HomeMuslim Worldحسن اخلاق

حسن اخلاق

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

ناہیدطاہر

سعودی عرب

آج اس موضوع پر افسانہ نہیں بلکہ حقیقت لکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔حقیقت اس ملک کی جس کے تئیں مشرق میں کئی قسم کی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔۔میری دوست *صفیہ* جو کئی سالوں سے امریکہ میں مقیم ہے اکثر اس سے فون پربات چیت ہوتی رہتی ہے۔ادبی گروپ میں جب عنوان “حسنِ اخلاق” سے نوازا گیا تو میں نے اس سے کہا کہ اس عنوان پر تم بھی کچھ لکھنا ! نہایت دکھ بھرے لہجے میں جواب دیا،افسوس مجھے اردو زبان پر عبور حاصل نہیں !
ہائیں !!! تمھاری اردو تو ماشاءاللہ بہت اچھی ہے۔میں نے تمھارے خوبصورت تبصرے پڑھے ہیں۔
آپ کی ذرہ نوازی ۔۔۔۔۔لیکن میں بہتر انداز میں لکھ نہیں سکتی !!میری مجبوری کہ میں تخیل کے کینوس پر خوبصورت رنگ نہیں بھرسکتی ۔ ہاں البتہ مجھے دوسری زبانوں پر عبور حاصل ہے ۔ویسےاردو زبان میں گفتگو کا مسئلہ نہیں ہے !!! اب کی اس کے لہجے میں مسرت جھلک آئی ۔
میری دوست کی اس خوبی سے میں بخوبی واقف تھی۔ وہ کسی بھی موضوع پر تسلسل کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرسکتی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے تم اگر لکھ نہیں سکتی تو ایسا کرتے ہیں کہ میں انٹرویو کی شکل میں تم سے چند سوالات پوچھتی ہوں اور تم جواباً وہاں کی تہذہب اور حسنِ اخلاق پر روشنی ڈالنا۔
میری ٹارچ اتنی پاور فل نہیں !!اس نے شرارت سے جواب دیا تو میں زور سے ہنس پڑی۔
مغرب کے پس منظر گفتگو پر کیا خیال ہے؟ جس کی تم بہت زیادہ قائل ہو اورمتاثر بھی !!
جی ۔۔۔جی۔۔۔۔بے شک بہت زیادہ متاثر ہوں۔
اس نے کہا آپ سوال کریں۔۔۔میں جواب دینے کی بھرپورکوشش کروں گی۔
میں نے سوال داغا کہ ؛ مشرق کی سوچ ہے ، وہاں کی تہذیب میں بے باکی اور کچھ بے حیائی کی آمیزش پائی گئی۔۔۔۔۔؟
کیا اسلام کے نقطہء نظر سے یہ مناسب ہے؟
نہیں بالکل نہیں۔۔۔۔لیکن کیا کیجئےگا اب یہاں کا ماحول ہی ایسا ہے۔۔۔ہم یہاں کے سسٹم کو بدل تو نہیں سکتے ۔ ہاں ایک کام یہ کرسکتے ہیں کہ ان میں جو خوبیاں ہیں انھیں اپنالیں اور خامیوں کو نظرانداز کردیں !!
یعنی مصلحت پسندی اختیار کی جائے!!میں ہنس کر بولی تو وہ خاموش ہوگئی۔
خیر ایک خیال، خوف کی طرح ہمارے ذہنوں سے لپٹا ہوا ہے کہ ایک مسلمان کےاخلاق اور کردار وہاں محفوظ نہیں؟
جواب میں وہ گویا ہوئی
لوگوں کا خام خیال ہے۔۔۔ورنہ یہاں کے لوگوں میں اخلاق اور تہذیب اسقدرپائی گئی ہے کہ آپ سنیں گی تو حیران رہ جائیں گی۔ یہاں دین کا بہت کام چل رہا ہے ۔۔۔لوگ اسلام کو پھیلانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔۔۔کئی لوگ اسلام قبول کررہے ہیں۔میں بھی تو بیس سالوں سے یہاں مقیم ہوں۔۔میرے اخلاق وکردار پر ہلکی سی آنچ بھی نہیں آئی۔؟ کئی ہندوستانی نا صرف عزت کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ اپنے وطن عزیز کا نام بھی روشن کررہے ہیں۔
الحمدللہ!! مجھے سن کرواقعی مسرت ہوئی لیکن دوسرے ہی پل میں نے دوبارہ تشویش کا اظہار کیا۔
دین کی روح اخلاقِ حسنہ ہے اور وہاں دین اسلام کی کمی ہے اس لحاظ سے مجھے نہیں لگتا ایک مومن کے لئےوہاں کا ماحول اخلاقی اعتبار سے خوشگوار ثابت ہوسکتا؟
ارے ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔میں مانتی ہوں یہاں اگرکسی چیز کی کمی ہے تو وہ صرف دین کی کمی ہے !!!
ورنہ یہاں کے لوگوں میں اسقدر اخلاق اور تہذہب پائی گئی۔۔۔آپ سنیں گی تو حیران رہ جائیں گی۔ !!
اچھا۔۔میں نے حیرت ظاہر کی اور دوسرے ہی پل متفکر ہوکر پوچھا
مشرق کی یہ سوچ کہ لوگ وہاں پہنچ کر دنیا کی وقتی خوبصورتی میں کھو کر اپنی ابدی آخرت بھول جاتے ہیں۔اور یہ ایک ایسا خسارہ ہے جس کی صحیح معنوں میں کوئی بھر پائی ممکن نہیں۔اس تعلق سے تمھارا کیا خیال ہے؟
ارے یار آپ نے یہاں کے ماحول کو کس قدر خوفناک اندیشوں اور وسوسوں کے تصور سے رنگ دیا ہے۔۔۔وہ بے اختیار ہنسی ۔ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔۔۔دیکھیں۔۔۔جب تک ہم کسی کے قریب پہنچ کر گہرائی سے مشاہدہ نہیں کرپاتے تب تک ہمارے اندر خوف کے جراثیم اور ہماری رائے میں اختلاف جاری رہےگا۔
یہ تو رہی ہماری بات۔۔۔۔آگے ہماری نسل کا کیا ہوگا؟ میں نے دوبارہ فکر سے پوچھا
آپ کو اپنی تربیت پر کوئی شک ہے؟ارے آپ تو اس ملک کے باشندے ہیں جہاں پر حسن اخلاق انسانوں کا قیمتی گہنا مانا جاتا ہے۔۔۔پھر آپ کیسے اتنی کمزور ثابت ہوسکتی ہیں؟ اس نےمجھ پر سوالیہ نشان چھوڑا۔
ٹھیک ہے ہم اپنے بچوں کو بہترین تربیت کے ذریعے وہاں کے ماحول اور اثر سے محفوظ بھی کرلیں ۔۔۔لیکن آنے والی نسل کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ اس ماحول کے ضمنی اثرات سے محفوظ رہ پائیں گے ؟
جواب میں وہ ہنس کر بولی ۔
ایسی بات نہیں ہے !!
دیکھیں !آج کے دور میں کہیں بھی اس بات کی گارنٹی نہیں۔۔۔۔ہاں جب ہم اخلاق کے دائرے میں ، دین وسنت کے طریقوں پرچلتے ہوئے زندگی کی شاہراہ پرثابت قدمی سے چلیں گے ،یقین کریں ہم کسی بھی خطے میں ہوں چاہے کہیں بھی ہوں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ ہم خود کو محفوظ پائیں گے۔ہم اپنی نسلوں کو عمدہ پرورش وتربیت کے زیور سے آراستہ کرتے ہوئے ان کے وجود میں نسلوں کا تحفظ خیزجذبہ اور فکر پیدا کر سکتے ہیں۔جب یہ فکر بچوں کے شریانوں میں لہو بن کر دوڑےگی تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انھیں اور ان کی نسلوں کوگمراہ نہیں کرسکتی۔اتنا تو یقین ہے۔
ہممم۔۔۔۔۔۔ عمدہ بات کہی ۔میں متاثر ہوں۔میں نے خوش ہوکر اس کے خیالات کو سراہا۔ایک بات اور ہے۔۔۔۔تم وہاں بیس سال سے مقیم ہو ظاہر بات ہے تم وہاں کی تہذیب وتمدن اور وہاں کی زندگی پسند کرنے لگی ہو۔چاہے وہ کسی بھی رنگ کی کیوں نہ ہو۔۔۔۔کیونکہ تم وہاں کے ہر رنگ سےمتاثر ہو۔
ایسی بات نہیں ہے۔۔۔میں نےحالات کو بہت قریب سے دیکھاہے۔۔۔۔۔گہرائی سے مشاہدہ اور تزکیہ کیا ہے۔۔۔تب کہیں جاکر میرے وجود اور دماغ نے گواہی دی کہ یہ لوگ اور یہاں کا ماحول اتنا برا نہیں ہے جتنا ، مشرق کے خطے میں لوگوں نے گمان کررکھا ہے !! یہاں میں نے قدم قدم پر اخلاق کا مظاہرہ دیکھا ہے۔ سوسائٹی کے اکثر ذہن بےپناہ اخلاق سے آراستہ ہیں۔۔ان لوگوں کی خوبصورت سوچ وفکر اور حسن اخلاق کو بہت قریب سے دیکھنے اور جاننے کے بعد ہی میرا دل ودماغ متاثر ہوا ہے تب میں سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ اگر ان مغربی ممالک کی شخصیتوں میں کسی چیز کی کمی ہے تو بس وہ دین کی کمی ہے !! کاش اگر دین ان کی زندگیوں میں آجائے تو دنیا میں ان سے بہتر سلجھی ہوئی قوم کوئی دوسری نہیں ہوسکتی !!
اچھا۔ میں حیران رہی
کچھ بتاوتو سہی۔۔۔کچھ مثالیں اور دلیلوں کے ساتھ اپنی بات مکمل کرو میں جاننا چاہتی ہوں۔ میں نے مکمل تجسس کے ساتھ پہلو بدلتے ہوئے پوچھا
جواب میں اس کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی ۔
وہ کہنے لگی۔اپنی آفس کی بات بتاتی ہوں جہاں ہم سارے ملازم کسی خوشگوار کنبہ کی طرح رہتے ہیں ۔مینجر ، ڈائریکڑ کے لیے بھی کوئی الگ کیبن نہیں بلکہ ہم سب ساتھ میں ایک ہال میں بیٹھے کام کرتے ہیں۔۔۔آفس میں کچن بھی ہوتے ہیں تو وہاں کسی کا کپ پڑا ہو تومنیجر اپنی پیالی کے ساتھ دوسروں کی پیالی دھو کربھی رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔کچھ گر گیا۔۔۔ اگر کچن پلیٹ فارم پرچائے کے دھبےپڑگئے۔۔۔وہ خود صاف کردیتے ہیں۔۔۔۔۔چائے یا کافی اگر خود کے لئے بنارہے ہوں تو دوسروں کے لئے بھی بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ بڑے عہدے پر فائز اشخاص بھی سادگی سے صفائی کا دھیان رکھتے ہیں کوئی چیز راستے سے ہٹا دینے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ چھوٹے درجے کی پوسٹ والوں کا کسی کے سامنے تعارف کروانا ہوتواس کی پوسٹ کا یا حیثیت کا اظہار نہیں کیا جاتا بلکہ ان سےکہیں گے ان سےملیے یہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں ۔
یہاں پر لوگ بہت محنتی ہیں۔۔ محنت کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا اونچے عہدے پر فائز انسان بھی فارغ اوقات میں کہیں نہ کہیں اپنی مصروفیات تلاش کر تے ہیں۔کہیں دکان پر پارٹ ٹائم جاب کرلیا توکہیں اسپورٹس چل رہے ہوں تو اسٹیڈیم کے باہرکوئی اسٹال لگا کر کھڑے ہو گئے۔انھیں قطعی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے کیاسوچیں گے؟ اتنا بڑا پروفیسر یا اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ایک چھوٹی دکان لگائے کھڑا ہے ۔کچھ لوگ توویک اینڈ پرمزدوری جیسے چھوٹے موٹے کام بھی کر لیتے کچھ شوقیہ کرتے ہیں تو کچھ لوگ خود کو چست اور مصروف رکھنے کے لئے کرتے ہیں کوئی پیسہ حاصل کرنے کی نیت سے !!
اچھا۔۔۔۔ یہ بات تو ہمارے مشرق میں بہت معیوب سمجھی جاتی کہ اپنے پیشے سے ہٹ کر کچھ چھوٹا موٹا کام کرلیں تو لوگ الگ سے مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔کم مائیگی پر چوٹ کرتے ہیں۔
بہت دلچسپ باتیں ہیں۔۔۔۔ہر انداز سے حسن اخلاق جھلک رہا ہے۔۔۔کچھ اور بتاو۔۔۔میں نے اشتیاق ظاہر کیا۔
انڈیا میں اساتذہ عزت احترام کامطالبہ کرتے ہیں۔یہاں پر استاد ایک دوست کی طرح پیش آتے ہیں۔۔۔استاد کو میم، پروفیسر،سر وغیرہ القابات سے نہیں پکارا جاتا اور ناہی وہ اس کو پسند کرتے بلکہ نام سے مخاطب کیا جاتاہے۔
لیکن ایک بات جو مجھے بے حد متاثر کرگئی ۔یہاں پر بچوں کے معصوم احساسات کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ کلاس میں ٹسٹ کے نمبروں کا اعلان نہیں ہوتا ، کس بچے نے کس بچے پر فوقیت حاصل کی ہے بلکہ بطورعام بتا دیتے ہیں کہ کلاس میں کتنے پاس ہوئے ہیں۔کسی کا نام لے کر اس کے سو فیصد آنے پر توقیر نہیں اور کسی کے پچاس فی صد آنے پر تحقیر نہیں۔امتحان کے پرچے ٹیچر بچوں کے ڈیسک پر الٹ کر رکھتے ہیں۔کسی بچے کا من چھوٹا نہیں ہوتا۔۔۔ بس قربان جاؤں اس پرکہ بچوں کی نازک انا کا کتنا خیال۔۔۔لیکن جب مشرق کی بات کریں
جہاں تک میں نے نوٹس کیا ہے
انڈیا میں ٹیچر تیار بیٹھے ہوتے ہیں کسی طرح آپ کے نمبر کاٹیں،ان کے گھر کے تمام حالات کا بدلہ اپنے سٹوڈنٹ پر نکالتے ہیں !!
جبکہ یہاں پر لنگویج کے علاوہ ہر سبجکٹ میں املا کی غلطیوں کو نظرانداز کیا جاتاہے۔انڈیا میں پرائیویٹ سکول صرف پیسہ کمانے کے ادارے بن گئے ہیں !!
یہاں کی مہمان نوازی کی بابت سناؤں گی۔آپ خوش ہوجائیں گی۔
ہاں ضرور !! میں ہمہ تن گوش ہوئی۔
ماشاءاللہ یہاں پر لوگوں میں خلوص اور محبت کاجذبہ ہے جب ہم کھانے کے لئے کسی رسٹورنٹ میں جاتے ہیں اگر ہم نے بتایا کہ ہمارے والدین ساتھ ہیں جو پہلی بار اس ملک میں تشریف لائے ہیں یہ جان کروہ لوگ بہت خوش ہوتے ہیں ۔فورا کوئی ڈیزرٹ پیش کرتےہیں ۔ان کے یہاں جو بھی خاص ڈش ہوتی ہے وہ ٹیبل پر پیش ہوتی ہے ، کہیں گے یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے خاص پیش کش ہے ،اسے قبول کریں کیونکہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور ہمارےملک میں پہلی بار تشریف لائے ہیں ۔ہمارے ملک کے تئیں آپ کے خیالات بھی اس ڈیزرٹ کی طرح شیریں ہوجائیں۔
سبحان اللہ ! مہمان تو اللہ کی جانب سے رحمت ہوتے ہیں۔ مجھے اس کی باتیں سن کرواقعی بہت خوشی ہوئی ۔
یہاں پر لوگ ہمارے مذہب کا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔ہم ہر جگہ جاتے ہیں ،گھومنے پھرنے ، لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے ۔کھانا پینا ہوتا ہے۔دفتر کی تقریبات یا دوستوں میں دعوتیں ہوتی ہیں لیکن کہیں بھی کسی نے آج تک مذاق میں ہماری مشروبات میں الکوہل نہیں ملایا !!
ہممم۔۔۔۔۔میں سوچنے لگی۔
خواتین کا بہت احترام کیا جاتا ہے ہاں کچھ لوگ فضول حرکت کرتے ہیں جو خاص کلبوں وغیرہ میں ہوتا ہے لیکن عام طور پر عورتوں کی بہت عزت ہوتی ہے جیسے آفس میں۔۔۔۔پوسٹ آفس کی قطار میں کھڑے ہوں ، کسی شاپنگ مال میں ہو ہر جگہ بہت زیادہ عزت بخشی جاتی ہے ۔
مشرق میں تقریبات میں کھڑے کھڑے کھا لیتے ہیں لیکن یہاں یہ چیز بہت بدتمیزی کہلائی جاتی ہے کھانا لگا ہوتا ہے لیکن آپ کو اپنی پلیٹ میں لے کر ٹیبل پر جا کر بیٹھنا ہوتا ہے کھانے سے پہلے دعا کا بڑا اہتمام کرتے ہیں چاہے کسی بھی مذہب کے ہوں وہ شکر ہمیشہ ادا کرتے بری بات یہ کہ کھانا بہت پھینکتے ہیں یعنی ضائع کیا جاتا ہے۔رزق کی فراوانی ہے لیکن اس کی قدر کرنی چاہئے ۔۔۔۔خیر میں یہاں یہ کہوں گی کہ ہم ان سے اچھی چیزیں حاصل کریں۔۔برائی کو نظرانداز اور ترک کرنا ہی بہتر ہے۔
اچھا ایک بات بتاو۔۔۔۔؟ تم وہاں کے اخلاق وتہذیب سے اتنی متاثر ہو ۔۔۔میں نے سناہے کہ وہاں کثرت سے اولڈ ایچ ہوم بھی قائم ہیں۔؟
یہ سن کر وہ دکھ سے ہنس کر گویا ہوئی
ہاں یہاں پر اولڈایج ہوم بہت ہیں۔اس کی وجہ بتاتی ہوں۔۔۔ ہر گھر میں مرد اور عورت دونوں مل کر کام کرتے ہیں ایسی حالت میں وہ بیمار والدین کی خدمت نہیں کر سکتے اولڈایچ ہوم جہاں پر عمدہ طریقے پر بزرگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔۔۔جہاں گورنمنٹ سے کئی قسم کی سہولیت فراہم ہیں۔ شام میں یہ وہاں ملنے جاتے ہیں کچھ خاص بنایا ہو تو وہ بھی لیے آتے ہیں شام گزار کر واپس چلے جاتے۔ کچھ خواتین ایسی ہیں ملازمت چھوڑ کر والدین کے ساتھ گھر پر وقت گزارتی ہیں۔ جب والدین انتقال کر گئے تب وہ دوبارہ اپنی ملازمت جوائن کر لیتں۔ہاں سارے نیک انسان نہیں ہوتے چند نالائق اولاد بھی ہیں جنھیں والدین بوجھ لگتے ہیں۔
ہممم ۔۔۔ بزرگوں کے تعلق سے اس نے مجھے مطمئن کرنا چاہا ۔۔۔لیکن میں قطعی مطمئن نہیں تھی بلکہ مجھ پر ایک اداسی سی چھاگئی۔ابھی رات بہت ہوگئی۔۔۔باقی کل بات کرتے ہیں۔۔۔وہ شاید تھک چکی تھی۔۔۔اس نے اجازت طلب کی میں نے اس کو شب بخیر کہا۔وہ چلی گئی۔میرا دماغ سوچتا رہا ۔میری دوست وہاں کے باشندوں کے حسن اخلاق سے بہت متاثر تھی ۔کبھی وہ یہاں سعودی عرب آتی اور قریب سےاس ملک کے اخلاقیات کا مشاہدہ کرتی تو ایمان سے وہ یہاں کی تہذیب و تمدن اور حسن اخلاق پر قربان ہوجاتی۔۔جس طرح کہ میں ہوئی ہوں !!!
میری آنکھوں سے نیند غائب تھی۔میرے ذہن کے پردے پر پڑھا گیا قول ابھر آیا
امام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے اگر کوئی شخص گھر سے صرف ادب اخلاق سیکھنے کے لئے نکلے اور اس میں اس کے سالہا سال بھی بیت جائیں تو پھر بھی کم ہے۔ کہتے ہیں خدا تک جانے کے لئے ادب اخلاق کا درست ہونا ضروری ہے اچھے اخلاق یہ ہے کہ کسی کو تکلیف نہ دی جائے مگر دوسروں سے تکلیف ملے تو اسے برداشت کیا جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومنین میں سے اس کا ایمان اعلی ہے جس کا اخلاق سب سے اعلیٰ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندے کے لئے اللہ کی سب سے بڑی عطا خلقِ حسن ہے .حسنِ اخلاق کا حامل اللہ کے قربت میں رہائش پائے گا عرش کا سایہ پائے گا اور جنت کے چشموں سے سیراب کیا جائے گا ۔معاشرے کو سنوارنے میں اخلاق کا نمایاں مقام ہوتا ہے یعنی اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے انسانیت کا عمدہ اور بہترین زیور حسنِ اخلاق ہے۔ اسلام نے گھریلو سطح پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک وہ خدمت گزاری کی تعلیم دی ہے. رشتہ داروں کے ساتھ احسان و صلہ رحمی بیوی بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کی تعلیم دی گئی اسی طرح معاشرتی سطح پر بھی چند اصول و ضوابط کے تحت حسنِ اخلاق کے استعمال سے معاشرے و سماج کو خوبصورت بنایا جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اخلاق دنیا کے ہر مذہب کا مشترکہ باب ہے ۔اگر معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے باصلاحیت قوم وجود میں آتی ہے۔جس معاشرے میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا ۔مسلمان کی پہچان ہی اخلاق سے ہے۔ اخلاق یہ ہیں کہ کوئی تمھیں برا کہے تو تم برداشت کرو اور تم اسےاچھا ہی کہو !!
اگر کوئی تمھاری بدخوئی کریں تم اس کی تعریف اور اچھائی بیان کرو!!
کوئی تم پر زیادتی کرے تو اسے فراخدلی سے معاف کردو !!
ہم اگر ان باتوں پر عمل کریں اور انھیں اپنالیں تو نہ صرف خاندان سلجھ جائیں گے بلکہ خوبصورت سماج و معاشرے کی تشکیل بھی عمدہ طور سےہو گی۔ غصہ حسد ،نفرت ، خون وغارت یہ ساری چیزیں دنیا سے اٹھ جائیں گی اور دنیا جنت کا نمونہ ،امن کا گہوارہ بن جائےگی کیا یہ ممکن ہوگا؟؟؟ہاں میرے خیال میں یہ ممکن ہے اگر ہم اس خوبصورت زیور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں !!!!٭٭٭
ختم شد

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular