Friday, April 3, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldاجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کا کردار

اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کا کردار

 

ڈاکٹر خواجہ سید محمد یونس

 دینی مدارس اور اسلامی اداروں کی جو افادیت ہے یا مضرت ؟ آج کا ہر رسالہ ، اخبار،اور دستاویزان سر ناموں اور عنوانوں کی توضیح و تشریح کرتے ملتاہے ۔کہ آیا موجودہ مدارس اپنے جلومیں امن کا کارواں رکھتا ہے یافساد و تباہی کا آتشفشاں ، اب تک مجموعی طور پر جو نظریات سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب مدارس اسلامیہ کی شبیہ کو متوازن امن پسند اور قومیت پسند ماننے کی تعبیر ہے ۔اپنے وضوح اور ایمانداری کے بائوجود دینی مدارس کے دامن عصمت پر تشدد پسندوں کی جانب سے جو الزام دمن یوسف کی طرح لگاہے وہ واقعی رکھا جاسکے ۔ تناظر میں صرف ایک تہمت کی حیثیت رکھتا ہے ، دراصل مدرسہ مشن سے جس خاص طبقہ کو تکدر اور انقباض  ہوتا ہے وہی مدرسہ مخالف کاز اور حرکیات میں مساعد و معاون  ہوتا ہے ۔ اس جہت سے اس کے افعال و اعمال مدارس مخالف ہی ہوتے ہیں ۔چونکہ نظریاتی سطح پر اس مفروضے کو تشہیر دی جاتی ہے اور اسے عوامی مقامات پر نمایاں کیا جاتا ہے بائیں بنا ذہن سازی کی راہیں بھی ہموار  ہوجاتی ہیں ۔ مگر تشہیر کا سہارا اسے ناقابل تکذیب سچ بنا دیتا ہے ۔ اور غالباً اسی منہج عمل نے مدارس اسلامیہ کے پر امن ہونے کے حوالے سے غور و فکر کی  راہ کھول دی ہے ۔ اور یہ دعوت دی ہے کہ مدارس کی امن پسند شبیہ کو سامنے لایاجائے ۔ اور اسکے خدمات کو اس تناظرمیں جانچا جائے تاکہ زہر زدہ فضامیں مدارس کے کردار کو زہریلی ہوائوں سے محفوظ رکھا جائے ۔مدارس اسلامیہ کے خشت اول امن کے گارے سے تیار ہوتی ہے ۔ اور اسکے مقاصد وا ہداف میں سلامتی اور تحفظ کا سایہ فگن ہوتا ہے۔ اس واقعیت کے بائوجود یہ پروپیگنڈہ کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے اور انتہاپسندی کے مراکز ہیں ۔معروضیت مخالف ہیں ۔  پوری دنیا میں جس مدرسہ کی بنیادسب سے پہلے پڑی تھے وہ رحمۃ اللعلمین ﷺ کی زیر پرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی ۔ رحم جس کاکام سلامتی جس کا اعلان اور تحفظ جس کا نظام تھا۔ اسی روشنی سے جلاپانے والے ہزاروں مدارس دینیہ گزرتے دور سے لے کرآج تک اسی اساس پر قائم ہیں ہندوستان میں دینی مدارس کا مایاجال بھی اسی نظام امن کا پیٖغمبر اور محافظ ہے ۔ دینی مدارس کی بنیاد ہی امن و سلامتی کے عنوان سے بنتی ہے ۔ اور اس کی تشکیل بھی خیر و خوبی کے صدائے عام سے ہوتی ہے۔ اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کے بنیادی کردار سے انکار ایک برملا حقیقت کا انکار ہوگا ۔ جن بنیادوں پر اس کا قیام عمل میں آیا اور اس کا نتیجہ اور ہدف اور ہرطرح کے اقدار کی تشکیل و تعمیر ہے ۔ ان مدارس کا پس منظر یا انکے عملیات کا نتیجہ بہترین علماء صاحب اقدار فضلاء اور انسانی فضلاء اور انسانی احساس کے حامل ماہرین اسلام کی پیداواری اور معاشرہ کی برائیوں قباحتوں اور داخلی شورشوں کا انسداد ہے ۔ درحقیقت ان مدارس کا جو اساسی منثور اور بنیادی ہدف ہے ۔ وہ ہے عالمی ضرورتوں کی اسلامی تکمیل یہی وہ دائرہ ہے جس کے تحت سارے مدارس کاوجود عمل میںآیا ہے ،گویا اپنے عمومی اور اساسی مفہوم میں مدارس دینیہ کی تاسیس عالم ضرورتوں کی اسلامی تکمیل و معاونت اور اسلام کے عالمی ضرورتوں اور انسانی احتیاجوں کی بھر پائی ہے۔یہی مدارس کا خاص ہدف ہے اور عام ہدف بھی ان سے گریز یا دامن کشی اپنے اساس سے غرض ہو گا ، اور اگر ایساہے تو واقعی یہ المیہ اور نامسعود ہے ان باتوں کے ساتھ ساتھ حقائق کا صحیح اور مناسب جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح  ہوجاتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اور اپنے اساسی منثور سے تھوڑے بہت نالاں اور گریزاں ہیں ، یہ کوئی خواہ مخواہ کاقیاس اور رائے زنی نہیں ، بلکہ موجودہ دینی اداروں کے اقدامات رویوں اور عمل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور واقعی یہ بہت تکلیف دہ ہے اس حوالے سے دینی جامعات کو غور وفکر کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک میں سمجھتاہوں وہ یہ ہے کہ ہماری دینی جامعات کی گریزی یا دامن کشی فقط یونہی نہیں ، اس میں دینی مدارس کی جدید کاری کے عنوان سے چلنے والی تحریکات رد عمل کی نفسیا ت اور خوف کار فرماہے ۔ اور شاید اس معاملہ میں مسلم علماء اور  قدامت پسند ماہر ین شریعات کا عناد اور ہٹ دھرمی قابل معافی ہے کیونکہ وہ رد عمل کی نفسیات ہے ۔ اگرچہ یہ ردعمل انتہا پسندانہ اور منفی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسے ردعملیات سے مسلم امت کا نقصان ہے ،اس حوالے سے غور وفکر اور تدبر کے مظاہرہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتاہے۔ بہرکیف ان نقائص (جو کہ کچھ حالات کے مجبور پیداوار ہیں)کے بائوجود دینی  مدارس کی افادیت تعمیری حیثیت ، اخلاقی ساکھ تشکیلی امیج بنیادی ضر ورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔آج بھی وہ مشعل راہ و نقوش ہے اسے اپنا کر اقدار کی اصلاح کرسکتے ہیں ،اخلاقیات کی اصلاح ہوسکتی ہے ، ناخواندگی کا انسداد ہوسکتا ہے ۔برائیوں کا خاتمہ ہوسکتاہے ۔اور ہر طرح کی قباحتوں کو فنا کے گھاٹ اتاراجاسکتاہے ۔درحقیت دینی مدارس کا سارا نظام علماء،طلبااور فاضلین جس اہم کام اور مشن پرمامور ہیں وہ اللہ و رسول کی اطاعت اور اصلاح و معاشرہ پر  مبنی ہے اس کا بنیادی مشن ہی معاشرہ میں امن وسلامتی کی اشاعت ہے ۔ جس قرآن و حدیث کی تعلیم ان مدارس میں ہوتی ہے اس کی خمیر ہی معاشرہ سازی اور انسانی نسل کی اصلاح و تعمیر ہے ۔ مدارس دینیہ کے پورے مقاصد صرف اور صرف بنی نوع انساں کی فلاح و اصلاح و تعمیر کے ارد گرد نظر آتے ہیں ان مدارس کا یہ تعلیمی جائزہ یہ بتلاتا ہے کہ دنیا کا سب سے معتدل اور متوازن نصاب مدارس اسلامیہ میں رائج ہے ۔جس نصاب میں تشدد،انتہا  پسندی ،اور غلوآمیزی کا درس نہیں ہوتا بلکہ امن وسلامتی اصلاح وتعمیر اور معاشرہ سازی کی تعلیم دی جاتی ہے درحقیقت مدارس اسلامیہ کا نصاب  وہ بہترین مشعل راہ ہے ۔ جس کی روشنی میں نصاب سازی اور از سر نو تعلیمی نظام کی تخلیق پوری دنیا کو امن وسلامتی کی راہ پرلاکھڑا کرے گا ۔آج ضرورت اس بات کی ہے اس سورج جیسی روشن حقیقت کو سمجھاجائے اور اسے برتا جائے ۔الغرض مدارس اسلامیہ کاپورا نظام تعلیمی ، تربیتی ، اخلاقی، انتظامی، معاشی اور سماجی ، اعتدال اور توازن کا مظہر ہے ۔ جس میں سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوتا بلکہ نوع انسان کے لئے سامان درس ہوتا ہے اس کا متوازن معاشی نظام ان تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کو یہ درس دیتا ہے کہ کھربوں اور کروڑوں روپئے خرچ کرنے اور سامان تزئین کے بے پناہ استعمال کرنے کی وجہ سے آنے والے تعلیمی خرچ میں جو اچھال پیداہوا ہے اور تعلیم مہنگی ہوگئی ہے ۔ جس کی بنا پر ہزاروں اور لاکھوں غریب بچوں کی دسترس سے تعلیمی حصولیابی دور ہوگئی ہے اسے ختم کیاجائے تاکہ غریب سے غریب بچہ تعلیمی اسلحہ سے لیس ہوسکے اور علوم و فنون کا حاصل کرنا آسان ہوسکے ۔مدارس دینیہ کا انتظامی نظام وقارو سنجیدگی اور عدل و مساوات کا بہترین نمونہ ہے ۔ اگریہ نقوش ہماری ہم عصر ،عصری یونیورسٹیاں اپنا لیں تو طلبا کی جانب سے ہونے والے حتجاجات اور اس کے نقصان میں ہونے والے ہرجوں سے محفوظ رہنا آسان ہوجائے گا ۔ مدارس اسلامیہ کا اخلاقی نظام اخلاق و مروت کے مظاہرہ کی دعوت دیتا ہے سچ یہ ہے کہ طلبا علوم دینیہ کا حسن سلوک اور طرز معاشرت اتنا بلند اور ارفع ہے کہ اسے ہم سماوی رفعتوں سے تعبیر کرسکتے ہیں ، آج ضرورت ہے کہ ان دینی مدارس کے ان نقوش کو اپنایا جائے ۔ اور ریکنگ کی انتہا پسندی جو کہ اخلاقی دہشت گردی کی ہی ایک نوع ہے ۔ اس کا سدباب کیا جاسکے ۔ الغرض دینی مدارس سراپا امن و سلامتی ہیں اس کا کردار ماضی میں بھی صاف ستھرا اور روشن تھا۔ آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا ۔ درحقیقت دینی مدارس ایک ایسی مشعل ہے جس کی روشنی میں امن کا شہر قائم کیا جاسکتاہے اور پرمعاشرے کی تشکیل ہوسکتی ہے ۔ آج اس کی ضرورت ہے اور اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس ضرورت کو ضروری اور لازم سمجھاجائے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular