Tuesday, April 21, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldآزاد ہندوستان میں ہندو-مسلم اتحاد کے پہلے فکشن نگار: ابن صفی

آزاد ہندوستان میں ہندو-مسلم اتحاد کے پہلے فکشن نگار: ابن صفی

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

 

[ناول ’دلیر مجرم‘ کے حوالے سے]

محمد عارف اقبال
ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو-مسلم اتحاد کے حوالے سے دلیر مجرم اردو دنیا کے بے مثال ادیب ابن صفی کا ایک ایسا شاہکار ناول ہے جس کے بارے میں اردو کے نقاد اور ان سے استفادہ کرنے والے اردو کے بیشتر اساتذہ 65برسوں کے بعد بھی خاموش تماشائی دکھائی دیتے ہیں۔ ابن صفی کی ادبی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے شاید اب بھی ان کے قلم کی روشنائی خشک ہے۔
دلیر مجرم آزاد ہندوستان میں ابن صفی کا پہلا ناول ہے جو مارچ 1952میں نکہت پبلی کیشنز، الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ یہی وہ ناول ہے جس کی اشاعت کے بعد، اردو کے قارئین ابن صفی کے دوسرے ناولوں کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔ اس کے بعد تو گویا قارئین ابن صفی کے گرویدہ ہوگئے۔ اس سے قبل کہ دلیر مجرم کا جائزہ پیش کیا جائے، بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اردو دنیا کے اس مظلوم تخلیق کار کی ادبی خدمات کا پس منظر بیان کردیا جائے۔
ابن صفی (اپریل 1928بروز جمعہ— 26جولائی 1980) نے ادب کے ذریعے درحقیقت سماج کی تطہیر کا فریضہ ادا کیا۔ وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے تھے کہ روئے زمین فساد سے بھرچکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جاسوسی ادب کا مرکزی موضوع فساد فی الارض کا سدباب ہے۔ ابن صفی کو الٰہ آباد میں جن ادیبوں اور شاعروں کی معیت نصیب ہوئی ان میں ان کے استاد ڈاکٹر سیّد اعجاز حسین، سرورحسین مرحوم (معروف آرٹسٹ)، عباس حسینی، شکیل جمالی، پروفیسر مجاور حسین، ڈاکٹر راہی معصوم رضا (غازی پور)، اشتیاق حیدر (علی گڑھ)، یوسف نقوی (فلم ہدایت کار)، قمر جائسی، نازش پرتاپ گڑھی اور تیغ الٰہ آبادی (معروف شاعر مصطفی زیدی) خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر اس وقت شروع ہوا جبکہ وہ صرف 14سال کے تھے۔ 20سال کی عمر میں پہلا افسانہ یا انشائیہ فرار (1948) شائع ہوا۔   ۱؎
ابن صفی ابتدا ہی سے تخلیقی ہی نہیں بلکہ تعمیری ذہن و فکر کے انسان تھے۔ ادب میں فحاشی کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ جنسی بے راہ روی اور افلاطونی عشق سے ہمیشہ فاصلہ بنائے رکھا۔ ناول نگاری کے آغاز کا پس منظر خود ابن صفی نے اپنے ایک پیش رس میں لکھا ہے۔ ناول کا پیش رس بھی ان کی جدت طرازی کا نمونہ ہے۔ وہ اپنے زریں خیالات کا اظہار اپنے قارئین کے خطوط یا نقادوں کی نکتہ چینی کے جواب میں اپنے ہر ناول کے پیش رس میں لکھتے تھے۔ اپنے ایک پیش رس میں لکھتے ہیں:
غالباً یہ 1952کی بات ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے آدمیوں کی ایک نشست میں کتابوں اور مصنفوں کی مقبولیت کے بارے میں بحث چھڑگئی۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ جنسی لٹریچر کے علاوہ اور کسی کی مارکیٹ نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ بس اُسی دن سے مجھے یہ دُھن ہوگئی کہ کسی طرح جنسی لٹریچر کا سیلاب رکنا چاہئے۔ کافی سوچ وِچار کے بعد یہ طے پایا کہ جدید طرز پر جاسوسی ناولوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لہٰذا جاسوسی دنیا کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ اس وقت اردو کے جاسوسی لٹریچر میں آں جہانی تیرتھ رام فیروز پوری کے تراجم اور محترم ظفر حیات کے کچھ ناولوں کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا لیکن جاسوسی دنیا کے اجرا کے تقریباً چھ ماہ بعد ہی ہند و پاکستان میں جاسوسی لٹریچر کا سیلاب آگیا اور آج میں اُن صاحب سے پوچھتا ہوں کہ جنسی لٹریچر کا وہ سیلاب کہاں ہے؟ مگر ان کی آواز میرے کانوں تک نہیں پہنچتی۔    ۲؎
ابن صفی نے ادب میں ہوس پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر طنز کرتے ہوئے اپنے ایک ناول میں اپنے پسندیدہ کردار فریدی کی زبان سے کچھ اس طرح کہا ہے:
’’میں جنسیت کو ایک سیدھا سادہ مسئلہ سمجھتا ہوں جسے آدمی جیسے سمجھ دار جانور کے لیے اتنا پیچیدہ نہ ہونا چاہیے کہ وہ شاعری کرنے لگے۔ ‘‘   ۳؎
حضرت آدم (علیہ السلام)کی پیدائش سے لے کر آج تک بڑے بڑے دانشوروں نے یہی کہا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے، انسان فرشتہ نہیں ہے۔ اس روئے زمین پر سب سے پہلا جرم آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے قابیل نے کیا تھا، جبکہ اس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا۔ اس کے بعد دنیا شر کی آماجگاہ بنتی رہی۔ لیکن ہر عہد میں خیر نے شر کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لہٰذا حق و باطل کی یہ کشمکش بھی قدیم ہے۔ شر کے مقابلے میں خیر کو ہمیشہ فتح حاصل ہوئی ہے۔ اپنے ایک پیش رس میں ابن صفی نے جاسوسی ادب اور ادب میں مقام کے حوالے سے بڑی بے نیازی سے اس طرح جواب دیا:
’’ویسے اگر آپ ادب میں مقام کے سلسلے میں مجھ سے کچھ سننا چاہتے ہیں تو سنیے۔ اساطیری کہانیوں سے لے کر مجھ حقیر کی کہانیوں تک آپ کو ایک بھی ایسی کہانی نہ ملے گی جس میں جرائم نہ ہوں۔۔۔ اور آج بھی آپ جسے اونچے قسم کے ادب کا درجہ دیتے ہیں اور جس کا ترجمہ دنیا کی دوسری زبانوں میں آئے دن ہوتا رہتا ہے، کیا جرائم کے تذکروں سے پاک رہتا ہے؟ کیا اس کے مضر رساں پہلوئوں پر ہمارے نقاد کی نظر پڑتی ہے؟ اگر نہیں۔۔۔ تو کیوں؟ ‘‘
اس کے بعد اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ابن صفی نے جو مسکت جواب دیا، نقادوں کی بولتی بند ہوگئی۔ ملاحظہ کیجیے:
’’۔۔۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ کہانیوں میں بھی (جو دراصل ذہنی فرار کا ذریعہ ہوتی ہیں) پولیس یا جاسوس کا وجود نہیں برداشت کرسکتے۔ چلئے پولیس کو اس لیے برداشت کرلیں گے کہ وہ للکار کر سامنے آتی ہے لیکن جاسوس تو بے خبری میں پتہ نہیں کب گردن دبوچ لے۔ لہٰذا مجھے ادب میں کوئی مقام پانے کی خواہش ہے تو جاسوس کو چھٹی دینی پڑے گی لیکن میں اس پر تیار نہیں کیونکہ مجھے ہر حال میں شر پر خیر کا پرچم لہرانا ہے۔ میں باطل کو حق کے سامنے سربلند نہیں دکھانا چاہتا۔ میں معاشرے میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا ۔۔۔ ایسی مایوسی جو غلط راستوں پر لے جائے۔ ‘‘    ۴؎
ابن صفی کے ادبی نصب العین کا کینوس اس قدر وسیع ہے کہ ان کی ادبی خدمات کے احاطہ کے لیے ہزاروں صفحات بھی کم پڑسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جس پر انہوں نے اپنی تحریروں میں گفتگو نہیں کی ہے۔ در حقیقت انہوں نے عصر حاضر میں زندگی کے جملہ شعبہ حیات کے مسائل کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کے نزدیک جرم کا تناظر بے حد وسیع ہے۔ ابن صفی اس بات کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں کہ معاشرے کے سنگین مسائل میں عدم مساوات اور نا انصافی انسان کو جرم کی طرف اکساتے ہیں اور رفتہ رفتہ معاشرہ جرم کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ ایسے فسادزدہ معاشرے میں مجرموں کی بن آتی ہے اور شرفا کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔
ابن صفی کے نزدیک وقت اور حالات کے ساتھ جرائم کی قسم اور نوعیت بھی بدلتی رہی ہے۔ سنگین جرائم میں عام طور سے چوری، ڈکیتی، قتل، بلیک میلنگ، فرقہ وارانہ فسادات، دہشت گردی اور جنسی تشدد کو شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ سائنس اور ٹکنالاجی کے عہد میں جرائم کی اتنی شکلیں پائی جاتی ہیں کہ بعض اوقات عقل حیران رہ جاتی ہے۔ کل تک جن رشتوں کو مقدس تصور کیا جاتا تھا اور آج بھی ان پاک رشتوں پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی، ایسا لگتا ہے کہ حالات کے تیز و تند بہائو نے ان رشتوں کے تقدس کو پامال کردیا ہے۔ ماں ایک ایسا لفظ ہے جس کے تقدس و احترام میں ادبا اور شعرا ہمیشہ رطب اللسان رہے ہیں۔
 دنیا کے تمام تخلیقی ادب میں ماں کے کردار کو دیوی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اپنے بچوں کے لیے ماں کی مامتا کے لطیف احساس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔ لیکن عصر حاضر میں ایسے واقعات بھی پے در پے رونما ہو رہے ہیں کہ ماں خود ہی اپنے معصوم جگر گوشوں کی قاتلہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح باپ بیٹی کا مقدس رشتہ بھی عہد حاضر میں مسلسل مجروح ہوتا نظر آتا ہے۔ دنیا میں اب جنسی جرائم کی اتنی قسمیں پائی جاتی ہیں کہ شاید شیطان کی یادداشت میں بھی اتنے جرائم کی تفصیلات محفوظ نہ ہوں۔ ابن صفی نے اسے بھی فکشن کا موضوع بنایا۔    ۵؎
وہ کسی ازم (ism) کے قائل نہیں، بلکہ انسان کو انسانیت کے معراج پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ انسانیت اور انسانی حقوق کے نام پر درندگی کے ہمیشہ مخالف رہے۔ ان کی تحریروں کے بین السطور میں پوشیدہ فکر انگیز پیغام ہر انسان کے دل کو اپیل کرتا ہے۔ انہوں نے شراب نوشی اور ہر قسم کی نشہ آور ادویات کو معاشرے کا ناسور قرار دیا ہے۔ 1964 میں فلم صنعت کے موضوع پر لکھے گئے ایک ناول (ستاروں کی موت)کا اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’شراب اُم الخبائث اس لیے کہلاتی ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے ہر قسم کی خباثت اختیار کرسکتے ہیں۔‘‘
پاکستان کے ایک اسکالر، ماہر اقبالیات اور تاریخ داں خرم علی شفیق نے ابن صفی کے تمام ناولوں کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے نثری ادب میں ابن صفی کی پانچ اہم خصوصیات کی درجہ بندی کی ہے۔    ۶؎
ماہر اقبالیات خرم علی شفیق نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ضرب کلیم میں علامہ اقبال نے ہنرورانِ ہند کے عنوان سے جو نظم لکھی ہے، اس میں عہد حاضر کے ادبا و شعرا کا احوال یوں بیان کیا ہے:
چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقاماتِ بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار
ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
خرم علی شفیق نے ادبیاتِ فنونِ لطیفہ کے باب میں علامہ اقبال کی ایک نظم مرد بزرگ جو ہنرورانِ ہند کے معاً بعد ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس نظم پر ابن صفی کی شخصیت حرف بہ حرف اترتی ہے۔ ’مرد بزرگ‘ کے صرف ایک شعر پر غور کیجیے، آپ خود ہی اندازہ کرلیں گے:
اُس کا اندازِ نظر اپنے زمانے سے جُدا
اُس کے احوال سے محرم نہیں پیرانِ طریق ۷؎
ابن صفی نے کہا تھا کہ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام کرنا سیکھے۔ دو عظیم جنگوں (1914اور 1945) کے بعد دنیا میں مستقبل سے بڑھتی ہوئی مایوسی، زندگی سے فرار اور عالمی سطح پر سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم اور ظلم و تشدد کو ابن صفی شدت سے محسوس کر رہے تھے۔ اپنے ایک ناول کے پیش رس میں لکھتے ہیں:
’’مستقبل سے مایوسی غلط فہمی کی پیداوار ہے اور آدمی کو جرائم کی طرف لے جاتی ہے۔ مستقبل سے مایوس ہوکر یا تو آدمی جرائم کرتا ہے یا پھر کسی ایسے کرنل فریدی کی تلاش میں ذہنی سفر کرتا ہے جو قانون اور انصاف کے لیے بڑے سے بڑے چہرے پر مکّا رسید کرسکے اور یہی تلاش ہیروازم کی کہانیوں کو جنم دیتی ہے۔‘‘    ۸؎
اس وقت میرے اس مقالے کا موضوع درحقیقت اس بات کی جانب اشارہ کرنا ہے کہ ابن صفی نے فکشن نگاری میں جس جنسی سیلاب کو روکنے کا عہد کیا تھا اس کا آغاز ہی انہوں نے ملک اور وطن کی سا  لمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے کیا۔
ابن صفی نے ناول نگاری کا آغاز مارچ 1952میں کیا۔ ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوئے صرف چار سال گزرے تھے۔ تقسیم ہند میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے مابین فسادات کا جو لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، اس کی کربناک چیخیں اب بھی رہ رہ کر سنائی دے رہی تھیں۔ ہجرت کی دلخراش یادوں سے ٹیسیں نکل رہی تھیں۔ ادیبوں اور شاعروں میں کہرام مچا ہوا تھا۔ نفرت کی سیاست تخلیقی ادب میں بھی دہشت بن کر اترگئی تھی۔ ایسے ماحول کی عکاسی ابن صفی نے بڑے کرب کے ساتھ کی ہے۔    ۹؎
پہلا شاہکار ناول ’دلیر مجرم‘ (مارچ 1952) سے ابن صفی کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور جاسوسی ادب کے لافانی کردار احمد کمال فریدی اور ساجد حمید بے حد مقبول ہوئے۔ اس ناول کی کہانی ایک ایسے شخص کے ارد گرد گھومتی ہے جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر اور عقیدے کے اعتبار سے ایک مسلمان ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی پرورش ایک ہندو خاتون نے کی۔ اس باوقار خاتون کا نام سبیتا دیوی ہے جو اپنے سینے میں اس شیر خوار بچے کے لیے حقیقی ماں کا درد رکھتی ہے۔
یہ کہانی اس وقت لکھی گئی جبکہ ہندوئوں اور مسلمانوں میں نفرت کی آگ سلگائی جارہی تھی۔ عصبیت تمام حدیں پار کرچکی تھی۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے دھماکہ خیز منصوبے سے اب بھی بارود کی بو اُٹھ رہی تھی۔ دشمنی کے بہانے تراشے جارہے تھے۔ سیاسی کارکنان مخبری کے فرائض ادا کر رہے تھے۔ امن کی بازگشت صرف سیاسی گلیاروں میں ہو رہی تھی۔ عوام کی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی۔ ایسے وقت میں اردو فکشن میں ابن صفی نے کہانی کے ایک ایسے پلاٹ کی تخلیق کی جس کا آغاز ہی محبت اور غم خواری سے کیا گیا۔ ایک ہندو خاتون سبیتادیوی نے ڈاکٹر شوکت کی پرورش اس وقت سے کی تھی جبکہ وہ محض چھ مہینے کا تھا۔ یہ بچہ اس کے سپرد ایک امانت کے طور پر تھا۔ لہٰذا اس کی پرورش بھی اسلامی عقیدے کے ساتھ ہی کی، ذرہ برابر بھی خیانت کی مرتکب نہیں ہوئی۔ اس کہانی میں سبیتادیوی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے اپنے بیٹے شوکت کے لیے جان تک نچھاور کردی۔
آزاد ہندوستان میں ابن صفی کا یہ پہلا ناول ہے جس میں ہندو-مسلم اتحاد کا مضبوط اور مستحکم پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے۔ اردو فکشن میں شاید یہی وہ پہلا ناول ہے جس کے بعد ہی نفرت انگیز ماحول میں ہندو-مسلم اتحاد کی باتیں معاشرتی اور ادبی سطح پر شروع ہوئیں۔ دانشوروں اور سیاسی رہنمائوں نے بھی ہندو-مسلم اتحاد کی وکالت کھل کر کی۔
ابن صفی کے سحر انگیز قلم کا اندازہ کیجیے کہ انہوں نے ایک مسلمان بیٹے اور ہندو ماں کے رشتے کی منظرکشی کس قدر وقار اور پاکیزگی کے ساتھ کی ہے۔ ابن صفی نے اپنے اس ناول کے آغاز ہی میں ہندو سماج کی ایک خاتون اور ایک مسلمان بچے کے ساتھ اس کے نازک رشتے کی نزاکتوں کو بڑے حسین پیرائے میں بیان کیا ہے۔ مصنف کو ہندو سماج کی برہمنی سوچ کا ادراک بھی ہے۔ پھر ایک ہندو خاتون کے ایثار و قربانی کو بھی محسوس کرایا گیا ہے کہ جب وہ ایک ماں ہوتی ہے تو اس کے سینے میں صرف ماں کا دل ہوتا ہے، اسے مذہب سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ وہ غیر مذہب کے بچے کو بھی ایک ماں کی طرح سلیقہ، مثالی شعار اور بہترین عادات و اطوار کی تربیت دے سکتی ہے۔
ابن صفی ایک بلندپایہ شاعر بھی تھے اور ’اسرار ناروی‘ کہے جاتے تھے۔ شاعری کی ابتدا بھی کم عمری میں ہوئی تھی۔ ایونگ کرسچن کالج، الٰہ آباد میں جب سکنڈایئر میں تھے تو انہیں بزم ادب کا صدر بنایا گیا تھا۔ اسی سال سالانہ مشاعرے میں ابن صفی کی نظم ’بنسری کی آواز‘ اس حدتک پسند کی گئی تھی کہ ان کے انگریزی کے استاد مسٹرہگنس (Mr. Higgins) نے جو اردو شاعری سے گہری دلچسپی رکھتے تھے، دوسرے دن کلاس میں کہا تھا: ’’فراق صاحب کی رباعیات اور ’بنسری کی آواز‘ کے علاوہ مجھے تو اور سب کچھ Echo of Poetry (شاعری کی بازگشت) معلوم ہو رہا تھا۔‘‘ اسی کالج میں ابن صفی کے ایک استاد پروفیسر انوارالحق صدر شعبہ اردو تھے۔ انہوں نے ابن صفی کی طالب علمی کے دوران میں ان کی شاعری سے متاثر ہوکر کہا تھا ’’میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ ایک دن آپ کا شمار صفِ اوّل کے شعرا میں ہوگا۔‘‘
’آخری التجا‘ 15 سال کی عمر میں لکھی گئی ابن صفی کی ایک نظم جو 24جولائی 1943 کو لکھی گئی ’مجاہد آزادی‘ کی صدا ہے۔ آخری بند ملاحظہ کریں:
گر راہِ وفا میں کام آئوں سِندور سے مانگ بھرے رہنا
بِندی نہ مٹانا ماتھے کی تم، میری راہ تکے رہنا
میں خواب میں اکثر آئوں گا سینے میں آس رکھے رہنا
اب چھوڑ بھی دو میرا دامن، لِلّٰہ نہ روکو جانے دو ۱۰؎
اسرار ناروی یعنی ابن صفی کی ایک غزل کا ایک شعر بھی ملاحظہ کیجیے:
بس اتنی سی روداد ہے آدمی کی
کبھی رہنمائی، کبھی رہزنی کی
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
۱؎ ابن صفی: مشن اور ادبی کارنامہ (2013)، مولف و مرتب: محمد عارف اقبال
(ابن صفی: ایک نظر میں، صفحہ 28)
۲؎ پیش رس ’لاشوں کا بازار‘ عمران سیریز، نومبر 1956
۳؎ ناول ’جنگل کی آگ‘ (1955)، فریدی-حمید سیریز
۴؎ پیش رس ’تیسری ناگن‘ (1969)، فریدی-حمید سیریز
۵؎ خاص طور سے ابن صفی کے تین ناول: پتھر کی چیخ (1954)، بے چارہ بے چاری
(دسمبر 1960)، زہریلا آدمی (فروری 1960) ملاحظہ کیجیے۔
۶؎ سائیکومینشن (ابن صفی)، مصنف خرم علی شفیق، صفحہ 8تا 10، اشاعت2011،
فضل سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، کراچی۔
۷؎ کلیاتِ اقبال (اردو)، ضرب کلیم (باب ادبیات فنونِ لطیفہ)
۸؎ پیش رس ’مہلک شناسائی‘ (نومبر1968، فریدی-حمید سیریز)
۹؎ میں نے لکھنا کیسے شروع کیا؟ (خودنوشت، از ابن صفی)1975، مطبوعہ احباب ادب، کراچی۔
۱۰؎ ادب آموز، ابن صفی: عالمی ادب کی نمائندہ تحریریں، (کلیات ابن صفی، جلد60
مرتب: محمد عارف اقبال، صفحہ 383-384)
٭٭٭
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular