غـزل

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

ذوالفقارخان زلفی ؔ

چہرہ تھا یا کہ چاند تھاکوئی نقاب میں
ظاہر ہوا تو چمکا بڑے آب و تاب میں
اس کو بھی ڈس لیا ہے خزائوں کے ناگ نے
خوشبو کہاں رہی ہے مرے اس گلاب میں
کل تک جو دشمنوں کی صفوں کا تھا رہنما
شامل ہوا ہے وہ بھی مرے انقلاب میں
سورج جلا رہا ہے میرے جسم کا لہو
ہر وقت زندگی ہے مری اک عذاب میں
روشن ہوئے جو جگنو حسد سے بکھر گیا
یہ کیسی ٹوٹ پھوٹ ہوئی آفتاب میں
جو منجمد ذہن تھے سبھی جاگنے لگے
زلفیؔ عجب سا رنگ ہے ترے خطاب میں
زہرہ باغ علی گڑھ (یوپی)

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular