9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

مصباحی شبیر
شہرکے سنڈے مارکیٹ میں رئیس چھانٹو کی دُکان مشہور تھی ۔رئیس خود بھی ایک ایماندار اور نیک دُکاندار کے طور پر لوگوں میں جانا جاتا تھا ۔
سنڈے کے دن اس بازار میں بڑی ہلچل رہتی تھی۔لوگ دُور دُورسے آکر اپنی ضرورت کی چیزیں یہاں سے کم ریٹ میں لے کرخوش رہتے اور جو کوئی رئیس سے ایک بار سامان خریدتا بس اُس کا دیوانہ بن جاتا تھا ۔ہر کوئی اُس کی راست گوئی کا قائل تھا۔اور یہیں وجہ تھی کہ آج وہ سارے شہر میںمشہور تھا۔ ۔اُس کی دُکان میںدو لڑکے بھی بطور ہیلپر کام کرتے تھے مگر وہ دس بجے کے بعد آتے تھے۔ رئیس صبح آٹھ بجے دُکان لگا کر صاف صفائی وغیرہ کرکے اُن کا انتظار کرتا تھا ۔۔
آج بھی سنڈے تھا اور ہر دُکاندار کی طرح رئیس نے بھی صبح صبح اپنی دُکان چمکائی تھی اور اپنے ملازمین کا انتظار کر رہا تھا ۔ تھیک دس بجے سے دس منٹ پہلے وہ دونوں لڑکے آگئے تو رئیس پاس والے ہوٹل میں چائے پینے کے لئے چلا گیا ۔ پاس والی جو دُکان تھی وہ اُس کے گائوں والے اور جگری دوست نیاز کی تھی ۔ دونوں روز صبح ایک ساتھ آتے اور دس بجے کی چائے ساتھ پیتے تھے۔ ۔
ابھی ہوٹل میں چائے پی رہی تھے کہ پاس بیٹھے لڑکوں نے اپنے ایک دوست کو مبارکبادیا ں دینی شروع کر دی ۔رئیس نے اُن سے مبارکبادی کی وجہ پوچھی تو لڑکوں نے بتایا کہ رئیس صاحب آج شہر میں لکچرار وں کی سلیکشن لسٹ نکلی ہے۔ یہ سنتے ہی رئیس اچھل گیا اور اُن لڑکوں سے کہنے لگا ذرا دیکھنا اس میں کوئی نسیم کا سلیکشن ہوا کہ نہیں؟ لڑکوں نے بڑی جلدی ڈھونڈ کر بتایا جی نسیم کا سلیکشن ہوا ہے جناب ۔
یہ سننا تھا کہ نیاز نے اچھلتے ہوئے ریئس کو گلے لگایا اور مبارکبادی دی ۔۔
دن بھر وہ دُکان میں مشغول رہنے کے بعد اس نے تقریبًا چار بجے اپنے ایک ملازم لڑکے کو مٹھائی لانے کیلئے بھیج دیا ۔اور آج تھوڑا جلدی ہی گھر آیا ۔ ابھی محلے میں داخل ہوا تھا کہ دیکھا کہ بچے آپس میں جھگڑ رہے اور اس میں خود اس کا بچہ بھی شامل تھا ۔ یہ دیکھ اُسے اپنا بچپن یاد آیا وہ چھپ کر بچوں کا تماشا دیکھنے لگا ۔اس کا بچہ کہہ رہا تھا۔’’ ہمت ہے تو آجا ،تجھے دیکھ لوں گا میں رئیس چھانٹو کا بچہ ہوں ‘‘ اسی طرح دوسری طرف سے بھی مکمل ٹکر مل رہی تھی اور اس کے بچے کو للکارا جارہا تھا۔کچھ بچے بیچ بچائو کررہے تھے۔ جھگڑا جب حد سے زیادہ بڑھا تو عورتیں آکر اپنے بچوں کو لے گئیں ۔پھر وہ بھی آڑ سے نکل کر گھر کی طرف بڑھا ۔ابھی گھر میں داخل ہونے والا تھا کہ اس کے اپنے کمرے سے بیوی کی باتیں اُس کے کانوں سے ٹکرائیں وہ اپنے بچے سے کہہ رہی تھی۔ ’’ دُوبارہ کبھی مت بولنا کہ تو رئیس چھانٹو کا لڑکا ہے‘‘
’’ممی اس میں برائی کیا ہے؟ہمارے ڈیڈی تو اسی نام سے پورے شہر میں مشہور ہیں لوگ ان کو اسی نام سے پکار تے ہیں ‘‘
’’نہیں بیٹا برائی تو کچھ بھی نہیں ہے البتہ یہ چھانٹو کا کام کوئی اچھا کام نہیں مانا جاتا ہے۔‘‘
’’ ممی پاپا کام کرتے ہیں محنت سے پیسے کماتے ہیں کسی کے سامنے ہاتھ تو نہیں پھیلاتے ہیں ‘‘
’’ تو نہیں سمجھے گا ۔بس اتنا سمجھ آئندہ تو اس طرح سے نہیں بولے گا ‘‘
’’مگر اس میں برائی کیا ہے ممی ؟‘‘
