9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
ڈاکٹر محمد ارمان
بیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں، بہار کے حوالے سے اردو افسانے کی تاریخ یقینا بڑے بڑے معتبر ناموں سے آراستہ ہے اور ان میں سید احمد قادری کا نام اور کام خصوصیت کے ساتھ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے استناد بداماں کہا جائے۔ سید احمد قادری نہ صرف یہ کہ نہایت ہی خلیق شخصیت کے مالک ہیں اور افسانہ تنقید لکھنے میں نمایاں مہارت رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے بجا طور پر افسانہ نگاری کی دنیا میں اپنی درخشاں پہچان بنا رکھی ہے۔ پروفیسر عبدالمغنی نے ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں اگر یہ لکھا ہے کہ وہ سماج اور شخصیت کے کانٹے چن چن کر فن کا گلدستہ بنانے کی کوشش کرنے والے قلم کار ہیں، تو یقینا اس میں چنداں مبالغہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فن کار بہر صورت اپنے عہد و ماحول کا پروردہ ہوتا ہے اور اپنی نگارشات میں اپنے مشاہدات و تجربات، اپنے تاثرات کے ساتھ زمانے کو لوٹادیتا ہے۔ سید احمد قادری نے منفیات اور استحصال پسندی کا جو زمانہ پایا اور انسانی و اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت کا جو مسلسل ہولناک منظر دیکھا، وہی سب کچھ ایک خاص مقصدی شعور کے ساتھ، ہمیشہ سے ان کے افسانوں کا موضوع بنتا رہا ہے۔ وہ افسانے سے عصری و عمرانی مسائل کی نشاندہی کرانے اور سماجی و سیاسی مشعور کو افسانے کے قالب میں ڈھال دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ درد و کرب کی لہریں سمیٹ لینے میں انہیں خاص مشق و ممارست حاصل ہے اور کہانی کے عنصر کا خیال رکھتے ہوئے وہ اپنی افسانوی کاوشوں کے توسط سے انسانیت کا احساس جگانا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر قیام نیر نے غلط نہیں لکھا ہے کہ:
’’سید احمد قادری کے افسانوں میں ہر جگہ کہانی پن موجود ہے۔ افسانوں میں واقعات کو تہداری کے ساتھ پیش کرنے کے ہنر سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے احساسات و جذبات اور مشاہدات سے،جواُن کے افسانوں میں فنی انداز سے پیش کئے گئے ہیں، قارئین متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ ان کے افسانوں میں ہندوستانی معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں مثلاً عورتوں کی بے بسی، استحصال، مایوسی، گھٹن، اخلاقی گراوٹ اور ظلم و جبر کو آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(زبان و ادب، پٹنہ، اپریل، مئی، جون ۲۰۰۹ء، ص ۷۱)
سید احمد قادری کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ریزہ ریزہ خواب‘‘ ۱۹۸۵ء میں اور دوسرا افسانوی مجموعہ ’’دھوپ کی چادر‘‘ ۱۹۹۵ء میں شائع ہوا تھا اور نہ صرف یہ کہ ان دونوں افسانوے مجموعے کی بازگشت تا دیر سنی جاتی رہی، بلکہ ان کا تیسرا مجموعہ ’’پانی پرنشان‘‘شائع ہوا تو اسے بھی ادبی دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا،یہ ۲۰۰۶ء کی بات ہے اور آج تقریباً بارہ سال کے فاصلے سے بھی اس مجموعے کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کے اعترافیہ اظہار میں کوئی جھجک ،دشواری، مضائقے یا مبالغے کا احساس نہیں ہوتا کہ اس مجموعے کی کہانیوں کے توسط سے سید احمد قادری نے تحلیل نفسی اور زندگی کے مخمصات و مسائل کو نہایت ہی سلیقہ مندی کے ساتھ، پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیا ہے۔ آج کا انسان مادی خوش حالی کے پیچھے بے تحاشہ بھاگ رہا ہے اور اس کا یہی رویہ ہے جس نے اسے ذہنی انتشار اور عجیب و غریب سفاہت کاری میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’پانی پر نشان‘‘ ایک علامتی نام ہے۔ پانی پر نشاں ٹھہرتا نہیں ہے، مگر نشان لگائیں تو ایک بیوقوفی کا احساس ضرور ہوتا ہے، بالکل اسی طرح آج کے مادیت پرست معاشرے کی حرکتیں اور اس کا انجام اس کے ضیاع فکر و عمل اور ضیاع وقت کا احساس دلاتا ہے۔ سید احمد قادری کا افسانوی سفر ۱۹۷۳ء سے شروع ہوا تھا، اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تیسرا مجموعہ، ان کے تقریباً تیس سالہ تجربے، مشاہدے، مشق و مہارت اور گوناگوں احساس کا امین بھی ہے اور آئینہ دار بھی جس میں انہوں نے نہایت سادہ ، مگر موثر طریق اظہار سے کام لیا ہے۔
یہ مجموعہ بلاشبہ انہیں ایک نفسیات نگار اور جہاندیدہ فن کار کے روپ میں ہمارے سامنے لا دیتا ہے۔ سید احمد قادری تجریدی انشا پر درازی سے ہمیشہ دامن کشاں رہنے والے اور خاص ادراک کے ساتھ باماجرا کہانیاں لکھنے والے فن کار ہیں۔ اگر چہ یہ درست ہے کہ ان کی افسانہ نگاری ، بسا اوقات صحافت نگاری سے اپنی دوری بنائے رکھنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی، لیکن ان کے یہاں بہر صورت عصر حاضر کی جو کامیاب عکاسی ملتی ہے اس کی تاثیر سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
سید احمد قادری کے یہاں ’’پرچھائیاں خوابوں کی‘‘، ’’شعلوں میں گھرا خواب‘‘، ’’رشتہ نیند کا‘‘ اور ’’پہرے خوابوں پر‘‘ جیسی متعدد کہانیاں ملتی ہیں جو یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ اس طرز کی کہانیاں لکھنے میں وہ بے حد کامیاب ہیں۔ افسانہ ’’پرچھائیاں خوابوں کی‘‘اگرچہ قدرے طوالت رکھتا ہے اور اس میں تجسس بھی حسب توقع کامیاب نہیں ہے، لیکن فنکار نے جس طرح مفلسی کی زبردست عکاسی کی ہے، اس کی مثال ذرا کم کم ہی ملتی ہے۔ یہاں اگرچہ ایک ہلکی سی بھول بھی ہوئی ہے کہ شرافت حسین کے دس سالہ بیٹے سلطان کا نام، آٹھ سالہ بیٹی مسرت کے بعد لایا گیا ہے، مگر یہ تو ایک جزوی تسامح ہے، اصل دیکھنے کی چیز تو یہ عبارت ہے :
’’… اسی دوران رمضان کا مہینہ آگیا۔ رمضان کا چاند دیکھ کر اسے اطمینان اور مسرت کا احساس ہوا۔ اس کی بھوک اور پیاس کو ایک پردہ مل گیا۔ پہلے تو وہ اور اس کی بیوی روزے کا خوب خوب احترام اور اہتمام کرتے تھے، لیکن اس ماہ کے روزے کا وہ صرف احترام ہی کرسکتا تھا…‘‘ (پرچھائیاں خوابوں کی)
اور کہانی کا کلائمکس جب عید کا چاند نکلنے پر، پورے خاندان کی اجتماعی خودکشی کا منظر دکھاتا ہے تو پڑھنے والوں کے دل دہل جاتے ہیں اور افسانے کے عنوان کی استعاراتی و نفسیاتی معنویت و تہداری بہت دیر تک یاد آتی رہتی ہے۔ ’’شعلوں میں گھرا خواب‘‘ جنسی نا آسودگی کی کہانی ہے۔ یہاں رشمی کا شوہر، اس کے خوابوں کے برعکس ’’نامرد‘‘ ثابت ہوتا ہے اور بقول افسانہ نگار ’’امنڈتی ندی کی پرواہ کئے بغیر دور کھڑا تماشائی ‘‘ بنا رہتا ہے۔ ’’رشتہ نیندکا‘‘ ایک نفسیاتی مریض کی کہانی ہے جو اپنے بیٹے کو جوان ہونے تک پورے چوبیس سال اپنے ساتھ سلاتا ہے اور افسانہ ’’پہرے خوابوں پر‘‘ مدن اور راجو نامی دو کم عمر، ہوٹل کے بیرے کی بپتا سناتا ہے۔ یہاں قانون پر گہرا طنز بھی ہے اور غربت کی تلخ عکاسی بھی۔ اسکول جانے کی چاہت رکھنے والے ان بچوں کو ، جو ہوٹل کے بڑی عمر والے نوکروں کے ذریعہ رات کو اپنی نیکراتارے جانے اور گندی گندی حرکتیں برداشت کرنے پر مجبور تھے، کسی گاہک سے بال مزدوری پر پابندی کی خبر ملتی ہے اور وہ خوش بھی ہوتے ہیں، مگر ’’ہم رہیں گے کہاں اور کھائیں گے کیا؟‘‘ جیسے سوال پر گویا’’ ان کے خیالات، حقیقت کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ‘‘ ہو جاتے ہیں اور وہ سرجھٹک کر ٹیبل صاف کرنے والے جوٹھے برتن اٹھانے میں لگ جاتے ہیں۔
سید احمد قادی کا افسانہ ’’مسیحا کی مسیحائی‘‘ اگر پیسے کے لئے قلم بیچنے والے ادیب کے احوال اور اس کی بے حسی پر ، اس کی بیوی کے تیکھے اور حساس سوالات سامنے لاتی ہے اور استعاراتی زبان کے ساتھ، کہانی کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے تو ’’خوشبو گلاب کی‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی کہانی بھی یوں اہم ٹھہرتی ہے کہ ا س میں اس کہانی کار سے ہماری ملاقات ہوتی ہے جس کا دوست پریم، مغلیہ دور کے انحطاط پر کتاب لکھ رہا ہے اور اس میں مختلف مذاہب کے ایک ہی قبرستان کی تفصیل آتی ہے اور چوکور قبر کا راز یوں کھلتا ہے کہ انگریزوں کے مظالم سے ایک نوجوان کو بچانے والے مولانا حامد علی کی لاش دفن کرتے ہوئے لالہ ہری داس سے سمت کی غلطی ہوگئی تھی، اس لئے ان کے مشورے پر قبر چوکور کردی گئی۔ یہاں مولانا حامد علی کی بیگم کے کردار سے عورت کے صبر اور اس کی ہمت کا منظر نامہ سامنے آتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ ہندو مسلم یکجہتی اور وطن کے لئے متحدہ قربانی کا معاملہ بھی آئینہ ہو جاتا ہے۔
بیشک اس کہانی میں وطن سے محبت کے گلابوں کی وہ خوشبو ہے جو آج بھی مشام فکر کو معطر کر رہی ہے۔ سید احمد قادری چونکہ خود ادب اور صحافت کا گہرا شعور اور اس کی آزمائشوں اور اس کے اثرات پر گہرا یقین رکھنے والے قلم کار ہیں اس لئے انہوں نے خصوصیت کے ساتھ اپنی کئی کہانیوں میں اس موضوع سے واسطہ رکھا ہے، چنانچہ ان کے مجموعہ ’’پانی پر نشان‘‘ میں کہیں بے حس و بے غیرت قلم فروش ادیب سے ہماری ملاقات ہوتی ہے، کہیں تاریخ کی سچی جستجو کرنے والے نوجوان سے اور کہیں ’’الوداع کے بعد‘‘ جیسے افسانے میں ’’ان تھک‘‘ کے ایڈیٹر سے اور اس طرح گویا یہ پیغام ہم تک نہایت موثر انداز میں پہونچ جاتا ہے کہ صحافت کس بلا کی انقلابی قوت رکھتی ہے۔
’’بوند بوند زندگی‘‘ سراج احمد نامی ایک خاندانی رئیس کی کہانی ہے جنہیں ایڈس کے مریض کا خون چڑھا دیا گیا تھا، یہاں تک کہ وہ اس خبیث مرض میں مبتلا ہوگئے، مگر ان کے تمام رشتہ داروں اور دوستوں نے ان کے کردار کے بارے میں یک طرفہ سوچ ہی رکھی۔ اس تناظرمیں افسانہ نگار نے یہ سوچنے کی دعوت دی ہے کہ اصلاً بیمار کون ہے؟ سراج احمد یا یک طرفہ سوچنے والے، بہر کیف یہ نفسیات کی عکاس ایک کامیاب کہانی ہے اور اس میں تجسس اور ماجرا نگاری کا زبردست عنصر بھی ملتا ہے۔ اگرچہ یہاں ’’اسلام و علیکم‘‘ اور ’’وعلیکم السلام‘‘ کا ٹکڑا کھٹک جاتا ہے، لیکن ’’وقت اور حالات کئی چاہتوں پر پہرے بیٹھا دیتے ہیں‘‘ جیسا آفاتی صداقت پر مبنی جملہ بہر حالات عصریات امروزہ کے کئی پہلو بھی روشن کر دیتا ہے۔ ’’درد گنگا کا ‘‘ بھی ایک خوبصورت استعاراتی افسانہ ہے جس میں انسانی اعضاء کے اسمگلروں کا معاملہ، غربت کی بے بسی، ڈاکٹروں کی ناجائز ملی بھگت، نا جائز اولاد، غیر قانونی اسقاط حمل ، جنین کی تباہی اور گنگا ندی کی آلودگی کے خطرات بلا کی چابک دستی سے آئینہ کردئے گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید احمد قادری یقینا ایک باریک بیں فن کار ہیں اور انہیں تہداری کے ساتھ کہانی کی بنت کا ہنر بخوبی آتا ہے۔ کہانی ’’دستک رشتوں کی ‘‘ میں اگرچہ پھاٹک کھول دینے والی بات ذراکھٹکتی تو ہے کہ عموماً بلوے کے موقع پر بے سوچے سمجھے ایسا نہیں ہوتا، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں دبنگ سیاست دانوں کے گرگوں کا کرداردکھانے میں افسانہ نگار پوری طرح کامیاب ہے اور کہانی میں جو نفسیاتی ٹچ دیا گیا ہے وہ بہت ہی خوب اور بہت ہی جذباتی ہے۔ مہہ ناز اپنے شوہر کے جملہ ’’ایسا نہ کہو‘‘ کو اس کی عقیدت مندی سمجھتی ہے حالاں کہ بات کچھ اور ہی ہے۔ یہ کہانی یقینا اپنے قاری کو پوری طرح متاثر کر لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسی طرح اسٹیشن پر چائے بیچنے والے چودہ سالہ چاند کی کہانی ’’چاند چھپ گیا بادلوں میں‘‘ کے توسط سے بھی سیاسی دعوے کا تضاد، پولس کی زیادتی، عوام کی خوش فہمی اور بروقت مدد نہ کرنے والوں کا حال بخوبی آئینہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک درد بھری کہانی ہے اور یہاں مکالمے میں دیہاتی بولی کا جس برجستگی سے استعمال ہوا ہے وہ بھی دیدنی ہے۔ اس کہانی کے آخر میں نیتا جی کی تقریر کیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ بظاہر سچ کی پوٹلی سے جھوٹ ہی جھوٹ نکل رہا ہے۔
سید احمد قادری کی نظر سیاست و سماج کے ایک ایک منفی پہلو پر ہے، چنانچہ انہوں نے ’’یہ عشق نہیں آساں‘‘ میں بڑی فن کاری اور عمدگی سے ویلنٹائن ڈے منانے والوں پر تنقید کی ہے اور جنسی انار کی و بے حیائی اور اس میں مدد کرنے والوں کا کردار سامنے لادیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں ’’موریہ کلینک‘‘ کے سائن بورڈ پر ’’ان چاہے گر بھ سے چھٹکارا، راز کو راز رکھنے کا وعدہ‘‘جیسی عبارت کھلے عام لکھی جا رہی ہو اور نوجوانوں کو ’’ آج ہی ملنے‘‘ کی دعوت دی جارہی ہو، وہاں عشق کے منفی ماحصل کا کیا پوچھنا۔ اس کہانی میں مظہر امام کے ایک شعر کا استعمال بھی بڑی ہی معنوی جہات کے ساتھ ہوا ہے۔ ’’شکاری فاختائوں کے ‘‘ اور ’’جلتی بجھتی قندیلیں احساس کی‘‘ جذبات کو جھنجھوڑ دینے والی، کلائمکس کے ہنر سے بھرپور ایسی کہانیاں ہیں جن کے اثر و نفوذ کا جتنا بھی اعتراف کیا جائے وہ کم ہوگا۔ یہاں ’’شکاری فاختائوں کے‘‘ بیج عصمت دری کی شکار ہو جانے والی دوشیزہ کے بوڑھے باپ کی آواز مل رہی ہے:
’’میری بیٹی کو آزاد کردیجئے، کم از کم وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا آخری دیدار تو کر سکے۔‘‘
مگر براہو قانون کے عیاش رکھوالوں کا کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کہانی کے توسط سے سید احمد قادری نے گرم گوشت کی لالچ میں بے حس ہو جانے والوںکا کردار جس طرح سامنے لایا ہے وہ بس انہیں کا حصہ ہے اور پھر ایک تقابل کی صورت میں کہانی اس وقت نیا موڑ لے لیتی ہے، جب وہی بوڑھا باپ ٹیم کے اس سردار کو اپنے گردے کا عطیہ دینے کے لئے پہونچتا ہے جس نے اس کی بیٹی کی عصمت تار تار کی تھی، گویا افسانہ نگار یہ دکھانا چاہتا ہے اور ہمہ صورت انار کی کے گھنگھور اندھیرے میں یوں اجالے کی شمع یقین جلانا چاہتا ہے کہ اعلیٰ انسانی قدریں خواہ کتنی ہی مسخ کی جارہی ہوں، لیکن اس کے چہرے پر انسانی ترحم کا غازہ لگانے والوں کی فکر اور عمل سے بہرحال دنیا خالی نہیںہے۔
’’جلتی بجھتی قندیلیں احساس کی‘‘ نسرین اور شاہد کی محبت کرنے والی جوڑی کے حوالے سے، ذہنی دبائو کے منفی اثرات وعوامل کی ایک عمدہ کہانی ہے۔ یہاں ان لڑکیوں کی مشکلات سامنے آتی ہیں جو دفتروں میں ملازمت اختیار کرتی ہیں اور جہاں ارشد جیسے کردار ان کے لئے ذہنی کشمکش کی ایسی فضا بنا دیتے ہیں کہ انہیں اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر خود ہی نوکری چھوڑنی پڑتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موضوعات و مشاہدات اور تجربات کے گہرے تنوع اور ان کی موثر فنی پیش کش سے سید احمد قادری کے افسانے پوری طرح آراستہ و پیراستہ ہیں۔ یہاں پھیری اور مزدوری کرنے والے بچوں کا مظلوم کا کردار بھی ہے، بوڑھے کرداروں کا نفسیاتی کرب بھی ہے، ملازمین کی خودکشی پر مجبور کر دینے والی بے بسی بھی ہے، قلم بیچنے والے ادیب ہیں تو انہیں ٹوکنے والی نڈر و حساس بیوی بھی ہے، برے وقت میں کام آنے والی لالہ ہری داس اور حامد علی کی جوڑی بھی ہے، حامد علی کی صابر وہمت ور بیوہ بھی ہے اور صحافت کی لاج رکھنے والے کردار بھی۔ قسمت و قانون اور سیاست و جذبات کی شکار بننے پر مجبور ہونے والی لڑکیاں بھی ہیں اور وہ خاموش ’’گنگا‘‘ بھی جو سبھوں کے پاپ دھو رہی ہے اور حساس ادیب اس کی اداسی دیکھ بھی رہا ہے اور دکھا بھی رہا ہے۔ شاید یہ بھی ’’پانی پر نشان‘‘ کا ایک مفہوم ہے کہ یا تو بے معنی کاوشوں میں ہم مگن ہیں یا ادیب کے قلم سے اس کا احساس دلانے کی کاوش اپنے مستقل اثرات کی منتظر ہے۔ بات کچھ بھی ہو، تاویلیں کچھ بھی ہوں، مگر یہ اٹل ہے کہ سید احمد قادری نے ’’پانی پر نشان‘‘ کی کہانیوں سے اپنے ایسی پہچان ضرور بنالی ہے جسے روشن اور منفرد پہچان کہتے ہیں۔
ژژژ





