Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldشمیم نکہت کی کہانی

شمیم نکہت کی کہانی

رتن سنگھ

شمیم نکہت کو بطور کہانی کار جاننے سے پہلے ان کی زبان کی ایک دو بانگیاں دیکھ لیجئے۔
اپنی استادرضیہ آپا کے بارے میں لکھی ہیں؛
وہ محبت کی بہتی ہوئی شفاف ندی تھی۔ جو محبتوں کے اتھاہ سمندر میں مل گئیں۔رضیہ آپا کی شخصیت کو شفاف ندی لکھتے ہوئے شمیم نکہت نے ان کی شخصیت کی تمام خوبیوں کو اجاگر کردیا۔اور محبتوں کی اتھاہ گرہیں مل گئیں کی تفصیل میں جائیں تو اوراق کے اوراق کالے کر دینے پر بھی اس ساگر کی تھاہ تک نہیں پہونچ پائے گا کوئی۔اور جب سجاد ظہیر رضیہ آپا کو داغ مفارقت دے گئے تو شمیم لکھتی ہیں رضیہ آپا جو کم ہوتی گئیں۔
طالب علمی کے زمانے میں رضیہ آپا نے ایک استاد کی حیثیت سے شمیم نکہت کی زبان کی اس خوبی کو دیکھ کر کہا تھا:
شمیم تم کہانی لکھ سکتی ہو ۔تم کہانی لکھو۔
اور اپنی گوہر شناس استاد کے حکم کی تعمیل میں شمیم نکہت نے افسانہ نگاری کے میدان میں قدم رکھ دئے۔ان کی ایک کہانی ہے ’دو آدھے‘۔ اختصار میں کہوں تو پنجاب کی پرانی روایت کے مطابق ایک مشترکہ پریوار میں دو سگے بھائیوں میں سے ایک کے یہاں پہلا بچہ ہوا تو اسے سکھ بنا دیا گیا اور دوسرے بھائی کے بیٹے کو ہندو رہنے دیا گیا۔ دونوں چچا زادبھائیوں میںپیار ایسا کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر خودکو آدھا سمجھتے ہیں ۔بڑے ہونے پر چھوٹے بیٹے کو اس کی موسی شہر لے گئی اور بڑا والا گائوں میں رہا ۔دونوں ایک دوسرے کو دل کی گہرائیوں سے اب بھی چاہتے ہیں۔تبھی بڑے سکھ لڑکے کی شادی پر چھوٹے والا ہندو بھائی شادی میں شرکت کے لئے آتا ہے تو راستے میں دہشت گردی کا شکار ہوکر مارا جاتا ہے۔ایسے میں سکھ بھائی جو کچھ سوچتا ہے کہ دوسرے بھائی کے آنے پر میں پورا ہو جائوں گا۔ وہ پھر آدھا، ادھورا ہی رہ جاتاہے۔
شمیم نکہت نے ذکر نہیں کیا کہ پنجاب کے اس دور کی کہانی ہے جب پنجاب میں سکھ دہشت گرد، ہندئوں کے دشمن ہو رہے تھے۔اور جابجا انھیں قتل کرنے پر اڑے رہے تھے۔اگر وہ ایسا کرتیں تو کہانی معمولی سا واقعہ بن کر رہ جاتی۔لیکن رضیہ آپا کی شاگرد سے ایسی چوک ہوسکتی تھی۔ رضیہ آپا تو خود حمیت کی شفاف ندی تھیں۔وہی شفاف ندی شمیم نکہت کے وجود میں اتر آئی تو کہانی انسانی برادری میں پیار محبت کا پیغام بن کر ایک نہایت خوبصورت سانچے میں ڈھل گئی ۔ اب دیکھتے ہیں کہ شمیم نکہت نے یہ کمال کیسے کیا ۔پریوار مشترکہ تھا تو۔۔۔۔ساری زمین ان کی انھیں کی ملکیت تھی۔دونوں ہی اس کے سانجھی تھے۔ایسے سانجھی جیسے روح اور جسم ہو ،سمندر اور لہریں ہوں، برف اور ٹھنڈک ہوں،ان کا واقعہ ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں تھا۔کہنے کو تو شمیم نکہت دو بھائیوں کے سانجھے رشتے کی بات کرہی تھیں۔لیکن ماحول ایسا بیان کر رہی تھیں جیسے وہ قدرتی عناصر کے بیچ آپسی نزدیکیوں کی بات بتا رہی ہوں۔
روح اور جسم،سمندر اور لہریں،برف اور ٹھنڈک اگر ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا تو ایک انسان کو دوسرے انسان سے کیسے الگ کیا جاسکتا ہے۔روح اور جسم کی تو سب کے لئے بنیادی حیثیت ہے۔دونوں بھائیوں کے بچھڑنے کی بات ہی اسی لب و لہجے میں کی گئی ہے۔ اداس تو بھائی ہوئے تھے۔لیکن اس کا اثر شمیم نکہت کے الفاظ میں:۔
کھیتوں کی مینڈیں،گلیارے جو ہڑ سب نے اداسیوں کی دھول اوڑھ لی تھی۔اور جب گلیاروں نے اداسیاں اوڑھ لیں تو۔
سکھبیرکے خشک ہونٹوں پر پیاس کی جھاڑیاں اگ آئی تھیں،زندگی کے لق و دوق صحرا میں بالکل تنہا کھڑاتھا۔اور خود کو ایسی جگہ پاتا ہے۔جہاں ہزاروں سوچوں کے سمندر پہاڑ بن جاتے ہیں۔ ذہن سے تَلووں کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔شمیم نکہت جب زمین سے تلئوں کا رشتہ ٹوٹنے کا جملہ لکھ رہی تھیںتو ان کے لاشعور میں زندگی کے شروع سے لے کر آج تک انسان نے ہجرت کے جو زخم کھائے ہیں ان سب کا درد،ان کے قلم میں اتر آیا ہوگا۔تبھی تو انھوں نے لکھاآنو سیتے کے اندر پلٹ جاتے ہیں اور لاوا کھولنے لگتا ہے۔اس منزل پر پہونچ کر شمیم نکہت شعوری طور پر صاف صاف الفاظ میں کہانی کے مرکزی خیال کو قاری تک پہونچانے کے لئے لکھتی ہیں۔کاش اس عظیم انسان نے سوجھ بوجھ اور ایکتا کاسبق ننھی سی چیونٹی سے سیکھا ہوتا کہ ان کی نگاہیں قدم قدم پر تجربوں کا سبق ایک دوسرے کے کانوں میں پھونکتی آگے بڑھتی ہیں۔شہر میں جانے والا بھائی بھی یہی محسوس کرتا ہے کہ شہر میں اب تک کسی انسان سے نہیں مل سکا ہوں ۔ملے بھی کیسے سب نے طرح طرح کے مکھوٹے لگا رکھے ہیں۔یعنی انسان نے چیونٹی سے ایکتا کا سبق بھی سیکھا۔یہ نہیں کہہ سکتا روح اور جسم سمندر ،اور لہر، برف اور ٹھنڈک، کو اگر ایک ذریعہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا تو انسان دوسرے انسان سے الگ ہوکر اپنی زندگی میں دکھوں کو ہی دعوت دیتا ہے۔ایسے انسان کی زندگی محبتوں کا سمندر جب نفرتوں کے سمندر میں بدلتا ہے تو پھر انسان دوسرے انسان کو غلام بنا کر کبھی بازار میں بیچتا ہے اور اس پر دکھوں کا ایسا بھاری بوجھ لاد دیتا ہے کہ اس کے نیچے دب کر آخری ساری انسانی برادری کچل کر رہ جاتی ہے۔
اسی لیے ایک بھائی کے قتل ہوجانے پر دوسرا بھائی محسوس کرتا ہے کہ وہ آدھا اور ادھوراہی رہ گیا۔ یہاں تک کہ میرے بڑے بھائی کے سر پر اپنی پگڑی رکھ کر بھی وہ خود کو پورا نہیں کر پاتا ۔اس کہانی سے ہٹ ایک بات آپ کو بتائوں کہ شمیم نکہت اور شارب ردولوی کو زندگی کا ساتھی بن جانے پر جب دونوں کو پہلے پہل ایک ساتھ دیکھا تو میرے ذہن میں اس حسین جوڑے کا تصور بھر آیا تھا جس کا ذکر میری دادی ایک پری کی کہانی میں کیا کرتی تھیں ۔پری اور اس کے دولہا کے چہرے ستاروں کی طرح دمک رہے تھے۔شمیم نکہت اور شارب ردولوی دونوں اس اعتبار سے بھی خوش قسمت کہ ایک ذوق ایک مہاذوق ۔دونوں ایک دوسرے کے لئے مشعل راہ۔
ایسے میں شمیم نکہت ایسی کہانی لکھتی ہیں کہ گھر میں موجود تنقید بھی ان کے لئے کار آمد ثابت ہوتی ہے ۔اسی لئے پاکستان کے اہم نقاد محمد علی صدیقی لکھتے ہیں کہ:
’’یہ کہانیاں ریزہ ریزہ ہوتے دکھائی دینے والے کرداروں میں زندگی کے اُن حیات بخش آدرشوں کا پتہ دیتی ہیں جو کمال ایمانداری کے ساتھ مطالعہ و مشاہدہ کو انسان دوستی کے لازم و ملزوم خیال کرتے ہیں۔‘‘
اس مضمون کے اختتام تک پہونچتے پہونچتے میں محسوس کر رہا ہوں کہ مذہبی مصروفیات زندگی کی تگ وود اور ریٹائر منٹ کے بعد بھی بیماری کی وجہ سے شمیم نکہت کے اندر کا کہانی کار جسے کبھی رضیہ آپا نے جگایا تھا،وہ اگر سویا نہیں تو پس پشت ضرور چلا گیا ہے۔یہ بھی جانتا ہوںکہ شمیم نکہت نے ان تمام حالات کا مقابلہ نہایت جواں عورتی سے کیا ہے اور پھر یہ کہ شارب ردولوی جیسے ناقد کا تو انھیں ساتھ حاصل ہے۔جنھوں نے ایک نسل کو متاثر کیا ہے۔
ایسے میں ہم امید کرتے ہیں کہ وہ رضیہ آپا سے کئے گئے وعدے کو نبھائیں گی اور عمر کے اس آخری دور میں زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اور افسانے لکھ کر اردو کو امر بنائیں گی۔اس سے ان کی صحت بھی رہے گی اور عمر بھی بڑھے گی۔میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular