HomeArticleمصنف کی موت

مصنف کی موت

مترجم: ڈاکٹر شاہ محمد فائز

انیسویں صدی کے مشہور فرانسیسی ناول نگار اور ادیب Honoré de Balzac اپنی کہانی Sarrasine میں ایک ایسے خواجہ سرا کا ذکر کرتا ہے جو عورت کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ اس کردار کی تصویر کشی کرتے ہوئے بالزاک لکھتا ہے: “وہ عورت تھی؛ اپنی اچانک پیدا ہونے والی گھبراہٹوں کے ساتھ، اپنی ناقابلِ فہم ضدوں کے ساتھ، اپنے فطری خوف کے ساتھ، اپنی بے وجہ جرأت کے ساتھ، اپنی سرکشی کے ساتھ، اور اپنے جذبات کی دلکش نزاکت کے ساتھ۔”

یہ اندازِ بیان کس کا ہے؟ کیا یہ ناول کے ہیرو کی آواز ہے، جو اس خواجہ سرا کو، جو عورت کا روپ دھارے ہوئے ہے، پہچاننا نہیں چاہتا؟ کیا یہ بالزاک کی آواز ہے، جو اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر عورت کے بارے میں کوئی رائے پیش کر رہا ہے؟ کیا یہ بطور مصنف بالزاک کی آواز ہے، جو عورت کے متعلق ادبی تصورات کا اظہار کر رہی ہے؟ یا پھر یہ کسی عام اور آفاقی دانائی کی آواز ہے؟ شاید رومانوی نفسیات کی؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ تحریر ہر آواز کے اصل ماخذ کو دھندلا دیتی ہے۔ جب تحریر وجود میں آتی ہے تو یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ الفاظ دراصل کس کی آواز ہیں۔ تحریر ایک ایسی غیر شخصی فضا پیدا کر دیتی ہے جہاں بولنے والے کی شناخت پس منظر میں چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ لکھنے والے کی اپنی شناخت بھی واضح نہیں رہتی۔
درحقیقت، کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے۔ جب کوئی واقعہ صرف بیان کرنے کے لیے بیان کیا جاتا ہے، نہ کہ د

نیا پر براہِ راست اثر ڈالنے کے لیے، تو بیان کرنے والے اور بیان کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر آواز اپنی اصل حیثیت کھو دیتی ہے، مصنف پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور تحریر اپنی خودمختار زندگی شروع کر دیتی ہے۔ البتہ مختلف زمانوں میں اس عمل کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔ قبائلی اور روایتی معاشروں میں کہانیاں کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ انہیں ایک راوی یا قصہ گو بیان کرتا تھا، لیکن اصل اہمیت اس کی ذاتی شخصیت کو نہیں بلکہ اس کی داستان سنانے کی مہارت کو دی جاتی تھی۔ لوگوں کی نظر میں اس کی قدر اس بات سے متعین ہوتی تھی کہ وہ روایت کو کتنی خوبی سے پیش کرتا ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ اس کا اصل خالق ہے یا نہیں۔

مصنف کا تصور کوئی بہت پرانا تصور نہیں ہے، بلکہ یہ جدید دور کی پیداوار ہے۔ یہ اس معاشرے میں ابھرا جو قرونِ وسطیٰ کے بعد وجود میں آیا۔ اس دور میں انگریزی تجربیت، فرانسیسی عقلیت پسندی اور اصلاحِ مذہب کی تحریکوں نے فرد اور اس کی ذاتی سوچ کو خاص اہمیت دی۔ نتیجتاً انسان کی انفرادی شخصیت کو معاشرے اور فکر میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوا۔ اسی پس منظر میں ادبی دنیا میں بھی مصنف کی شخصیت کو غیر معمولی اہمیت دی جانے لگی۔ مثبتیت (Positivism)نے جو جدید سرمایہ دارانہ فکر کی نمائندہ تھی، ادب کو سمجھنے کے لیے مصنف کی زندگی اور شخصیت کو بنیادی حیثیت دی۔ آج بھی ادبی تاریخ، سوانح عمریوں، رسائل کے انٹرویوز اور تنقیدی مباحث میں مصنف کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ خود ادیب بھی اکثر یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کی تحریریں ان کی ذاتی زندگی اور تجربات کا براہِ راست عکس ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی ڈائریوں، یادداشتوں اور خود نوشت تحریروں کے ذریعے اپنی شخصیت اور اپنی تخلیقات کے درمیان گہرا تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

معاصر ثقافت میں ادب کی جو تفہیم رائج ہے، وہ بڑی حد تک مصنف کی ذات کے گرد گھومتی ہے۔ توجہ کا مرکز اس کی شخصیت، اس کی زندگی کے حالات، اس کے ذاتی رجحانات اور جذباتی کیفیات بن جاتے ہیں۔ ادبی تنقید کا ایک بڑا حصہ آج بھی تخلیق کو اس کے خالق کی سوانحی تفصیلات کے حوالے سے سمجھنے پر اصرار کرتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ Charles Baudelaire کی تخلیقات اس کی ذاتی ناکامیوں کا اظہار ہیں، Vincent van Gogh کا فن اس کی ذہنی آشفتگی کا نتیجہ ہے، اور Pyotr Ilyich Tchaikovsky کی موسیقی اس کی اخلاقی کمزوریوں کی عکاس ہے۔ گویا تخلیق کی تشریح ہمیشہ اس کے خالق کی شخصیت میں تلاش کی جاتی ہے، جیسے متن کے پس منظر میں آخرکار ایک ہی آواز موجود ہو۔۔۔مصنف کی آواز، جو اپنے باطن کے راز بیان کر رہی ہو۔ اگرچہ مصنف کی یہ بالادستی آج بھی خاصی مضبوط ہے، بلکہ نئی تنقید نے بعض اوقات اسے مزید تقویت ہی دی ہے، تاہم ہم جانتے ہیں کہ بعض ادیب اور مفکر اس تصور کو چیلنج کرنے اور مصنف کی اس مرکزی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

فرانس میں Stéphane Mallarmé غالباً پہلے شاعر اور مفکر تھے جنہوں نے اس بات کو واضح طور پر محسوس کیا اور پیش گوئی کی کہ زبان کو وہ مرکزی مقام ملنا چاہیے جو اب تک مصنف کے پاس سمجھا جاتا تھا۔ مالارمے کے نزدیک، اور ہمارے نزدیک بھی، بولنے والا مصنف نہیں بلکہ خود زبان ہے۔ لکھنا دراصل ایک ایسی غیر شخصی حالت میں داخل ہونا ہے جہاں فرد کی ذات پس منظر میں چلی جاتی ہے اور صرف زبان اپنا کام کرتی ہے۔ یہ حقیقت پسند ناول نگاروں کی اس معروضیت سے مختلف ہے جس میں مصنف اپنی موجودگی کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے؛ یہاں “میں” کی آواز مکمل طور پر خاموش ہو جاتی ہے اور زبان خود اظہار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

مالارمے کی پوری شعریات اسی خیال پر قائم ہے کہ مصنف کی بالادستی کو کم کیا جائے اور تحریر کو مرکزیت دی جائے۔ اس طرح متن خودمختاری حاصل کرتا ہے اور قاری کو معنی پیدا کرنے میں وہ اہم مقام واپس ملتا ہے جو طویل عرصے تک مصنف کی غالب موجودگی کے باعث اس سے چھن گیا تھا۔ Paul Valéry اگرچہ “انا” یا خودی کی نفسیات میں دلچسپی رکھتے تھے اور اس لحاظ سے انہوں نے مالارمے کے خیالات کو کچھ آسان کر دیا تھا، لیکن پھر بھی وہ مصنف کی مرکزی حیثیت پر سوال اٹھاتے رہے۔ کلاسیکی ادب اور فنِ خطابت کی روایت سے متاثر ہو کر انہوں نے مصنف کے تصور کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور اس پر طنز بھی کیا۔ ان کا اصرار تھا کہ ادبی تخلیق بنیادی طور پر زبان اور الفاظ کا عمل ہے، جس میں اتفاق اور لسانی امکانات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ مصنف کی ذاتی زندگی یا داخلی شخصیت کو ادب کی اصل بنیاد ماننے کے خلاف تھے اور اسے ایک طرح کا وہم سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ Marcel Proust نے بھی، اگرچہ ان کی تحریریں بظاہر نفسیاتی تجزیے پر مبنی دکھائی دیتی ہیں، مصنف اور اس کے کرداروں کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر غیر واضح کر دیا۔ انہوں نے اپنے ناول کے راوی کو وہ شخص نہیں بنایا جو واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے یا انہیں محسوس کرتا ہے، بلکہ وہ شخص بنایا جو انہیں لکھتا ہے۔ ناول کا مرکزی نوجوان کردار لکھنے کی خواہش رکھتا ہے، مگر طویل عرصے تک لکھ نہیں پاتا، اور ناول اسی وقت اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جب اس کے لیے لکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس طرح پروست نے جدید تحریر کو ایک نئی شکل دی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو ناول کی صورت میں پیش کیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو اپنی تخلیق کے مطابق ڈھالا، گویا ان کی کتاب ہی ان کی زندگی کا اصل نمونہ بن گئی۔

