عبیدالرحمن
چائے جو در اصل چینی زبان کا لفظ ہے اور اس کی سب سے زیادہ پیداوار چین میں ہی ہوتی ہے لیکن چائے پینے والوں میں سب سے اوپر سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہے
ویسے تو صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں چائے پسند کی جاتی ہے، جس طرح ہمارے یہاں دعاء کے اول و آخر میں درود شریف پڑھا جاتا ہے اسی طرح اکثر لوگوں کے دن کی ابتدا و انتہا چائے کے ذریعہ ہی سے ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ چین سے عصبیت رکھنے والوں نے اس کے لفظ اور ماہیت دونوں میں تبدیلی کردی، کوئی اس کو ٹی (Tea) کہتا ہے، تو کہیں اس کو قہوہ اور دیگر ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے.
یہ چائے ہی ہے جو امرا و غربا سب کے یہاں بلا امتیاز مل جاتی ہے، البتہ امراء کے یہاں بقدر وسعت دودھ ملا کر اس کے رنگ کو خفیف کر لیا جاتا ہے ، تو غرباء کے یہاں بلا امتزاج غیر اس کو اس کی اصل و حقیقی ماہیت کے ساتھ نوش کیا جاتا ہے. ویسے بھی جو اہل طبیعت و صاحب ذوق ہوتے ہیں وہ کسی بھی چیز میں ملاوٹ پسند نہیں کرتے پھر وہ ملاوٹ چائے میں دودھ کی ہو یا شراب میں پانی کی.
دنیا میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب چائے ہے اور یہ اپنے اندر وہ تأثیر رکھتا ہے کہ جب شراب اپنا اثر کھودے تو انسان چائے کی طرف رجوع کرتا ہے اور جب بیماری لاعلاج ہو جائے تو ماہرین اطباء و حکماء مریض کے لیے چائے ہی تجویز کرتے ہیں.
چائے کے سفر پر نظر ڈالی جائے تو عقل حیرت و تعجب میں پڑ جاتی ہے کہ چین میں پیدا ہونے والا یہ نا معلوم پودا کس طرح مشہور ہو کر ایشیا، افریقہ، اور عرب ممالک کو فتح کرتے ہوئے یورپ و امریکہ پہنچ گیا
چائے نہ صرف ہماری تہذیب پر اثر انداز ہوئی بلکہ اس نے ہمارے رہن سہن، طرز معاشرت ، طریقۂ مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی متأثر کیا آج بڑے بڑے مسائل ایک ٹی پارٹی میں ڈسکس ہوجاتے ہیں تو ہمارے وزیراعظم عوام سے روبرو ہونے کے لئے چائے پر چرچا کا سہارا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپنی اس عزت افزائی کو دیکھتے ہوئے چائے نے بھی ایک حسین، خوبصورت اور دلکش محبوبہ کی طرح ناز و نخرے کرنے شروع کردیئے ہیں.
چائے جو کبھی کالی چائے، سفید چائے، سبز چائے، پھیکی چائے، گلابی چائے اور کشمیری چائے کے نام جانی جاتی تھی آج بلیک ٹی، وہائٹ ٹی، گرین ٹی، لیمن ٹی ، الائچی ٹی جیسے باوقار ناموں سے موسوم ہے
یقینا چائے کی اپنی ایک پہچان ہے، اس کی ایک اہمیت ہے، ایک رتبہ اور status ہے لیکن علیگڑھ شہر بالخصوص علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں چائے کو آب حیات کا درجہ حاصل ہے. اے، ایم، یو میں چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ایک کلچر ہے ، سیاست کرنے کا ذریعہ تو دوستوں سے گفتگو کا ایک بہانہ ہے ۔ یہاں پر چائے کے لئے عشق اور جنون ہے کبھی چنگی سے شمشاد مارکیٹ تک واقع پچاسوں ڈھابوں کا جائزہ لیجئے جہاں ہزاروں موٹر سائیکلیں اسکوٹر اور سائیکل قطار در قطار کھڑی ہوئی ہیں ۔ طلبہ کا جم گھٹا باتوں میں مصروف. کوئی وکالت پڑھ رہا ہے تو کوئی انجینئرنگ کا طالب علم ہے ۔ کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی سیاست کا دلدادہ ، یہ اسکول میں استاذ بننا چاہتا ہے تو وہ کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہونے کا خواب دل میں سنجوئے ہوئے ہے۔ اس بھائی کا امسال ہی گریجویشن میں داخلہ ہوا ہے تو وہ ’ڈاس ساب ‘ اگلے مہینے پی ، ایچ ، ڈی جمع کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لیں گے. ان ڈھابوں پر سبھی طرح اور مختلف مزاج کے لوگ آپ کو مل جائیں گے
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
یہ ڈھابے بھی دنیا کے عجائبات میں سے ایک عجوبہ ہیں جہاں پانچ روپے کے عوض نہ صرف بیٹھنے کی جگہ ملتی ہے بلکہ نصیب اچھا ہو تو چائے بھی دستیاب ہو جاتی ہے ، چائے بولکر گلاس کو دھونے والے پانی کا استثنا مراد ہے جو بالآخر چائے ہی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے چنانچہ بعض ڈھابوں پر ٹب میں پانی بھر کر رکھ دیا جاتا ہے اور اسی میں ڈبکی دیکر گلاسوں کو غسل سنت (کیونکہ بعض اوقات گلاسوں کو دھونا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا) دیتے رہتے ہیں حتیٰ کہ پانی اپنے اوصاف ثلاثہ رنگ، بو، مزہ میں تغیر و تبدیلی خود محسوس کر لیتا ہے اور جب پانی و چائے میں حرارت و برودت کے علاوہ کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا تو اس پانی کو گرم کر کے چائے جیسے باوقار نام سے موسوم کر کے اسی پانی میں دھلے ہوئے گلاس میں انڈیل کر ملک کو دھاندلی، بدعنوانی ،رشوت خوری اور کرپشن سے پاک کرنے کا منصوبہ بننے اور خواب دیکھنے والوں کے حلق سے اس طرح نیچے اتارا جاتا ہے کہ وہ شہد جیسی مٹھاس، دودھ جیسی شفافیت ، شراب جیسی مستی اور آب حیات جیسا مزہ بیک وقت اپنے اندر محسوس کرتے ہیں
یوں تو ہمیں بھی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں آئے ایک عرصہ گذر گیا اور اس عرصہ میں ہر ہوٹل، ہر ڈھابہ،ہر کینٹین، ہر ٹی اسٹال پر چائے کی چسکی لی لیکن گھر والی چائے کا مزہ کبھی حاصل نہ ہوسکا، خاص کر فجر کی نماز کے فورا بعد اماں جان کے ہاتھوں کی بنی ہوئی گھر کے خالص دودھ کی چائے سے لبالب کپ وہ اوپر سے بالکل سفید نظر آتی اور چار پانچ گھونٹ پی لینے کے بعد بھی منھ میں چائے کا مزہ نہ آتا تو ہم کپ کو ہلاتے جس سے دودھ کے اوپر کی موٹی تہہ والی بالائی ایک جانب ہوجاتی تو دوسری طرف سے چائے کا تھوڑا سا دیدار ہوتا چنانچہ جب ہم آدھا کپ پی چکے ہوتے تو چائے کا پہلا گھونٹ منھ میں پہنچتا اور اس کا ذائقہ محسوس کرتے ہی بدن میں ایک طرح کی حرارت اور چستی دوڑ جاتی، کاہلی اور سستی رفو ہوجاتی، پورے دن بدن میں ایک الگ احساس رہتا اور جسم میں طراوت و توانائی محسوس ہوتی
اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے علیگڑھ کی چائے کبھی پسند نہیں آئی یا کبھی خوشدلی سے علیگڑھ کی چائے کا مزہ نہیں لیا
میں نے بارہا جمالپور ،اپر فورٹ، شمشاد اور چنگی کا سفر کرکے اپنے سینئرس کے ساتھ چائے نوشی کا شرف حاصل کیا جہاں چائے کی لذت سے زیادہ سینئرس سے تہذیب کو سیکھنے اور علیگڑھ کو پہچاننے پر زور رہا
مجھے دوستوں کی رفاقت میں کیفے ڈی لیلی، کیفے ڈی پھوس ،ساؤتھ ہال کی کینٹین اور زکریا مارکیٹ کے بیسوں ٹی اسٹال پر بھی چائے پینے کا موقع ملا جہاں احباب و اصحاب کے ساتھ گفت و شنید اور ہنسی مذاق میں چائے کو جانچنے اور چائیت کو محسوس کرنے کا موقع ہی نہیں ملا
میں نے اردو ڈپارٹمنٹ میں چائے بنانے والے بابا، ٹرننگ پوائنٹ کینٹین، مولانا آزاد لائبریری کینٹین اور آر، سی، اے کینٹین کی چائے کی چسکیاں بھی لی ہیں لیکن اس وقت چائے کی گرمی سے زیادہ محبوبہ کی سانسوں کی گرماہٹ محسوس کرنے پر توجہ رہی. محبوبہ کے شیریں ہونٹوں کے سامنے بابا کی بنی ہوئی چائے پھیکی محسوس ہوئی معشوقہ کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ کے سامنے چائے کے اوپر حرکت کرتی بالائی دکھائی ہی نہ دی
حاصل یہ کہ علیگڑھ میں میں نے چائے تو پی اور بہت پی لیکن حق چائے نوشی ادا نہ کر سکا کیونکہ میرے عقیدے کے مطابق چائے ایک اجتماعی عمل نہیں بلکہ انفرادی فعل ہے۔ چائے نوشی کے لئے اسی تنہائی کی ضرورت ہے جو ابوالکلام آزاد کو جیل خانہ میں حاصل تھی یا جو ایک عاشق کو شب فراق میں میسر آتی ہی.
آدھی رات اور گہرے سائے
خالی کرسی میں اور چائے
متعلم ایم اے سال اول (اردو) اے ایم یو علیگڑھ





