9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

سید اقبال رضوی شاربؔ
نئی قدروں پہ اترانے لگا ہوں
اثاثِ کہنہ دفنانے لگا ہوں
جدر سے سر کو ٹکرانے لگا ہوں
محبت کا ثمر پانے لگا ہوں
کہاں کا زہد کیسی پارسائی
گناہوں میں سکوں پانے لگا ہوں
رواداری کہیں گم ہو گئی ہے
میں اپنوں پر ستم ڈھانے لگا ہوں
مرے اسلام میں الحاد جائز
اذاں مندر سے دلوانے لگا ہوں
کچھ اس رفتار سے بگڑا زمانہ
میں” آئندہ” سے گھبرانے لگا ہوں
خطا اسکی نہ تھی قسمت تھی میری
میں اپنے دل کو سمجھانے لگا ہوں
یہ سچ وچ کیا ہے دیوانے کی بڑ ہے
میں اب جھوٹی قسم کھانے لگا ہوں
کوئی منظر نہیں رکھتا کشش اب
ہر اک منظر سے اکتانے لگا ہوں
یہ کیسے موڑ پر چھوڑا ہے اس نے
کہ اب خود پر ترس کھانے لگا ہوں
ہے انساں کون سی پستی میں شارب
میں یہ شعروں میں سمجھانے لگا ہوں





