HomeMuslim Worldدبستان مر شد آبا کاگم نام نگینہ :عا شق حسین عا شق

دبستان مر شد آبا کاگم نام نگینہ :عا شق حسین عا شق

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

 

سیدہ جنیفر رضوی

مرشدآباد میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں مقامی صاحبان فن و فکر کے علاوہ بیرونی شاعر و ادیب حضرات کا کردار بھی نہایت اہم رہا ہے ۔ دراصل ماضی میں بنگال ، بہار اور اڑیسہ کی راجدھانی کا شرف حاصل ہونے کی وجہ سے مرشدآباد روز اول سے ہی غیر مقامی حضرات کا بھی جائے مسکن رہا ۔ تجارت کار ، صنعت کار ، فن کار ، دست کار اور قلم کار و انتظامی اہلکار کی یہ ہمیشہ آما جگاہ رہا ۔ راجدھانی ہونے کا شرف حاصل ہونے کی وجہ سے مرشدآباد کی روایت رہی ہے کہ اس شہر نے روز ِ اول سے ہی بیرون شہر سے آئے با کمال و با صلاحیت فن کاروں کو اپنے دامن میں جگہ دی اور مرشدآباد کے تمام شعبہ ہائے حیات کی ترقی میں مقامی حضرات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر بیرون شہر سے تشریف لائے ہوئے حضرات نے جو نمایاں کردار ادا کئے وہ محتاج تعارف نہیں ۔ فن تعمیرات ہو یا ادب و ثقافت تدریسی معاملات ہوں یا مذہبی اور شرعی امور کی انجام دی، سب میں ان لو گوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔
انتظامی صلاحیت ہو یا فوجی و جنگی کمالات غرض یہ کہ ہر شعبہ میں مرشدآباد کی ترقی میں بیرونی حضرات کی خدمات سے تاریخ مرشدآباد کے اوراق بھرے پڑے ہیں ۔ ہر چند کہ ایسی بیش بہا خدمات انجام دینے والی بیرونی شخصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے تا ہم ان طویل فہرست میں ایک اہم نام عاشق حسین عاشقؔ کا ہے جو دبستان ِ مرشدآباد میں ستارے کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں ۔ مرشدآباد کے بیرونی ملک سے آئے ہوئے شعراء کی تاریخ میں عاشق حسین عاشقؔ کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ آپ کی شعری تصنیفات نے مرشدآباد کی ادبی فضا کو بہت متحرک کیا ۔
آپ کا پورا نام عاشق حسین اور تخلص عاشقؔ ہے ۔ آپ ایرانی نسل کے خانہ بدوش کی زندگی ترک کرکے مرشدآباد میں مستقل طور پر سکونت پذیر رہے ۔ آپ کے آبا و اجداد تہران سے آئے تھے ۔ ماضی میں آپ کے آبا و اجداد مختلف اشیاء کی تجارت میں مصروف تھے ۔ قالین گھوڑے اور قیمتی نگ و پتھر کا کاروبار ہی ان لوگوں کا ذریعہ معاش تھا ۔ اسی تجارت کے تحت انہیں ہندوستان کے مختلف شہروں کا سفر طے کرنا پڑتا ، سفر کی مصیبتوں کو جھیلنا پڑتا ۔ یہی طرز ان لوگوں کی رہائش اور گزر بسر حیات تھا ۔ ایسے ہی حالات میں آپ ۱۹۴۰ ء میں حیدر آباد میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام نواب علی تھا جو کہ ایک تاجر تھے اور والدہ کا نام پری بی بی ۔ آپ کے والد نے دو شادیاں کی تھیں ۔ جب آپ ۸ سال کے تھے تب والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ آپ کی ایک بہن اور دو بھائی تھے ۔ حسب روایت آپ کی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ ایرانیوں کا یہ چلن تھا کہ یہ لوگ سارے قبیلے والے مل کر ایک استاد معین کرتے تھے جو ان کے بچوں کو گھر گھر جا کر تعلیم دیتے تھے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کبھی بھی درس گاہ نہیں گئے یہی راہ چلتے ہی آپ نے اتنا علم حاصل کر لیا کہ اپنے خیالات و جذبات کا اظہار آپ اشعار میں کرنے لگے ۔ بچپن سے ہی آپ بڑوں کی صحبت میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے تھے کھیل کود میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے ۔ بہت ہی خاموش طبعیت کے مالک تھے اور اپنا زیادہ وقت چچا کی صحبت میں گزارتے تھے آپ کے چچا معلّم تھے اور فارسی کے ایک اچھے شاعر تھے ان کا نام علی داد اور تخلص بھی علی داد تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ چچا کی صحبت نے مجھے نکھارا ہے ۔ آپ کی شادی ۲۰ سال کی عمر میں ہوئی آپ کی اہلیہ کا نام نوبہار بی بی ہے آپ کے چار بچے ہیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں ۔ آپ کاذریعہ معاش قیمتی نگ و پتھر ہے ۔ آج کے دور میں آپ اپنے اہل خانہ و قبیلہ کے ہمراہ مرشدآباد میں مقیم ہیں لیکن کاروباری مصروفیت کے تحت آج بھی آپ کا سفر جاری ہے مگر گھر کی خواتین مستقل طور پر مرشدآباد میں قیام پذیر ہیں ۔ آپ کو نگ و قیمتی پتھر کی شناخت کے علاوہ دست شناسی کا علم بھی بہت خوب ہے ۔
۲۰ صدی میں دبستان ِ مرشدآباد کے شاعروں میں آپ کا ایک اہم مقام ہے ۔ آپ کی مادری زبان فارسی تھی ابتدا میں آپ فارسی میں شاعری کرتے تھے آپ کی شاعری کے دو دور ہیں پہلے آپ حسین و عاشقی کی شاعری کرتے تھے ۔ ۲۲ سال کی عمر سے شاعری کرنے لگے شاعری کی وجہ آپ نے اپنا نام بدل لیا در اصل بچپن میں آ پ کی والد نے آپ کا نام اسد حسین رکھا تھا پر جب آ پ نے شاعری شروع کی تو آپ نے اپنا نام عاشق حسین عاشق ؔ رکھا۔ بچپن ہی سے آپ قوالی کے بے حد شوقین تھے یہی وجہ ہے کہ قوالی نے آپ کو شعر گوئی کی جانب مائل کیا ابتدا میں فلمی گیت کے طرز پر گیت و گانے لکھتے پھر غزلیں بھی کہیں ۔ ان کی کچھ غزلیں مندرجہ ذیل ہیں ۔
غزل
کیوں لحد پر میرے آئے ہو ستانے کے لئے
میرے تصویر تو کافی تھی رولانے کے لئے
ہیچکیاں لیتے ہوئے بھی تمہیں آواز دیا ہے میں نے
تم کو آئینے سے فرصت نہ تھی آنے کے لئے
اشک کے چند ہی قطروں کو اٹھا کر لائے
بن سنور کر میرے مرقد پر بہانے کے لئے
ساقیا اب آئے ہو ہمیں پلانے کے لئے
میرے غزلیں میرے اشعار کے وہ چند ورق
کام آئے گا تیرے گھر کو سجانے کے لئے
٭
نہ سا غر اور نہ مینا چا یتا ہوں
تیری نظروں سے پینا چاہتا ہوں
اگر مجھ پر تو ہوجائے مہر باں
تیرے صدقے میں جینا چاہتا ہوں
بھیکا ری کو نہ خا لی ٹال دینا
میری جھولی میں الفت ڈال دینا
نہ قا روں کا خزینہ چاہتا ہوں
تیری نظروں سے پینا چاہتا ہوں
نگا ہے غم رسیدہ کو خو شی ہو
میرے تا ریک دل میں روشنی ہو
میں تم سے وہ نگینہ چاہتا ہوں
تیری نظروں سے پینا چاہتا ہوں
مجھے جینے دو جینا چاہتا ہوں
تیرے نظروں سے پینا چاہتا ہوں
٭٭
کسی حسین کے وعدے پر اعتبار نہ کر
سکونِ دل نہ گنوا دل کو بے قرار نہ کر
یہ آج تیرے ہیں کل دوسرے کے بن جائیں گیں
نہیں ہے ان میں وفا ان پہ جاں نثار نہ کر
پلا کر زہر یہ کہتے ہیں کہ یہ امرت ہے
عجل ہے شکل مسیہا میں ان سے پیار نہ کر
فلک سے ڈوبنے والے ستارے کہتے ہیں
نہ آئے گی با خدا ان کا انتظار نہ کر
٭٭
ربا عی
آ ج بالین پہ آ نے کی ضرورت کیا تھی
اس طرح شور مچا نے کی ضرورت کیا تھی
دا غ عا شق کی کفن پر لگی ہے اشکو ں سے
اشک آ نکھوں سے بہا نے کی ضرورت کیا تھی
دبستان مر شد آباد ابتدا سے ہی علم و ادب اور شعر و سخن کے دل دادہ اور علم و ادب کے ماہر ہوا کر تے تھے۔ مسلک شیعہ سے لگاؤ کی وجہ سے نا ظمین مر شد آبادکے دربار میں مذہبی علماء شعرا کی تعداد زیادہ تھی ۔ اور شعر و شاعری میں بہت احتیاط بر تاکرتے تھے ۔ مذ ہبی لگاؤ کی وجہ سے یہاں کے اکثر شعراء نے مر ثیے ، سلام ، نو حہ کثرت سے لکھے ہیں مر شد آباد چونکہ ایک مذ ہبی رنگ میں رنگا ہوا تھا جو آج بھی ہے اس لئے یہاں کے شعرا کے کلام میں ر ثا ئی کلام زیادہ ملتے ہیں یہی ھال عا شق حسین عا شقؔ کا ہے یوں تو آپ نے شاعری کے تمام اصناف میں اپنا جو ہر دکھایا ہے لیکن آپ نے شاعری کے میدان میں اپنا جوہر نوحہ میں دکھایا ہے ۔ان کے کچھ نو حے کا مختصر طو رپر جا ئزہ لیتے چلیں جو مندر جہ ذیل ہیں:۔
ماتم
کرتی تھی بکا زینب اے عون و محمد
کس طرح جیوں گی اب اے عون و محمد
خیموں کو جلا ڈالے بے پردہ کیا ہم کو
جب قتل ہوئے تم سب اے عون و محمد
احمد کے گھرانے سے رکھتے ہیں عداوت جو
سمجھیں گے بھلا وہ کب اے عون و محمد
کردار و عمل جس کا پہونچے درِ زہرا تک
کامل ہے وہی مذہب اے عون و محمد
عاشق پہ کرم کر دو شبیر کے صد
ہو روحِ رسولِ اب اے عون و محمد
ماتم
کیسا کیا ہے تو نے سفر ہائے سکینہ
سب کو ملی رہائی مگر ہائے سکینہ
اکِ ساتھ مدینہ سے چلی اپنی عماری
ہر حال میں دن رات میرے ساتھ گزاری
زینب کے دلِ زار پہ چلنے لگی آری
اس حال میں جائوں میں بھلا کیسے مدینہ
عاشور کے طوفاں کو دیکھے ہو میرے ساتھ
پرُ حول وہ میدان کو دیکھے ہو میرے ساتھ
وہ گنجِ شہداں کو دیکھے ہو میرے ساتھ
کرتی تھی بُکا ساتھ میرے تو بھی حزینہ
بھائی تو جدا ہو گئے تو ساتھ نہ چھوڑی
غازی بھی جدا ہو گئے تو ساتھ نہ چھوڑی
قاسم بھی جدا ہو گئے تو ساتھ نہ چھوڑی
میں تیری قسم تجھکو بھلاونگی کبھی نہ
جلتے ہوئے خیمے سے تجھے میں نے نکالی
دامن میں لگی آگ تجھے میں نے سنھالی
بی بی تجھے رو رو کے کلیجے سے لگائی
بھائی کی امانت تجھے میں موت سے چھینا
پوچھے گی جو صغرا اکبر کو ہوا کیا
ننّھا سا مجاہد علی اصغر کو ہوا کیا
عباسِ جری میرے دلاور کو ہوا کیا
اس غم سے نہ پھٹ جائے کہیں میرا یہ سینہ
زنداں سے رہا ہو کے کہی زینب مضطر
عاشق یہ بیاں کر کے چلی زینب مضطر
انور یہ فغاں۔ کہہ کے چلی زینب مضطر
میں جی نہیں پائونگی یہ عالم میں سکینہ
٭٭٭
قیامت ہو گئی برپا نظامِ زندگانی میں
ہوئے نعلاں اجل بھی وہ اثر بھی اس کہانی میں
صدائے نعرائے عباس سے دہر و حرم گونجا
لئے مشک و علم غازی بڑھے جب جانب دریا
بڑی تعظیم کو موجیں اٹھا اک شور پانی میں
کبھی عون و محمد اور کبھی قاسم کی یاد آئے
دلِ سد جاکر زینب کو سکوں اک پل بھی نہ آئے
گزاری عمر کو زینب تڑپکر جاں فشانی میں
٭٭٭
Syeda Jenifar Rezvi
phn: 7872873542 ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ
Email Id : syedarezvi@yahoo.com

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular