9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

سکندرعلی
وقت اپنے رفتار میں چل رہا تھا سلیم اور انس آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھے دونوں میں اچھی خاصی دوستی تھی دونوں ساتھ ساتھ پڑھتے کھیلتے اور گھر جاتے سلیم تو خوب جی لگا کر پڑھائی کرتا مگر اس کا دوست انس آوارہ گردی۔ دونوں کلاس میں پاس پاس بیٹھتے استاد جب پڑھاتے تو سلیم کتابوں پر خاص توجہ مرکوز کرکے پڑھائی کرتا مگر انس کا وقت ہمیشہ ہی برباد رہتا وہ چاہے کلاس ہو یا گھر۔ کبھی کبھی جب ان ٹریول میں سلیم کتابوں کا مطالعہ کرنے بیٹھتا تو انس ٹڈی دل بن کر اس پر ٹوٹ پڑتا ۔
ایک دن سلیم کتابوں کا مطالعہ کر رہا تھا انس آیا اور بولا یار ! تو ، تو سارا دن پڑھائی کرتا رہتا ہے چل کھیلتے ہیں انس نے سلیم کی کتابوں کو بند کر دیا۔ سلیم نے فہیمانہ انداز میں انس سے کہا دیکھ یار ! ماں باپ ہمیں تمہیں اس لئے پڑھاتے ہیں کہ ہم تم پڑھ لکھ کر والدین اور ملک کا نام روشن کریں نہ کی آوارہ گردی ،اس پر انس نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا یار کھیل بھی تو ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے کیا تم اس بات سے انکار کرسکتے ہو؟
نہیں مگر پڑھائی کے وقت پڑھائی کرنی چاہیے اور کھیل کے وقت کھیل سلیم نے کہا ۔
سلیم تو وقت کاپابند تھا مگر انس نہیں۔
صبح آٹھ بجے ماں کے بار بار آواز دینے پر انس جاگتا اسے روزانہ گھر پہ ڈانٹ کھانی پڑتی تھی اور کالج پہنچتا تو سبق کے لئے ڈانٹ کھانی پڑتی ۔
وہ کبھی کبھی سلیم سے دریافت کرتا کہ یار تو تو کبھی نہیں ڈانٹا جاتا دریں اثنا میں گھر پر والدین کا ڈانٹ کھاتا ہوں اور یہاں اساتذہ کا اس پر سمجھاتے ہوئے سلیم کہتا انس ! یہ تیرے غلطیوں کی وجہ سے ہوتا ہے ایک تو تو وقت کا پابند نہیں ہے اور دوسرا تجھے کتابوں کے مطالعہ سے پرہیز ہے انس جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وقت بھی ان کا قدر نہیں کرتا اردو زبان میں ایک قول ہے کہ وقت تلوار کی دھار ہوتی ہے اس لئے اگر تم ان دونوں اصولوں پر عمل کرو تو یقینا تمہیں ذلت اٹھانی نہیں پڑیگی، اس پر ہنستے ہوئے انس نے کہتا عمل تو عامل کرتے ہیں یار عمل کرنا انس کے بس کی بات نہیں چلو چلتے ہیں تفریح کی دنیا میں۔
انس پہ سلیم اور اس کے والدین کی باتوں کا اثر تب تک رہتا جب تک اسے سمجھاتے اس کے بعد جیسے ٹائر کے پنچر ہونے پر اس کا ہوا پھر ہو جاتا ہے ٹھیک ویسے ہی انس کے ذہن سے اچھی باتیں بھی پھر ہوجاتی۔
خیر دونوں بی ۔اے ۔ تک ساتھ ساتھ پڑھتے رہے،
بی۔ اے۔ کے تیسرے سال سلیم اول نمبر سے پاس ہوا دریں اثنا انس فیل ہو گیا۔
اسی سال انس نے پڑھائی چھوڑ دی اسےسلائی کرنے کے لئے بھی بھیجا گیا مگر اسے وہ کام بھی راس نہ آیا۔
وقت چلتا رہا دونوں دوست ایک دوسرے سے بچھڑ چکے تھے انس کی شادی ہو گئی تھی اس کے تین بچے بھی ہو گئے تھے ایک ایک کرکے اس کے سبھی ساتھی بچھڑ گئے اسے جب کالج کی یاد آتی تو وہ ہائے کر کے رہ جاتا اب اس کی غلط فہمیاں دور ہو چکی تھی اب اسے سلیم کی قدیمی باتوں میں دم لگنے لگا تھا ۔ رفتہ رفتہ انس اور اس کے اہل خانہ کی زندگی دوبھر ہونے لگی اب اسے پانچ لوگوں کا پیٹ پالنا پڑتا تھا اب وہ پیسوں کا قدر کرنا بھی سیکھ گیا اب وہ اپنے اہلخانہ کی برائے پرورش رکشہ چلانے لگا تھا انس سارا دن رکشہ چلاتا تو شام کو اسے 200روپے موصول ہوتے اسی لئے ساید اس کی عقل ٹھکانے لگ گئی تھی۔ ایک دن انس رکشہ چلا رہا تھا جب اس نے رکشہ منزل پر روکا تو دیکھا ایک صاحب کے پاس اخبار تھا اس نے اخبار اس آدمی سے مانگا وہ بولا شقل سے تو پڑھے لکھے لگتے نہیں اخبار کیا کرو گے ؟خیر اس نے اخبار انس کو دے دیا اتنا جملہ سنتے ہی انس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں مگر جو ہی اس کی نظر اخبار پہ پڑی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اس کے چہرے پر عجب کیفیت طاری ہو گئی دراصل اخبار میں چھپا تھا سلیم احمد آئی ۔اے۔ ایس۔ افسر بنیں انس نے خبر کو تفصیل سے پڑھا تو اسے معلوم ہوا کہ آج ہمارا دوست انس کامیابی کی منزل پر پہنچ گیا انس آج بہت خوش تھا ۔
ایک دن چوراہے پر بھیڑ کے سبب انس کو رکشہ روکنا پڑا اسی اثنا میں ایک آدمی اپنے حفاظتی گارڈ کے ساتھ اپنی موٹر کار میں سوار بھیڑ کے سبب سے رکا تھا وہ آدمی اپنی کار سے نیچے اترا تو اتفاق سے اس کی نظر انس پر پڑی جو اپنے رکشہ کا ہینڈل پکڑے بدحالی کی صورت میں کھڑا تھا انس کو دیکھتے ہی وہ آدمی بے تحاشہ دوڑ کر انس کے پاس جا پہنچا انس اس آدمی کو نہ پہچان پایا مگر اس آدمی نے انس کو اپنے گلے لگا کر اپنا تعارف بیان کیا کہ میں سلیم احمد تمہارا دوست ہوں یہ سن کر انس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے انس کی حالت دیکھ کر سلیم بھی بہت غمزدہ ہو گیا، دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کی خیریت پوچھی۔
اس کے بعد سلیم نے کہا چل یار مدت کے بعد ملے ہیں میری موٹر کار میں بیٹھ کر تفریح کرتے ہیں اس پر انس نے کہا سلیم ! میرے پاس برائے تفریح وقت درکار نہیں کیونکہ اگر میں آج رکشہ نہیں چلاؤں گا تو شام کو میرے اہل خانہ بھوکے ہی رہ جائیں گے۔
رابطہ نمبر ۔9519902612





