سلمہ حجاب
مرے مالک
مرے خالق
میری بیدار چشمی ہے بڑی قاتل
یہ با خبری ہلاکت خیز ہے اتنی
کہ اب
فکر ونظر میں
ہرطرف خونریز منظر ہیں!
جہان علم میں ہر دن
نئ دہشت نئ وحشت
خبر بن بن کے آتی ہے
ہر اک اخبار کی سرخی
تباہی کے نے پیغام لاتی ہے
مرے احساس کی دنیا میں
ہر سو حشر برپا ہے
مسلسل خوف طاری ہے
کہیں ایسا نہ ہو
میں بھی
کسی دن قتل ہو جاؤں
اور اپنی بے کفن تربت پہ
خود نوحہ پڑھوں
ماتم کروں اپنا
دعا ہے یا الٰہی
اس سے پہلے
تو مری
بے علم ہستی کو جلا دیکر
جہان بے خبر آباد کر پھر سے
کمال آگہی سے پھر
زوال آگہی تک
رہنمائی کر مرے مولیٰ
کہ میں حرف و قلمکے ان لہو افشاء فسانوں کو بھلا دوں
اور
جہان بیخبر میں جا بسوں پھر سے
جہاں کو تاہ چشمی
اور بیخبری کی سر شاری
مجھے مدہوش رکھتی تھی
وہ کم علمی کا عالم!
عالم کیف ومسرت
پھر سے لوٹا دے مجھے مولیٰ
تو اس سے قبل
کہ اپنی
صلیب آگہی پر
ایک دن مصلوب ہو جاؤں!





