ڈاکٹر ریشماں پروین
اردو زبان وادب اور خصوصاً اردو فکشن کی تاریخ میں اپنی تحریروں سے گرانقد اضافہ کرنے والی پروفیسر شمیم نکہت کے ادبی مرتبے اور حیثیت سے ہم سبھی واقف ہیں۔ جو بیک وقت افسانہ نگار، خاکہ نگار، مضمون نگار، شیریں بیان مقرر تھیں ۔ وہ ایک ایسی عہد سازادیبہ تھیں جنہوں نے کبھی شہرت و نام وری کی چاہ نہیں کی حالانکہ شعاع کے جانے کے بعد وہ پہلے جیسی فعال اور متحرک شمیم نکہت تو نہیں رہیں لیکن کتابوں کا مطالعہ آخری وقت تک اسی طرح جاری رہا۔ان کی اچانک موت نے اس باوقار شخصیت کو ایک بار پھر سے ادب کے شید ائیوں کی توجہ کا مرکز بنادیا اور اب احساس ہوا کیا کھویا؟مگر خدا کی مصلحت وہی جانے سوائے صبر چارہ نہیں۔شمیم نکہت کا عصری ادبی منظرنامہ بار بار یاد دلا رہا ہے کہ بغیر ان کے کہیں کچھ ایسی کمی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ شمیم نکہت کا پہلا افسانہ ۱۹۵۶میں شائع ہوا ۱۹۵۶ءتاحال ان کی تخلیقی زندگی کم وبیش ۶۱برس پر مشتمل ہے ۔ظاہر ہے۱۹۵۶اور عہد حاضر کی شمیم نکہت کی ذہنی وفکری دنیا مختلف مراحل سے گذرنے کے بعد آخر کار کندن بن گئی جس کا ثبوت ان کی تخلیقات وتصنیفات ہیں۔خصوصاً’’عورت‘‘ان کی تحریروں کا مرکز ومحور رہی۔عورت کے مقدر اور مسائل پر ان کا دل ہمیشہ تڑپتا رہا۔زندگی کے نشیب وفراز، دکھ درد جدوجہد اور نہ جانے کن کن منزلوں سے گزرتے ہوئے، مشکلات کے باوجود ہمیشہ متبسم رہنے والی شمیم نکہت آنے والی نسلوں کو یہی پیغام دیتی رہیں۔
یقیں محکم، عمل پیہم محبت فاتح عالم
شمیم نکہت کی قربت نے مجھے اکثر یہ احساس دلایا کہ شہرت وکامیابی سے بے نیاز وہ اپنے اندرایک عجیب ساحرانہ کشش رکھتی ہیں ان کی زندہ دلی،دلچسپ گفتگو اور لب ولہجہ کی شیرینی ہر کسی کو ان کا گرویدہ بنادیتی تھی۔ڈائی لیسس جیسا حوصلہ کش علاج بھی ان کے عزم وحوصلے کو شکست نہ دے سکا۔شمیم نکہت ایک کثیرالجہت ادیبہ تھیں ان کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا جس کی پہلی سامع بقول شمیم نکہت ان کی بہنیں ہوا کرتی تھیں آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔ رضیہ سجاد ظہیر اور شارب ردولوی کے ساتھ نے شمیم نکہت کے فن کو جلابخشی۔شمیم نکہت اپنے آپ میں ایک دبستان اور تخلیقی ادب کے ایک عظیم الشان عہد کی نمائندہ تھیں حالانکہ انہوں نے کبھی خود کو عظیم ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے عزیز دوست عارف نقوی کا خاکہ لکھا جسمیں انہوں نے لکھا کہ عارف کا گروپ ایسا تھا جس کے بغیر وہ منظرنامہ مکمل نہیں ہوسکتا مگر اس میں اپنا کوئی خصوصی ذکر نہیں کیا ملاحظہ کیجئے:-
’’یہ وہ زمانہ تھا جب لکھنؤ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین شباب پر تھی اور یوپی کی سیاست پر اس کا بہت دباؤ رہتا تھا۔۔۔۔شارب ردولوی، عارف نقوی،اشہد رضوی،شاہد، ابن حسن،حسن عابد،احمد جمال پاشا، احراز نقوی، ذکی شیر ازی ، حیدر عباس اور آغا سہیل کا ایک بڑا گروپ چھایا رہتا تھا، یہ پورا گروپ ہی تر قی پسند تحریک سے متاثر اور سر پھرا تھا۔شاید یہاں میں بھول گئی ہوں کہ مجھے بات صرف عارف کی کر نی ہے۔ لیکن اس گروپ کا نام لئے بغیر اس عہد کی کو ئی اہمیت ہی نہ رہ جاتی —-ان میں سے کچھ لوگوں سے ہماری بات چیت ہو تی، ادبی —-بحث ومباحثے بھی ہو تے—-شعر تو یہ سارے لوگ کہتے تھے—-مضامین بھی لکھے جا تے اور کہاں چھپے اس کی بھی فکر رہتی—-اس پورے گروپ کی ایک قدر مشترک تھی—-کہ یہ سارے احتشام صاحب کے شیدائی تھے۔ایم، اے کے بعد مجھے بھی احتشام صاحب کی نگرانی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ مل گیا تھا، ساحر، سردار جعفری،کیفی اعظمی،کرشن چندر بیدی ،خواجہ احمد عباس، عصمت آپا اور سلمیٰ آپا وغیرہ —-ہم لوگوں کے آئیڈیل تھے اور ہم سب ترقی پسند تھےـــــــــــــ۔
شمیم نکہت نے افسانے اور تنقیدی مضامین کے علاوہ بہت سے خاکے بھی لکھے مندرجہ بالا اقتباس سے ایک ایماندار خاکہ نگار ہمارے سامنے آتا ہے جسے یہ اعتراف کرنے میں ذرا بھی تکلف نہیں کہ مجھے بات صرف عارف کی کر نی ہے، شمیم نکہت کے تحریر کردہ اہم خاکوں میں رضیہ سجاد ظہیر، قمر صاحب، عارف نقوی اور نورالحسن ہاشمی کے خاکے شامل ہیںکثیر الجہت ادبیہ ہونے کے باوجود معلوم نہیں کیوں انھوں نے خود کو صرف ایک افسانہ نگار کہنا زیادہ پسند کیا، عارف نقوی سے مخاطب ہوکر لکھتی ہیں ۔
’’عارف تم نے دیباچہ لکھنے کو کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور لکھ گیا خاکہ۔۔۔۔۔۔۔عالم فاضل نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔اس لئے اسی پر اکتفا کرو۔افسانہ نگار ہوں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف کہانیاں ہی ان کی تخلیقات میں خصوصی اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ ان کے بعض مضامین کی قرأت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر شمیم نکہت نے کہا نیوں کے ساتھ تنقید پر بھی توجہ کی ہو تی تو یقینا ان کا شمار فکشن کے اہم ناقدین میں ہوتا، اپنے مضمون اکیسویں صدی:اردو کہانی کے سروکار میں انھوں نے جس خوبی سے ترقی پسند اور جدید افسانہ نگاروں کا مطالعہ پیش کیا ہے وہ ہماری اس بات کی دلیل ہے وہ لکھتی ہیں۔
’’آج اردو کہانی ماضی کی کہانی سے بالکل مختلف ہے، آج نہ وہ پریم چند کی حقیقت نگاری ہے نہ انقلاب کابیانیہ ،نہ عہد علامت نگاری، نہ ابہام کی ایسی تصویر جس کے معنی کی تلاش میں قاری خود گم ہوجا تا تھا۔ایسا نہیں ہے کہ آج کی کہانی نے ماضی سے اپنے رشتے منقطع کرلیے ہوںہر نیا عہد اپنے ماضی کی بنیادوں پر ہی کھڑا ہوتا ہے اور اس پر اپنی نئی اور عظیم عمارتوں کی تشکیل کرتا ہے۔اردو کی نئی کہانی نے ان تجربوں کو اپنا یا نہیں بلکہ ان کی خوبیوں اور کوتاہیوں سے فائد ہ اٹھاکر اپنی نئی راہوں کا تعین کیا ہے، اس کہانی کو آپ جد ید کہیں،مابعد جدید کہیں یا نئی ترقی پسندی سے تعبیر کریں، میرا خیال ہے کہ ناموں اور اصطلاحوں سے کچھ نہیں ہوتا اصل چیز تخلیق ہے اور تخلیق خود اپنے بارے میں بتا دیتی ہے۔ آج کی کہانی جس سماجی اور تہذیبی سروکار کو پیش کر تی ہے وہ بہت اہم ہے۔میں یہاں پر کہانی کے فن اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کی تفصیل میں جانے کے بجا ئے خود کہانیوں کے بارے میں گفتگوکرنا زیادہ پسند کر وں گی،اس لئے کہ ہمیں جو کہنا ہے، وہ خود اگر کہانی بیان کرے تو زیادہ بہتر ہے۔
صرف یہی مضمون نہیں بلکہ ان کے لکھے ہو ئے بہت سے مضامین ان کی تنقید ی صلاحیتوں کے غماز ہیں مگر انھیں خود کو ناقد کہلانا غالباً پسند نہیں تھا اسی لئے کہانیاں ان کی توجہ کا مرکز رہیں ان کے افسانے عصری حیات ومسائل کے عکاس ہیں ،خاص بات یہ کہ وہ صرف نصیحتوں پر اکتفا نہیں کر تیں بلکہ انسان دوست اور حوصلہ بڑھانے والی نظر آتی ہیں ان کے افسانوں میں زندگی اپنی تمام تر بوقلمونیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے اور ہر کہانی میں ان کا قلم اپنی الگ شان دکھاتا ہے ۔
شمیم نکہت نے صرف اپنی تحریروں سے ہی نہیں بلکہ اپنے خلوص ومحبت کی وجہ سے سب کے دلوں پر راج کیا، عزیزوں ، ہم عصروں دوستوں شاگردوں ،بڑوںچھوٹوں سب نے ان کے اخلاص کا اعتراف کیا ،یہ ایسی حکومت تھی جسے پروفیسر شمیم نکہت سے نہ ہی ان کی زندگی میں اور نہ موت کے بعد کو ئی چھین سکا۔
شمیم نکہت کے انتقال نے ان سے محبت کرنے والوں کو صرف رلایا ہی نہیں ،بلکہ سب کے قلم کو متحرک کردیا گویا کہہ رہی ہوں۔
’’میں جارہی ہوں، مگر تم سب کو بیدار کر کے جارہی ہوں، اردو زبان وادب کی آبیاری کرنا۔‘‘
کو ئی حکم نہیں! کو ئی اصرار نہیں ایک خاموش صدا جس نے موت کے صدمے سے دوچار بہت سارے قلموں کو ایسا تحرک بخشا کہ یکے بعد دیگرے شارب صاحب کے ای میل پر ان کے چاہنے والوں کا سیلاب محبت امڈ پڑا۔ بہت سارے مضامین شمیم نکہت کی شخصیت اور فن پر موصول ہو ئے۔جنھیں شارب صاحب نے کتابی شکل میں شائع کرنے کا مصمم ارادہ کیا ہے۔ یہ سارے مضامین پروفیسر شمیم نکہت کی شخصیت اور فن کا احتساب کر تے ہیں ۔ ایک بات جو ان سارے مضامین میں مشترک نظرآتی ہے وہ یہ کہ سب ان کی شیریں بیانی کے قائل ہیں اور یہ اعتراف کر تے ہیں کہ شمیم نکہت کا اسلوب تحریر اپنے اندر معجزانہ اور ساحرانہ اثر رکھتا ہے یہی سبب ہے کہ قاری ان کی تحریروں میں کھوجاتا ہے اور صرف یہی سوچتا ہے۔
جلوہ فرما ہے جو اوراق کے آئینے میں
اس کی توصیف میں کیوں حرف شنیدہ لکھوں





