9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

محمد حیدر رضا مصباحی
زمانے کی ترقی کی رفتار جس قدر تیز ہوتی جا رہی ہے ،اسی حساب سے ہر شعبہ حیات میں نوجوانوں کی اہمیت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
زندہ قوموں کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتی ہیں ؛کیوں کہ کسی بھی نظر یہ حیات کو رائج کرنے یا تحریک کو چلانے اور کام یابی سے ہم کنار کرنے میں ان کا اہم رول ہوتا ہے ۔ان کے عزائم اگر چاند پر کمند ڈالنے کی حد تک بلند ہوتے ہیں تو ان کے لہو میں ایسی حرارت بھی ہوتی ہے جو انہیں جہد مسلسل اور جفاکشی پر برانگیختہ کرتی رہتی ہے۔ہر حال میں مسائل و مصائب سے نمٹنے کا اگر کسی میں دم خم ہوتا ہے تو وہ نوجوان ہے ؛اس کی امید آپ بچے سے لگا سکتے ہیں اور نہ ہی بوڑھے سے ۔حاصل یہ ہے کہ اقبال کے شاہین صفت انسان کا مصداق نوجوان ہی ہے ۔
سیاست فی نفسہ کوئی بری شی نہیں ،بلکہ محمود امر ہے؛کہ خدمت خلق کا میدان ہے ۔یہاں آدمی صرف اپنی اور اپنے گھر والوں کی نہیں سوچتا ،بلکہ سماج ومعاشرے اور قوم و ملت کی فلاح و بہبود پیش نظر رکھتا ہے (زیادہ مناسب الفاظ میں : رکھ سکتا ہے اور رکھنا چاہیے)۔یہ ایک آئیڈیلسٹک(Idealistic)رویہ ہے جسے اپنانا ہر سیاسی آدمی کے بس کا روگ نہیں ۔جس پر اس میدان کی اکثریت عمل پیرا ہے ،وہ یہ کہ عوام کی خیر خواہی سے بے پرواہ ہوکر فقط اپنا بینک بیلینس بنانا ہے اورجائزناجائز ایک طرف سے سب کر گزرنا ہے ۔حد یہ ہے کہ بدنام تو انگریز ہیں ـ”لڑائواور حکومت کرو ”کی پالیسی کے لیے ۔مگر آج کے یہ ہندوستانی سیاسی بازی گر گوروں سے کہیں بڑھ کر اس پر کاربند ہیں ؛ کیوں کہ پولرائزیشن(Polarization)کے چولہے میں ان کی سیاسی روٹیاں خوب سنکتی ہیں ۔اور تو اور ان کی کلابازیوں سے سیاست اور بد عنوانی بہتوں کی نظر میں مترادف الفاظ بن کر رہ گئے ہیں ۔
سیاست میں نوجوانوں کی ضرورت : کیوں؟
شاید سیاسی کھلاڑیوں کا یہی رویہ ہے ،جس سے آج کے نوجوانوں کی اکثریت (خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا نا خواندہ)اوپ چکی ہے ،اور بجاے ان کے خود سیاست سے بے زار نظر آرہی ہے ،بلکہ نفرت کرنے لگی ہے ۔کالجز/یونی ورسٹیز اور دوسرے مقامات پر آپ کو بہترے ایسے لوگ مل جائیں گے جو پالیٹکس (Politics)سے اپنی مطلق لا تعلقی کا اظہار کرتے دکھیں گے ۔مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بیماری کا علاج اس سے بے ربط رہنے میں نہیں ،بلکہ ڈٹ کر اس کا سامنا کرنے اورصحیح تشخیص کے بعد دوالینے میں ہے ۔اسی طرح آج کی گندی سیاست کا جواب اس سے دور بیٹھ کر تماشا دیکھنے میں نہیں ؛ا س میں چھلانگ لگا کر گندگی کو باہر پھینکنے اور صفائی کو وہاں بسانے میں ہے ۔
یہ کام ہمارے لیے اورزیادہ اہمیت اس لیے اختیار کر جاتا ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک میں سانس لے رہے ہیں ،جہاں ہر پانچ سال پر ایک حکومت کا انتخاب ہونا ہے ،خواہ ہم اس میں دل چسپی لیں یا نہ لیں ۔اگر نوجوانوں نے خاطر خواہ اس عمل میں حصہ لیا اور اپنے حق کا صحیح استعمال کیا توامید ہے کہ دیش بہتر راہ پر چل سکے گا ؛ورنہ حالات جس طرح بنتے جا رہے ہیں ،انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ صرف اقلیتیں ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان ظلمت کے قعر عمیق میں گرتا جا رہا ہے ۔
گاندھی جی نے کہا تھا :ـ”Politics coils us like a snake and there is no other way out except to wrestle with it”(سیاست سانپ کے کنڈل کی طرح ہم سے لپٹی ہوئی ہے اور اس سے رست گاری کی واحد راہ اس سے مقابلہ کرنا ہے) [https://www.youthkiawaaz.com]۔ہندوستان دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے ؛مگر تعجب ہوتا ہے کہ ہمارا پارلیمنٹ سب سے بوڑھا ۔پہلے لوک سبھا میں منتخب ممبران کی اوسط عمر 46.5سال تھی جو بڑھتے بڑھتے دسویں لوک سبھا میں51.4تک جا پہنچی ؛جب کہ 2014میں بی جے پی ممبران کی اوسط عمر54اورکانگریسیوں کی 57تھی [یہ اعدادوشمار 29اکتوبر 2017کو بی جے پی ایم پی ورون گاندھی کے ECONOMIC TIMESمیں چھپے مضمون ”Youth Participation in Politics is still Dependent on Wealth,Legacy and Connections”سے ماخوذ ہیں ] یہ بات اس جہت سے بھی قابل افسوس ہے کہ عموما لوگ عمر ڈھلنے کے ساتھ برائیوں سے دور ہوکر مذہب کی طرف رجوع کرکے اچھائیاں کرتے ہیں ؛لیکن یہ سیاست داں عمر بڑھنے کے ساتھ اس میں قدم رکھتے ہیں اور پھر لوٹ کھسوٹ کی ساری حدیں پار کر جاتے ہیں ۔
ہر زمانے کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں ۔آج ٹکنالوجی کی ترقی کا دور ہے جس کا براہ راست تعلق جتنا نوجوانوں سے ہے ،اتنا عمر دراز لوگوں سے نہیں ۔اور یہ ظاہر ہے کہ ہر آدمی اپنی کمیونٹی (Community)کی فلاح و بہبود کا خواہاں ہوتا ہے ؛اس لیے نوجوانوں کے فائدے کی پالیسیاں جس قدر بہتر طریقے سے خود نوجوان بنا سکتے ہیں ،بڈھے پالیسی ساز ممبران پارلیمنٹ سے اس کی امید نہیں لگا سکتے ۔
زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سیاست میں لاکر اس کی بگڑی شبیہ ٹھیک کی جا سکتی ہے؛ کیوں کہ ظاہر ہے جو خود کسی تالاب میں نہاتا ہو، نادر ہی اسے گدلا کہتا ہے ۔نیز اس سے پالیٹکس کو انکلوسیو (Inclusive)بنانے میں مددملے گی ۔
اورسب سے بڑھ کر یہ کہ عمردراز نیتائوں پرصحیح غلط ہر فیصلے کی تائید کرکے اپنی اپنی پارٹیوں کے تئیں وفاداری ثابت کرنے کا دبائو رہتا ہے ؛ کیوں کہ وہ لمبے عرصے سے جڑے ہوتے ہیں تو پارٹیاں ان سے اس طرح کی امیدیں لگاتی ہیں ۔لیکن نوجوانوں کا معاملہ اس حوالے سے ذرا الگ اس لیے ہے کہ وہ یہاں نئے نئے ہوتے ہیں ۔اگر قابلیت اور حوصلہ ہو تو ہر پارٹی انہیں اپنے میں ملانا چاہے گی ۔ اور اس صورت میں وہ اپنے آئیڈیلس (Ideals)اور افکار و نظریات کے حساب سے پارٹی کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔
آج مسلمانوں کی جو سماجی اور تعلیمی پس ماندگی ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔سچر کمیٹی رپورٹ نے آئینہ دکھا دیا ہے ۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کے سامنے آئیں اور اپنا چہرہ دیکھنے کی کوشش کریں ۔ تعجب ہوتا ہے کہ جس قوم نے ہزار سال تک شان و شوکت کے ساتھ اس ملک پر حکومت کی اور اس کو سونے کی چڑیا بنانے اور برقرار رکھنے میں اپنا کردارادا کیا ،وہ کیوں اس قدر پیچھے رہ گئی!!!
میری ناقص سمجھ کے طابق اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ملکی سیاست سے مسلمانوں کا انقطاع اور لا تعلقی ہے ۔ اگر آزادی کے بعد سے وہ اس میدان میں کما حقہ اپنی نمائندگی درج کراتے رہتے تو میرا یقین ہے کہ حالات مختلف ہوتے ۔یہ سمجھنا کہ جو افراد پارلیمنٹ تک پہنچتے ،صرف ان کی معاشی حالت سدھرتی ،پوری قوم کی نہیں ؛بالکل غلط ہے ۔اس سے جہاں وہ خوش حال ہوتے وہیں امت من حیث المجموع بہرہ ور ہوتی ؛کیوں کہ پالیسی سازی میں ان کے مفادات بھی پیش نظر رہتے ،ان کے جائز حقوق کے لیے لڑائیاں لڑی جاتیں اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کچھ نہ کچھ حد تک ضرور مخلصانہ کوششیں کی جاتیں ۔
سیاست میں نوجوانوں کی ضرورت کا صحیح معنی و مفہوم:
مذکورہ بالا بحث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر بھارتیہ نوجوان تعلیم کو خیرآباد کہہ کر سیاست میں کود پڑے ۔ یہ صحیح ہے کہ یہ میدان بھی دیگر کی طرح ایک کیریرآپشن(Career option)ہے ؛مگر ہندوستانی سیاست کے خاندانی نظام کو دیکھتے ہوے مجھے لگتا ہے کہ یہاں داخلہ پاکر کام یابی پانا بہت مشکل ہے (محال نہیں)۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جو نوجوان واقعی قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور دوسروں کی خاطر کچھ کر گزرنے کا جنون سینے میں لیے ہوں ،وہ ضرور آئیں اور اپنی قسمت آزمائیں ۔
رہے بقیہ نوجوان تو وہ عملی سیاست میں گو سرگرم نہ ہوں ۔ مگر ”میں سیاست سے نفرت کرتا/کرتی ہوں”کہہ کر اس سے یکسر لا تعلق بھی نہ رہیں ؛بلکہ انتخابات میں حق راے دہی کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور سوشل میڈیا کی وساطت سے اور براہ راست سیاسی امور میں اپنے خیالات دوسروں تک پہنچائیں ،انہیں صحیح غلط سے متعارف کرائیں اور عوام میں بیداری لاکر انہیں ذمہ دار شہری بنانے میں اپنا رول نبھائیں ۔
سیاست کی راہ میں نوجوانوں کو درپیش چیلنجز:
ملکی سیاست اب بھی پوری طرح سے دولت،خاندانی وراثت ،مذہب/مسلک،ذات پات اور نجی تعلقات پر مبنی ہے ۔اس لیے یہاں کسی نوجوان کے لیے جگہ بنانا اتنا آسان نہیں ہے ۔لیکن اس منظرنامے سے گھبرانے اورتنگ دل ہونے کی قطعا حاجت نہیں ہے؛بلکہ اس سے نبردآزما ہوکرسرخ رو ہونے کی ضرورت ہے ۔اگر کوئی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل جاں فشانی کرے تو بلا کسی خاندانی تعلق کے وہ اپنا مقام بنا سکتا ہے ۔
یہ بات کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں ،بلکہ حقائق کو سامنے رکھ کر کہی جا رہی ہے ۔دیکھیے نا!کس طرح دو نوجوان جگنیش میوانی اور ہاردک پٹیل نے اپنی صلاحیت او رمحنت سے عوام کا دل جیتا اور اپنی اپنی برادری کے ہر دل عزیز لیڈربنے ۔
ہاں!یہ صحیح ہے کہ نوجوانوں کے پاس تجربے کی کمی ہوتی ہے ،جس سے بسا اوقت دوراندیشانہ فیصلے لینے میں غلطی کا امکان رہتا ہے ۔اسی طرح قدآور لیڈران انہیں بآسانی اپنے ہاتھ میں کھلونا بناکر کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرسکتے ہیں ۔لیکن یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں علم ،قابلیت ،معاملہ فہمی اور اصول و ضوابط سے حل کیا جا سکتا ہے ۔
پس چہ باید کرد؟
اس صورت حال کا علاج یہ ہے :
سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ میں نوجوانوں کے لیے ریزرویشن رکھا جاے ،اورسیاسی خاندان کے لڑکوں /لڑکیوں کو اس سے مستثنی ورار دیا جاے ۔مراکش،پاکستان،کینیا وغیرہ ممالک نے اپنے اپنے پارلیمنٹ میں نوجوانوں کے لیے سیٹیں مقرر کر رکھی ہیں ۔ورون گا ندھی نے اپنے ایک مضمون(اس کا حوالہ پیچھے گزرچکا ہے)میں اس کی زبردست وکالت کرتے ہوے لکھا ہے :”After all,if reservation can be provided to a range of ethnicities and caste based groups, why not for the youth?”
نوجوان لیڈروں کو انٹرنشپ(Internship)کے لیے پارلیمنٹ میں موقع ملنا چاہیے تاکہ وہ تجربہ کا رنیتائوں کے ساتھ رہ کر کچھ تجربات حاصل کرسکیں ۔اس قسم کی کام یاب کوشش برطانیہ میں ہو چکی ہے ، جہاں UKYP(United Kingdom Youth Parliament)نام کا آرگنائزیشن پچھلے 18-19سالوں سے کام کررہا ہے (دیکھیے : ویکیپیڈیا)۔
سیاسی پارٹیاں اپنی نوجوان/طلبہ شاخوں کو زیادہ اختیارات اور مضبوطی دیں تو اس سے بھی کچھ مثبت اثرات سامنے آنے کے امکانات ہیں ۔
حاصل یہ ہے کہ سیاست میں نوجوانوں کی شرکت اور دل چسپی ملک کے مفاد کے تئیں ناگزیر ہے ۔ گو ہندوستان میں اس حوالے سے حالات بہت خوش آئند نہیں ہیں ؛لیکن راقم پر امید ہے کہ اگر مذکورہ بالا تجاویز پر غور کیا گیا اور انہیں اپنایا گیا تو کچھ حد تک سدھار آسکتا ہے ۔
شعبہ تعلیمات، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی
موبائل نمبر:8791443948, 906202566





