9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

ڈاکٹر مشتاق احمد
ایک زمانہ تھا کہ بین العلومی مطالعے کی روش عام تھی ۔ ایک زبان کے ادیب وشاعر دوسری زبانوں کے فنکاروںیا تخلیق کاروں کے نام سے نہ صرف آشنا ہوتے تھے بلکہ ان کے سرمایۂ فکر ونظر سے استفادہ بھی کرتے تھے۔ لیکن اب وہ روایت ہی ختم ہو چکی ہے ۔ ہم اپنی دنیا میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے‘‘اس کے ہم متلاشی نہیں رہے۔نتیجہ ہے کہ ہم نہ صرف باہری دنیا کے ادیبوں سے ناواقف ہیں بلکہ ہندوستانی ادب کے بھی معتبر لکھنے و الوں تک ہماری رسائی نہیں ہے ۔اردو کے ذخیرۂ تراجم اس حقیقت کے غماّز ہیں کہ ہمارے اکابرین بین العلومی مطالعہ کے کس قدر دلدادہ تھے۔مگر افسوس کہ عہدِ حاضر میں بین العلومی مطالعے کی بات تو دور رہی اپنے ادب کے فنکاروں تک بھی ہماری رسائی نہیں ہو پاتی۔ کیوں کہ ہم نے اپنی دنیا کو نصابوں کی دنیا تک محدود کرلیا ہے ۔ بلکہ ایک تلخ سچائی تو یہ ہے کہ اب نصاب میں شامل کتابوں سے بھی ہماری ملاقات نہیں ہوتی کیوں کہ تعلیمی اداروں میں قرأتِ متن کا چلن ہی ختم ہو چکا ہے ۔ نتیجہ ہے کہ طلباء بازاری نوٹ کی بدولت ڈگری حاصل کرنے میں تو کامیاب ہیں لیکن وہ ادب فہمی سے محروم ہیں۔
بہر کیف !اس انحطاطی دور میں بھی کرشنا سوبتی ایک ایسی فنکارہ تھیں جن کی آواز اپنی دنیا تک محدود نہیں تھی ۔ ان کا تخلیقی سفر کم وبیش سات دہائیوں پر محیط ہے کہ ان کی پہلی تخلیق 1950میں شائع ہوئی تھی اور اس کے بعد وہ مسلسل لکھتی رہیں۔ انہوں نے ناولوں کی دنیا آباد کی ، آسمانِ افسانہ نگاری کو چاند ستاروں سے مزین کیا ۔ عصری حالات پر بیباک تبصراتی مضامین لکھے، اخلاقی قدروں کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی ، جمہوریت کی پاسداری کے لئے نہ صرف تحریری بلکہ عملی اقدام بھی اٹھائے۔غرض کہ سماجی،سیاسی، مذہبی اور بالخصوص حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لئے وہ تمام عمر سرگرم عمل رہیں ۔ ایک اچھی خاصی زندگی جی کر 93سال کی عمر میں اس دنیا کو خیر باد کہا ۔انہوں نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا ۔ حقوق انسانیت کے لئے آخری دم تک جد وجہد کرتی رہیں ۔ شاید قارئین کو یہ یاد ہوگا کہ یکم نومبر 2015کو دہلی میں انہو ںنے ملک میں ہجومی تشدد اور فرقہ واریت کے خلاف جس تیور سے آواز بلند کی اور احتجاجاً اپنا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ لوٹانے کا اعلان کیا وہ کرشنا سوبتی کے ایک انسان دوست تخلیق کار ہونے کا ثبوت ہے ۔کیوں کہ عہدِ حاضر میں جب ہمارے ادباء وشعراء معمولی سے معمولی سرکاری اعزاز واکرام کے لئے حکمرانوں کی قصیدہ خوانی ہی نہیں کرتے بلکہ ’’جوتا خوانی‘‘ کو بھی اپنا مقدر سمجھتے ہیں ایسے دور میں کرشنا سوبتی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کراتی رہیں۔ واضح ہو کہ 2010میں اس وقت کی کانگریس حکومت نے ان کے لئے پدم بھوشن ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کردیا اور اپنا موقف بیان کیا کہ ’’تخلیق کار کے طورپر مجھے سرکاری انعاموں سے خود کو دور رکھنا چاہئے ‘‘۔یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی حکومت کی پسند نہیں رہیں ۔ ظاہر ہے کہ جو فنکار سماجی سروکار کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی کسی بھی حکومت کے پسندیدہ نہیں ہو سکتے۔ ہندی ادب کی دنیا میں بھی ان کی شناخت ایک بیباک باغی تخلیق کار کی رہی ۔ لیکن ان کی تخلیق کے اندر اتنی قوت تھی کہ ان سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے بھی ان کی تحریروں کے دلدادہ تھے۔ 92سال کی عمر میں جب 2017میں گیان پیٹھ ایوارڈ دیا گیا تو کسی نے کیا خوب تبصرہ کیا تھا کہ ’’گیان پیٹھ نے کرشنا سوبتی کو ایوارڈ دے کر اپنی عزت بچالی ہے ‘‘۔واضح ہو کہ ان کو اپنے مشہور زمانہ ناول ’’زندگی نامہ ‘‘ کے لئے 1980ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ،1981میں شیرومنی ایوارڈ، 1982میں ہندی اکادمی ایوارڈ اور 1996میں ساہتیہ اکادمی فیلو شپ سے نوازا گیا ۔
کرشنا سوبتی کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان کے گجرات (موجودہ پاکستان)میں 18فروری1925کو ہوئی تھی ۔ تقسیمِ وطن کے بعد ان کا خاندان دہلی منتقل ہوگیا ۔ان کی ابتدائی تعلیم دہلی اور شملہ میں ہوئی ۔انہو ںنے 25سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا اور مسلسل لکھتی رہیں۔ ان کی تحریروں میں تقسیمِ وطن کا کرب ،ہجرت کا درداورفرقہ وارانہ فسادات کی تباہ کاریوں کی تصویریںدکھائی دیتی ہیں ۔ بالخصوص ان کے سوانحی ناول ’’گجرات پاکستان سے گجرات ہندوستان‘‘ میں جس فنکارانہ انداز سے انہوں نے تقسیمِ وطن کے بعد رونما ہونے والے حالات کی عکاسی کی ہے وہ ان کی تخلیقیت کی لازوال مثال ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے ناول ’’ڈارسے بچھڑی‘‘(1958)، ’’مترومرجانی‘‘(1967)،’’یاروں کے یار‘‘(1968)،’’تین پہاڑ‘‘(1968)، ’’سورج مکھی اندھیرے کے ‘‘(1972)، ’’زندگی نامہ‘‘(1979)، ’’اے لڑکی‘‘1991)، ’’دل ودانش‘‘(1993)اور ’’سمے سرگم‘‘(2000)ہندی فکشن کی تاریخ میں گنج گراں مایہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کی کہانیوں کے مجموعے ’’سکّہ بدل گیا ‘‘اور ’’نفیسہ‘‘ہندی کہانی کو ایک نئے جہانِ معنی سے آشنا کرتے ہیں ۔
کرشنا سوبتی صرف ایک تخلیق کار ہی نہیں بلکہ مذہبِ انسانیت کی علمبردار تھیں ۔ انہوں نے خود کو ہندی دنیا تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ دنیا کے ان تمام ادیبوں اور شاعروں سے اپنی وابستگی رکھی جو فلاحِ انسانیت کے لئے سرگرم رہے ۔ وہ حقوقِ نسواں کی محافظ تھیں لیکن ان کے دل میں مردوں کے خلاف کوئی نفرت نہیں تھی ۔ ان کا ناول ’’مترومرجانی‘‘ جب شائع ہوا تو ہندی ادب کی دنیا میں ایک بھونچال سا آگیا تھاکہ اس ناول میں پہلی بار ایک معتبر نسائی آواز ابھر کر سامنے آئی تھی ۔ ان کے دیگرناولوں میں بھی عورتوں کی زندگی کے مسائل کی عکاسی ملتی ہے ۔ لیکن ان کا کردار کہیں مجبور نہیں نظر آتا بلکہ اس کے اندر چٹّانی حوصلے کا چراغ روشن نظر آتا ہے ۔اردو کے معروف ترقی پسند شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنا نظریۂ فن یوں واضح کیا تھا کہ ؎
دنیا نے تجربات وحوادث کی شکل میں
جوکچھ مجھے دیا ہے لوٹا رہا ہوں میں
بلا شبہ فنکار اپنے معاشرے کا ترجمان وعکاس ہوتا ہے۔ اس کے گردو نواح میں جو واقعات وحادثات رونما ہوتے ہیں وہ اس کے ذہن ودل پر گہرا نقش چھوڑتے ہیں ۔ چوں کہ ایک فنکار عام لوگوں سے کہیں زیادہ حسّاس وبیدار ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے اردو گرد کے اثرات کو نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ اس کے ردِ عمل میں لفظی پیکر کے سہارے صحت مند فکر ونظر کا سرمایہ بھی دنیا کو عطا کرتا ہے ۔لن یوں تانگ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ’’ادبی شاہکار خود فطرت کی توسیع کی طرح ہے جس کی لا ہیئتی میں اس کی خوبیٔ تشکیل مضمر ہے اور اس کی خوبصورتی اور دلکشی اتفاقیہ طورپر آجاتی ہے اس لئے اس کی خوبصورتی مختلف اجزاء کے درمیان توازن کے بجائے حرکت کی بنا پر ہے ‘‘(Importance of living-p-38)
لن یو تانگ کی طرح اردو کے نامور ناقد پروفیسر محمد حسن نے بھی بہت اچھی بات کہی ہے کہ ’’ فنکار حسنِ فطرت کا بے محابہ عکس ہے اور جس حد تک وہ اپنی ذات اور تخلیقات کو فطرت کی اس بے محابہ عکاسی کے لئے سادہ اور غیر شخصی رکھے گا فطرت کی یہ آواز اور تصویر اسی قدر صاف ظاہر ہوگی ‘‘۔
(تنقیدی تصورات کی تاریخ۔ص:94)
مذکورہ اقتباسات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہو جاتاہے کہ تخلیق خلا میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ اجتماعی زندگی سے حاصل شدہ تجربات ومشاہدات کا ثمرہ ہے اور کسی بھی تخلیق کی ابدیت کا انحصار تخلیق کار کے خلوص ودیانتداری پر ہے ۔ اگر تخلیق کار اپنے معاشرے میں رائج غیر مساوی ، غیر انسانی عمل کے خلاف اظہارِ خیال کی قوت رکھتا ہے اور اپنے دل میں انسانی دکھ کی دردمندی رکھتا ہے تو وہ اپنے عہد کا باغی ہی ہوگا ۔
ڈیکارٹ نے جب یہ کہا تھا کہ ’’میں سوچتا ہوں اس لئے ہوں ‘‘اور البر کامیو نے یہ اعلان کیا تھا کہ ’’میں بغاوت کرتا ہوں اس لئے ہوں ‘‘ تو اس کا صاف مطلب تھا کہ فنکار مصلحت پسند نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ فنکار کسی بھی طرح کے جبر واستبداد، نسلی امتیازات ، جنسی استحصال ، فرقہ واریت کو کبھی قبول نہیں کر سکتا ۔ ایسی صورت میں ایک تخلیق کار وفنکار کا باغی ہونا ایک فطری عمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادب کی تاریخ میں جن فنکاروں کو بھی ابدیت حاصل ہے ان کی زندگی اور ان کی تخلیقات کے احتسابی جائزے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے عہد کے باغی رہے ہیں۔ ہمارے عہد میں بھی کئی ایسے باغی فنکار ہیں جو زخم خوردہ انسانوں کے لئے مسیحا ثابت ہوئے ہیں ۔ان میں ہندی ادب کی ایک معتبر آواز کرشنا سوبتی بھی شامل ہیں ۔ افسوس صد افسوس کہ انقلاب واحتجاج کی علامت کرشنا سوبتی نے 25جنوری 2019ء کو اس دنیا ئے فانی کو الوداع کہہ دیا ۔لیکن ان کی تخلیقات میں جو انسانی دردمندیوں کا ابلتا ہوا سرچشمہ ہے ، تغیر زمانہ کے قدموں کی آہٹ ہے ، جرم واستحصال کے خلاف احتجاج ہے ، بغاوت ہے ، انسانی زندگی کی مسرتیں ہیں اور بالخصوص نسائی زندگی کے کرب وبلا کی حقیقی ترجمانی ہے وہ انہیں ہمیشہ حیاتِ نو بخشتی رہے گی ۔ان کے انتقال پر ہندی ادب کے قد آور ناقد پروفیسر نامور سنگھ نے بجا کہا ہے کہ ’’سوبتی لفظوں کو اپنی زندگی کی طرح جیتی رہیں ، انہو ںنے ہندی کے مردوادی لیکھن کو ایک نیا محاورہ دیا جو استری وادی لیکھن کی پرچلت پریپاٹی اور پرچلت محاورے سے کہیں الگ تھا۔ لیکن انہو ں نے خود کو کبھی استری وادی لیکھن کے چوکھٹے میں رکھنا منظور نہیں کیا ۔ ا ن کے لئے لیکھک کا مطلب لیکھک تھا جسے کسی تمغے کی ضرورت نہیں ‘‘۔
بلا شبہ کرشنا سوبتی بیسویں اور اکیسویں صدی کی ایک معتبر آواز تھیں ۔ ان کا تخلیقی سفر بیسویں صدی کے نصف میں شروع ہوا اور وہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک لکھتی رہیں۔اگر لسانی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو وہ ہندی زبان میں لکھتی تھیں لیکن ان کی تخلیقی قوت نے دوسری زبانوں کے ادیبوں اور فنکاروں کو بھی ہمیشہ متوجہ کیا ۔ان کی زبان خالص ہندوستانی تھی۔ ان کے یہاں مصنوعی سنسکرت آمیز ہندی کا چلن دیکھنے کو نہیں ملتا بلکہ وہ فطری زبان کو فوقیت دیتی تھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستانی ادب کی اس عظیم تخلیق کار کی تخلیقات کو اردو میں بھی منتقل کیا جائے تاکہ اردو دنیا ایک صحت مند فکر ونظر رکھنے والی فنکار کی تخلیقی بصیرت وبصارت سے استفادہ کرسکے۔ان کا ایک ناول ’’زندگی نامہ ‘‘ تو بہت پہلے اردو میں منتقل ہوا تھا لیکن دیگر تصانیف کا اردو ترجمہ شاید نہیں ہو سکا ہے جب کہ ان کی تمام تخلیقات دانشورانہ افکار کے لئے فکری اساس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہو ںنے اپنی تحریروں میں تخلیقی ضابطوں کے ساتھ ساتھ فنّی تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے اور سماجی وسیاسی شعور کی روشنی بھی بکھیری ہے ۔ لہذا ان کے ناولوں اور افسانوں میں زندگی کی ایک صاف وشفاف تصویر دکھائی دیتی ہے ۔٭٭٭
موبائل:9431414586
ای میل:rm.meezan@gmail.com





