام کے پیغامِ حق کو پہنچایا ہے جس طرح سے مدھیہ پردیش میں اہل سلاسل کے صوفیا آرام فرما ہیں اسی طرح سے سرزمینِ بہار کو اہل سلاسل کے بزرگوں نے اپنی تعلیمات سے روشن کیا ہے۔ سلطان المحققین حضرت مخدوم شیخ شرف الدین یحیی منیری رحمتہ اللہ علیہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ آپ کے ملفوظات سے بہار میں اُرد‘و کے ابتدائی نقوش کا پتہ چلتا ہے۔ آپ کا زمانہ وہی جو حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد طوطی ہند حضرت امیر خسرو کا ہے۔ بہار اُرد‘ و زبان کا گہوارا ہے۔بہار کی اُرد‘و ادب میں خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ میرا یہ مضمون جس شخص کے نام نامی سے منسوب ہے اُس کا تعلق صوبۂ بہار سے ہے۔ اُردو دُنیائے ادب اسے افروز عالم کے نام سے جانتی ہے ۔ افروز عالمؔ کی پیدائش اور تعلیم و تربیت بہار میں ہوئی ہے۔ انھوں نے سائنس میں گریجوایشن کے بعد ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ میں نے ان کی ڈگریوں کا ذکر اس لئے کیا کہ تاکہ قاریٔین کو یہ معلوم ہوسکے کہ افروز عالم ؔ کی شاعری میں عصری میلانات کے ساتھ سائنسی موضوعات کیوں کر اور کس طرح سے در آتے ہیں۔ افروز عالمؔ ایک حساس شاعر ہیں ۔ اپنے ارد گرد زمانے کے نشیب و فراز اور سرد و گرم کو جس طرح جس انداز میں دیکھتے ہیں اسے شعری پیرائے میں پیش کر دیتے ہیںاور جب قاری اس کو پڑھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ گویا وہی خیال ہے جو اس کے اپنے دل کا احساس ہے ۔گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ افروز عالم ؔ کی شاعری غمِ جاناں اور غمِ دوراں کے حسین امتزاج سے آراستہ ہے۔ بلندخیالی اور کچھ نیا کرنے کی خواہش نے ان کی غزلوں میں آب و تاب ، سوز و گداز، حسن و اثر کو ایک خاص انداز میں پیش کیا ہے اور یہی افروز عالمؔ کی شاعری کا کمال ہے۔ افروز عالمؔ اپنے معاصرین میں افروز اس لئے ہیں کہ وہ شمعِ شبستان کے سارے رنگ اپنے انداز میں جذب کرکے اسے نئے انداز میں پیش کرنے کے ہنر سے آراستہ ہیں۔ شعر ملاحظہ کیجئے ۔
چاند تاروں کی روشنی رکھنا
خاک کو یہ ادب نہیں آتا
میں اپنے ہی جنوں سے ایک نیا عالم بنایٔوںگا
مجھے پابند کرتے دایرے اچھے نہیں لگتے
بہت ہی دیر سے کلیوں کو نیند آیٔ ہے
نسیم صبح سے کہ دو قدم دبا کے چلے
افروزعالمؔ کی خوبی بھی یہ ہے کہ شاعری میں وہ اپنی بات کو مبہم نہیں بناتے ۔ وہ اپنی بات کو سادہ انداز میں اس طرح کہتے ہیں کہ سامع کے دل میں اتر جاتی ہے ۔ ان کا شعری مجموعہ ’’ دھوپ کے عالم میں‘‘ کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ انھوں نے کہیں کہیں پر بات کو فلسفیانہ نقطۂ نظر اختیار کرکے بھی کہنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کو پڑھنے والا قاری کسی ایک نقطہ پر ٹھہرا ہوا نہیں رہتا ہے بلکہ وہ ایک شعر سے یا ایک مفہوم سے مختلف جہات کو نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کی شاعری کے وجدان میں بعض مقامات تو ایسے بھی آتے ہیں جب قاری شعر کو ایک ہی وقت میں مختلف زاویوں سے غور کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ افروز عالمؔ غزلوں کے ساتھ نظم کے پیرائے میں بھی اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ افروزعالمؔ کے شعری مجموعوں کو غور سے پڑھنے والے قاری کی نظر سے بہت سے اشعار ایسے بھی گزرتے ہیں جن میں فکر و فن کے ساتھ مشاہداتی اور جمالیاتی کیفیت کے ادراک کی گنجائش بآسانی لگائی جا سکتی ہے۔ بہرکیف، افروز عالمؔ میدانِ سخن میں جس تیور کے ساتھ گزشتہ دو دہایئوں سے اپنی موجودگی کا احساس کروا رہے ہیں اور جس طرح سے بہتر سے بہتر کہنے کی ان کی کوشش جاری ہے ۔اس کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی یہ کوشش ایک دن انھیں اپنے معاصرین میں نمایاں ضرور کرے گی۔
ڈاکٹر مہتاب ؔعالم ای ٹی وی نیوز ۔ بھوپال





