9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

عبدالمنان صمدی
میں سعادت حسن منٹو نام تو سنا ہی ہوگا، ہاں وہی منٹو جس نے،، کھول دو،، ک؛ کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت، بلاؤز جیسے افسانے لکھے، وہی منٹو جس نے طوائفوں کو تمہارے نیک صالح خواتین کی صف میں کھڑا کرنے کی جسارت کی، وہی منٹو جس کے افسانے پڑھ کر تم اس پر لعنت بھیجتے ہو، جس کے افسانے کی کتاب گھر پر ہونے تمہیں لگتا ہے کہ کوئی طوائف گھر پر آگئ، جس کے افسانے کی کتاب تم اپنی دیگر کتابوں سے ایسے دور رکھتے ہو جیسے پاک کپڑے ناپاک کپڑوں سے رکھے جاتے ہیں،تم یہ سب کرتے ہو میرے افسانے پڑھ کر مجھ پر ایصال ثواب کے طریق پر لعنتیں بھیجتے ہو، میرے افسانوں کے مجموعے کو اپنی دیگر کتابوں کو دور رکھتے ہو،مانا کہ تم یہ سب اس لیے کرتے ہو کہ تم عزت دار لوگ ہو لیکن میرے سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ جب عرفان خان،، ٹھنڈا گوشت،، کالی شلوار، پر ناٹک بناتا ہے تو تم کبھی فرداً فرداً کبھی اجتماعی طور پر غور سے کیسے دیکھ لیتے ہوتمہیں غصہ کیوں نہیں آتا، جب ناٹک میں کسی لڑکی کی عصمت کو لوٹتے دکھایا جاتا ہے، تمہیں غصہ کیوں نہیں آتا جب ناٹک میں کسی لڑکی کی شلوار کو کھولتے دکھایا جاتا ہے، یہ وہی افسانوں پر مبنی ناٹک ہیں جو میں نے لکھے ہیں، جو سعادت حسن منٹو نے لکھے ہیں،
وہی منٹو جس پر آپ نے مقدمات چلائے، یہ وہی طوائفوں کی زندگی پر مبنی ناٹک ہیں، جن کی روح کو آپ کو نفرت اور جسم کو ہوس کی نظر سے دیکھتے ہیں،یہ انہی طوائفوں کی کہانیاں جن کے ساتھ ہر مزھب، ہر مسلک کا آدمی رات گزارنا چاہتا ہے لیکن کوئی ان کو اپنے گھر کی عزت بنانا نہیں چاہتا،،،، تم کو اعتراض ہے کہ میں میں طوائفوں پر لکھتا ہوں کیوں نہ لکھوں کیا وہ ہمارے سماج و معاشرے کا حصہ نہیں،،،،جبکہ ان کو بھی سی خالق نے تخلیق کیا ہے جس نے تم عزت داروں کو تخلیق کیا ہے،سچائی تو یہ ہے کہ طوائف قدرت کی بدنما تخلیق نہیں بلکہ سماج کی بدنما تصویر ہے،میں نے تو صرف تمہیں تمہارے سماج کا دوسرا چہرہ دکھانے کی جسارت کی ہے،(جنت سے نکالی گئی عورت برہنہ ضرور ہوئ تھی لیکن بے عزت نہیں)تم نے نہ صرف عورت کو بر ہنہ کیا بلکہ اس کی عزت کو بھی تار تار کیا ہے، خدا نے کبھی انسانی تقسیمی کا درس نہیں دیا، مگر سماج نے عورت کو تقسیم کرڈالا نیک صالح، بدکردار اور طوائف کی صورت میں، دنیا میں جنتے بھی عزت دار جسم نظر آتے ہیں، ان کی روحیں اتنی ہی داغدار ہوتی ہیں جتنا ایک طوائف کا جسم،تم نے میرے صرف،، کالی شلوار ،ٹھنڈا گوشت ،کھول دو ،بلاؤز ،ہی افسانے پڑھے ہیں،کیا، انقلاب پسند، تمہاری نظر سے نہیں گزرا، کیا تم نے کبھی سلیم کے کرب کو محسوس کرنے کی کوشش کی ہے دیکھو وہ کیا کہتا ہے، انقلاب پسند،، میں ،انسانیت ایک دل ہےہر شخص کے پہلو میں ایک ہی قسم کا دل موجود ہے اگر تمہارے بوٹ غریب مزدوروں کے ننگے سینوں پر ٹھوکریں لگاتے ہیں، اگر تم اپنے شہوانی جذبات کی بھڑکتی ہوئ آگ کو کسی ہمسایہ نادار کی عصمت دری سے ٹھنڈی کرتے ہو – اگر تمہاری غفلت سے ہزار بچے گہوارے جہالت میں پل کر جیلوں جو آباد کرتے ہیں – اگر تمہارا دل کاجل کے مانند سیاہ ہے – تو یہ تمہارا قصور نہیں، ایوان معاشرت ہی کچھ ایسے ڈھب پر استوار کیا گیا ہے کہ اس کی ہر چھت اپنی ہمسایہ چھت کو دابے ہوئے ہے، (انقلاب پسند)
جہاں تک میرے افسانوں کا تعلق ہے تو بس یہی کہوں گا(میں نے اپنے افسانوں کے متعلق کبھی غور نہیں کیا، اگر ان میں کوئی چیز بقول لوگوں کے،، جلوہ گر،، ہے تو میرا بےکل باطن ہے – میرا ایمان نہ تشدد ہے اور نہ عدم تشدد،، اور ویسے بھی انسان کا علم بہت محدود ہے اور میرا محدود ہونے کے علاوہ منتشر بھی ہے)میں نے وہی لکھا جو دیکھا اور محسوس کیا، اس لیے تم لوگوں نے مجھ سے نفرت ہے، اصل میں تم لوگوں نے مجھ سے نہیں بلکہ اپنے سماج اور اس کے بے بنیاد قوانین کا چہرہ دیکھنے سے نفرت ہے،تم بھلے ان گلی کوچوں میں جانا پسند نہ کرو جہاں تمہارے بزرگ اپنی عیاشیوں کی نشانیاں چھوڑ آئے ہیں،لیکن یقین جانوں تمہارے بزرگوں کی یہ نشانیاں فقط ان بدنام گلی کوچوں میں ہی نہیں، بلکہ ان درودیوار کی اینٹوں میں بھی موجود ہیں، جہاں عرصہ دراز سے تہزیب و تمدن کا درس دیاجاتا رہا ہے،میں نے اپنے افسانہ (ایک خط) اس موضوع پر وضاحت سے بات کی ہے کبھی کالی شلوار اور ٹھنڈا گوشت، سے نظرہٹے تو ایک نظر کرم اس افسانے ہر بھی ڈال لینا،خیر آخر میں اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے زندگی پھر تم لوگوں سے کوئی التجا نہیں کی،لیکن آج کرتا ہوں، ١٨جنوری میرے وفات کا دن ہے، خدارا کوئی سمینار منعقد نہیں کرنا، کوئی افسانوی نششت یا شعری نشست میری اعجاز میں نہیں کرنا،بلکہ جو پیسا ان سب صرف کرو اس بہتر یہ ہوگا کہ کسی لڑکی کا بدن ٹاپ دینا، کیونکہ ہوس کا ننگا ناچ ہم جاری ہوگا میں جانتا ہوں،میں نے انسان کو جسے اشرف کہا گیا بارہا درندہ بنتے دیکھا ہے،تم لوگ سوچتے ہو گے کہ میں کس حال میں ہوں، تو بتاتا چلوں کہ میں بہت اچھے حال میں ہوں، کیونکہ یہاں کسی کی عصمت نہیں لوٹی جاتی، یہاں کوئی تقسیم نہیں عورت کی، یہاں صرف فیصلہ سنایا جاتا ہے سزا وجزا کا اور میں اپنی باری کا منظر ہوں۔
عبدالمنان صمدی