اسی طرح Surrealist تحریک بھی مصنف کو مکمل اختیار دینے کے حق میں نہیں تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ زبان خود ایک منظم نظام ہے، جبکہ اس تحریک کا مقصد روایتی اصولوں اور ضابطوں کو توڑنا تھا۔ اگرچہ کسی بھی ضابطے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، صرف اس سے ہٹ کر عمل کیا جا سکتا ہے، پھر بھی اس تحریک نے مصنف کی مرکزی حیثیت کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے ایسے طریقوں کو فروغ دیا جن سے متوقع معنی بار بار ٹوٹتے تھے، جیسے خودکار تحریر (automatic writing)، جس میں لکھنے والا شعوری منصوبہ بندی کے بغیر لکھتا ہے، اور اجتماعی تحریر، جس میں ایک سے زیادہ افراد مل کر متن تخلیق کرتے ہیں۔ ان تجربات نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ متن کا واحد مالک اور سرچشمہ صرف مصنف ہے۔

ادب سے باہر، لسانیات نے بھی مصنف کی بالادستی پر سوال اٹھانے میں اہم مدد دی۔ لسانیات کے مطابق بولنا یا لکھنا ایک ایسا عمل ہے جو صرف زبان کے قواعد کے ذریعے انجام پاتا ہے؛ اس کے لیے بولنے والے کی شخصیت کو بنیاد بنانا ضروری نہیں۔ اس نقطۂ نظر سے مصنف صرف وہ شخص ہے جو لکھتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے “میں” صرف وہ شخص ہے جو “میں” کہتا ہے۔ زبان کسی مستقل اور مکمل شخصیت کو نہیں پہچانتی، بلکہ صرف ایک ایسے “موضوع” (subject) کو جانتی ہے جو زبان کے استعمال کے دوران وجود میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسان زبان سے پہلے نہیں بولتا، بلکہ زبان کے ذریعے بولنے والا بنتا ہے۔ یہی موضوع زبان کو استعمال کرنے اور معنی پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

مصنف (Author) کا خاتمہ، جسے Bertolt Brecht کی اصطلاح میں “فاصلہ پیدا کرنے” کا عمل کہا جا سکتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب مصنف متن کے مرکز میں نہیں رہتا بلکہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہ صرف ادب کی تاریخ میں آنے والی ایک تبدیلی یا لکھنے کا نیا طریقہ نہیں، بلکہ اس سے متن کی پوری نوعیت بدل جاتی ہے۔ اب متن اس طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے کہ مصنف کی موجودگی اس پر حاوی نہیں رہتی۔ سب سے پہلے، اس تبدیلی سے وقت کے بارے میں ہمارا تصور بدل جاتا ہے۔ جب ہم مصنف کو اہم سمجھتے ہیں تو ہم یہ مانتے ہیں کہ وہ اپنی کتاب سے پہلے موجود تھا۔ ہمارے خیال میں مصنف پہلے زندگی گزارتا ہے، تجربات حاصل کرتا ہے، سوچتا اور محسوس کرتا ہے، اور پھر ان سب چیزوں کو کتاب کی شکل دیتا ہے۔ اس طرح مصنف اور کتاب کے درمیان “پہلے” اور “بعد” کا تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ گویا مصنف اپنی تخلیق کا سرچشمہ ہے اور کتاب اس سے جنم لیتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک بچہ اپنے باپ سے وجود پاتا ہے۔
اس کے برعکس، جدید لکھنے وال

ا (scriptor) اپنے متن سے پہلے موجود نہیں ہوتا بلکہ متن کے ساتھ ہی وجود میں آتا ہے۔ اس کی کوئی ایسی مستقل شناخت یا شخصیت نہیں ہوتی جو تحریر سے الگ ہو اور اس پر حاوی ہو۔ وہ ایسا فرد نہیں جس کی کتاب اس کی زندگی یا شخصیت کا اظہار ہو۔ اس کے لیے صرف لکھنے کا لمحہ اہم ہے، اور ہر متن ہمیشہ اسی لمحے میں وجود پاتا ہے جس میں وہ لکھا جا رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے اب تحریر کو کسی واقعے کو محفوظ کرنے، کسی تجربے کو بیان کرنے یا حقیقت کی تصویر پیش کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا، جیسا کہ روایتی ادب میں سمجھا جاتا تھا۔ جدید نظریات کے مطابق تحریر ایک عمل ہے جو اپنے وجود کے ساتھ ہی اپنا مطلب پیدا کرتی ہے۔ اس کا مفہوم کسی پہلے سے موجود حقیقت میں نہیں بلکہ خود لکھنے کے عمل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب بادشاہ کہتا ہے: “میں اعلان کرتا ہوں”، تو اس کے الفاظ خود ایک عمل بن جاتے ہیں۔ اسی طرح قدیم شاعر جب کہتے تھے: “میں گاتا ہوں”، تو یہ بھی محض بیان نہیں بلکہ ایک عمل تھا۔
جدید لکھنے والا، جس نے مصنف کی روایتی حیثیت کو رد کر دیا ہے، اب یہ نہیں سمجھتا کہ تحریر اس کے باطن، جذبات یا تجرب

ات کا سیدھا اظہار ہے۔ اس کے نزدیک لکھنا ایک آزاد عمل ہے جو کسی اندرونی آواز یا اصل ماخذ کا محتاج نہیں۔ وہ ایسا متن تخلیق کرتا ہے جس کی بنیاد کسی ایک سرچشمے یا اصل حقیقت پر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی اصل موجود ہے بھی تو وہ صرف زبان ہے، اور زبان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہر دعوائے اصل، ہر آغاز اور ہر حتمی معنی کو سوال کے دائرے میں لے آتی ہے۔

آج ہم جانتے ہیں کہ متن محض الفاظ کی ایک سیدھی اور سادہ ترتیب نہیں ہے جو کسی ایک حتمی معنی یا مصنف کے پیغام کو ہمارے سامنے لے آئے۔ اس کے برعکس، متن ایک ایسی جگہ ہے جہاں مختلف خیالات، آوازیں اور تحریری روایات آپس میں ملتی اور ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر نئی یا اصل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر متن مختلف حوالوں، خیالات اور سابقہ تحریروں سے مل کر بنتا ہے۔ یہ ثقافت کے بے شمار ذرائع سے اخذ کیے گئے عناصر کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مصنف بھی کوئی ایسا شخص نہیں جو بالکل نئے معنی پیدا کرتا ہو۔ وہ دراصل پہلے سے موجود الفاظ، خیالات اور اسالیب کو نئی ترتیب میں پیش کرتا ہے۔ اس کا کام مختلف تحریروں اور آوازوں کو ایک ساتھ لانا اور ان کے درمیان تعلق پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک مطلق حقیقت یا معنی کو پیش کرنا۔ یہاں تک کہ جب مصنف اپنی ذات یا اپنے باطن کا اظہار کرنا چاہتا ہے، تب بھی وہ انہی الفاظ کا سہارا لیتا ہے جو پہلے سے زبان اور ثقافت میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ اپنے احساسات کو بھی صرف الفاظ کے ذریعے بیان کر سکتا ہے، اور ان الفاظ کا مطلب بھی دوسرے الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح معنی کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور ہمیشہ ایک لفظ سے دوسرے لفظ کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔

charles Baudelaireکے ساتھی بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔وہ یونانی زبان کے بڑے ماہر تھے۔۔Thomas De Quincey۔

کے مطابق، جب انہوں نے جدید خیالات اور تصورات کو یونانی زبان میں بیان کرنا چاہا تو انہیں ایک خاص لغت تیار کروانی پڑی، جو عام لغات سے کہیں زیادہ بڑی اور پیچیدہ تھی۔ مصنف کے بجائے جدید لکھنے والا اب ایسا شخص نہیں سمجھا جاتا جو اپنے جذبات، احساسات اور تجربات کو کاغذ پر منتقل کرتا ہو۔ وہ دراصل زبان اور الفاظ کے ایک وسیع ذخیرے سے کام لیتا ہے اور اپنی تحریر انہی سے تشکیل دیتا ہے۔ اس طرح زندگی کتاب کا سرچشمہ نہیں رہتی بلکہ خود زندگی بھی کتابوں، الفاظ اور ثقافتی تصورات سے متاثر ہوتی ہے۔ کتاب بھی کسی ایک اصل حقیقت کا اظہار نہیں ہوتی بلکہ مختلف نشانات، حوالوں اور پہلے سے موجود تحریروں سے مل کر بنتی ہے۔ یہ عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ ہر نئی تحریر کسی نہ کسی پرانی تحریر سے جڑی ہوتی ہے۔
جب مصنف کو متن کا واحد مرکز ماننا چھوڑ دیا جائے تو پھر متن میں ایک ہی حتمی معنی تلاش کرنے کی کوشش بھی بے معنی ہو

جاتی ہے۔ کسی متن کو ایک مصنف سے جوڑ دینا دراصل اس کے معنی کو محدود کر دینا ہے، گویا یہ طے کر دینا کہ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی تنقید اکثر متن کے پیچھے موجود مصنف کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر مصنف براہِ راست نظر نہ آئے تو اس کی جگہ معاشرے، تاریخ، نفسیات یا کسی اور سبب کو تلاش کیا جاتا ہے۔ نقاد سمجھتا ہے کہ جب اسے متن کے پیچھے اصل وجہ یا اصل شخص مل جائے گا تو متن کا مطلب بھی واضح ہو جائے گا۔ اسی لیے مصنف کی اہمیت ہمیشہ نقاد کی اہمیت سے جڑی رہی ہے۔ جب مصنف کو متن کا مرکز مانا جاتا ہے تو نقاد کا کام بھی آسان ہو جاتا ہے، لیکن جب مصنف کی یہ مرکزی حیثیت ختم ہونے لگتی ہے تو تنقید کی وہ روایتی بنیاد بھی کمزور پڑ جاتی ہے جس پر وہ قائم تھی۔

ایسی تحریر، جو مختلف آوازوں اور معانی سے مل کر بنتی ہے، کو سمجھنے اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا کوئی ایک آخری اور حتمی مطلب دریافت نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس کے مختلف عناصر، روابط اور تکراروں کا مطالعہ کر سکتے ہیں، مگر اس کی کوئی ایسی آخری تہہ نہیں ہوتی جہاں پہنچ کر معنی مکمل طور پر واضح ہو جائے۔ تحریر کی دنیا میں داخل ہو کر اس کے مختلف معانی کو تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے اندر کوئی ایک مرکزی نکتہ یا حتمی راز نہیں ملتا۔ تحریر مسلسل نئے معنی پیدا کرتی ہے، مگر ساتھ ہی ان معانی کو کھولتی اور بدلتی بھی رہتی ہے۔ اسی لیے معنی کبھی ایک جگہ ٹھہر نہیں پاتے۔ اس نقطۂ نظر سے ادب—یا بہتر یہ ہے کہ اسے “تحریر” کہا جائے—اس خیال کو رد کرتا ہے کہ ہر متن کے پیچھے کوئی ایک پوشیدہ راز یا آخری سچائی موجود ہے۔ اس طرح تحریر ایک ایسی فکری آزادی پیدا کرتی ہے جو ہر قسم کے حتمی اختیار پر سوال اٹھاتی ہے۔ اگر ہم کسی ایک آخری معنی کو قبول نہیں کرتے تو پھر ہم کسی ایسی مطلق اتھارٹی کو بھی قبول نہیں کرتے جو اپنے آپ کو آخری سچائی کا مالک سمجھے، چاہے وہ مذہب ہو، عقل ہو، سائنس ہو یا قانون۔

اب دوبارہ بالزاک کے اس جملے کی طرف آتے ہیں۔ بارتھ کے مطابق یہ سوال اہم نہیں کہ اسے کس شخص نے کہا۔ اصل بات یہ ہے کہ معنی کسی ایک بولنے والے یا مصنف سے پیدا نہیں ہوتے۔ تحریر کی اصل جگہ مصنف نہیں بلکہ قاری ہے۔ متن اپنی زندگی اس وقت پاتا ہے جب اسے پڑھا جاتا ہے اور قاری اس کے معانی کو دریافت کرتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک اور مثال دیکھی جا سکتی ہے۔ Jean-Pierre Vernant کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یونانی المیوں میں اکثر ایسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جن کے ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں۔ ڈرامے کے کردار عموماً ان الفاظ کا صرف ایک مطلب سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے دوسرے معنی ان کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ یہی غلط فہمیاں المیے کو جنم دیتی ہیں۔ لیکن ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو ان الفاظ کے تمام ممکنہ معانی کو سمجھ سکتا ہے اور کرداروں کی غلط فہمیوں کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ شخص مصنف نہیں بلکہ قاری ہے، یا یونانی تھیٹر کے ماحول میں سامع۔ یہی بات ہمیں تحریر کی اصل حقیقت تک پہنچاتی ہے۔ ہر متن مختلف خیالات، حوالوں اور ثقافتی روایات سے مل کر بنتا ہے۔ ان میں کبھی اتفاق ہوتا ہے، کبھی اختلاف، اور کبھی ایک دوسرے پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ مگر وہ جگہ جہاں یہ سب عناصر آ کر اکٹھے ہوتے ہیں، مصنف نہیں بلکہ قاری ہے۔ قاری وہ مقام ہے جہاں متن کے مختلف معنی، اشارے اور حوالہ جات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اس لیے متن کی وحدت اس کے آغاز، یعنی مصنف، میں نہیں بلکہ اس کے انجام، یعنی قاری، میں ہوتی ہے۔ لیکن قاری کو بھی ایک خاص شخصیت کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہاں قاری سے مراد کوئی مخصوص فرد نہیں، بلکہ وہ مقام ہے جہاں متن کے مختلف معنی ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔

اسی لیے جب بعض لوگ نئی ادبی فکر پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ انسان کو نظرانداز کرتی ہے، تو یہ بات درست نہیں لگتی۔ حقیقت یہ ہے کہ روایتی تنقید نے خود قاری کو کبھی زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس کی ساری توجہ مصنف پر رہی، گویا ادب میں صرف مصنف ہی اہم شخصیت ہو۔ اب اس سوچ کو قبول کرنا مشکل ہے کہ ایک معاشرہ بظاہر کسی چیز کی حمایت کا دعویٰ کرے، لیکن عملی طور پر اسی چیز کو نظرانداز یا کمزور کرتا رہے۔ بارتھ کے نزدیک قاری کو اس کا حقیقی مقام دینا اسی پرانے تصور کو چیلنج کرنا ہے جس میں ساری اہمیت صرف مصنف کو دی جاتی تھی۔

آج ہم جانتے ہیں کہ اگر تحریر کو آزاد کرنا ہے اور اس کے معنی قاری کے لیے کھولنے ہیں، تو مصنف کو مرکز سے ہٹانا ہوگا۔ قاری کی پیدائش، مصنف کی موت کی قیمت پر ہی ممکن ہے۔ (The birth of the reader must be at the cost of the death of the Author)
***

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular