9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

اسماء شیخ
آرزو اتنی سی ہے کہ ہر خوشی ملتی رہے
ظلمتِ شب کٹ ہی جائے روشنی ملتی رہے
ہے دعا میری خدا سے تم رہو بس شادماں
علم کی شمع جلے اور آگہی ملتی رہے
چہرہ تیرا چاند سا ہو لب تیرے ہوں گلفشاں
تیرے رخ کو گلستاں کی تازگی ملتی رہے
گفتگو ہو تیری جیسے میر کی کو ئی غزل
غالب و اقبال سے بھی نغمگی ملتی رہے
اسماء تو بھی دورِ حاضر کے خدا سے مل تو لے
تجھ کو بھی تو اس جہاں کی بندگی ملتی رہے
ظہیرآبادی





