9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

محمدقاسم حیدرآباد
اردو ایک لطیف زبان ہے،اس کی شیرینی اور پیرائےاظہارکی نزاکت ہی اس کی مقبولیت کا سب سے اہم راز ہے،اردو کا لہجہ جہاںپیار ومحبت سے دھلا ہےوہیں یہ حسن وعشق کےسوزوگداز سےمذین بھی ہے،اردو کی سرشت میں مختلف تہذیبوں،فرقوں،زبانوں کی آمیزش،اختلاط اور میل جول بھی شامل ہے۔
اس کے خمیر میں اتحادویکجہتی اور رواداری کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے،تقسیم ہند کے بعداردوکوہندوستان میںوہ مقام حاصل نہیں ہوسکاجس کی وہ مستحق تھی۔اردو صرف ایک زبان کا نام نہیں بلکہ یہ ایک زندہ چلتی پھرتی تہذیب کانام ہے۔اسےبدقسمتی سےہندوستان میں قومی زبان کا درجہ نہیں دیا گیالیکن اس کےباوجودگفت وشنیداوربول چال میںآج بھی اسےقومی زبان کادرجہ حاصل ہے۔ہمیں اپنے اذہان سے یہ بات نکال دینی چاہئےکہ ہم یاہمارےبچےاردو نہیں جانتے،حقیقتاًہم سب اردو جانتےہیں،نہ صرف یہ ہماری مادری زبان ہے بلکہ ہندوستان کی ایک کـثیرآبادی آج بھی اردو بولتی اور جانتی ہے۔مگریہ بھی ہماری حرماں نصیبی ہےکہ ہم نے صرف اسےفطری طور پر بولنے کی حدتک محدود رکھا ہے۔
ملک کےسبھی علاقوںکی بول چال کی زبان بلا لحاظ مذہب ،رنگ ونسل اور ذات پات آج بھی ہندوستانی ہے،اس ہندوستانی زبان نےآج ملک کےتقریباًسبھی لوگ جو الگ الگ زبانیں بولتےہیںسب کوایک دوسرے سےجوڑرکھاہے۔تعصب،تنگ نظری یاپھرکسی وجہ سےہم جسے ہندوستانی کا نام دےرہے ہیںوہ ہندوستانی کیا ہے؟ایسے متعصب ذہنوں کو معلوم ہونا چاہئےکہ اردو دراصل اسی ہندوستانی بول چال کی معیاری شکل کانام ہے۔اردوآج بھی بول چال کی شکل میںہمارےمعاشرہ کےقریب بلکہ اس میں رچی بسی ہوئی ہے ۔یہ اردو کاحسن اور اس کی کشادہ دامنی ہے۔
زبان کو روز مرّہ کے کام کاج تک محدود رکھناہی کافی نہیں ہوتا،بول چال کے علاوہ اس کا لکھنا پڑھنابھی زبان والوں کےلئےاشدّ ضروری ہوتاہےخاص طور پر ان لوگوںکےلئےجنکی یہ مادری زبان ہوتی ہے۔یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے کہ ہم اردو بو ل توسکتےہیںلیکن اس کےلکھنے پڑھنے سےمعذور ہیںحالانکہ اردو کا لکھنااورپڑھناکوئی خاصہ مشکل کام نہیںہے۔یہ انتہائی سہل اورآسان کام ہےکیوںکہ ہم سبھی اردو زبان جانتےہیں،ہمیں زبان سیکھنانہیں ہےبلکہ صرف اردولکھنااورپڑھناسیکھنا ہے جسے داغ دہلوی نےکچھ یوں بیان کیا ہے
ع :کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے ۔
زبانیںسرکار ی سرپرستی اور تحفظ کی محتاج نہیں ہوتیں۔زبان ،کلچر اورثقافت کاتحفظ ہمارا اپنا فریضہ ہوتا ہے اپنےفرائض سےپہلو تہی کرتےہوئےحکومتوںاورسیاست دانوںسےسرپرستی اورتحفظ کی توقع کرناگویاخودزبان کاگلہ گھوٹنےکے مترادف ہے۔جب ہم خود اپنےکلچراورزبان کی حفاظت نہیںکرسکتےتوکسی اورسےاس کی توقع ایک حماقت نہیں تو کیا ہے۔اس میں کوئی دورائےنہیں کہ اردو کولسانی جبر اورتہذیبی مخاصمت کاگزشتہ سترسالوں سےسامناکرناپڑرہاہے جس کی وجہ سےایک ثقافتی اورترسیلی خلاپیدا ہوگیا ہے۔اہلِ اردواپنی زبان کےتحفظ کےلئےسیاسی اورسرکاری سرپرستی اورتحفظ پرتکیہ نہ کرتےہوئےاِس کےفروغ کے کےلئے خودکمربستہ ہوجائیں۔اہلِ اردواگر انفرادی طورپربیدار ہوجائیں توایک انقلابی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے ۔اس تبدیلی کا آغاز ہم کو اپنے گھروں سے کرنا ہوگا جب تک ہم اپنے بچوں اور گھروالوں کواردولکھنےپڑھنےکےلائق نہیں بنائیںگےتب تک اردوکےروشن مستقبل کی سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیںگی۔ہمیں انفرادی طور پراردوکےاستعمال کولازمی کرنا ہوگاجب تک ہم انفرادی طورپراردو کےاستعمال کولازم نہیں کریںگےاردوکا فروغ اورتحفظ ممکن نہیں۔اردو زبان وثقافت کےتحفظ میں فکرمندسیاست دانوں،دانشوروں،ادبا،شعرا،اور اساتذہ جو مشرقی روایات اور اردو کےفروغ اور اس کے احیا کی باتیںکرتےہیںانہیں خوداحتسابی کی ضرورت ہے۔
زبان کی اہمیت اس کےاستعمال سےقائم وبرقراررہتی ہے۔ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہو گاکہ کوئی زبان کسی زبان سے بہتر نہیں ہوتی۔ہم اردو کی تباہی کا واویلا تو مچاتے رہتے ہیں ساتھ ہی اس کی تباہی اورپسماندگی کےاسباب کابھی سراغ لگانے میں کامیاب ہو چکےہیں لیکن مقامی سطح پرپائےجانےوالےمسائل میں سے ایک کو بھی آج تک حل نہیں کرپائے،معاشرہ میں اردو کورابطے کی زبان کے طورپررواج دینے کی سخت ضرورت ہے ۔
آج اگر ملک اور ملک کے اعلیٰ وادنیٰ تعلیمی اداروں پرطائرانے نظرڈالی جائےتوبلا مبالغہ میں بڑے وثوق کےساتھ یہ بات کہوں گاکہ آج اگر ملک میں اردوو زندہ وجاوید ہے تو وہ ملک کےوسیع وعریض میں پھیلے مدارس کی دین ہے۔یقیناً دینی مدارس میں سارےامور چاہے وہ دفتری ہوں یاتعلیمی سب اردو ہی میں انجام دئےجاتےہیں برخلاف اعلیٰ عصری اداروں کےجہاں شعبۂ اردو کی د رسگاہ کےتختۂ سیاہ پر بھی انگریزی کااستعما ل ہوتا ہے۔برخلاف دین مدارس ومراکزکےجہاں ایک چھوٹی سی درخواست سےلےکرسارےتدریسی وغیرتدریسی امور اردو ہی میں انجا م دئے جاتے ہیںساتھ ہی مدارس کےاساتذہ اردوزبان میں تصنیفی وتالیفی میدان میں اپنی مثال آپ رکھتے ہیں۔
الغرض ملک میں جہاںجہاں اردوکودوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کیاگیاہےوہاں اپنےتمام دفتری اموراردوزبان میں انجام دیںاردو کےاستعمال کو کسرِشان تصور ناکریں،جہاںتک ممکن ہواظہارِمافی الضمیر کےلئےا ردوزبان کااستعمال کریں۔اسکول،دفاتر،عدالتوں، بینکوں،کچہر یوں اورد یگرسرکاری ونیم سرکاری اورخانگی دفاترمیںاردوزبان کواستعمال کریں،اپنی عرضیاںاوردرخواستیں اردوزبان میں پیش کریں۔
ہماری سعی اور خواہش یہی ہونی چاہئےکہ آنےوالی نسلوں میںاردوزبان سےلگاؤ،محبت اورالفت کوفرو غ دیں۔اسکولوں میںاردو زبان کی تدریس کومعیاری بنائیں،اپنےبچوں کو اگرچہ غیراردو میڈیم اسکولوں میںتعلیم فراہم کروارہےہوںتب بھی ایک زبان کی حیثیت سےاردوکوبہرصورت اورلازمی طورپراختیارکرائیں۔اردواگرآپ کی مادری زبان ہے تواپنی زبان کی حفاظت بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔اپنےفرائض سےپہلوتہی کرتےہوئےاغیارسےاس کےتحفظ اورفروغ کی ہرگز توقع ناکریں۔اردو مدارس واسکولس میں کام انجام دینےوالے اساتذہ اورکارکنان اپنےتمام رجسٹرس اورکوائف اردومیں تحریرکریںاپنی زبان کےاستعمال پردوسری زبان کوہرگزترجیح نادیں۔وگرنہ کہیں یہ ہماری غفلت اورلاپرواہی اردو زبان کےلئے آلہ قاتل نہ ثابت ہوجائے۔
ضضضض





