Tuesday, April 21, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldہماری ادبی شان : اردو زبان

ہماری ادبی شان : اردو زبان

mravadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

داؤداحمد
وہ کرے  بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی  بولی  وہی  بولے  جسے  اردو  آئے
اردو ایک ترقی یافتہ بہترین زبان ہے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی زبان کا فروغ دراصل تہذیب و تمدن تاریخ و روایات کا فروغ ہے۔کسی کے دل و دماغ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے زبان ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے ۔کسی کے دل تک رسائی کیلئے مہذب انداز ،پاکیزہ گفتگو،شیریں اور معنی خیز الفاظ ،لہجے میں نرمی اور شائستگی کے ساتھ حسن اخلاق اور دل کی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان اوصاف و آداب کے مجموعہ کو اردو زبان کہتے ہیں۔ اردو کی شیریں بیانی اور دل فریبی کے سبھی قائل ہیں۔اس زبان کے حسن کے لئے یہ کافی ہے کہ اس زبان نے انسانیت اور تہذیب مخالف الفاظ کو اپنے مجموعے میں جگہ نہیں دی یعنی اس میں گالی گلوج کی گنجائش نہیں ہے۔یہ اس زبان کی انفرادی حیثیت بھی ہے۔ یہ واحد زبان ہے جس نے گالی دینا نہیں سکھایا۔دوسری بڑی بات اس زبان کی یہ ہے کہ اس کی تاثیر کا حلقہ مذہب  وملک کی قید سے آزاد رہا ہے۔ایک صوفی درویش کے گھر کی پروردہ اور تربیت یافتہ زبان انسان اور انسانیت سے محبت کرنے والے ہر شخص کی آواز بن گئی۔مذہب و برادری کی پرواہ کئے بغیر  ہر ایک نے اس زبان کو گلے لگایا۔  وہ اردو جو آزادی کی خواہش کے اظہار کا ذریعہ بنی آج ایک مذہب خاص کے لوگوں کی زبان بتائی جا رہی ہے ۔اسی کی زبان میں کئی بار مشترکہ تباہی کے بعد غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیاتھا۔آج جس زبان کو اردو کہتے ہیں وہ ترقی کے کئی مراحل سے ہوکر گزری ہے۔بارہویں صدی کے آغاز میں وسطی ایشیا سے آنے والے لوگ ہندوستان میں بسنے لگے تھے جو فوجی آئے تھے،وہ ساتھ لاتے تھے اپنی کھانے پینے کی عادتیں  اورسنگیت۔وہ یہاں کے لوگوں سے اپنے علاقے کی زبان میں بات کرتے تھے جو یہاں کی پنجابی،ہریانوی اور کھڑی بولی سے مل جاتی تھی اور بن جاتی تھی فوجی لشکری زبان جس میںپشتو، فارسی،کھڑی بولی اور الفاظ جملوں سے ملتے جاتے تھے ۔تیرہویں صدی میں سندھی،پنجابی، فارسی،  ترکی اور کھڑی  بولی کے مرکب سے لشکری کی  اگلی نسل وجود میں آئی  اور اسے سرائے کی زبان کہا گیا۔اسی دور میں یہاں صوفی خیالات کی لہر بھی پھیل رہی تھی۔صوفیوں کے دروازوں پر بادشاہ آتے اور امراء آتے،سپہ سالار آتے اور غریب آتے اور سب اپنی اپنی زبان میں کچھ کہتے۔اس بات چیت سے جو زبان پیدا ہورہی تھی وہی جمہوری زبان آنے والی صدیوں میں اس ملک کی سب سے اہم زبان بننے والی تھی ۔اس طرح کی ثقافت کا سب سے بڑا  مرکز  مہرولی میں قطب صاحب کی خانقاہ تھی۔صوفیوں کی خانقاہوں میں جو موسیقی پیدا ہوئی وہ آج آٹھ سو سال(۸۰۰) بعد بھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ عام لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے۔
اجمیر شریف میں چشتیہ سلسلے کے سب سے بڑے بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری(غریب نواز) کے دربار میں امیر،غریب ،ہندو اور مسلمان سب آتے تھے اور آشرواد کی جو زبان لے کر جاتے تھے،آنے والے وقت میں اسی کا نام اردو ہونے والا تھا۔صوفی سنتوں کی خانقاہوں پر ایک نئی زبان پروان چڑھ رہی تھی۔مقامی بولیوں میں فارسی اور عربی کے لفظ مل ر  ہے تھے اور ہندوستان کو ایک لڑی میں پرونے والی زبان کی بنیاد پڑ رہی تھی۔اس زبان کو اب ہندوی کہا جانے لگا تھا ۔بابا فرید گنج شکر نے اسی زبان میں اپنی بات کہی ۔بابا فرید کے کلام کو گرو گرنتھ صاحب میں بھی شامل کیا گیا ۔دہلی اور پنجاب میں تیار ہو رہی اس زبان کو جنوب میں پہنچانے کا کام خواجہ گیسو دراز نے کیا۔جب وہ گلبرگہ گئے اور وہیں ان کا آستانہ  بنا اس دوران دہلی میں اردو کے سب سے بڑے شاعر حضرت امیر خسرو اپنے پیر حضرت نظام الدین اولیاء کے آستانے میں بیٹھ کر ہندوی زبان سنوار رہے تھے۔
امیر خسرو نے لاجواب شاعری کی  جو ابھی تک بہترین ادب کا حصہ ہے اور آنے والی نسلیں ان پر فخر کریںگی۔حضرت امیر خسرو سے محبوب الٰہی ،حضرت نظام الدین اولیاء نے ہی فرمایا تھا کہ ہندوی میں شاعری کرو۔اس کے بعد امیر خسرو نے ہندوی میں وہ سب لکھا جو زندگی کو چھوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’  ہندوستان اس لئے  مجھے عزیز از جان ہے کہ میں نے اس سر زمین پر آنکھ کھولی اور یہ ملک میرے لئے ماں کی گود کی طرح ہے‘ ۔ کلاسیکل موسیقی میں امیر خسرو کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔انھوں نے متعدد راگ راگنیوں کی ایجاد کی ۔خسرو وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اپنے دور کی مروجہ عوامی زبان کو ذریعہ اظہار بنا کر ہندی اور اردو کے مستقبل کی راہ ہموار کی ۔انھیں کھڑی بولی یعنی ہندی اور اردو دونوں زبانوں کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔حضرت نظام الدین اولیاء کی دعاؤں سے دہلی میں ہندوی عام زبان بنتی جا رہی تھی۔ اردو کی ترقی میں دہلی کے سلطانون کے سفر فتح کا بھی اہم رول ہے ۔  ۱۲۹۷؁ء میں علاؤالدین خلجی نے جب گجرات پر حملہ کیا تو لشکر کے ساتھ وہاں اس کی زبان بھی گئی۔  ۱۳۲۷؁ء میں جب تغلق نے دکن کا سفر کیا تو دہلی کی زبان ،ہندوی ان کے ساتھ گئی ۔اب اس زبان میں مراٹھی ،تلگو اور گجراتی کے لفظ مل چکے تھے ۔دکنی اور گجری کا جنم ہوچکا تھا۔
اردو زبان میں جذب وانجذاب کا عمل کئی صدیوں سے جاری ہے ۔بر صغیر میں پہلے مقامی بولیوں نے جنم لیا،پھر یہاں عربی زبان کی تاثیر آئی ،پھر اولیائے کرام کی روحانی تاثیر فارسی کو ساتھ لائی ،بعد ازاں مغلیہ دور ترکی بر صغیر میں علمی و ادبی زبان قرار پائی ،ان تمام زبانوں کے الفاظ کے اختلات کا عمل بھی جاری رہا۔حضرت امیر خسرو کے زمانے میں اس کے ریختہ نے بولی کی شکل اختیار کی اور ہندی کہلائی۔شاہجہاں کے دور میں شاہجہان آباد میں عہد شباب کو پہنچی اور اردو کہلائی۔اس کی تعمیر اور تخلیق کاری کا عمل مزید آگے بڑھا اور بڑھتا رہا۔اردو زبان میں انگریزی کی سمائی ہم اسی دور میں سرسید احمد خاں ،مولانا الطاف حسین حالی ،شبلی نعمانی،مولانا محمد حسین آزاد  وغیرہ کے ہاں بھر پور طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔اکبر الہ آبادی نے تو انگریزی کے الفاط کو چٹ پٹے انداز میں اپنی شاعری میں خوب برتا اور معنی کی تہہ کو ابھارا ہے۔تقسیم ہند کے بعد  ایک بار پھر زبان نے پلٹا کھایا اور اس میں تغیر و تبدل کا عمل شروع ہوا ۔مختلف تہذیبیں ،معاشرتی رویوں کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے آئیں۔تہزیبوں کے ملاپ سے لسانی امتزاج کے نئے پہلو ابھرے،جنھوں نے اردو میں نئے لہجوں کو جنم دیا ۔نئے روز مرہ ،نئے محاورے پیدا کئے اور زبان و بیان نئی تراکیب سامنے آئیں۔
شاہجہاں کے دور میں مغل سلطنت کی راجدھانی دہلی آگئی۔اس دور میں ولی دکنی کی شاعری دہلی پہنچی اور دہلی کے فارسی دانوں کو پتہ چلا کہ ریختہ میں بھی بہترین شاعری ہو سکتی تھی اور اسی سوچ کی وجہ سے ایک جمہوری زبان کے طور پر اپنی شناخت بنا سکی۔دہلی میں مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد اودھ نے دہلی سے اپنا ناطہ توڑ لیالیکن زبان کی ترقی مسلسل ہوتی رہی ۔در اصل ۱۸؍ ویں صدی میر،سودا اور درد کے نام سے یاد کی جائے گی۔میر پہلے عوامی شاعر ہیں ۔بچپن غربت میں گزرا  اور جب جوان ہوئے تو دہلی پر مصیبت بن کر نادر شاہ ٹوٹ پڑا۔ ان کی شاعری کی جو تلخی ہے وہ اپنے زمانے کے درد کو بیان کرتی ہے ۔بعد میں نظیر  کی شاعری میں بھی ظالم حکمرانوں کا ذکر میر تقی میر کی یاد دلاتا ہے۔مغلیہ طاقت کے کمزور ہونے کے بعد ریختہ کے دیگر اہم مراکز ہیں۔
۱۸۲۲؁ء میں اردو صحافت کی بنیاد پڑی جب منشی سدا سکھ لال نے ’جان جہاں نما‘ اخبار نکالا۔دہلی سے ’دہلی اردو اخبار‘ اور  ۱۸۵۶؁ء میںلکھنؤ سے ’طلسم لکھنؤ‘ کی اشاعت کی گئی۔لکھنؤ میں نول کشور پریس کے قیام کی اردو کی ترقی میں اہم حصہ داری ہے۔سرسید احمد خاں ،مولانا شبلی نعمانی،اکبر الہ آبادی،ڈاکٹر علامہ اقبال اردو کی ترقی کے بہت بڑے نام ہیں ۔ اقبال کی شاعری ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ اور ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ ہماری تہذیب اورتاریخ کا حصہ ہے اس کے علاوہ مولوی نذیر احمد ،پنڈت رتن ناتھ سرشاراور مرزا ہادی رسوا نے ناول لکھے۔آغاحشر کاشمیری نے ڈرامہ لکھا۔
کانگریس کے کنونشن کی زبان بھی اردو ہی بن گئی تھی۔۱۹۱۶؁ء میں لکھنؤ کانگریس میں ’ہوم رول ‘ کی جو تجویز پاس ہوئی وہ اردو میں ہے ۔  ۱۹۱۹؁ء میں جب جلیاںوالا باغ میں انگریزوں نے نہتے ہندوستانیوں کو گولیوں سے بھون دیا تو اس غم اور غصے کا اظہار پنڈت برج نارائن چکبست اور اکبر الہ آبادی نے اردو میں ہی کیا تھا۔اس موقع پر لکھا گیا مولانا ابوالکلام آزاد کا مضمون آنے والی کئی نسلیں یاد رکھیں گی۔حسرت موہانی نے  ۱۹۲۱؁ء کی تحریک میں انقلاب زندہ آباد کانعرہ دیا تھا جو آج انصاف کی لڑائی کا نشان بن گیا ہے۔
بہرحال اردو صرف زبان ہی نہیں بلکہ حق کی آواز رہی ہے۔انگریزوں کو اس کی تاثیر کا کافی علم تھا۔دستی صحافت کی ایک ایک تحریر دل اور کلیجے پر ایسے وار کرتی تھی کہ راتوں کی نیدیں حرام ہو جاتی تھیں۔آزاد،موہانی اور مولوی  باقرجیسے اردو کے مسیحاؤں نے اس کی تاثیر کو پہچانااور اس کا استعمال کیا۔انھیں اس کی قیمت چکانی پڑی۔لیکن یہ آواز کبھی دبی نہیں،کبھی بکی نہیں۔اردو کو صرف اردو ہی زندہ کرسکتی ہے ۔یعنی تہذیب ،رواداری محبت اور یکجہتی کی فضا ئیںجہاں قائم ہوگی اردو  وہاں پائی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ صوفی سنتوں کے اخلاق و کردار کا  فطری اور طبعی بیانیہ اسی زبان میں رہا۔اردو ہندوستان اور تصوف ملک کی اس وراثت کے امین ہیں جس کے لئے ملک پر ساری دنیا رشک کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
اردو ایک ایسی زبان ہے جسے ہر خاص و عام سمجھتا ہے اور بولتا بھی ہے ۔پچھلے پچاس برسوں میں اردو زبان پر کئی ردے لگ چکے ہیں۔اب اس کی نئی شکل ابھر کرسامنے آتی جا رہی ہے ،اس نئی ابھرتی ہوئی اردو زبان کی رچی ہوئی شکل بعض ناولوں ،ادبی تحریروں اور ٹی وی ڈراموں میں نظر آتی ہے ۔اس زبان میں وہی کھٹ میٹھا پن ہے ،جو پیڑ میں لٹکتی ہوئی امبیا کا ہوتا ہے۔
تہذیب کا مر کز ہے نشان اردو
تاثیر میں جادو  ہے  بیان  اردو
ہے رابطہ ہر ایک زباں سے اس کا
رکھتی ہے عجب لوچ  زبان اردو
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو
فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی۔جی کالج
 محمود آباد،سیتاپور(یو۔پی)
موبائل : 8423961475
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular