9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

حفیظ نعمانی
تین ریاستوں میں پروگرام کے مطابق کانگریس کے لیڈروں کی تاج پوشی ہوگئی۔ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے شاید تینوں ریاستوں کے بارے میں فیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا۔ کمل ناتھ جو مدھیہ پردیش کے ہی رہنے والے اور وہیں سے 9 بار پارلیمنٹ کے ممبر رہنے والے اور چار بار مرکز میںوزیر رہنے والے کو دو مہینے پہلے ہی مدھیہ پردیش کا چارج دیا تھا۔ وہ اس سے پہلے صوبائی لیڈر کے بجائے مرکزی لیڈر تھے۔ اسی طرح بالکل وقت پر اشوک گہلوت سے کہا کہ آپ بھی الیکشن لڑیئے۔ اس سے پہلے ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ مدھیہ پردیش میں سندھیا اور راجستھان میں اگر کانگریس کامیاب ہوتی ہے تو پائلٹ وزیراعلیٰ بنیں گے اور فیصلہ میں اتنا وقت اس لئے ہی لگا کہ راہل گاندھی سب کو وہاں لانا چاہ رہے تھے جہاں ان کی پسند ہے۔
کمل ناتھ کے بارے میں یہ تفصیلات سامنے اب آئی ہیں کہ انہوں نے اپنے حلقہ کو اتنا بنایا اور سنوارا ہے کہ آج تک کوئی پارٹی ان کو ہرا نہیں سکی۔ اور یہ بات اب سامنے آئی ہے کہ مدھیہ پردیش میں جو کئی گروپ کانگریس میں تھے ان سب کو ایک کرنے کا کارنامہ کمل ناتھ نے انجام دیا ہے۔ راہل گاندھی ان صلاحیتوں کی بدولت ہی ان کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کو اس کا اندازہ نہ ہو جو بی جے پی کی طرف سے ان کی مخالفت میں نعرے لگے ان کے پتلے پھونکے گئے اور کانگریس پر دبائو ڈالا گیا کہ ان کو وزیراعلیٰ نہ بنایا جائے وہ بھی 1984 ء کے دنگوں کے مجرم ہیں۔ یہ بات کہ وہ مجرم ہیں ذکر میں تو آئی لیکن نہ تو ناناوتی کمیشن نے ان کو نامزد کیا نہ ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر ہوئی اور وہ اس سے پہلے چار بار مرکزی وزیر بنے کبھی ایسے ہنگامے نہیںہوئے۔ یہ بظاہر ان کی مخالفت نہیں ہے بلکہ بی جے پی کو یہ فکر ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کمل ناتھ کچھ ایسے کام کردیں کہ وہ عوام کی پہلی پسند بن جائیں۔ اسی لئے مخالفت میں صرف وہ سکھ ہیں جو بی جے پی اور ان کی حلیف پارٹی اکالی دل کے ہیں۔
اتوار کو رائے بریلی میں وزیراعظم جب دل کے چھالے پھوڑ رہے تھے اس وقت انہوں نے راہل گاندھی کے اس اعلان کا مذاق اُڑایا تھا کہ حکومت بنی تو کسانوں کا قرض معاف کردیں گے۔ اور کہا تھا کہ راہل گاندھی نے کرناٹک میں بھی یہ وعدہ کیا تھا مگر چھ مہینے ہوگئے ابھی ایک ہزار کسانوں کا قرض بھی معاف نہیں ہوا ہے۔ اب اگر ہمارے بجائے امت شاہ ہوتے تو کمل ناتھ کے حلف لینے کے بعد سب سے پہلے اس اعلان کو سن کر کہ ہر کسان کا دو لاکھ تک کا قرض معاف کردیا گیا۔ چپت اور چانٹا قرار دیتے۔ اور یہ ان کے منھ پر بھی طمانچہ ہے جنہوں نے 2017 ء میں اترپردیش کے کسانوں کا ایک لاکھ تک کا قرض معاف کیا تھا اور جیسے دیا تھا اس کا ڈرامہ سب کو یاد ہوگا۔ اترپردیش میں بھی یہ مسئلہ سامنے آیا تھا کہ روپیہ کہاں سے آئے۔ اور وزیراعلیٰ نے ہر محکمہ کے بجٹ میں کٹوتی کی اور ہر قسم کی پبلسٹی پر روک لگادی۔ مدھیہ پردیش میں کیا ہوگا یہ راہل جانیں لیکن جو کہا تھا وہ کرکے دکھا دیا۔
آج وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مس مایاوتی نے کہا تھا کہ ان کی ایک نس میں کھنچائو آگیا ہے۔ اگر ڈاکٹر نے اجازت دی تو میں بھوپال آئوں گی۔ اور اکھلیش یادو سے وعدہ کیا تھا پھر کیا ہوا نہیں معلوم۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اکھلیش یادو مایاوتی کو نہیں چھوڑنا چاہتے اور مایاوتی جن کے کانوں میں وزیراعظم بننے کی بات بھی اُڑتے اُڑتے پڑچکی ہے اس کا اس حالت میں کون ذکر کرے گا کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس سے اتحاد کیلئے پچاس سیٹیں مانگی تھیں جس پر کانگریس تیار نہیں ہوئی اور اس نے اپنے بل پر 114 سیٹیں جیت لیں اور حلف برداری کی تقریب میں جتنے بھی اپنی اپنی پارٹی کے لیڈر شریک ہوئے ان میں شرد پوار تو نہیں کھلے باقی سب راہل کو وزیراعظم بنانے پر بظاہر آمادہ نظر آئے۔
اکھلیش یادو ماشاء اللہ بہت سمجھدار ہیں۔ لیکن ان کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ ان کے پر کاٹنے کے لئے ان کے چچا اور راجہ بھیا کو یوں ہی کروڑوں روپئے نہیں دیئے جارہے ہیں۔ اور ایک اہم بات یہ ہے کہ ہر ووٹر ورکر نہیں ہوتا۔ اترپردیش کے ہی ووٹر تھے جنہوں نے 2007 ء میں مایاوتی کو مکمل اکثریت دے کر حکومت بنوائی تھی اور وہی ووٹر تھے جنہوں نے ان کے باپ ملائم سنگھ کو 212 سے زیادہ سیٹیں دی تھیں۔ ہم 2017 ء کی بات نہیں کریں گے جسے مودی جی نے فرقہ پرستی کے گندے حوض میں ڈبویا اور مایاوتی کے بقول مشینوں کے ذریعہ بے ایمانی کرائی۔ لیکن نتیجہ جو ہے وہ سامنے ہے۔ اگر اس وقت کانگریس کو صرف سات سیٹیں ملیں تو وہ وقت وہ تھا کہ جب دونوں ایک بس پر روڈشو کرتے تھے تو کم لوگ تھے جو راہل گاندھی کو دیکھتے تھے کیونکہ بارات کا دولھا اکھلیش کو سمجھا جارہا تھا لیکن اب پنجاب، کرناٹک، گجرات میں مودی کو جھٹکے دینے والے اور بی جے پی کے حلق سے تین ریاستیں نکال کر اپنی پسند کے وزیراعلیٰ بنانے والے راہل اب بارات کے دولھا بن چکے ہیں۔ اب اترپردیش کے بارے میں یہ نہ سوچا جائے راہل کے پاس نہ لیڈر ہیں نہ ورکر بلکہ یہ دیکھا جائے کہ جن تین ریاستوں کو بی جے پی کی گود سے وہ لائے ہیں کیا ان کے پاس بی جے پی سے بڑا لیڈر اور تمام پارٹیوں کے فنڈ سے بڑا فنڈ آر ایس ایس سیوکوں کی پوری فوج ہزاروں کروڑ کا آفس سیکڑوں آدمیوں کی مشینری۔ بجرنگ بلی یا رام مندر جیسا کوئی موضوع تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے بی جے پی کو ادھیڑکر رکھ دیا۔ یہ کانگریس کا نہیں عوام کا کارنامہ ہے۔
کیرانہ اور نور پور کے الیکشن کے بعد ہم نے لکھا تھا کہ ضمنی الیکشن یا آنے والے پانچ ریاستوں میں مودی جی مشینوں کی مدد نہیں لیں گے اور اگر وہ ہار رہے ہوں گے تو اسے برداشت کرلیں گے لیکن 2019 ء کے الیکشن کو وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہیں گے۔ یہ وقت اس کا نہیں ہے کہ وزیراعظم کون بنے سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت نہ بن پائے۔ اکھلیش یادو اگر اپنی بوا کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تو وہ بہت بڑی غلطی کریں گے اس لئے کہ جو پانچ ریاستوں میں ہوا وہ عوام کی آواز تھی اور اب جو ہوگا وہ ان کی ہی آواز ہوگی۔
Mobile No. 9984247500





