9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
زارا طیب قاسمی
“آپ بے حد خوب صورت ہیں”
“آپ کی آواز بہت ہی مدہوش کن ہے…. آپ جب اپنی آواز میں میری غزل گاتی ہیں تو یقین ہونے لگتا ہے کہ میں نے تخیل میں جو پیکر تراشا ہے وہ بالکل آپ کی طرح ہے ”
“ارے آپ بھی شاعری کرتی ہیں”
“آپ تو بہت ہی خوب صورت غزلیں کہتی ہیں”
“بہت خوب آپ کی یہ غزل تو بے حد پیاری ہے… بس اس کی نوک پلک سنوار لی جائے تو بہترین غزلوں میں شمار ہوں گی”
“اچها چلیں مجهے ہی اپنی غزلیں دکھا لیا کریں ،میں دیکھ لوں گا”
“اب آپ کی شاعری میں کافی نکھار آگیا ہے”
“سچ بتائیں آپ کی شاعری میں بسنے والا شہزادہ کون ہے؟”
“اک بات پوچهوں”
“آپ نے کبھی محبت کی ہے؟”
“آپ کی شاعری میں بڑا درد پنہاں ہے .. پتا نہیں کون سا درد لئے پھرتی ہیں؟؟؟؟”
“ارے واہ یہ غزل تو بے حد خوبصورت ہے .. میرے لئے تو نہیں لکھی گئی؟”
“اک بات کہوں.. ؟”
“اگر میں یہ کہوں کہ مجهے کسی لڑکی سے محبت ہو گئی ہے تو کیا یقین کرو گی؟”
“آج بہت بیچین ہے دل”
“سچ بتاوں جویریہ میں محبت میں پور پور بهیگ چکا ہوں”
“معلوم نہیں کب کیسے… تم میرے دل کے بے حد قریب ہو گئیں”
“جویریہ….. آئی لو یو”
“میں محبت کرنے سے خود کو روک نہ سکا….. تم تو جانتی ہو نا یہ بے اختیار جذبہ ہے”
“سنو جویریہ میرا ساتھ نبھاؤ گی؟؟؟؟”
“میں تم سے ملنا چاہتا ہوں”
ہم دونوں میز کی دونوں جانب بیٹھے تھے
میرا نازک ہاتھ اس کے بھاری ہتھیلی کے نیچے محبت کی بوجھ سے کانپ رہا تها
آج اس نے کھل کے محبت کا اظہار کر دیا تهاتھا۔ْ
بہت محبت اور چاؤ کے ساتھ میرے ہاتھ کی تیسری انگلی میں گولڈ کی رنگ پہنا کر مجهے ہمیشہ کے لئے محبت کی زنجیر سے باندھ دیا.
میں نے دو پل کے لئے حیا آمیز نظریں اٹھائیں سامنے پور پور محبت میں ڈوبی ہستی ….محبت پاش نظروں سے مجھے ہی تکتی جا رہی تھی میں نے نظریں جھکا لیں!!!
” میں نے دنیا میں تم جیسی حسین لڑکی نہیں دیکھی”
“آج تم بے حد خوب صورت لگ رہی ہو”
“تم جب پاس ہوتی ہو مجھے کسی اور شئے کی طلب نہیں ہوتی”
“مجھے تمہارے ہاتھ کی کافی اچھی لگتی ہے”
“مجهے صرف تمہارے ہاتھ کی ہی کافی اچھی لگتی ہے”
“جویریہ امی اکیلی ہیں کچن میں جا کر ان کی مدد کرو”
” شادی کو ایک ماہ ہو گئے اور اب تک تمہارے دلہاپے کے یہ روپ نہیں اترے… جاؤ کچن میں امی اکیلے ہی سارا گھر سنبھالے ہوئے ہیں”
“مجھے یہ چونچلے پسند نہیں ہیں اور شاید شام کے بعد گھر سے نکلنا امی پسند نہیں کریں گی”
” تم نے امی کے ساتھ ہی کھانا کیوں نہیں کھا لیا؟میں تو دوستوں کے ساتھ آج باہر ہی کھانا کھا لیا”
“اب میں ہربات تمہیں بتاوں کہ دیر کیوں ہوئی… کہاں گیا تھا؟… کہاں سے آ رہا ہوں؟”
“میرے کپڑے پریس کر دینا … مشاعرے میں جانا ہے”
” دو دن کے لئے شہر سے باہر جا رہا ہوں ایک دوست کی کتاب کا اجرا ہے”
“یہ اس لفافے میں کیا ہے؟”
“احمق ہو کیا تمہاری غزلیں میں پبلش کرواؤں ؟؟؟ تمہارےعشق و محبت کے اشتہار لگاوں؟”
” خود سے میرا موازنہ مت کرو”
“پاگل ہو تم میں کیوں بدلوں گا”
“شادی سے پہلے کی بات اور تھی اب کی بات اور ہے”
“تم گھر اور بچوں پر دھیان دو”
” اب یہ ڈائری لکھنا بند کروگی؟”
“میں ابھی تم سے بات نہیں کر سکتا …..لائٹ بجھا دو ، مجهے سخت نیند آ رہی ہے”
میں نے حیرت سے اپنے ہاتھ کو دیکھا جسے جھٹک کر اس نے چادر شانے تک تان لی تھی۔
ٹیبل پر رکهے مسودے پر یوں ہی نظر پڑی محبوب کے لئے لکھی گئی بے حد رومانی غزل دل کو گرفت میں لینے لگی پھر چند ہی لمحوں میں خواب بکھر کر کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرزوں میں تبدیل ہوگئے. میں نے بھیکی پلکوں سے اس شخص کی جانب دیکها جسے میں پہلی بار دیکھ رہی تھی ۔
��
جمشید پور ، انڈیا





