Sunday, March 1, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldاف، یہ تاریک رات

اف، یہ تاریک رات

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

احمد رضا

را ت کا نصف حصہ گزر چکا تھا، شہر پر مکمل خاموشی طاری تھی، شاہرایئں وران پڑی تھیں، دوردراز کتے کہیں بھونک رہے تھے ،گھنا گھور بادل لگا ہوا تھا ،ایسا لگ رہا تھا کہ اب جی توڑ بارش ہو کر رہے گی ،مگر ہو نہیں رہی تھی ،بادلوں کا گرجنا،اور بجلیوں کاکڑکنا و چمکنا پورے شہر کو دہشت زدہ کر رہا تھا ،پورا شہر رات کی تاریکیوںمیں ڈوبا ہوا تھا،شہر پر اس سے پہلے اس طرح کی مصیبت کبھی نازل نہیں ہوئی تھی، ایسے حالات میں ایک مسافر آٹو رکشہ سے اترا جو شاید اپنا نشان منزل کھو چکا تھا اس امید پر کہ اسے رات گزارنے کے لیے کوئی جائے پناہ مل جاے ،اچانک زورسے بارش ہونے لگی اور ساتھ میں بڑے بڑے اولے بھی پڑنے لگے، پھر اس نے بہت ہی تیزی کے ساتھ اپنے سر پر ہینڈ بیگ رکھ لیا ورنہ ضرور اس کا سر گرنے والے اولوں سے زخمی ہو گیا ہوتا ،پھر اس نے بہت ہی تیزی سے نیچے جھک کرایک پتھر اٹھایا، اور اپنی داہنی طرف پوری قوت سے اچھال پھینکا ،شاید وہ پتھر کسی کے گھر کے دروازے سے ٹکڑایا تھا ،وہ آوازوں کی سمت متعین کر کے وہاں جا پہنچا اورآرام کی سانسیں لینے لگا ،اور پھر وہ کسی خیالوں کی دنیا میں گم ہو گیا ،اچانک بے خیالی کے عالم میں اس کا ہاتھ کسی نرم ملائم چیز سے ٹکڑایا او ر وہ ڈر کر تیزی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا ،چیں ،چیں ،اور چیائوں، چیائوںکی آواز سے معلوم ہوا کہ کتے کا پلہ ہے ، اب وہ وہاں رکنا نہیں چاہتا تھا، البتہ بجلی کا چمکنا اور کڑکنا بدستور جاری تھا ،اب وہ وہاں سے چل پڑا ، وہ تیزی سے قدم اٹھاے آگے کی طرف بڑھنے لگا ،لیکن جلد ہی وہ اپنے بڑھتے ہوے قدموں کو جہاں تھا وہیں روک لیا،اسے دوردراز کہیں بجلی کی چمک میں ایک ہیولی سا نظر آیا ا سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی دیو اس کے سامنے کھڑا ہو اور اس کے دونوں پیروں کے نیچے سے کچھ خالی جگہیں نکل آ ئی ہوں ،اور وہ کسی مردار کی ہڈی کو چبا رہا ہو ،اب وہ توہمات کی دنیا میں پہنچ گیا،اس کے ذہن کے پردوں پر طرح طرح کے خیالات ابھرنے لگے تھے کہ حقیقت میں وہ کوئی دیو ہی نہ ہو جو بارش کے موسم میں بجلیوں کی کڑک سے تحت الثری سے نکل آتاہے ،اور جو کچھ اس کے سامنے آتا ہے اس کو اپنے منھ کا نوالا بنا لیتا ہے ،ابھی وہ توہمات کی دنیا سے نکلا بھی نہ تھا کہ اچانک اس کے پشت کی جانب سے کسی چیز کی دوڑنے کی آواز زوروں سے آنے لگی ،پھر وہ تیزی سے ایک طرف ہٹ گیا ورنہ وہ اس دوڑتی ہوئی چیز سے ٹکڑا کر ضرور گر گیا ہوتا ، وہ دوڑتی بھاگتی ہوئی چیز اس کے سامنے سے اس دیو کے پیروں کے بیچ سے نکلتی چلی گئی،وہ اسی تذبذب کی حالت میں وہیں کھڑا سوچ رہا تھا کہ آگے قدم بڑھائے کہ نہ ،پھر اس نے اپنی تمام تر ہمت کو یکجا کیااو رکہا ـــ،اب ہمیں یہاں سے نکلنا چاہئے ،جو ہوگا دیکھا جایئگا،اور پھر وہ وہاں سے اپنے قدموں کو دھیرے دھیرے بڑھانے لگا،اورجب وہ اس دیو کے پیروںسے نکلنے کے قریب تھا، تو وہ تیزی سے دوڑنے لگا اور دوڑتا چلا گیا ،کہ سچ میں کہیں اس دیو کا نوالا نہ بن جائے ،ابھی وہ رک کر تازہ دم سانس لینے بھی نہ پایا تھا کہ اسے تیز تیز خشبوٗں کی مہک آنے لگی،ایسی خشبو جو آج تک اس کی قوت شامہ سے ہو کر نہیں گزری تھی ،وہ پھر اسی توہمات کی دنیا میں جا پہنچا جہاں سے وہ ابھی نکل کر آیا تھا،کہ کوئی پری زاد نہ ہوجو رات کی تنہائی میں اپنے بدن پر طرح طرح کی خشبوئیںلگاکر پھیرا کرتی ہیں ،اور اسے جو بھی بنی آدم میں سے نظر آتا ہے اس کو اڑا لے جاتی ہے، بچپن میں دادی اماں سے کہانی بھی سن رکھی تھی ،اس خیال نے مزید اس کے توہمات کو تقویت بخشی ،اچانک اسے کتے کی تیز بھونکنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں،اب وہ مکمل طور سے ڈر گیا تھا ،وہ اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ کتے بد روحوں کو دیکھا کرتے ہیں ،اب کیاتھا ،وہ آو دیکھا نہ تائو جدھر منھ اٹھا ادھر بھاگ کھڑا ہوا ،اور تیزی سے بھاگتا چلا گیا ، وہ سرپٹ دوڑے جا رہا تھا ،کتے بھی بھونکتے ہوئے اس کا پیچھاکرنے لگے تھے،وہ پوری طرح سے ڈر اور سہم گیا تھا ،اسے بھاگتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک ساتھ کئی بدروحیں اس کاپیچھا کر رہی ہوں ،کتوں کا بھونکتے ہوئے اور خشبوئوں میں ملبوس پری زاد کا پیچھا کرنا بدستور جاری تھا ،اس پر پوری طرح سے خوف مسلط ہو چکا تھا،اسے بھاگتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی ڈائناسور اپنا منھ کھولے شکار کی ٹوہ میںبیٹھا ہوا ہو ،کہیں اسے دوڑتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی آدم خور پرندہ اپنے شکار کو چنگل میں لیے اڑنے کی تیاری کر رہا ہو،وہ سر پٹ دوڑے جا رہا تھا ،دوڑتے دوڑتے اب اس کی سانسیں بھی پھولنے لگی تھیں ،دل کی دھڑکن بھی زور زور سے دھڑکنے لگی تھی،اب اس سے بھاگا نہیں جا رہا تھا ،وہ مکمل طور سے بے جان ہو چکا تھا ،پھر وہ خود کو حالات کے سہارے چھوڑ کر نیم بیہوشی کی حالت میں سڑک کے ایک طرف گڑ پڑا،اور نہ جانے کب اس پر نیند طاری ہوگئی ۔۔۔۔صبح ہو چکی تھی ،بادل چھٹ چکے تھے،موسم صاف ہو چکا تھا،پھر اس کی آنکھیں کھلی، اور سامنے کے منظر پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں ،ہر طرف سرسبزوشادابی ہی شادابی تھی،سڑک کے کنارے قطار در قطار پھولوںکر کے درخت لگے ہوئے تھے،پھولوں کی کیاریاں دلفریب منظر پیش کر رہی تھی،بڑے بڑے حسین نظارے دینے والے پیڑ پودے ہوا کے مست جھونکوں سے جھول رہے تھے، جس کی ٹہنیوں کے پتوں پر پانی کے قطرات موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، اور ان میں سے بعض قطرے زمین پر بھی ٹپک رہے تھے،بلند وبالا پہاڑوں کے دامن سے جھڑنے کے مانند پانی بہہ رہے تھے، جس کے کنارے خوبصورت چرند و پرند اپنی زندگیوں کا مزہ لے رہے تھے،وہ اس جگہ کو د یکھ کر اس کی تعریف کئے بغیر رہ نہ سکا ،اور بولا ،واہ کیا دلفریب منظر ہے ،گویا جنت کی مثال پیش کر رہا ہو،وہ اٹھا اور گھومنے لگا ،اور وہ گھومتے ہوئے ہر ایک چیز کو بہ غور دیکھتا اور اس سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کرتا ،اور فی نفسہ اس کی تعریفیں بھی کئے جاتا ،اسے گھومتے ہوئے ایک پوسٹر کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ ’’ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سیٹی‘‘ ہے۔۔ ۔پھر رات کے سارے واقعات اس کے ذہن کے پردوں پر ابھرنے لگے،اب وہ زور زور سے ہنسنے لگا جیسے اس پر پاگل پن کا دوڑا پڑ گیا ہو ،اور پھر وہ ہنستے ہوئے بولا ،ــ’’واہ بھائی میں بھی کیا الّوبن بیٹھا ‘‘جسے میں بھاگتے ہوئے ڈائنا سور سمجھا، در اصل وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی کی سینٹرل لائبریری ہے ‘‘اور جس کو آدم خور پرندہ سمجھ بیٹھا ، اصل میں وہ’’ میڈیا ماس کمونیکیشن کی بلڈنگ ہے‘‘اور جن خشبوئوں کی وجہ سے پری فرض کر لیا تھا ،اصل میں وہ یونیور سیٹی کے سڑک کے کنارے قطار در قطار لگے خشنوماپھولوں کی کیاریاں ہیں، جن سے طرح طرح کی خشبوئیںپھوٹ رہی تھیں،اور کتوں کا پیچھا کرنا محض اجنبی ہونے کی وجہ سے رہا ہوگا ، بس، اور کچھ نہیں۔۔
تقریباوہ نصف دن تک گھومتا رہا ،اور وہاں کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہا،پھر وہ گھومتے ہوئے اڈمین بلڈنگ کے پاس جاپہنچا جہاں پر بہت سے طلبہ جمع تھے، جس کے دائیں طر ف ایک تنبو نما اسٹیج بنا ہوا تھا ،جس پر باری باری طلبہ آتے اور کچھ نہ کچھ بول کر کے واپس لوٹ جاتے،ایک آواز اس کے کانوں سے ٹکڑائی ، دوستو ، اب ہم خاموش نہیں رہیںگے ؟ بہت ہوا،آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری مانگیں پوری نہیں کی جا رہی ہیں؟ ہمیں اسکالر شپ درکار ہے، وہ چاہیے،ہاسٹل کی جو عدم فراوانی ہے،اس پر کام ہونا چاہیے ،میس بل کم ہونا چاہیے،لابریری میں جو کتابوں کی کمی ہے ،وہ ختم ہونی چاہیے،یہاں ڈھنگ کی کوئی کینٹینگ نہیں ہے ،ہمیں یہاںپر اچھی کینٹینگ چاہیے،جب تک ہماری مانگیں پوری نہیں ہو جاتی، ہم اسی طرح سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہیںگے ،چاہے جو ہو جائے ہم اپنی مانگیں پوری کر کے رہیںگے۔۔۔ پھر وہ شخص اس شور شرابے سے اپنا دھیان ہٹا کر آپس میں بات کرنے والے دو طالب علم کی طرف موڑا، جن میں سے ایک کہہ رہا تھا ، شاید تم کو معلوم نہیں ہے ؟یہاں کے حالات اس سے بھی زیادہ خراب تھے،آج جو تم اتنی ترقی دیکھ رہے ہو ،یہ سب یونیورسیٹی کے کچھ خیرخواہ لوگوں کی بدولت ہے، جن کی وجہ سے یہ یونیورسیٹی آج چمک اور دمک رہی ہے، ان ناموں میں بلا جھجھک ڈپارٹمینٹ آف اردو کا نام لیا جا سکتا ہے۔ دوسرے نے دبے لہجے میں کہا ،ارے یار چپ رہو ، مار کروائوگے کیا؟ یہاں پر دوسرے دپارٹمنٹ والے بھی موجود ہیں ۔ وہ بھٹکا ہوا مسافر، ان دونوں کی بات سن کر ہنس پڑا ، اور اپنی منزل کی تلاش میں نکل پڑا ، جاتے وقت اسے راستے میں وہ باب علم نظر آیا ،جس کو وہ اندھیرے میں کوئی ہیکل دیو سمجھ لیا تھا ، جس کے کنارے ہدی کا ایک بڑا سا ٹکڑا پڑا ہوا تھا، جس پر چند کتے آپس میں جھپٹ رہے تھے۔۔
موبائل۔۔8207572585

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular