HomeMuslim Worldبابائے قوم

بابائے قوم

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

نجمہ نورانی

لکھا ہے تو نے باب جو تاریخ ہند میں
اب وہ مورخوں سے بھلایا نہ جائے گا
30 جنوری کا دن یوں تو ہر سال آتا ہے اور گذر جاتا ہے لیکن 30 جنوری 1948 ء کے دن جو المناک حادثہ رونما ہوا اس نے اس دن کو ہندوستان کی تاریخ کا ’’سیاہ ترین دن‘‘ بنا دیا۔ اب یہ دن ’’شہید دیوس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
آج کے دن ہندوستان کا عظیم سپوت جس نے ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے میں اپنی ساری زندگی وقف کردی اور جب اس کے خوابوں کو تعبیر ملی اور دہلی کے لال قلعہ پر برطانوی جھنڈے کی جگہ ہندوستان کا ترنگا لہرایا گیا تو اس کے چند ہی ماہ بعد ملک کا یہ عظیم رہنماء ہندوستانی عوام کے اتحاد کے مخالف ایک تنگ نظر انتہا پسند کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
ایک دبلا پتلا، درمیانہ قد و قامت کا انسان جس کے جسم پر ایک لنگوٹی پیر میں چپل یا کھڑائوں، ہاتھ میں بانس کی پتلی سی لاٹھی نظر آتی تھی۔ اس نے اپنی دماغی اور روحانی طاقت سے ساری دنیا میں ہلچل مچادی۔ اپنے ملک ہندوستان میں انقلاب پیدا کردیا اور نصف صدی سے بھی کم مدت میں انگریزوں کی غلامی سے ملک کو آزاد کرادیا۔ یہ شخصیت تھی موہن داس کرم چند گاندھی کی جس کو سارا دیش ’’بابائے قوم‘‘ اور ’’باپو‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔
گاندھی جی نے انگلینڈ سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے بعد بمبئی میں پریکٹس شروع کی، لیکن کچھ عرصے بعد ایک ہندوستانی تاجر عبداللہ جو افریقہ میں تجارت کرتے تھے اپنے ایک مقدمے کی پیروی کے لئے انہیں افریقہ لے گئے جہاں ہندوستان کے تاجر اور دوسرے لوگ انگریزی حکومت کے ظلم اور اس کی زیادتی سے سخت پریشان تھے، ان کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔ گاندھی جی نے اس ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کی۔ ہندوستانی تاجروں کے خلاف جو مقدمات حکومت چلاتی تھی گاندھی جی ان کی طرف سے ان مقدمات کی پیروی کرتے تھے جس کی پاداش میں ان کو طرح طرح کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں اور قید و بند کی مصیبتوں سے دو چار ہونا پڑا۔ آخرکار کئی برس کی مسلسل جدوجہد کے بعد وہاں کی حکومت نے انڈین ریلیف فنڈ (Indian Relief Fund) ایکٹ پاس کرکے ہندوستانیوں کی بہت سی مانگوں کو پورا کیا۔ اور ہندوستانیوں نے راحت کی سانس لی۔
اس زمانے میں ہندوستان میں بھی آزادی کی تحریک شروع ہوچکی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس کا قیام ہوچکا تھا۔ گاندھی جی نے افریقہ سے واپسی پر کانگریس کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی اور یہاں کی تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی۔
کانگریس کی تحریک آزادی نے حکومت کی چولیں ہلاکر رکھ دی تھیں، گاندھی جی نے ملک گیر عدم تشدد آندولن شروع کردیا تھا۔ جس کا مقصد غیرملکی عوام کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا۔ گاندھی جی نے کانگریس میں زندگی کے ہر شعبے کے لوگوں کو شامل کرلیا۔ جس سے ان کی طاقت بہت بڑھ گئی۔ انہوں نے ہندوستانیوں کو انگریزوں کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد سے رہائی دلانے کیلئے کئی بار ’مرن برت‘ رکھا۔ اس طرح وہ حکومت اور عوام پر اخلاقی دبائو ڈالتے تھے۔ انہوں نے اپنی بات منوانے کیلئے کبھی تشدد اور نقصان پہونچانے والا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ سچائی اور اہنسا اور عدم تشدد کے وہ دل سے خواہاں تھے اور پوری جنگ آزادی اسی اصول پر کاربند رہ کر لڑی۔ وطن کی محبت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا اور اسی جذبے سے سرشار ہوکر انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے طرح طرح کی صعوبتیں اٹھائیں اور ملک کو آزاد کرایا۔
گاندھی جی کا اہم کارنامہ ہندو مسلم اتحاد کی جدوجہد ہے جس میں ان کے شریک کار مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، پنڈت نہرو، خان عبدالغفار خاں وغیرہ تھے۔ مسلمانوں نے جب خلافت کی تحریک شروع کی تو گاندھی جی نے بھی اس کی ہمنوائی کی۔ وہ ہمہ وقت اس کوشش میں سرگرداں رہتے تھے کہ ملک سے چھوت چھات دور ہو۔ اچھوتوں سے برابری کا برتائو کیا جائے، دیس کی نئی چیزوں کا استعمال عام ہو سادگی کے وہ دلدادہ تھے اور اونچے خیالات پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے کبھی کانگریس کا کوئی بڑا عہدہ قبول نہیں کیا۔ بعد میں وہ اس کے معمولی ممبر بھی نہ تھے، مگر کانگریس نے ان کو اپنا رہنماء بنایا اور ان کی روایات پر تمام لیڈر چلتے رہے۔
گاندھی جی ان قابل ذکر ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک و قوم کے لئے وقف کردی اور ساری دنیا کو امن و شانتی کا درس دیا اور خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں گاندھی جی کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں ایک گروہ ایسا بھی تھا اور اب بھی ہے جو اتحاد اور قومی یکجہتی کا ہمیشہ سے مخالف رہا ہے اس گروہ نے ان کے خلاف سازشیں کیں اور آخر کار 30 جنوری 1948 ء کو ناتھو رام گوڈ نام کے ایک جنونی نے ان کے سینے میں گولی مارکر اس شمع کو ہمیشہ کیلئے گل کردیا جس نے سارے دیش میں آزادی کی مشعل روشن کی تھی۔٭٭٭
( مال ایوینیو، لکھنؤ)
٭٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular