HomeMuslim Worldاقبال مجید اپنے طرز کا تخلیق کار

اقبال مجید اپنے طرز کا تخلیق کار

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

 

شگفتہ دلدار

اس سال۱۸ جنوری ۲۰۱۹کو ادبی دنیا کے افق سے ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا ۔ پچھلے کچھ ماہ سے اردو فکشن پر مصیبت کی گھڑی آ پڑی ہے ایک سے ایک بڑی ہستی جدا ہوتی جارہی ہے ۔ پہلے فہمیدہ ریاض ، عمر میمن ، ساقی فاروقی ،فضیل جعفری ، قاضی عبدالستار، اور پروفیسر حامد ی کاشمیری وغیرہ ہم سے جدا ہو گئے ،اور اب اقبال مجید بھی چلے گئے۔ اقبال مجید کی صورت میں ہم نے ایک بہت بڑا فکشن نگار کھو دیا۔ اقبال مجید کی رحلت نے بے حد مغموم کیا ۔بلا شبہ وہ اردو کے ان معدودے چند افسانہ نگاروں میں سے تھے جن کے تخلیق پارے ادب میں گراں قدر سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اقبال مجید ۱۲ جولائی ۱۹۳۴ ؁ ء میں اترپردیش کے ایک مردم خیز علاقے مرادآباد میں پیدا ہوئے ، ان کے والد مجید صاحب اس زمانے میں شاہجہاں پور کے ریلوے میں کلرک کے عہدے پر تھے ۔ ان کی گریجویشن کی تعلیم لکھنؤ یونیورسٹی سے ہوئی بعدازاں کانپور یونیورسٹی سے سیاست میں ایم ؛اے کیا اور مزید تعلیم کے لئے علی گڑ مسلم یونیورسٹی بھی گئے ، اور وہاں سے بی ۔ایڈ کی سند حاصل کی ،مگر ادبی دنیا میں ان کی افسانہ نگاری کی ابتدا لکھنؤ سے ہی ہو چکی تھی اور وہ ـ’’عدوچچا‘‘ جیسا افسانہ لکھ کر شہرت پاچکے تھے ۔اقبال مجید کی ذہنی تربیت اس عہد کے ترقی پسند مصنفین اور لکھنؤ کے اس عہد کے افسانہ نگاروں کے بیچ ہوئی تھی ۔ بقول ’’ انجم عثمانی فرماتے ہیں کہ:
’’ اقبال مجید اردو افسانہ نگارں کی اس صف سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے کشن چندر ، راجندرسنگھ بیدی ، سعدت حسن منٹو ، عصمت چغتائی وغیرہ کہ فوراً بعد اور قرۃالعین حیدر ، غلام عباس ، جیلانی بانو ، رتن سنگھ ، قیصر تمکین ، عابد سہیل ، جوگندر پال ،غیاث احمد گدی ،اور قاضی عبدالستار ،وغیرہ کے تقریباً ساتھ ساتھ اردو افسانے کو زندہ رکھنے اور اسے معیار عطا کرنے میں نمایاں کردار اداکیا ہے ۔‘‘
اقبال مجید کچھ دنوں تک صحافت کی دنیا سے بھی منسلک رہے، پھر سرکاری ملازمت مدرسی بھی کی ، مگر مدّرسی کا پیشہ ترک کر کہ اپناکیریر آل انڈیا ریڈیو سے شروع کیا یہ پیشہ ان کے مزاج اور تخلیقی میدان سے مناسبت رکھتا تھااور ۱۹۵۲؁ء میں اسسٹنٹ اسٹیشن ڈائرکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ۔ وہ کئی سال تک بحیثیت سکر یٹری مدھ پردیش اردو اکادمی بھوپال سے بھی وابستہ رہے۔ان کے افسانوی مجموعوں میں دو بھگے ہوئے لوگ ۱۹۷۰؁ء ،ایک حلفیہ بیان، شہر بد نصیب،آگ کے پاس بیٹھی عورت ،قصہ رنگ شکستہ ، تماشہ گھر اور دو ناول نمک ، اور کسی دن ہیں ۔ انھوں نے کئی اعلیٰ درجے کے ڈرامے بھی لکھے۔ ان کا پہلا ڈرامہ ’’کتّے‘‘جو انھوں نے ۱۹۷۴؁ء میں لکھا تھا، بہت مقبول ہوا۔
اردو فکشن کے تخلیق کاروں کاکتنا ہی سخت انتخاب عمل میںلایا جائے اس میں اقبال مجید کا نام ضرور لیا جائے گا ۔ اقبال مجید کے افسانوں میںانسان کی داخلی اور روہانی الجھنوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانوی تکنیک میں بھی انھوں نے بعض اہم تجربے کیئے ہیں تاہم کہانی میں کہانی پن کے عنصر کو بھی برقرار رکھا ہے ۔انہوں نے اپنے افسانوں، ڈراموں، اور ناولوںمیں سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ نفسیاتی بصیرت سے بھی بخوبی کام لیا ہے۔اقبال مجید بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن اُنھوں نے ’’کسی دن ‘‘ اور ’’نمک ‘‘جیسا ناول لکھ کر اردو ناول کی دنیا میںبھی اپنی پہچان قائم کر لی، اور ان کا فن ان کے ناولوں میں زیادہ کھل کر سامنے آیا ۔’’ کسی دن‘‘ اقبال مجید کا پہلا ناول ہے جو ۱۹۹۷؁ء میں شائع ہوا،جب کے نمک ۱۹۹۹؁ء میں منظر عام پر آیا ۔ اور یہ محض اتفاق کی ہی بات ہے کے کچھ ماہ قبل ان کا ناول نمک میرے زیر مطالعہ رہا۔
پروفیسر شارب ردولوی ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ :’’اقبال مجید اردو فکشن کی اس نئی معنویت کے نمائندہ افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو فکشن میں اپنے تخلیقی رویّے ، معاصر مسائل کو پیش کرنے کے انداز ، زبان کے تخلیقی اور فطری استعمال سے ایک نئی فضا تشکیل دی ۔ان کی تخلیقی صلاحیت ان کے ناولوں میں زیادہ سامنے آئی اس لئے شاید ’سڑی ہوئی مٹھائی‘ اور’ موٹی کھال‘ میں وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے نہیں کہہ سکے اور انھیں ’’کسی دن‘‘ او ر ’’ نمک ‘‘ جیسا ناول لکھنا پڑا۔‘‘
اقبال مجید نے ناول’’ کسی دن‘‘ میںایک ساتھ تین نسلوں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، پہلی نسل میں شوکت جہاں اور قدرت اﷲ کا باپ ہے جو زندگی بھر ایک سیاسی جمات کی خدمت کرتا ہے،دوسری نسل میں شوکت اور قدرت شامل ہیں جو اپنی عفت ،پارسائی اور عصمت کی حفاظت اور رزقِ حلال کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں ۔شوکت سیاست کے ذریعہ قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہے لیکن موجودہ سیاست میں یہ خارج از امکان ہے ۔تیسری نسل کی نمائندگی کمّو کرتی ہے، وہ نئے زمانے میں رچ بس گئی ہے اس لئے متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ سماجی و اخلاقی قدروں سے بے نیاز ہو جاتی ہے۔ ــ’’کسی دن ‘‘کا مرکزی کردارپرتاپ شکلا ہے اور بنیادی کردار ہ شوکت جہاں ادا کرتی ہیں ، اس کے علاوہ قدرت اﷲ،ممو خان، شہباز خان، عائشہ اور کمّو کے اِرد گرد ناول کا تانا بانا بناگیا ہے۔پرتاپ شکلا ایک بہت ہی خود غرض ودھایک ہے جو اپنی ترقی کے لئے دوسروں کا بخوبی استعمال کرنا جانتا ہے۔
، وہ شوکت کا جسمانی استحصال کر اپنے سیاسی مقاصدپورے کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف شوکت جہاںہے جو سیاست کے ذریعہ قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔وہ تعلیم یافتہ، حسن اخلاق،نیک سیرتی اور نہایت خوبصورت ہے۔ شوکت کے والد جو کے ایمانداری کی مثال ہے اور اس نے اپنی پوری زندگی ایک سیاسی پارٹی کی خدمت کی مگر اپنے بیٹے قدرت اﷲ کو ایک راشن کی دکان کا License بھی نہں دلوا پاتا ہے ۔قدرت اﷲحافظِ قرآن ہے اسے دو وقت کی روٹی کے لئے ایک فرقہ پرست پارٹی کے اخبار میں کام کرنا پڑتا ہے جہاں اسے ہر وقت بے عزت کیا جاتا ہے۔ پرتاپ شکلا جنسی استحصال کے لئے شوکت کوشیشہ میں اُتار نے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر کامیاب نہیں ہو پاتاہے اور اس کا قتل بھی کروادیتا ہے ،، ناول میںجہاں پراتاپ شکلا کا کردار مطلب پرست ہے وہیں دوسری طرف شوکت جہاں کے کردار میں آدرش واد کی جھلک نظر آتی ہے۔
شوکت جہاں ،پرتاپ سے کہتی ہے’’آپ کو منتری بننے کے لئے اُردو علی گڑھ کو گالی دینا ضروری ہے، !! مگر میرے لئے نہیں!!۔ پرتاپ بھڑک اُٹھتا ہے ۔تمہارے لئے ضروری ہے۔{MainStreem} مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے لئے یہ باتیں ہندو تمہارے منہ سے سننا چاہتے ہیں۔لیکن تم سمجھناچاہوتب نہ۔۔۔۔۔!
شوکت: یہ نہرو کا سیکولرِزم تو نہیں ہے ۔
سیکولرِزم کسی گھرانے کی جاگیر نہیں۔۔
مندرجہ بالا اقتباس سے شوکت جہاں اور پرتاپ شکلادونوں ہی کرداروں کے ذہن و نظر کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔ ممو خان کا کردار بھی ہمارے سماج سے ہی اخذکیا گیا ہے ، یہ ایک ایسا کردار ہے جو نہ صرف مذہبی اعتبار سے جذباتی ہے بلکہ مذہب و تہذیب کے نام پرقتل و غارت کے لئے بھی تیار رہتا ہے۔ اس ناول میں کمّو کا کردار بھی بہت جاندار ہے وہ قدرت اﷲ کی بیٹی ہے ، کہانی اس کے اِرد گِرد گھومتی ہے۔ناول ’’کسی دن‘‘ کا موضوع آج کی سیاست اور سماج و معاشرت کی تصویر کشی ہے۔انھوں نے اقلیتی کردار اور مسلمانوں کے مسائل اور درد و غم کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے ۔سیاست پر طنز کرتے ہوئے ناول کا بیا ن یہ ہے کہ’’سیاست میں ہمارا کام یہ تلاش کرنا نہیں کہ سچ کیا ہے بلکہ ہمارا کام یہ تلاش کرنا ہے کہ وہ سچ کیا ہے جو ہمیںدرکار ہے۔‘‘ دراصل اقبال مجید نے تین نسلوںکے ذہنی اختلاف کے ساتھ ساتھ قدروں کے تصادم کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
’’کسی دن‘‘ میں شروع سے آخر تک ہر کردار کو کسی نہ کسی ڈر کے سائے میں دیکھایا گیا ہے۔ پرتاپ شکلا کو اپنے اعلیٰ احکام کا ڈر، شوکت کو پرتاپ کا ڈر، قدرت اﷲ کو رزق حلال نہ کماپانے کا ڈر، مموخان کا کردار ہو یہ شہباز خان یہ کمّو کا کردار ،یہ تمام کردار ایک انجانے خوف میں مبتلا نظرآتے ہیں۔ ناول نہ تو کسی سیاسی دور کی تاریخ ہے نہ سیاست نامہ بلکہ حالیہ سیاسی رجحان اور طرزفکرکی طنزآمیز عکس گیری ہے۔ یہاں ڈسٹرب کر دینے والا بیانیہ کلام بھی ہے اور عمدہ فکشن نگاری بھی۔ ۔
اقبال مجید کا دوسرا ناول ’’نمک ‘‘ ہے ۔جی ہاں !! وہی نمک جس کا استعمال ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں کرتے ہیں،اور جس کی غیر موجودگی سے ہمارے پکوان ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی بھی بے ذائقہ ہو جاتی ہے ،نمک انسان کی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے ، مگر اقبال مجید کہ ہاتھوں میں یہ نمک ذوق کا استعارہ بن گیا ہے۔ نمک ذائقے کی بنیاد ہے اور اس ناول کی روح ہے ۔ یہ کہانی زہرہ خانم عرف محبوب جان، جو کی اتراولی کی ایک مشہور موسیقی نگار رقّاصہ کی زندگی کے ماضی و حال کی کہانی ہے۔جو کہ خود اپنے ہی گھر ’’دارالااستکبار‘‘ میں پیچھلے ۳۳سال سے کمرا نمبر ایک میں خود اپنے بیٹے کے ہاتھوں نظر بند ہے۔’’دارالااستکبار ‘ ایک ۲۰ کمروں والا ۲ منزلہ عمارت ہے اور اس میں ایک ہی خاندان کہ پانچ کنبے مقیم ہیں۔ ناول کے اہم کرداروں میںزہرہ خانم کے علاوہ استم، سم سم، ابو بکر، اور اشوتوش ہیں۔نمک دو عہد، دو تہذیب اور نظریہ حیات کی جنگ ہے جس کے تضاد کو اقبال مجید نے زہرہ خانم، استم ، سم سم ، ابو بکر اور اشوتوش، جیسے کرداروں سے ظاہر کیا ہے ۔ ناول کی ابتداء میں زہرہ خانم کا اپنی پوتی استم سے یکا یک دریافت کرنا’’بیٹی تیرا نمک کہاں ہے ‘‘ اور ناول کے اختتام پر اپنی پرنواسی سم سم سے کہنا ’’ بِٹیا زہرہ کا نمک اٹھ چکا ، جو باقی تھا وہ ذائقے کے لیے نہیں زخموں پر چھڑکنے کے لئے ہے ‘‘ ( نمک ص ۱۳۶ ) اقبال مجید نے دونوں ہی جگہ لفظ نمک کو بطور استعارہ استعمال کیا ہے اور اپنے ناول کو بلیغ استعارہ بنا دیا ہے ۔
ناول’’نمک‘‘ کی کہانی اس طرح ہے کہ استم اور ذ کی دونوں نسل نو کہ پاسدار ہیں ، ان کے بیچ ذاتی تعلقات ہیں اور استم وقت سے پہلے حاملہ ہو جاتی ہے،مگر دونوں شادی نا کرنے کا فصلہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے کیریئر کے لیئے کوشاں ہیں۔یہاں اقبال مجید نے ذکی اور استم کے ذریعہ سے بڑے شہروں کے نوجوان نسلوں کی زندگی کو بخوبی ظاہر کیا ہے ۔ایک طرف سم سم اور اشوتوش دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں مگر دونوں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اپنے بیچ کے مذہبی اور تہذیبی فرق کو ختم نہیں کر پاتے ہیں اور اشوتوش اپنے اس تعلق کو ہی ختم کر دیتے ہیں۔ بعدازاں سِم سِم کی زندگی میں ابوبکر آتا ہے ،ابوبکر اس سے دیواناوار محبت کرتاہے لیکن ابو بکر کو قبول کرنے میںسِم سِم کو ہچکچاہٹ ہے کیوں کہ وہ سِم سِم سے تہذیبی طورپر کمتر ہے۔ دوسری طرف زہرہ خانم کا بیٹا ہے جو زہرہ خانم کے ماضی کو بھلانے کی کوشش میں ہے۔ وہ اپنی ماں کی پورانی شناخت ختم کرنے اور نئی پہچان بنانے کے لئے زہرہ خانم کی فرضی تصویر کے ساتھ فرضی پیغام بھی اپنے گھر کی دیواروں پر لگواتا ہے ۔تا کہ لوگ یہ سمجھیںکہ زہرہ خانم ایک علیٰ تعلیم یافتہ کسی اشرافیہ خاندان سے ہے۔ کہانی میں زہرہ خانم کا اپنا ہی بیٹا اسے نہ صرف کمرے میں نظربند کرتا ہے بلکہ اس کی شناخت کے لئے بھی مسلہ بن جاتا ہے۔وہ اپنے ماضی سے نجات حاصل کرناچاہتا ہے، وہ یہ نہیں جانتا کہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی بھی لوگوں کے دلوں میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔
اقبال مجید اپنے کرداروں کے خدوخال کو بہت خوبصورتی سے نمایاں کرتے ہیں،انہیں کردارنگاری میں پوری مہارت حاصل ہے۔ان کے افسانوںکے کرداروں میں عدّوچچا کا کردار ہو یا ’ٹوٹی چمنی‘‘ میں عشو باجی کا یا ’’سخت جانوں کا انتظار‘‘ میں صغریٰ کا یہ تمام کردار اپنے آپ میں مثالی ہیںاور ۸۰ ۔ ۷۰ سال بعد بھی اس طرح فکر انگیز ہے کہ شاید مصالحت آج کے دور میںوہی قدر رکھتی ہے۔
رسالہ مرّیخ کے مدیر اور افسانہ نگار’’ فخرالدین عارفی صاحب‘‘ اقبال مجید کے اسلوب نگاری اور کردار نگاری کے بارے میںاظہارِ خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
اقبال مجید کو میں ایک جینون فنکار تسلیم کرتا ہوں۔ انہوں نے اردو فکشن کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ کیا ۔ خواہ افسانہ ہو یا ناول وہ اپنی تحریر سے بہت متاثر کرتے ہیں،اس سلسلے میں اگر یہ کہوں تو شاید غلط نہ ہوگا کہ وہ کردار کے لحاظ سے زبان کا پیکر تخلیق کرتے ہیں ان کی زبان عام فہم اور سادہ ہوتی ہے ۔ افسانہ ہو یہ ناول ہر جگہ ان کی تخلیقی کاینات میں اسعت اور تنوع کا احساس ہوتا ہے۔‘‘
اقبال مجید کی خصوصیت ان کی اسلوب نگاری ہے۔ ’’عدّو چچا‘‘ سے اب تک انہیں لکھتے ہوئے غالباً ۸۰ برس بیت چکے تھے اس لمبے عرصے میںان کی تحریریں کئی تبدیلیوں سے گزریںان کے افسانوی مجموعے دو بھگے ہوئے لوگ ،ایک حلفیہ بیان، شہر بد نصیب،آگ کے پاس بیٹھی عورت ،قصہ رنگ شکستہ ، تماشہ گھر اور ناول نمک ، اور’’ کسی دن ‘‘ان کی اسلوب نگاری کے الگ الگ پڑاؤ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انھوں نے روایتی کہانی سے ہٹ کر اپنے لئے راستہ بنایا یہی سبب ہے کہ ترقی پسند افسانہ نگاروں کے ساتھ جدید افسانہ نگاروںمیںبھی ان کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔
بقول ڈاکٹر محمد علی صدّقی ’’اقبال مجید کے اسلوبِ نگارش کا خصوصی وصف یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے ذہن کے ایماندارانہ اور قرار واقعی انداز میں ترجمانی کے فریضہ ادا کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اقبال مجید اردو افسانے میں نہ صرف اپنی Themes کی انفرادیت کے لے مشہور ہیں بلکہ اس انفرادیت کے لیے بھی جو پیچیدہ کرداروں کی موقع نگاری بھی کامیابی کے ساتھ کر سکے۔}ڈاکٹر محمد علی صدّقی‘ نیا ورق بمبی ،ص؛۲۰{
کہانی سنانے کا فن اقبال مجید کی منفرد اور مستحکم خاصیت ہے ۔اُنہیں افسانے ، ناول اور ڈرامے کے فن اور تکنیک پر یکسا قدرت حاصل تھی ۔ ان کے مشہور افسانوں میں عدّو چچا، ٹوٹی چمنی ، پیٹ کا کیچوا ، سکون کی نیند ، حکایت ایک نیزے کی ، سوئیوں والی بی بی ، دسترس ، سڑی ہوئی مٹھائی، مشق فغاں، سوختہ سامانی ،وغیرہ ہیں۔اقبال مجید نے ناول نمک میںبھی دو نسلوں کی فکری تضاد،دو عہد اور تہذیبوں کی کشمکش کو بڑی خوبصورتی سے ظاہر کیا ہے۔ان کی بہترین کہانیاں کردار،واقعات اور تاثرات کا ایسا تخلیقی اظہار ہیںجن سے اردو کے بیشتر قاری لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ان کے ناول نمک پر ’’زہرہ محل‘‘ کے نام سے ایک بہترین سیریل ان کی ہدایت اور منظرنامے کے ساتھ ای۔ٹی۔وی اردو پر عرصے تک ٹیلی کاسٹ ہوتا رہا جو اردو کے مقبول سیریلز میں شمار ہوتاہے۔ انہیں ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۰۶؁ء میں اردو اکادمی دہلی کی جانب سے بہادرشاہ ظفرایوارڈ سے نوازا گیا۔اقبال مجید اردو فکشن کے ایک تابندہ و درخشاں ستارہ تھے، مگر اب وہ ستارہ غروب ہو چکا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ ستارہ اتنی روشنی بکھیر کر روپوش ہوا ہے کہ اردو ادبی دنیا اس روشنی سے ہمیشہ فیص یاب رہے گی۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular