9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

تقدیس نقوی
ہم جب آفس جانے کے لئے تیا ر ہوچکے تو حسب معمول اماں نے بازو پر بندھے ہوئے امام ضامن کو چھوکر دعا پڑھی اور بیگم نے جلدی جلدی قرآن کے اوراق کی جھپکیاں دیتے ہوئے کچھ روپوں کا صدقہ بھی نکالا اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کی ہم لنچ باکس لیجانا اور گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دعائے سفر پڑھنا نہ بھولیں. جلدی اس لئے کہ انھیں یہی عمل ابھی بچوں کے اسکول کے لئے جانے سے قبل دوہرانا تھا. اماں نے دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اللہ ساتھ خیریت کے تمہیں آفس پہنچائے اور شام کو صحیح سلامت گھر واپس لائے اور غنیم و دشمناں خاکم بدہن ہر آفت و بلا سے محفوظ رکھے.
ہمارے ساتھ یہ عمل گھر سے آفس کے لئے نکلنے سے پہلے روزانہ اس طرح ہوتا ہے گویا ہم کسی سات سمندر پار کے سفر پرجارہے ہوں اور وہاں سے بخیریت واپسی کی امید بہت کم ہو یا پھر شھر کے کسی شورش زدہ علاقے میں جانے کا ارادہ کررہے ہوں کہ جہاں بلوائیوں میں گھر جانے کا خطرہ ہو. ہم سے فارغ ہونے کے فورا” بعد ہی جب بچوں کےاسکول کے لئے رخصتی کی بے انتہا جذباتی رسومات ادا ہونے لگتیں اور ہم اپنے ان نیم خوابیدہ بچوں کو مشینی انداز سے تیار ہوتا ہوا دیکھتے تو ہمیں بھی بے اختیارانہ اپنے اسکول جانے کے دن یاد آجاتے.جب بچپن میں ہمیں بھی اسکول بس کی یہ کہہ کر کہ اسی کو اب اپنا بیت ثانی سمجھو مستقل سکونت عطا کردی گئی تھیتو ہمیں اسکی سیٹوں سے اپنے بستر سے زیادہ اسکی کھڑکیوں سے اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے زیادہ کنڈکٹر سے اپنے عزیزوں سے زیادہ اور ہمسفر ساتھیوں سے اپنے سگے بہن بھائیوں سے زیادہ انسیت ہوگئی تھی. اسکی وجہ یہ تھی کہ اولذکر کے ساتھ اگر ہمارا وقت روزانہچند منٹوں کے لئے بسر ہوتا تھا تو آخرالذکر کے ساتھ صبح شام گھنٹوں پر محیط ہوتا تھا. اور ان طولانی ملاقاتوں کی بنیادی وجہ سڑک پر روز بروز بڑھتی ہوئ وہ ٹریفک تھی جس کے سبب ہمارے اسکول کی بساب تقریبا” آدھی رات گذرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ہمارے علاقے میں آجاتی تھی اور ہم تقریبا” ڈھائ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد اسکول پہنچتے تھے.
جیسے جیسے ہماری کلاس بڑھی ٹریفک بھی بڑھنے لگی اور مسافت طے کرنے کا وقت بھی جو اب بڑھ کر تین گھنٹے ہوچکا ہے. اب ہم گھر میں بستر پہ سونے سے زیادہ اسکول کی بس کی سیٹ پر سونے لگے. تکیے کے طور پر برابر بیٹھے ساتھی کا کاندھا مل جاتا کہ جو اپنے برابر بیٹھے ساتھی کے کاندھے پر سر رکھے سورہا ہوتا تھا. اس سے اگے کی خبر رکھنا نیند کی حالت میں مشکل ہوتا تھا. کبھی کبھی بس کے اچانک بریک لگنے کے سبب ہمارا بائیں بازو والے ساتھی کے کاندھے کا تکیہ داہنے والے ساتھی کے کاندھے سے بدل جاتا تو اچھا خاصہ نیند میں خلل پڑجاتا.
یوں تو اتنی صبح سویرے بلکہ رات اندھیرے آٹھنے کے سبب کلاس میں بھی سونا اچھا لگتا تھا مگر ہماری ٹیچر بہت ہی بڑی رقیب نینداور دشمن آرام واقع ہوئی تھیں. ہمیشہ ہماری چھپ چھپاکر کلاس میںلی جانے والی نیند کو نہ جانے کہاں سے تاڑ جاتی تھیں اور ہمیں ڈانتے ہوئے کہتی تھیں کہ تم بس میں اچھی طرح سوکر کیوں نہیں آتے ہو اور ہم مارے شرمندگی کے اگلے روز بس میں اچھی طرح سونے کا پروگرام بنانے لگتے تھے. اور یہ سب اک اس کمبخت ٹریفک کے سببہوتا تھا. اس میں کوئی شک نہیں کہ جو گہری مزے دار نیند اسکول بس میں برابر بیٹھے ساتھی کے کندھے پر سر رکھ کر اسکی یونیفارم کی استری شدہ قمیض کو گیلا کرتے ہوئے آتی تھی وہ گھر کے بستر پر بھی میسر نہ تھی.
