
پروفیسر عذرا عابدی
خاندان اور برادری انسانی معاشرے کی بنیادی اکائیاں ہیں جن کے ذریعے نہ صرف سماجی ڈھانچہ قائم رہتا ہے بلکہ اقدار، روایات اور شناخت بھی نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ ان دونوں اکائیوں میں خواتین کا کردار محض ایک شریکِ حیات یا نگہداشت کرنے والی ہستی تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک فعال، مؤثر اور اکثر اوقات فیصلہ کن قوت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ خواتین کا اثر و رسوخ بیک وقت ظاہر (visible) اور پوشیدہ (latent) دونوں سطحوں پر کارفرما ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف خاندان کے اندرونی نظم کو متاثر کرتی ہیں بلکہ وسیع تر برادری کے سماجی، ثقافتی اور حتیٰ کہ معاشی و سیاسی رویّوں کو بھی شکل دیتی ہیں۔
سماجیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خاندان کو ایک بنیادی ادارہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سماجی کاری (socialization) کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس عمل میں خواتین، خصوصاً مائیں، مرکزی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ وہ بچوں کی ابتدائی تربیت، اخلاقی تشکیل اور جذباتی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ بچے جو اقدار، رویّے اور سماجی اصول اپنے ابتدائی سالوں میں سیکھتے ہیں، وہ زیادہ تر خواتین کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ اس طرح خواتین نہ صرف خاندان کے اندر ایک تربیتی قوت ہوتی ہیں بلکہ وہ مستقبل کے شہریوں کی تشکیل کے ذریعے پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں خواتین کو ایک ایسی سماجی قوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر نجی دائرے میں رہتے ہوئے بھی عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
خاندان کے اندر خواتین کا اثر و رسوخ صرف تربیت تک محدود نہیں بلکہ وہ گھریلو معیشت، وسائل کی تقسیم اور روزمرہ کے فیصلوں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کئی معاشروں میں اگرچہ رسمی طور پر مرد کو سربراہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر گھریلو فیصلوں میں خواتین کی رائے نہایت اہم ہوتی ہے۔ وہ بچوں کی تعلیم، صحت، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے حوالے سے فیصلے کرتی ہیں، جو نہ صرف خاندان کی فلاح و بہبود کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سماجی ترقی کے اشاریوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس طرح خواتین کا کردار معاشی اور سماجی دونوں حوالوں سے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
برادری کی سطح پر خواتین کا اثر و رسوخ مزید وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ خواتین مختلف سماجی نیٹ ورکس، رشتہ داریوں اور غیر رسمی گروہوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، جو معلومات کے تبادلے، مدد باہمی اور اجتماعی عمل کو فروغ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، محلے یا گاؤں کی سطح پر خواتین کا آپس میں میل جول نہ صرف سماجی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے بلکہ یہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی مسائل کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح خواتین ایک غیر رسمی مگر مؤثر سماجی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں جو برادری کی سطح پر تبدیلی اور ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔
ثقافتی تناظر میں خواتین کو روایت اور اقدار کی محافظ سمجھا جاتا ہے۔ وہ زبان، رسم و رواج، مذہبی روایات اور تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے اور منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم، یہ کردار محض روایت کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ خواتین ان روایات کی تشکیلِ نو (reinterpretation) بھی کرتی ہیں۔ بدلتے ہوئے سماجی حالات میں خواتین اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات کی بنیاد پر روایات کو نئے معنی دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ثقافت ایک متحرک اور ارتقائی عمل بن جاتی ہے۔ اس لحاظ سے خواتین نہ صرف ثقافتی تسلسل کو برقرار رکھتی ہیں بلکہ اس میں تبدیلی اور جدت بھی پیدا کرتی ہیں۔
تعلیم خواتین کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون نہ صرف اپنے بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے بلکہ وہ اپنے خاندان اور برادری میں بھی مثبت تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تعلیم خواتین کو شعور، خود اعتمادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ روایتی حدود کو چیلنج کرنے اور نئے امکانات پیدا کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ اسی لیے مختلف مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جہاں خواتین کی تعلیم کی شرح زیادہ ہوتی ہے وہاں صحت، تعلیم اور معاشی ترقی کے اشاریے بھی بہتر ہوتے ہیں۔
معاشی میدان میں خواتین کی شرکت بھی ان کے اثر و رسوخ کو بڑھاتی ہے۔ جب خواتین روزگار یا کاروبار کے ذریعے آمدنی حاصل کرتی ہیں تو وہ نہ صرف خاندان کی معیشت کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ ان کی سماجی حیثیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ گھریلو اور برادری کے فیصلوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی خواتین غیر رسمی شعبوں میں کام کرتی ہیں جہاں ان کی محنت کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، جس کے باعث ان کے اثر و رسوخ کی حدیں محدود رہتی ہیں۔
تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خواتین کے اثر و رسوخ کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ان رکاوٹوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو ان کے کردار کو محدود کرتی ہیں۔ پدر شاہی نظام، صنفی عدم مساوات، تعلیم اور وسائل تک محدود رسائی، اور ثقافتی پابندیاں وہ عوامل ہیں جو خواتین کے اثر و رسوخ کو کمزور کرتے ہیں۔ کئی معاشروں میں خواتین کی آواز کو کم اہمیت دی جاتی ہے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود خواتین مختلف حکمت عملیوں کے ذریعے اپنے اثر کو برقرار رکھتی ہیں، جیسے غیر رسمی نیٹ ورکس کا استعمال، جذباتی و اخلاقی اثر، اور روزمرہ کے تعاملات کے ذریعے تبدیلی لانا۔
معاصر دور میں خواتین کا کردار مزید پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہو چکا ہے۔ وہ نہ صرف خاندان اور برادری کے اندر بلکہ وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں بھی فعال ہیں۔ میڈیا، تعلیم اور ٹیکنالوجی نے خواتین کو نئے مواقع فراہم کیے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی آواز کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں خواتین کا اثر و رسوخ نہ صرف مقامی سطح تک محدود رہا ہے بلکہ وہ قومی اور عالمی سطح پر بھی نمایاں ہو رہا ہے۔
ہندوستانی تناظر میں خواتین، خصوصاً مسلم خواتین، کا کردار اس بحث کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ایک طرف وہ خاندان اور برادری میں اپنی روایتی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، تو دوسری طرف وہ تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی حیثیت کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔ مختلف مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے تعلیمی کمی، معاشی محدودیت اور سماجی دباؤ، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے خاندان اور برادری میں ایک اہم اور مؤثر قوت کے طور پر موجود ہیں۔
اختتامیہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کا اثر و رسوخ خاندان اور برادری دونوں سطحوں پر نہایت گہرا اور ہمہ جہت ہے۔ وہ نہ صرف سماجی اقدار اور روایات کی محافظ ہیں بلکہ ان کی تشکیلِ نو اور تبدیلی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگرچہ انہیں مختلف ساختی اور ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا ہے، لیکن ان کے اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کے اس اثر و رسوخ کو تسلیم کیا جائے، اسے فروغ دیا جائے، اور ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو ان کے کردار کو محدود کرتی ہیں۔ اسی صورت میں خاندان اور برادری ایک زیادہ متوازن، ہم آہنگ اور ترقی پذیر سماجی اکائی کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔
صدر، شعبۂ سماجیات
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، بھارت





