9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

شمیلہ ملک
بابائے اردو مولوی عبدالحق کی شخصیت تعارفِ محتاج نہیں مولوی عبد الحق بلند پائے کے ادیب مشہور ومعروف تحقیق وتنقید نگار تھے۔ اعلیٰ پائے کے مترجم اور تاریخ داں، انکی شخصیت میں مزید بلندی، انکے خاکوں کی وجہ سے بھی ہوئی۔ ’’چند ہم عصر‘‘ اس کی زندہ مثال ہیں۔ ’’چند ہم عصر‘‘ کو اردو خاکہ نگاری کی روایت میں بے مثال اہمیت حاصل ہیں۔ اپنے خاکوں میں انھوں نے انھیں لوگوں کو شامل کیا جن کی شخصیت قابل تعریف ہوں اور جس سے ہمیں سبق مل سکے۔ انھوں نے ایسی شخصیت کا انتخاب کرکے اپنے خاکوں کو اور بھی اہمیت بخشی ہے۔
’’چند ہم عصر‘‘ میں مولوی عبدالحق نے اپنے ان معاصرین کی سیرت کو اجاگر کیاہے جن سے انھیں زندگی کے کسی بھی موڑ پر قربت رہی ہے۔ ’’چند ہم عصر‘‘ نہ صرف ادبی حیثیت سے اہم ہے بلکہ اس حیثیت سے بھی معتبر ہے اس کے ذریعے جہا ں ہم مختلف شخصیتوں سے واقف ہوتے وہیں مولوی عبدالحق کی شخصیت کو سمجھنے میں بھی یہ کتاب مدد گار ثابت ہوئی ہے۔
خاکہ نگاری کے جدید ترین فن میں مولوی عبدالحق جو حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں صرف رشید احمد صدیقی انکے شریک ہیں۔ دونوں کے فن میں جو فرق ہے وہ ان کے مزاج اور نقطہ نظر کا ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ’’مولانا محمد علی جوہر‘‘ پر دونوں کی رائے میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ ’’چند ہم عصر‘‘ کے خاکے پڑھنے سے بڑی حد تک یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سرسید کے دور سے لیکر مولوی عبدالحق کے دور تک مسلمانوں نے علم وفضل اور شعر وادب کے میدان میں کیا کیا کارنامے انجام دیئے ہیں۔ ان خاکوں میں کہیں کہیں طنز ومزاح کے ہلکے پھلکے چھینٹے بھی نظر آتے ہیں۔
بحیثیت خاکہ نگار مولوی عبدالحق کا درجہ بہت بلند ہے۔ انکی خاکہ نگاری کے اعلیٰ نمونے ’’چند ہم عصر‘‘ میں نظر آتے ہیں۔ در حقیقت جس خلوص اور لگن سے وہ کام کرتے ہیں ان کی تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بددلی اور تھکن کا احساس مولوی عبدالحق کی تحریر میں ہے ہی نہیں۔ اس کا ثبوت وہ جدوجہد ہے جو اردو کی ترقی کے لیے مولوی عبدالحق نے ہندوپاک میں کی۔ مولوی عبدالحق کو اردو سے جو عشق ہے وہ ان کی تحریروں سے پھوٹ پڑتا ہے۔ مولوی عبدالحق اور اردو ایک ہی شخص کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں۔ ’’چند ہم عصر‘‘ میں جہاں جہاں انھیں موقع ملا وہ اس خیال کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے کہ اردو زبان ہی بہترین تعلیمی ذریعہ ہو سکی ہے۔ اردو کی ترقی واشاعت مولوی عبدالحق کی زندگی کا نصب العین رہا ہے اور اس کا ایک عملی نمونہ کراچی میں اردو کالج کا قیام ہے۔
مولوی عبدالحق نے نہ تو اردو سے دامن چھڑایا اور نہ اس کی ترقی کی طرف سے بددل ہوئے۔ ماں باپ بھی اولاد کے جوان ہونے پر اس کی طرف سے بے فکر ہوجاتے ہیں۔ لیکن مولوی عبدالحق اردو سے لمحہ بھر کے لیے بھی غافل نہیں ہوئے اور شاید اسی وجہ سے قوم نے انھیں ’’بابائے اردو‘‘ کا خطاب دیا ہے۔ جو ہر طرح سے ان پر جچتا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنی ذات سے خود ایک ادارہ ہے۔ انھیں اگر اردو ادب کی چلتی پھرتی انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
مولوی عبدالحق نے خاکہ نگاری کے ذریعہ بھی اردو ادب کی خدمات انجام دی ہے۔ انھوں نے اپنے ہم عصر رفیقوں اور ادیبوں کی شخصیتوں کو اپنے خاکوں میں پیش کیا ہے۔ جس میں انھوں نے چوبیس شخصیتوں کے سیرت اور ان کے خیالات کو پیش کیا ہے۔ جسے ہم ان کا شاہکار کہہ سکتے ہیں۔ انکے خاکے کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے انھیں شخصیتوں کی تصویر پیش کی ہے جن سے انکا زندگی میں واسطہ پڑا۔ ان کے خاکوں میں ادیب بھی ہیں، شاعر بھی، سیاست داں بھی ہیں، مذہب کے پرستار بھی، امیربھی ہیں، غریب بھی یعنی ہر طبقے اور درجے کے اشخاص سے انھیں دلچسپی تھی۔
’’چند ہم عصر‘‘ میں طویل اور مختصر دونوں طرح کے خاکے شامل ہیں۔ مولوی عبدالحق کا سب سے طویل خاکہ ’’سر سید احمد خاں‘‘ کا خاکہ ہے۔ مولوی عبدالحق کی خاکہ نگاری کا سب سے اہم حصہ ان کے ہم عصر رفیقوں اور ادیبوں کی موت ہے۔ مولوی عبدالحق نے جتنے بھی خاکے لکھے ہیں وہ ان کی وفات کے بعد ہی تحریر میں لائے گئے ہیں۔ یہ تھی ان کی عقیدت جو انھیں اپنے ہم عصر رفیقوں سے تھی۔ جو انھیں ان کی وفات کے بعد ان پر قلم اٹھانے سے روک نہ سکیں۔ مولوی عبدالحق کے خاکوں میں جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ ان کی تحقیقی نظر اور اسلوب بیان ہے ۔ مولوی عبدالحق کو ایسے شخص دل سے عزیز تھے جو سچائی کا پیکر ہو۔ اور ایسے شخص بھی جن سے کسی کو رنج نہ پہنچا ہو دراصل یہ سب خوبیاں خود ان کی اپنی ذات کا حصہ تھی جیسے وہ اپنے خاکوں میں تلاش کرتے تھے۔ چونکہ بنیادی طور پر مولوی عبدالحق ایک محقق اور نقاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے خاکوں میں تنقیدی بصیرت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وہ روز مرّہ کے محاورات بھی بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کے خاکوں میں مولانا حسرت موہانی، نورخاں، نام دیومالی، حالیؔ، علامّہ اقبال اور خالدہ ادیب کے خاکے دلچسپ ہیں ان خاکوں میں شخصیت کے اخلاقی پہلوئوں اور ایثار وقربائی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مولوی عبدالحق کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خود خاکے کے کینوس پر بہت کم نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود ہر تصنیف اپنے مصنف کے خیالات، جذبات واحساسات کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ بحیثیت مجموعی اگر ’’چند ہم عصر‘‘ کو دیکھا جائے تو اس میں بہترین کردار نگاری کے نمونے بھی ملتے ہیں اور ذاتی واقفیت اور سماجی پس منظر کی جھلکیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ مولوی عبدالحق صرف ’’چند ہم عصر‘‘ ہی لکھتے اور کچھ بھی نہ لکھتے تب بھی اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ عزت واحترام سے لیا جاتا۔مولوی عبدالحق کا اصل جوہر ان کے اسلوب بیان کی خوبی میں ہے۔ جس کا آغاز سرسید اور حالیؔ سے ہوتا ہے۔ مولوی عبدالحق کے اسلوب بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں عبارت آرائی اور محاورے کا بے جا استعمال نہیں ہے۔ مولوی عبدالحق کا اسلوب سلیس اور واضح ہے۔ مولوی عبدالحق کی تحریروں میں سرسید جیسی سادگی ہے۔ مولوی عبدالحق کے اسلوب کا جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو جو چیز سب نے زیادہ نظر آتی ہے وہ عربی فارسی کے الفاظ کے مقابلے میں عام بول چال کی زبان ان کے یہاں زیادہ نظر آتی ہے اور یہی ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔اسلوب ایک ایسا انداز بیان ہے۔ جس کی وجہ سے ادیب اپنے پڑھنے والوں تک رسائی حاصل کرتا ہے اور ان کے دل میں گھر بنا لیتا ہے۔ ایک ادیب میں کم سے کم اتنی صلاحیت ضرور ہونی چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ذہنوں کو مطمئن کرسکے۔ یہ خصوصیت جتنی مولوی عبدالحق کے یہاں نمایاں ہے۔ اتنی کسی اور کے یہاں نہیں ملتی۔ انھوں نے جس کسی بھی موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ چاہے مقدمات ہوں یا خطبات، تنقیدات ہوں، یاانشائیے، کسی بھی میدان میں ان کے قلم کی روانی سست نظر نہیں آئی۔
’’چند ہم عصر‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ڈگر ڈگر پر ہم مولوی عبدالحق کے ہم قدم ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ’’چند ہم عصر‘‘ میں مولوی عبدالحق نے اپنے معاصرین کے خاکے پیش کیے ہیں۔ اور معاصرین میں بعض عزیز ہستیاں بھی ہوتی ہیں اور جتنی زیادہ عزیز ہوتی ہیں ان کے بارے میں لکھنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر مولوی عبدالحق کی یہ صداقت ہے کہ جس کے بارے میں جو جو خیال ان کے ذہن میں آتے گئے وہ اس کا اظہار کرتے گئے اپنے معاصرین کے مثبت اور منفی دونوں پہلو اجاگر کرنا کچھ آسان کام نہیں ہے۔ لیکن جب وہ یہ کام انجام دے گئے تو خاکہ نگار سے زیادہ زندگی کے نقاد معلوم ہونے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کے اسلوب میں ایک وقار اور ایک رکھ رکھائو آجاتا ہے۔