’’ مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی تو آئندہ ایسا نہیں بولے گا بس ‘‘
اتنے میں مجھے دیکھ کر بیگم کمرے سے نکل گئی ۔ مجھے اچانک سے گھر میں دیکھ کر سب حیران تھے میںآج جلدی گھر آیا تھا ورنہ میں رات نو بجے سے پہلے کبھی گھر نہیں آتا تھا۔
گھر میں جب میں نے نسیم کے سیلکشن کے بارے میں خبر دی تو گھر میں خوشیوں کی ایک لہرچلی ۔ ماں باپ ،نسیم کی گھر والی اور میری بیوی بچے سب خوش تھے۔ میرے بچے تو خوشی سے اپنے کھلوانوں و کپڑوں کی لسٹ بنا رہے تھے کہ آنکل کو جاب ملی تھی وہ ہمیں یہ سب لائیں
گے۔دوسری طرف جب میں نے گھر والوں سے نسیم کے بابت دریافت کیا تو کہنے لگے کہ کچھ دیر پہلے آیا تھا تو کہہ رہا تھا کہ آج دوستوں کی پارٹی ہے۔وہاں جانا ہے اور شام تک آجائے گا ۔ میں نے مٹھائی ایک طرف رکھی اورآرام کرنے لگا ۔رات کو جب دیر تلک بھی نسیم نہیں آیا تو میں اپنے کمرے میں چلا گیا اور سو گیا ۔ صبح اُٹھ کردیکھا تو نسیم کی گھروالی بتانے لگی رات کو بہت دیر سے آئے تھے اس لئے ابھی آرام کر رہے ہیں میں ناشتہ کرکے دُکان پر چلےگئے۔ ۔
دُکان سجا کر بیٹھا تھا تو میرا من آج دُکانداری میں نہیں لگ رہا تھا اس لئے نیاز کو کہہ کر چائے وہیں منگوائی جب چائے آئی تو نیاز کہنے لگا
’’ کیا بات ہے جناب آج بڑے گُم سم لگ رہے ہو ،تمہیں تو خوش ہو نا چاہیے کہ اب تو تمہارے بھائی کی نوکری بھی لگ گئی ہے‘‘
’’ نہیں یار آج کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے ‘‘
’’ کیوں بھائی ایسا کیا ہوگیا ‘‘
’’ پتہ نہیں بھائی ‘‘
’’کیا آج پھر بیوی سے جھگڑا ہوگیا ‘‘
’’ نہیں یار ایسا نہیں ہے‘‘
’’ پھر کیا ہوا‘‘
’’تو بھابھیوںمیں آپس میں جھگڑا ہوا ہوگا ‘‘
’’ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں ‘‘
’’ پھر کیا ہوگیا آپ کو کیا طبعیت خراب ہے ؟‘‘
’’ نہیں یار بس من ہی نہیں لگ رہا ہے ‘‘
’’ پھر کیوں جناب ‘‘
’’ یہ دُنیا یہ گھر گرہستی سب بیکار کی باتیں ہیں ‘‘
’’ یہ تم آج کیا فلسفہ پڑھ کر آئے ہو؟ ‘‘
’’ نہیں یار یہ ہمارا دھندہ بھی بیکار ہے ‘‘
’’ بھائی اچھے خاصے دھندے کو کیوں بیکار کہہ رہے ہو ‘‘
’’ ارے گولی مارو اس دھندے کو سب بیکار کی باتیں ہیں ‘‘
’’ اب میں سمجھ گیا کسی نے آج تیرے دھندے کی بے عزتی کی ہے ،ارے یار ایسے لوگوں کی باتوں میں مت آجا ،ہم چھوٹے لوگ ہیں اس کام کی عزت کرتے ہیں اور شرافت اور ایمانداری سے دو پیسے کماتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے منہ مت لگ اور بھول جا ان باتوں کو ،لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا ،اور کسی کے منہ کو لگام لگانا ہمارے بس کی بات نہیں ‘‘
’’ ارے لوگ کہتے تو دکھ نہیں تھا بھا ئی ‘‘
’’ پھر اپنے کسی خاص نے کہا ہوگا ۔تجھے اپنے بال بچے پالنا ہے اور گھر چلانا ہے ۔بس گھر چلا اور رہنے دے ‘‘
’’ نہیں یا ر کسی خاص نے بھی ایسی باتیں نہیں کی ہیں ،یہ چوٹ تو دل میں لگی ہے نیاز بھائی ‘‘
’’ پھر تیرے وہ بھائی رحان نے پھر کچھ کہا کیا ،میرا بھائی بھی ایسی باتیں کرتے رہتا ہے ۔اِن لوگوں کو تو سرکاری نوکری کا نشہ چڑھا ہے تو کیا کریں ؟‘‘
’’ نہیں یار وہ تودو سال پہلے جب الگ ہوا تھا نا آج تک خبر نہیں لی اُس نے ہماری ‘‘
’’ پھر کس نے کی ایسی بے تکی باتیں ؟‘‘
’’ یار میری گھر والی بچے سے کہتی ہے کہ تو اپنے کو کبھی رئیس چھانٹو والے کا لڑکا نہیں بتائے گا ‘‘
’’ یا رتو ان عورتوں کی باتو ں میں مت جاان کو تو بس زبان چلانی ہے کیا کہہ رہی ہیں اِن کو خود بھی پتہ نہیں چلتا ہے ‘‘
’’ نہیں یار نیاز میں عورتوں کی باتوں میں نہیں جاتا مگر یہ سچائی ہے کہ ایسے دھندے کرنے والوں کی سماج میں کوئی عزت تو نہیں ہوتی ہے ‘‘
’’ دیکھ یہ سب دھندے کی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کی نظروں و سوچ میں فرق ہوتا ہے ‘‘
’’ وہ کیسے ؟‘‘
’’ دیکھ تو اگر یہیں دھندہ کسی بڑے مائول میں رہ کر کرے گا تو لوگ تجھے بہت بڑا تاجر سمجھیں گے ۔اور اگر دُکان چھوٹی ہو یا چارپائی میں ہو تو تُو قرآن بھی بیچے تو لوگ تجھے چھوتا اور فٹپاتی دُکاندار سمجھیں گے اور اگر ایک بڑی دکان یا مائول ہو تو اس میں بیٹھ کر جوتے بھی بیچ سب لوگ تجھے امیر اور کروڈ پتی سمجھتے ہیں ۔اور سماج کے نام نہاد بڑے طبقے کے لوگ ایسے لوگوں کو اپنی محفلوں میں ’’ مہمان خصوصی ‘‘ بناتے ہیں ۔‘‘
’’ ہاں یار بات تو تُو بھی ٹھیک کہہ رہا ہے ۔‘‘
’’ چل چھوڑ اِ ن سب باتو ں کو تیرا نسیم تو آج بہت خوش ہوگا ۔ رات کو جم کر پارٹی چلی ہوگی گھر میں ۔اور ابھی ہماری پارٹی چلے گی ‘‘
’’ نہیں یار وہ اک دم رحان کی طرح ہے ،میری بھی قسمت خراب ہے ‘‘
’’ کیوں بھائی اب کیا ہوا ‘‘
’’ ہو گا کیا ،میں ڈھیر ساری مٹھائیاں لے کر اُس کی خوشی میں شامل ہونے گیا تھا لیکن وہ تو گھر میں بتائے بغیر اپنے دوستوں کے ساتھ رات بھر پارٹی مانا کر دیر گئے گھر آیا اور سو گیا پھر صبح بھی سوئے رہا اور میں چلا آیا ‘‘
’’ یار یہ تو غلط بات ہے ‘‘
’’ غلط تو کیا نہیں ہے نیاز ،ان لوگوں کو اتنی محنت سے پڑھایا میں نے اور جب بڑے ہوگئے تو یہ صلہ دیا مجھے ‘‘
’’ رہنے دے یار اِن سب باتوں کو ہماری تو قسمت ہی خراب ہے ،،
’’ ارے کیا کیا رہنے دوں ،نوکری ملتے ہی رحان الگ ہوگیا ،اس لڑکے کے بھی تیور ٹھیک نہیں لگتے ۔ جب مجھے خبر تک کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تو اگے کیا کرے گا ،ان کی بیویاں میرے ساتھ ٹھیک سے پیش نہیں آتی ہیں لیکن یہ لوگ اِن کو کچھ نہیں کہتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن پہلے جب نسیم کو ایک بچی ہوئی تھی تو اسے میں نے کچھ کپڑے دئے تھے ۔اُس کی بیوی کہہ رہی تھی چھانٹو کے کپڑے میں اپنے بچوں کو نہیں پہنائوں گی ۔ اُس وقت نسیم بھی کہہ رہاتھا کہ یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔ ‘‘
’’ یار رہنے دے ا،ن باتوں کو یہ صرف تیری نہیں ہر گھر کی کہانی ہے۔‘‘
’’ ارے یار کیا کروں میں یہ گھر کابڑا بیٹا ہونا بھی کتنی بد نصیبی ہے ۔ حالانکہ جب گھر میں پہلا لڑکا ہوتا ہے تو ماں باپ کتنے خوش ہوتے ہیں ،اس گھر میں جشن منایا جاتا ہے مگر کسی کو نہیں پتہ کہ اس معصوم کے سرپر کتنا کانٹوں بھرا تاج سجنے والا ہے ۔ اب یہ سب نہ کرو تو بھی مصیبت اور کرو تو یہ نہ بھرنے والے زخم پائو۔‘‘
اتنے میں مارکیٹ میں رش بڑھ جاتا ہے اور نیاز دُکانداری کے لئے چلا جاتا ہے ۔
دراس کرگل
8082713692