آج بھی اس وقت ہمارے گھر میں عید کی چاند رات کا سا منظر ہوتا ہے. بچوں کے بسترسے اٹھنے ٹوائیلٹ یونیفارم پہننے اور ناشتے وغیرہ کی تمام کاروائیاں اتنی دیر میں مکمل ہوجاتی ہیں جتنی دیر چھٹی کے دن بستر پرانکوایک کروٹ لینے میں لگتی ہے. اور یہ سب اتنی کمال مستعدی سے اس لئے ہوتا ہے کہ سڑک پر بڑھتی ٹریفک کے پیش نظر انکے اسکول کی بس اک سکنڈ انتظار کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے. رات کے آخری پہر کے اس سناٹے میں اسکول بسوں کے اچانک سڑک پر آکر وہاں پر سوئے ہوئے کتوں کو جگا دینے سے کالونی کے بچے تو بچے بڑے بوڑھے بھی اس شور شرابے سے اپنے بستروں سے آٹھ جاتے ہیں. یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے کہ جب آسمان پر ابھی تارے ان نیند سے ادھموئے بچوں کو اندھیرے میں خوب چمک چمک کر چڑارہے ہوتے ہیں.
ابھی ہم اپنے پڑوسی شرما جی کہ جو تقریبا” ہمارے ساتھ ہی روز افس کے لئے نکلتے ہیں کی افس کے لئے رخصتی کے لئے انکی بیگم کے زریعے اتاری جانے والی آرتی اور ٹیکہ کی رسم پوری ہوتی ہوئی دیکھ ہی رہے تھے کہ ہماری بیگم نے ہمیں ایک بار اور تنبیہ کی کہ ہم اپنا لنچ باکس ایک بار اور چیک کرلیں کہ اس میں ہم نے اپنی نئی دوائیں رکھ لی ہیں یا نہیں. انکے لہجے میں وہی سنجیدگی تھی کہ جو ہمارے کسی ہوائ سفر پر جانے سے قبل پاسپورٹ اور ٹکٹ چیک کروانے کے لئے ہوتی ہے.اور یوں ہم نے تعمیل حکم میں اپنا لنچ باکس ایک بار اور چیک کرنا شروع کیا. چائے کا چھوٹا تھرمس کپ سنڈوچ سیب کی کٹی ہوئ قاشیں پانی کی بوتل نیپکن فورک اور اسپون کیچ اپ نمک اور بلیک پیپر کے ساچے اور دوائیں وغیرہ چیک کرکے ہم نے بیگم کو تسلی بخش تھمس اپ کردیا اور آکر کار میں بیٹھ گئے.
کار اسٹارٹ کی تو اس نے بھی رات بھر اس پرگرتی اوس کی خنکی نگلنے کے سبب خوب خرخرکرکے پہلے اپنا گلا صاف کیا اورپھر اسٹارٹ ہونے کے لئے تھوڑی دیر کیایسے مہلت مانگی کہ جیسے ہماری بیگم علی الصبح جگانے پر کہتی ہیں ” بس دو منٹ اورپلیز” . اتنے میں ہم نے ریر مرر میں لٹکی ہوئ دعائے سفر پڑھکر اور بسم اللہ کہہ کر اپنا سفر شروع کر نے کی تیاری کرلی. اوراب جب ہم مین روڈ پر آئے تو ایسا لگا کہ ہم اس قافلے کے سب سے پیچھے رہ جانے والے مسافر ہیں.
ہمارے افس کی جانب جانے والی شاہراہ پر سبک رفتاری سے گامزن یہ کاروں کا کارواں ہمارے لئے اتنا ہی مانوس تھا جتنا کہہمارے بچوں کے لئے اسکول میں روزانہ صبح پرییرکی قطار میں کھڑے آگے پیچھے انکے ساتھی.
ہماری کار کے اگے پیچھے داہیں بائیں چلنے والی بلکہ سرکنے والی ان کاروں اور انکے سواروں سے ہماری روزانہ ایک مخصوص مقررہ وقت اور جگہہ پرکاروں کی سیٹوں پر بیٹھے بیٹھےہی اتنے قریب سے ملاقات ہوتے رہنے کے باعث ہم سب آفس گوئیرس کے درمیان ایک ان کہی یگانگت اور احساس ہمسائیگی سا پیدا ہوچکا ہے.
سڑک پر متحرک ہمارے ساتھ ساتھ میلوں چلنے والے ان بے نام ہمسفروں سے اب ہم اتنے ہی مانوس ہوچکے ہیں جتنے اپنے گھر کے پڑوسیوں سے بھی نہیں. گھر کے پڑوسیوں کے ساتھ تو ہائے ہیلو کے سوا ملاقات تو صرف تہواروں اور تعزیتی جلسوں تک ہی محدود ہوکررہ گئی ہے جبکہ ہماری کار کے ساتھ متحرک ان پڑوسی کاروں کے سوار اور ہم ایک دوسرے کے لئے کالونی کے پڑوسیوں سے زیادہ قریب ہوچکے ہیں. ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آج ہمارے پڑوسی شرما جی اور انکی بیگم نے کس کلر اوروضع کے لباس زیب تن کئے ہیں مگر یہ یقینی طور سے بتا سکتے ہیں کہ پہلے سگنل سے مڑتے ہی ہمارے قافلے کو روزانہ جوائن کرنے والی سفید ہونڈا سوک میں چلنے والے نوجوان جوڑے نے آج کیسا لباس پہن رکھا ہے. ہم اس حقیقت سے بھی ناواقف ہیں کہ ہمارے دوسرے پڑوسی مرزا صاحب جن کے ساتھ ہم برسوں سے ایک ہی کالونی میں رہ رہے ہیں کے یہاں آج لنچ میں کیا تیار کیا جارہا ہے مگر یہ انتہائی وثوق کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ بائیں جانب چلنے والی سرخ ہیونڈائی میں چلنے والے جوڑے کے لنچ بکس میں اج کیا پیک کرکے لیجایا جارہا ہے.تو ہوئے نہ یہ ہمارے روزانہ کے ہمسفر ہمارے گھر کے پڑوسیوں سے زیادہ ہم سےمانوس اور قریب.
ہماری ان ہمسفرکاروں کی تعداد دس بارہ سے تجاوز کرچکی ہے کہ جو تقریبا” آگے پیچھے یا دائیں بائیں پہلی دوسری لین میں کسی نہ کسی جانب ہمارے ساتھ ساتھ یا یوں کہیں کہ پہیا سی پہیا ملا کر چلتے ہیں. اگر ایک دن ہمارے دائیںجانب گرے کلر کی ھونڈا سوک میں بیٹھنےوالے پڑوسی ہوتے اور بائیں جانب سفید ہیونڈائ میں بیٹھا اک نوجوان جوڑاہوتا تودوسرے دن یہ ترتیب اسطرح بدل جاتی کہ ہماری دائیں جانب ٹویوٹا میں بیٹھےٹائی سوٹ میں ملبوس ایک ادھیڑعمرصاحب آجاتے اوربائیں جانبریڈ سوزوکی میںکسی ایرلائن میں کام کرنے والی ایک نوجوان پڑوسن آجاتیں.
جیسے ہی کوئی ہمسفر ہمارے اس کارواں میں اپنے مخصوص مقررہ مقام سے شامل ہوتا اپنے آگے پیچھے داہیں باہیں چلنے والے پڑوسیوں کو مودبانہ ہاتھ ہلاکر ہائے ضرور کرتا. لوگ یکے بعد دیگرے اپنے اپنے مستقر سے نکلتے رہتے ہیں اور ہمارے اس کارواں میں شامل ہوتے جاتے ہیں. بقولے لوگ آتے ہی گئے اور کارواں بنتا گیا.
اس ڈیڑھ دوگھنٹے کے طویل یومیہ سفرکےدوران ہم سارے متحرک پڑوسی ایک دوسرے کے پرسنل حالات سے بھی اب کافی حد تک واقف ہوچکے ہیں. جسکی بنیادی وجہ ٹریفک کی سست رفتاری سڑک پرکاروں کی بے شمار تعداد کے سبب بمپر ٹو بمپر ایک دوسرے سے تقریبا” گلے ملتے ہوئے چلتے رہنا اور کاروں کی کھڑکیاں کھولے رکھ کر بلا تکلف اور بلا تائمل اپنےتمام ذاتی معاملات کو بہ آواز بلند اپنے برابر بیٹھے ساتھی کے ساتھ یا موبائیل پر بیگم یا کسی ساتھی سے ہمکلام ہوتے ہوئےتفصیل وار ڈسکس کرتے ہوئے چلنا تصور کیا جاسکتا ہے.
” سنو تم نے سنڈے کی برتھ ڈے پارٹی کے لئے سب لوگوں کو انوائٹ کردیا ہے نہ” پریمئیرریزیڈنس کے موڑ سے جوائن کرنے والی بیج کلرکی مرسڈیز میں بیٹھی نوجوان خاتون نے گاڑی چلاتے ہوئے اپنےمفروضہ خاوند کو یاددہانی کرائی.
” ارے پریشرکوکرتو اگلےمہینے بھی خرید سکتی ہو. پندرہ تاریخ کو کار کی ای ایم آئی جمع کرنی ہے” سفید آئ ٹین میں بیٹھے سردار جی موبائیل پر غالبا” اپنی بیگم کو اور ہم سب پڑوسیوں کو بھی مطلع کررہے تھے کہ آجکل انکے مالی حالات کیسے چل رہے ہیں.
” بھئی میں شام کو اج تھوڑا گھر انے میں لیٹ ہوجاونگا. میرا ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ہے” ہم نے بھی جب موبائیل پر اپنی بیگم کو اپنے آج شام گھر واپس لیٹ انے کی وجہ بتائی تو اگے پیچھے چلنے والے ہمسفروں نے ایک ہمدردانہ انداز سے دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہمیں پیغام دیا ” گیٹ ویل سون”
ہمارے اس بے نام ممبروں پر مشتمل متحرک گروپ میںصرف اپنی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات ہی ایکسینج نہیں ہوتی ہیں بلکہ ایسے مواقع بھی اکثر آتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ملکی سیاست’ شھری ماحولیاتی آلودگی’ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور ٹریفک سے متعلق بڑھتے مسائل اور پولیس کی مجرمانہ لاپرواہیوغیرہ وغیرہ پر بھی سیر حاصل گفتگو کرلیتے ہیں.ہوتا یوں ہے کہطے شدہ راستے پر آگے بڑھتے ہوئے اس کاروں کے قافلے کو کبھی کبھی اگے جانے سے اچانک جبرا” روکدیا جاتا ہے. کافی وقت تو اسی تحقیق میں نکل جاتا ہے کہ آخر اچانک اس چلتی ہوئی ٹریفک کو افس جانے کے اتنے اہم وقت میں کس وجہ سے روکدیا گیا ہے. خاصی جدوجہد اور کچھ لوگوں کے اپنے ذاتی رسوخ استعمال کرنے کے بعد اس راز سے پردہ اٹھایا جاتا ہے کہ اگے سگنل سے کسی منسٹر صاحب کا کنوائے کراس کررہا ہے. اس لئےہم سب لوگ اپنی گاڑیوں کے انجن بند کرکے باہر نکل آتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر اپنی گاڑیوں کی بونٹس کے سہارے ٹک کر سب سے پہلے تو ادھر سے گزرنے والے منسٹر کی ولدیت سے لیکر اسکے پورے خاندان کی خصوصیات گنوا تے ہیں. کچھ اور زیادہ دیر ہوجانے پر اپنی اپنی گھڑی پر بار بار نگاہ کرتے ہوئے حکومت’ پولیس’ بلدیہ اور موسم کو اپنے اپنے انداز اور زبان میں پیار بھری باتیں کرکے دل کی بھڑاس نکالنے لگتے ہیں.
شام کو افس سے واپسی کے اوقات مختلف ہونے کے سبب ہمارے یہ متحرک ہمسفر بھی بدل جاتے ہیں مگر ان سب سے بھی اتنی ہی قربت اور انسیت برقرار ہے کہ جتنی صبح والے ہمسفروں سے ہے.
عام پڑوسیوں کی طرح ان ہمسفروں کے ساتھ اگر انسیت اور یگانگت کا رشتہ برقرار رہتا ہے تو تھوڑی بہت آپسی چپقلش اور ناراضگی بھی رہتی ہے. کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ نیلی ویگن آر والی خاتون موبائیل پر بات کرتے کرتے اپنے اگے چلنے والی ما روتی کو پیچھے سے ہٹ کرکے بجائے کار سے نیچے اترکر اگلی کار والے سے معذرت کرنے کےخود ہی رونے لگتی ہیں اور بے چارہ اگلی کار والا روز کا ہمسفر ہونے کا خیال کرتے ہوئے صرف اپنے دانت پیس کر رہ جاتا ہے اور ہم سب اپنی اپنی گاڑیوں سے اتر کر دونوں میں اس طرح صلح صفائی کراتے ہیں کہ جس طرح آئے دن کالونی میں دو پڑوسیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کی کراتے ہیں.
شام کو گھر ساتھ خیریت سے واپس پہنچنے پر اماں تھوڑی سی مٹھائی پر نذر دیکر ہمارے اوپر سے صدقہ بھی اتارتی ہیں اور ہماری بیوی اسکول سے بخیریت واپس انے پہ بچوں پر سے.
��





