HomeMuslim Worldتفہیم افسانہ کا نیا دریچہ

تفہیم افسانہ کا نیا دریچہ

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

حقانی القاسمی

والٹر فیشر (Walter Fisher) نے انسان کو بیانیہ وجود قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ہر انسان فطری طور پر کہانی کار ہوتا ہے کہ کہانی ہی ترسیل کا سب سے بہتر، موثر اور معنی خیز ذریعہ ہے اور یہ منطقی استدلال سے بھی زیادہ پرقوت ہے کہ انسان اپنے اقدار اور اعتقادات کو کہانی کے ذریعے بہتر طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ والٹر فیشر نے سب سے زیادہ زور بیانیہ پیراڈائم (Narrative Paradigm) پر دیا ہے۔
کہانی آغاز سے لے کر ارتقا تک اسی بیانیہ وجود کے تمام حرکات و سکنات، اعمال و افعال کے اردگرد گھومتی ہے کہ بنیادی طور پر کائنات کی سب سے پراسرار کہانی خود انسان کی ذات ہے اور اسی ذات کی پیچیدگیاں مختلف کہانیوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں اور ایک معبر، شارح یا نقاد انہی اسرار اور پیچیدگیوں کی تفہیم و تعبیر کرتا ہے۔ کہانی کار مختلف مسائل کے حوالے سے کہانیاں تحریر کرتا ہے۔ ان کہانیوں میں علامت، تجرید، استعارے، تمثیل اور دیگر ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض کہانیاں سیدھی سادھی ہوتی ہیں اور بعض نہایت پیچیدہ، مبہم۔ بعض تحریکات نے تو کہانیوں کو معمہ اور چیستاں بھی بنا دیا ہے۔ اس طور پر دیکھا جائے تو کہانیوں کی تفہیم و تعبیر کم دشوار نہیں ہے۔ یہ بھی ایک طرح سے باز تخلیق ہے اور اس میں ذہنی ریاضت کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے تو کثرت سے لکھے جارہے ہیں مگر اس تناسب سے افسانے کی تنقید بہت کم ہے۔ خاص طور پر وہ تنقید جس میں تخلیق کے باطن تک رسائی کی پوری کیفیت نمایاں ہو اور جس سے فن پارے کی پوری معنویت منکشف ہوجائے اور مفاہیم کی تمام تہیں روشن ہوجائیں۔ عام طور پر افسانے کے ناقدین افسانے کی سادہ قرأت کرتے ہیں اور خارجی سطحوں کا ادراک کرکے تشریح اور خلاصے تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں جبکہ افسانے کے متن میں بہت سے تہہ نشین معانی اور مضمرات ہوتے ہیں جن تک ناقد کی رسائی نہیں ہوپاتی اور افسانے کے جوہر کھل کر سامنے نہیں آپاتے۔ افسانے کی تنقید کا المیہ یہی ہے کہ زیادہ تر لوگ موضوع میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں اور افسانے کی تفہیم کے دیگر عناصر خاص طور پر فنی اور تکنیکی وسائل سے گریز کرتے ہیں اور ان کے ہاں موضوع کی سطح پر بھی ایک طرح کی محدودیت ہوتی ہے۔
اقبال واجد کا امتیاز اور اختصاص یہ ہے کہ وہ ہر افسانے کے باطنی ارتعاش کو محسوس کرتے ہیں اور افسانوی متون کے باطن میں داخل ہوکر معانی اور مفاہیم کا استخراج کرتے ہیں۔ انھوں نے افسانے کی تفہیم میں روایتی یا رسمی طریق کار اختیار نہیں کیا ہے اور نہ ہی عمومی بیانات پر ان کا انحصار ہے۔ بلکہ ان تنقیدی وسائل کا استعمال کیا ہے جن سے کہانی کی تمام تہیں سامنے آجائیں۔ اس کے فنی اور موضوعی مضمرات بھی واضح ہوجائیں۔ وہ کسی بھی کہانی سے سرسری نہیں گزرتے بلکہ اس کے باطن میں موجزن جذبات، احساسات کو جذب کرکے تفہیم و تعبیر کا ایک نیا زاویہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کا مطالعہ سماجیات، نفسیات اور دیگر علوم تک وسیع ہے اسی لیے وہ افسانے کی تفہیم میں ان علوم کی بھی مدد لیتے ہیں۔ ان کی تنقید محض خلاصے یا تشریح تک محدود نہیں رہتی بلکہ افسانے کی سنجیدہ قرأت کے بعد افسانوں کے امتیازات، اختصاصات کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے جمالیاتی اوصاف اور فنی خصائص کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے کی تنقید کے ضمن میں ان کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
’بہار میں اردو افسانہ‘ ان کی تجزیاتی اور تفہیمی قوت اور عالمانہ اور استدلالی تجزیہ کا بہترین آئینہ ہے۔ اس میں بہار میں ستر (70) کے بعد کی نسل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جن افسانہ نگاروں کا انھوں نے انتخاب کیا ہے ان میں بیشتر و ہ افراد ہیں جنھوں نے افسانے کے میدان میں اپنی الگ پہچان اور شناخت بھی قائم کی ہے۔ غیاث احمد گدی، کلام حیدری، شوکت حیات، عبدالصمد، حسین الحق، شفق، شموئل احمد، ذکیہ مشہدی، قمر جہاں، مشتاق احمد نوری، مشرف عالم ذوقی، عشرت ظہیر، سید احمد قادری، خورشید حیات، اقبال حسن آزاد، احمد صغیر، ابرار مجیب، صغیر رحمانی، قاسم خورشید— یہ وہ افسانہ نگار ہیں جو بہار کے افسانوی افق پر ہی نہیں بلکہ اردو افسانے کے افق پر درخشاں ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنھوں نے یقینی طور پر کہانی کو موضوعی اور اسلوبی اعتبار سے ایک نئی جہت اور نیا زاویہ بھی دیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کے افسانوں میں جو موضوعاتی اور فنی تنوع ہے اس کی داد ہر شخص نے دی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ تمام نام افسانوی ادب میں بہت احترام اور اعتبار کے حامل ہیں۔
اقبال واجد نے ان تمام افسانہ نگاروں کے فنی اور فکری کمالات پر بہت ہی خوبصورت اور منطقی انداز میں روشنی ڈالی ہے اور ان کے فن پاروں کے امتیازی نشانات کو واضح کیا ہے۔ غیاث احمد گدی کی تخلیقی جمالیاتی فعلیت کے حوالے سے انھوں نے بڑی اہم گفتگو کی ہے۔ گدی کے مشہور افسانہ ’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘ کو انھوں نے تخلیقی جمالیاتی استشاروں (Creative asthetic cross referencess)کی بنیاد پر لکھی گئی ایک شاہکار کہانی قرار دیا ہے اور اس کے تعلق سے یہ لکھا ہے کہ جمالیاتی استشاروں کا استعمال قرۃ العین حیدر اور غیاث احمد گدی کے علاوہ خال خال ہی نظر آتا ہے۔ انھوں نے غیاث احمد گدی کے افسانوں میں ان نفسیاتی عناصر کی بھی جستجو کی ہے جن کی تفہیم صرف نفسیات کے طلبا ہی کرسکتے ہیں۔ انھو ںنے اس ذیل میں کئی افسانوں کی مثالیں بھی دی ہیں جن میں ڈوب جانے والا سورج، ایک خوں آشام صبح قابل ذکر ہیں۔ موخرالذکر افسانے کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ غیاث احمد گدی نے اس افسانے میں Psychopathalogy کے المیہ کو پیش کیا ہے۔ اس افسانے میں ان کے تمام کردار neurosis اور psychosis کے شکار نظر آتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’گدی ؔ کی جمالیاتی فعلیت ایک شعبے کو محیط نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کی جملہ سمتوں اور علاقوں کی ترجمان ہے۔ خصوصا انسانی نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ گدیؔ کے تمام افسانے need, drive اور motivation کے گرد گھومتے ہیں۔اس کے علاوہ behaviour کے dynamics پر گدیؔ کی بڑی گہری نگاہ ہے۔ گدیؔ نے جدید معاشرے کے mood disorder کا گہرا مطالعہ پیش کیا ہے۔ ‘‘
کلام حیدری کے افسانوں میں انھوں نے ایک ’کہکشانی آرزو‘ کی جستجو کی ہے۔ یہ وہ جہت ہے جس کی طرف کم لوگوں نے اشارے کیے ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ کلام حیدری کی کہانیاں dialogue fiction کے دائرے میںا ٓئیں گی کہ مکالمہ ان کے افسانوی پلاٹ کا جزوِ لاینفک ہے۔ انھوں نے کلام حیدری کے بیشتر افسانوں کا منطقی، معروضی اور عالمانہ تجزیہ بھی کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ کلام حیدری نے اردو میں خاص طرز کی افسانہ نگاری کی بنیاد ڈالی ہے۔
شوکت حیات کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے ان کے تخلیقی التہاب پر خاص طور پر روشنی ڈالی ہے اور اس حوالے سے ان کے بیشتر افسانوں کا تجزیہ کیا ہے۔ انھوں نے ایک بڑی اہم بات یہ لکھی ہے کہ ’’نئی تاریخیت کی جھلک شوکت حیات کے افسانوں میں ملتی ہے اور وہ اپنے مخصوص ارادوں اور تحفظات کے ساتھ بین المتونیت (Inter-texuality) کو اپنے اندر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘ یہ بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ شوکت حیات کے افسانوں میں اظہار و بیان کے درمیان self repective رویہ ہے جو بغیر کسی استثنا کے ان کے تمام افسانے میں موجود ہے۔
عبدالصمد کے افسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے اقبال واجد نے ان کی کہانیوں کے معاشی، نفسیاتی اور دیگر مسائل کے حوالے سے بہت اچھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے افسانے فرد اور سماج کا مکالمہ ہیں۔
حسین الحق جیسے اہم افسانہ نگار پر لکھتے ہوئے انھوں نے مکثوف تخلیقی جستجو کا ایک عنصر دریافت کیا ہے اور اسی زاویے سے ان کی کہانیوں کے مختلف ابعاد پر روشنی ڈالی ہے۔ حسین الحق کے افسانوں میں جدیدیت، خوداظہاریت پر بھی گفتگو کی ہے۔
شفق پر بھی انھوں نے نئے زاویے سے لکھا ہے اور ان کے مختلف افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شفق نے اپنے افسانوں کے ذریعے ایک ایسے انسانی پیکر کی تشکیل کی ہے جو خود محبت اور امن کا سودائی بھی ہے، نفرت اور ظلمت کا امین بھی۔ وہ بیک وقت ایک معلم بھی ہے اور مفسد بھی۔
شموئل احمد پر انھوں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کی کہانیوں کا جائزہ لیا ہے کہ شموئل احمد کی بیشتر کہانیوں میں جنسی تلازمات کی بھرمار ہے۔ لیکن انھوں نے ان میں بھی انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کی جستجو کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شموئل احمد کے افسانوں نے ایسی تمام تشکیلات کو قبول کیا ہے جو افسانہ نگاری کے منہج کے لیے کارآمد ہوں اور افسانے کو نئی منزل کی طرف لے چلتے ہوں۔
ان کے شاہکار افسانہ ’سنگھاردان‘ کے بارے میں اقبال واجد کی رائے یہ ہے کہ ’’فلک جب برسوں بھرتا ہے تب ایسے شاہکار افسانے تخلیق ہوتے ہیں اگر شموئل احمد ’سنگھار دان‘ کے علاوہ کچھ نہ بھی لکھتے تب بھی وہ اس لائق تھے کہ انھیں یاد رکھا جاتا۔‘‘ اور حقیقت یہی ہے کہ سنگھاردان شموئل احمد کی اعلیٰ تخلیقیت اور فنی تہہ داری کا خوب صورت نمونہ ہے۔ انھوں نے شموئل احمد کے افسانوں میں علم رمل کی اصطلاحات کا بھی سراغ لگایا ہے۔ خاص طور پر القمبوس کی گردن اور نملوس کا گناہ میں اصطلاحات، نجومیات کا بہت فن کارانہ استعمال کیا ہے۔
ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا سماجی جدلیاتی نظام کے تناظر میں جائزہ بھی لیا ہے اور فنی اعتبار سے افعی، قصہ رمن جانکی پانڈے، قشقہ وغیرہ کو کامیاب افسانہ قرار دیا ہے۔ ذکیہ مشہدی کے افسانوں کے تجزیے میں ان کی بعض باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ ان کے افسانوں کی تفہیم میں اقبال واجد کا زاویہ نظر قدرے دھندلا سا گیا ہے۔
قمر جہاں کے افسانوں کے تعلق سے ان کا یہ خیال بہت اہم اشارہ ہے کہ ’’قمر جہاں کے افسانے alertness کی پیداوار ہیں اور ہمیں زندگی کے مسائل میں الرٹ رہنا سکھاتے ہیں۔‘‘ اقبال واجد نے ان کے افسانوں میں تانیثی نفسیات کی اہم صفات کی بھی نشان دہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’تانیثی نفسیات نے ہی ان کے افسانوں میں alertness کی فضا قائم کی ہے۔‘‘ ان کی ایک کہانی’ فریج کی عورت‘ کے حوالے سے ان کا خیال ہے کہ ’’قمر جہاں قابل مبارکبا دہیں کہ ایک عورت ہوتے ہوئے بھی انھوں نے تعدد ازدواج کی وکالت کی ہے اور اسے معاشرے میں اعتدال قائم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ ‘‘
مشتاق احمد نوری کی افسانوی کائنات کی سیاحت کرتے ہوئے اقبال واجد نے ان کے جہری لہجے کو ان کا امتیاز اور انفراد قرار دیا ہے اور اسی حوالے سے ان کے افسانوں کے تجزیے کیے ہیں۔ خاص طور پر ’وردان‘ کا بہت عمدہ تجزیہ کیا ہے کہ اس میں غیرمتوقع زاویہ کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کی رائے میں ’وردان‘ کا شمار منٹو کے کسی بھی افسانے کے ساتھ کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ وردان اگر منٹو کا افسانہ ہوتا تو پوری اردو دنیا اس طرف متوجہ ہوتی۔
مشرف عالم ذوقی کے افسانوں کا جائزہ انھوں نے ان کے افسانوی مجموعے ’ایک انجانے خوف کی ریہرسل‘ کی روشنی میں لیا ہے۔ اس مجموعے میں شامل ان کے تمام افسانوں کا انھوں نے نہ صرف تجزیہ کیا ہے بلکہ ذوقی کے انفراد و امتیاز کی نشاندہی بھی کی ہے۔
عشرت ظہیر پر لکھتے ہوئے ان کے فکری اور فنی تنوعات پر روشنی ڈالی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ’’ان کے افسانوں میں ایک مخصوص معنوی پرت ہے جو تمام افسانوں پر سایہ کیے ہوئے ہے اور دوسری خوبی ان کی یہ ہے کہ ان کے تمام افسانوں پر ایک نگراں بصارت کی کارفرمائی ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’عشرت ظہیر کے افسانوں میں علامت اور تجرید کی فضا ہے اور ان کے افسانے خالص بیانیہ تکنیک کے افسانے نہیں ہیں۔‘‘
سید احمد قادری کے افسانوں کا بھی انھوں نے مکمل اور مجموعی جائزہ پیش کیا ہے اور ان کے افسانوں کی خصوصیات کی نشاندہی کرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے افسانوں کا دائرہ اخلاق و محبت ہے اور وہ اخلاق و محبت کے امین کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
خورشید حیات کے افسانوں خاص طور پر پہاڑ ندی عورت، آدم خور، سورج ابھی تک جاگ رہا ہے، پانچ اگلیاں کا انھوں نے عمدہ تجزیہ کیا ہے اور ایک اہم نکتہ یہ اخذ کیا ہے کہ خورشید حیات کے افسانوں میں اظہار واستتار دونوں نظر آتے ہیں اور یہ بھی کہ خورشید حیات نے ایسے استعاروں کو تلاش کیا ہے جو 80ء کی دہائی کے بعد افسانوی ادب کے منظرنامے پر موجود نہیں ہیں۔ ان کے افسانوں میں علامت و تجرید کا وہ عمل جو تخلیقی سطح پر اپنی شناخت کھوچکا ہے جگہ جگہ موجود ہے۔
اقبال حسن آزاد کے تعلق سے ان کا خیال ہے کہ وہ اس ہنر سے واقف ہیں جو افسانے کو افسانہ بناتے ہیں۔ افسانوی تخلیق کی ہنرمندی ان کا وہ تخلیقی اعجاز ہے جو ان کے افسانوں میں چھایا ہوا ہے۔ اقبال حسن آزاد کے افسانوں، سوختہ ساماں، گملے میں اگتی ہوئی زندگی، دھند میں لپٹی ہوئی صبح جیسے افسانوں پر عمدہ گفتگو کی ہے۔ ان کی اس رائے سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ان کی افسانوی تخلیق کا مقصد سماج کی ازسر نو تعمیر ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو اقبال حسن آزاد کی کہانیاں افادیت اور مقصدیت کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔
احمد صغیر کے افسانوں کا جائزہ انھوں نے دلت ڈسکورس کے حوالے سے لیا ہے کہ ان کے افسانوں میں دلتوں کے مسائل کو بہت ہی فنکاری کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے ’تعفن‘ کو دلت ڈسکورس پر لکھا گیا ایک کامیاب افسانہ قرار دیا ہے۔
ابرار مجیب کے افسانوی مجموعے ’رات کے منظرنامے‘ میں شامل افسانوں کا انھوں نے ایک نئے انداز سے جائزہ لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ابرار مجیب ایک کامیاب افسانہ نگار اس لیے ہیں کہ انھوں نے ہمارے دیکھے ہوئے مناظر ہمیں نہیں دکھائے بلکہ وہ کچھ دکھایا ہے جسے ہم نے نہیں دیکھا تھا۔ ان کے افسانوں میں سب سے اہم عنصر تحیر ہے اور تقریباً بیشتر افسانوں میں یہی تحیر کا عنصر ہے جو ان کے افسانوں کو ایک امتیاز عطا کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بہت اہم بات لکھی ہے کہ ان کے افسانوں میں لامتناہی اندھیرے کا ذکر ملتا ہے۔ اس تعلق سے یہ اشارہ بھی اہم ہے کہ ابرار مجیب کے افسانوں کو psycho-linguistic analysis کے زاویے سے دیکھا جائے تو بارش کا لفظ ان کے یہاں بہ کثرت استعمال ہوا ہے اور اس کی وجہ وہی تحیر ہے۔ موضوعی اعتبار سے انھوں نے ابرار مجیب کے جس امتیاز اور انفراد کی نشان دہی کی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی کہانیوں میں کائنات کے لامتنا ہی اسرار ہیں جو ان کے وجود میں بسے ہوئے ہیں۔
صغیر رحمانی کے یہاں انھوں نے وسیع تر تخلیقیت کے اسرار کے ساتھ ساتھ اس استعاراتی اظہار کو بھی تلاش کیا ہے جو رشید امجد کا وصف خاص ہے۔ ان کے کئی افسانوں کا انھوں نے تجزیہ بھی کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اپنے دلت ڈسکورس کی وجہ سے خاصے معروف ہیں اور ان کا نقطہ امتیاز یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں کچھ ایسی رمزیت بھی ملتی ہے جو ان کے ہمعصر افسانہ نگاروں میں کہیں نہیں ملتی۔
قاسم خورشید کے افسانوں کابھی انھوں نے بھرپور جائزہ لیا ہے اور دلت ڈسکورس کے حوالے سے ان کے افسانہ ’پوسٹر‘ پر روشنی ڈالی ہے اور ان کی تخلیقی ہنرمندی کو سراہتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ ’’ان کے افسانے جہری رویے کے حامل ہیں اور ان کا جہری رویہ ان کے افسانوں کی سرزمین میں ہر جگہ نمایاں ہے۔ ان کے یہاں ایک نفسیاتی ارتقا ہے اور وہ سارے موضوعات ہیں جو آج کے عہد کا ایک ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔‘‘
اقبال واجد کی تنقید میں اعتدال، ضبط اور توازن بھی ہے۔ وہ افسانوی تشکیل کے لوازم سے بھی آگاہ ہیں اور لسانی تشکیلات سے بھی۔ انھوں نے جہاں فن پاروں کی خوبیوں کی نشاندہی کی ہے وہیں خامیوں کو بھی نشان زد کیا ہے۔مشتاق احمد نوری کی کہانی ’ہوالظاہر ہوالباطن‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ ایک سادہ سا بیانیہ ہے۔ اس کو افسانہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ ایک نقل واقعہ جیسی چیز ہے جس کی پیشکش میں کسی طرح کی تخلیقیت درکار نہیں ہے۔ ایک طرح کی رواں بیاں آفرینی ہے۔ کلام حیدری کے افسانہ ’روشنی کی ضمانت‘ کے بارے میں اقبال واجد کی رائے یہ ہے کہ ’’اس کے معرکۃ الآرا افسانہ نہ ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ ان میں ایک وجہ خود اس کا عنوان ہے۔ عنوان کچھ موضوعی ہوگیا ہے۔ دوسرے افسانے میں جو کچھ پیش ہوا ہے وہ اتنی توجہ اور دل چسپی سے پیش نہیںہوا ہے جس توجہ اور دل چسپی کا تقاضا خود یہ افسانہ کررہاتھا۔‘‘
عبدالصمد کی ایک کہانی ’ہونی انہونی‘ کے بارے میں انھو ںنے یہ تحریر کیا ہے کہ ’’یہ بڑا یا پرفیکٹ افسانہ نہیں بن سکا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موضوع کو سنبھال نہیں سکے۔ اس افسانے میں موضوع کے ساتھ افسانہ نگار کا involment نظر نہیں آتا۔‘‘ اسی طرح دوسرے افسانہ نگاروں کے بارے میں کچھ اہم اشارے کیے ہیں۔ اقبال واجد کے یہ تنقیدی تجزیے متن مرتکز ہیں۔ انھوں نے موضوعات کی صرف تلخیص نہیں پیش کی ہے بلکہ متن سے براہِ راست رشتہ قائم کرکے نتائج کا استخراج کیا ہے۔انھوں نے تنقید کے بنیادی وظیفے سے کہیں انحراف نہیں کیا ہے۔ جو تنقید کے لوازمات ہیں ان کا بھرپور خیال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تجزیاتی طریق کار ان معاصر فکشن نقادوں سے الگ ہے جو صرف چند چیزوں سے ہی سروکار رکھتے ہیں اور ان کا مطالعہ صرف کرداروں کی تفصیل یا دیگر حوالوں تک محدود رہتا ہے۔ قاضی افضال حسین نے معاصر فکشن تنقید کے حوالے سے بہت اہم بات لکھی ہے کہ ’’اچھا افسانہ اس تنقید نگار کا منتظر ہے جو افسانوی تشکیل کے رمز سے واقف ہو، جو متن کی بافت کے تشکیلی عناصر کی معنویت کو اخباری صداقتوں سے متمائز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور افسانہ نگار بحیثیت معاشرتی فرد اور بحیثیت راوی کے فرق سے پیدا ہونے والے مسائل سے واقف ہو۔‘‘ اس بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو اقبال واجد کی شکل میں اردو افسانے کو یقینا وہ تنقید نگار مل گیا ہے جو ان تمام اوصاف سے متصف اور معمو رہے۔
اقبال واجد نے کسی تحریک، رجحان یا اِزم کی اسیری قبول کرنے کے بجائے اپنی مطالعاتی قوت اور وسعت کی بنیاد پر افسانوں کے تجزیے کیے ہیں اور اس میں مختلف تنقیدی حربوں کا استعمال کیا ہے۔ اس لیے ان کی افسانہ تنقید اوروں سے بہت الگ ہے۔ ان کے یہاں متن سے مکالمے، مخاطبے اور معانقے کی جوکیفیت ہے وہ بہت کم لوگوں کے یہاں ملتی ہے۔ انھوں نے ناقدین کے تاثرات یا آرا سے استفادے کے بجائے تفہیم کی بنیاد خود اپنے تنقیدی شعور اور تجزیاتی قوت پر رکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ افسانوں کی تفہیم میں ان کے طریق کار سے اختلاف کیا جائے لیکن اِس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ انھوں نے افسانے کے تمام ممکنہ زاویوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اور یہ زاویے مختلف شکلوں کو محیط ہیں جس میں موضوع، مواد، اسلوب وغیرہ شامل ہیں۔ یعنی تنقید اور تجزیے کے لیے جن عناصر کی ضرورت ہے ان تمام عناصر کو بروئے کار لاکر انھوں نے تجزیے کیے ہیں۔ انھوں نے تھیوری یا ڈسکورس پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے لیکن بیانیہ کے بیشتر عناصر پر ان کی توجہ مرکوز رہی ہے۔ اس لحاظ سے ان کا تجزیاتی انداز معروضی بھی ہے اور منطقی بھی۔
اقبال واجد نے اس کتاب میں افسانے کی تنقید کو بہارکے افسانہ نگاروں پر مرکوز رکھا ہے لیکن اس سے قبل انھوں نے سعودی عرب میں مقیم افسانہ نگاروں پر ’جہات‘ (2001) میں تنقیدی مضامین لکھے ہیں جن سے ان کے اعلیٰ تنقیدی شعو راور علمی بصیرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے فہم و ادراک کا دائرہ وسیع ہے اور مختلف ادبیات کے مطالعے نے بھی ان کے ذہن کو وسعت بخشی ہے اور ان کی تحریروں میں بھی اس کا عکس نظر آتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جب بھی افسانہ / فکشن تنقیدکے حوالے سے گفتگو ہوتی ہے تو اقبال واجد کا نام کسی کونے کھدرے میں بھی نظر نہیںا ٓتا۔ جبکہ وہ آج کے بہت سے نام نہاد فکشن ناقدین سے بہت آگے ہیں۔ انھوں نے افسانے کی تنقید اور تفہیم کے نئے دَر وا کیے ہیں اور نیا دریچہ کھولا ہے اور اپنے معاصر نقادوں سے الگ غیرنصابی اسلوب اور انداز بھی اختیار کیا ہے۔
¨¨¨
Mob: 9891726444
Email: haqqanialqasmi@gmail.com

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular