9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
بن تیرے ادب کے گھر بے چراغ ہیں
کے کے کھلر
اردو ادب میں انشائیہ کا مقام اور مرتبہ ہمیشہ مشکوک رہا ہے ، جنس سے صنف تک ۔اس ستم ظریف کی طرح جس نے ایک کلب میں ایک لڑکی کو دیکھ کر ساتھ بیٹھے ممبر سے کہا تھا،’دیکھئے اس لڑکی نے کیسا لباس پہن رکھا ہے !‘تو ممبر نے جواباً کہا، ’وہ لڑکی نہیں لڑکا ہے اور میرا بیٹا ہے ۔ ‘
پوچھنے والے نے معذرت چاہ لی اور بولا، ’ ساری‘، ’مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ آ پ اس لڑ کے کے باپ ہیں۔‘
’ باپ نہیں میں اس کی ماں ہوں ‘ ۔
ذرا دھیرے بول کوئی سن لے گا۔
انشائیے کے بادشاہ محمد اسد اللہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی حادثہ ہواجب ایک فوجی افسر نے ریٹائر منٹ کے بعد اخبار کا دھندا شروع کیاتھااور اس اخبار کے ادبی صفحے کا نگراں بھی تھا، محمد اسد اللہ سے پوچھاکہ یہ انشائیہ کیا ہوتی ہے ؟ جواب ملا ،’خان صاحب یہ ہوتی نہیں ہوتا ہے ‘۔
لیکن عالی جاہ !وہاں توآ پ نے دامن بچا لیا۔ لیکن اس کا کیاکیجئے گا۔جب کوئی ایم اے ( اردو )کا طالبِ علم آ پ سے پوچھے گا:
’کیا آپ وہی محمدا سد اللہ ہیں جنھوں نے یہ شعر کہا تھا: مارا زمانے نے اسد اللہ خاں تمہیں۔
ایسی حالت میں آپ کے پاس ایک ہی Escape Route ہے جس سے آ پ کا دامن تو بچ سکتا ہے لیکن پگڑی نہیں۔لہٰذاآ پ طالبِ علم کو گوپی چند نارنگ کے پاس بھیج دیں جو اسے اپنی ایک سو پندرویں کتاب میں شامل کر لیں گے یا شمس الرحمٰن فاروقی کے پاس ،مہر لگانے کے لیے، تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آ ئے ۔ ویسے بھی ’’کام آ تا ہے برے وقت میں آ نا تیرا۔‘‘،الہٰ آ باد کے اس حجام کی طرح جس نے راجند ر سنگھ بیدی سے یہ پوچھا تھاکہ آ پ کتنے بھائی ہیں تو بیدی نے جواب دیا تھا۔’تین،لیکن تیرے استرے سے بچ گیا تو چار۔‘
انشائیہ ہر ایک کے بس کا نہیں ، بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
محبت کے لئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا
تو آ ئیے تھوڑی سی بحث کریں ۔ انشائیہ اعظم کِسے کہیں ۔ محمد اسدا للہ نے اپنی کتاب ’ یہ ہے انشائیہ ‘ ( ۲۰۱۷)میں ۱۰۵ انشائیہ نگاروں کی لسٹ مہیا کی ہے ۔وزیر آ غا سے لے کر رام لعل نابھوی سے ہوتے ہوئے زوبی جعفری تک ۳۹ مجموعے آ چکے ہیں ،جن میں محمد اسد اللہ کے مجموعے ،’’بوڑھے کے رول میں‘‘ ( ۱۹۹۱) اور’ ڈبل رول‘ ( ۲۰۱۵) ،وزیر آ غا کا مجموعہ’ چوری سے یاری تک‘(۱۹۶۶) ،’آ م کے آ م‘ ۔رام لعل نابھوی ،پروین طارق کے ’بولتے سناٹے ‘( ۲۰۱۵) پیش پیش ہیں ۔علاوہ ازیں انشائیہ سے متعلق ۲۳ مطبوعات کی لسٹ بھی دی ہے جس میں ڈاکٹر سلیم اختر کی ’ انشائیہ کی بنیاد‘( ۱۹۸۶)اور ’اردو انشائیہ کے ابتدائی نقوش‘ ( لطیف ساحل )اور محمد اسد اللہ کی کتاب بعنوان ’ انشائیہ کی روایت ،مشرق و مغرب کے تناظر میں ‘ اہم ہیں ۔جہاں تک تنقید کا تعلق ہے اردو میں انشائیے پر ڈاکٹر انور سدیدکی کتاب ’ انشائیہ اردو ادب میں‘(۱۹۸۵)کو حرفِ آ خر تسلیم کیا جا چکا ہے جس میں انشائیے کے تیور ، اس کے خد وخال ، اس کے نازا ور نخرے ، اس کے دائو پیچ کھل کر بیان کئے گئے ہیں ۔انشائیہ پر بحث
اس کتاب کے مطالعے کے بغیر ادھوری ہے ۔ ورنہ انشائیہ وہیں کا وہیں کھڑا رہ اجائے گا جہاں چالیس سال پہلے تھا۔
میرے خیال میں یہ طے کر نے کے لیے کہ انشائیہ کیا ہے ، بہتر یہی ہوگا کہ یہ فیصلہ ہوجائے کہ انشائیہ کیا نہیں ہے ۔پیدل تو سبھی چل رہے ہوتے ہیں ،دیکھنا یہ ہے کہ کم گہرا کون ہے ؟ پہلی شرط یہ ہے کہ انشائیہ طنز و مزاح سے کوسوں دورہے ۔انیس ناگی کا فرمان ہے کہ اگر ہنسی مذاق ،پھبتی اور جگت سے انشائیہ جنم لیتا ہے تو پھر نقال ،بہت بڑے انشائیہ پر داز ہیں ۔ اور تہواروں پر جواب الجواب اور تمسخر, انشائیوں کے مجموعے ہیں ۔ موٹی بات یہ ہے کہ انشائیہ کو طنز و مزاح کے دائرے میں لانااپنے آ پ میں طنز و مزاح ہے ۔
انشائیہ نہ کو ئی معمہ ہے نہ معجزہ ،انشائیہ میں کوئی جملہ دو بارہ نہیں کہا یا لکھا جاتا۔ کوئی بات ایک بار کہہ دی تو کہہ دی اور نہیں کہی وہ کہی ہوئی بات سے زیادہ معنی خیز ہے ۔ بقول وزیر آ غا سر گودھوی ،’معمولی شے کے غیر معمولی پن کو سطح پر لانے کا نام انشائیہ ہے ۔‘ کھلی ہوا میں ایک پرندہ پروں سے اڑنا بھول گیا۔انشائیہ میں قہقہہ لگانے کی اجازت نہیں ہے اسے ہنسنے کے لیے اپنا Pan نمبر اور رونے کے لئے آ دھار کارڈ رکھنا پڑے گا۔ جب وہی رونا چاہتا ہے تو اس کے پاس ٹائم نہیں اور ہنسنے کے لیے ٹائم پیس نہیں ۔انشائیہ میں کھل کر بات نہیں ہوتی ،بس آ نکھوں ہی آ نکھوں میں اشارہ ہوجاتا ہے ۔صرف مسکراہٹ کی گنجائش ہے وہ بھی زیرِ لب ۔اس میں اصل چیز موضوع نہیں ہے ۔انشائیہ سچائی کا ڈھنڈھورا نہیں پیٹتا بلکہ جھوٹ کو قابلِ برداشت بنا دیتاہے ۔اس میں بات بنتی نہیں بنائی جاتی ہے ۔مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر یہی کہوں گااس کی وضاحت تک پہنچنے کے لیے محمد اسد اللہ کے منتخب انشائیے بہ عنوان’’ دوسرا ٹکٹ‘‘ مرتبہ ڈاکٹر اظہر ابرار (۲۰۰۹)ضرور پڑھئے ۔ کرشن چند ر کا ’الٹادرخت ‘اور منٹو کے ’سیاہ حاشئے ‘بھی انشائیے کی زد سے نہیں بچ سکے ۔قصہ کوتاہ دریا کو کوزے میں بند کر تے ہوئے حافظ کرناٹکی نے صحیح لکھا ہے کہ’ لوگوں کے بکھرتے خواب ۔ اجڑے دل اور ادھورے ارمانوں کی ادبی کاوش کانام انشائیہ ہے یعنی بے معنی باتوں میں معنی کی تلاش ۔‘( دوسرا ٹکٹ)
امید اور انتظار انشائیے کے دو بنیادی عنصر ہیں ۔یونانی فاتح سکندراعظم جس نے پنجاب کے صرف ۲۲ گائوں پر قبضہ کیاتھا تاریخ میں اسے سکندر کہتے ہیں ۔اور جو دولت ،سونا ، چاندی ، ہیرے جواہرات کی شکل میں اس کے ہاتھ لگااس نے سب کے سب اپنی فوج میں بانٹ دئے ۔تو سیلوکس ( سکندر کا سپہ سالار) نے پوچھا :حضور ! آ پ نے اپنے لیے کیارکھا ہے ؟تو سکندر کا جواب تھا :امید اور انتظار ۔اور جب میرے ہم وطن پوچھیں گے کہ ہندوستان سے کیالائے ہو، تومیرا جواب وہی ہوگا۔’امید اور انتظار‘۔لیکن دیوتائوں کو یہ منظور نہیں تھا۔کیونکہ اس نے دیوتائو کی آ گ چرائی تھی ۔اور جو رہی سو بے خبری رہی ۔لہٰذا کوئی یونانی شاعراس واقعے پر انشائیہ نہ لکھ سکا۔
انشائیہ نا عاشقانہ حقیقتوں کی عاشقانہ تشریح ہے جن میں نظیر صدیقی کے الفاظ میں حکمت سے لے کر حماقت تک ساری منزلیں طے ہو جاتی ہیں سوائے ایک منزل کے یعنی منزلِ مقصود۔
پیاسوں کے مقدر میں نہ آ یا کوئی قطرہ
کہتا رہا دریا کہ نیا سال مبارک
انگریزی میں انشائیہ کا نام Essay ہے ۔یہ فرانسیسی کا لفظ ہے اور عربی سے لیا گیاہے ۔اس کے معنی میں’ ادبی کاوش ‘ اس کے لغوی معنی ہیں ۔ایک مختصر نثری اور ادبی تحریربلا امتیاز مضمون یا موزوں یا مقصد ۔نہ کوئی معمہ ہے نہ معجزہ ۔
انگریزی لغت کے بانی Dr. Samuel Johnson نے اسے A loose saly of mind کہا یعنی ذہن کی آ زاد ترنگ کچھ ناقدین نے اسے ذہن کی آ وارہ خیالی سے منسوب کیا۔اردو میں پہلا انشائیہ ۱۹۵۸ کے قریب لکھا گیا لیکن فرانس میں انشائیے کے بانی مانتین Montaign نے اسے۱۵۷۱ میں منظرِ عام پر لایا۔ہندوستان میں اسے انگریزی کے اخبارات مختلف ناموں سے چھاپتے رہے ہیں ۔جیسے ٹریبون میں اس کا نام تھا ،Of my head ہندوستان ٹائمز میں Middle ، انڈین ایکسپریس میں Time out سٹیٹسمین میں Now Again ۔ مانتین نے اپنے انشائیوں کو’ ہم وجود ‘ کانام دیا۔
انگلستان میں ایڈیسن اور اسٹیل کے انشائیے کافی مقبول ہوئے ۔جیسے ہندوستا ن میں انڈین ایکسپریس اور سٹیٹسمین کے ۔یہ دو اخبار ایسے تھے جن کے انشائیوں پر بھی بحث ہوتی تھی ۔اسٹیٹسمین کے قاری تو آ ج بھی سب سے پہلے ایڈیٹوریل کو کھولتے ہیں ۔ورانشائیہ پڑھنے کے بعد فرنٹ صفحے کی ہیڈ لائنس دیکھتے ہیں ۔میرا انشائیہ جب بھی اس اخبار میں چھپتا ہے میرا فون نان اسٹاپ بجتا ہے اور بیوی نان اسٹاپ ریڈیو لگا دیتی ہے۔ محمد اسد اللہ کے انشائیوں میں ساز بھی ہے اور سوز بھی ۔بقول انور سدید ’انشائیہ اندھیرے کے جگنو کی طرح ہے جو منزل کی امید تو دلاتا ہے لیکن خود منزل نہیں بنتا۔انشائیہ میں عصری آ گہی معروضی نہیں بلکہ انشائیہ عصری آ گہی کو بھی ایک نئی لو کے تاثر میں تبدیل کر دیتا ہے ‘۔ لہٰذا آ ج انشائیہ عصری حقیقت بن چکا ہے جیسا ’ بوڑھے کے رول میں ،‘ دوسرا ٹکٹ ،گنگنانا۔ محمد اسد اللہ لکھتے ہیں کہ ’ گنگنانا اور نہانا دونوں کا پیدائشی وطن ایک ہی ہے ، حمام خانہ ۔گانا ایک سماجی عمل ہے اور گنگنانا ایک انفرادی فعل ۔‘
میں زندگی کے ساتھ بہت دور تک گیا
یہ اور بات ہے کہ تعارف نہ ہوسکا
بہر کیف انشائیہ ایک دریائے عشق ہے اور ہر عاشق کو ڈوب کے جانا ہے ۔اپنا مضمون ایک قصے پر ختم کرتا ہوں ۔
جب آدی شنکر آ چاریہ منڈن مشرا سے ایک اہم ویدک بحث کرنے بہار کے شہر گیا میں پہنچے تو ایک پھول بیچنے والی مالن سے منڈن مشرا کے گھر کا رستہ پوچھا۔مالن بولی : جوگی سیدھے چلے جائو ،گلی کے نکڑ پر جس صحن میں طوطے وید پاٹھ کر رہے ہوں وہی منڈن مشرا کا گھر ہے ۔ حسبِ شرطِ بحث شنکر آ چاریہ کو سرسوتی کو ایک سو ایک پیلے گلاب کے پھول چڑھانے تھے ۔بحث کی امپائر Umpire یعنی منڈن مشرا کی بیوی نے جب پھول گنے تو ایک پھول کم تھا۔شنکرا چاریہ اسی پھول کی تلاش میں نکل پڑا ۔تلاش آ ج تک جاری ہے ۔
میرے خیال میں محمد اسد اللہ بھی گم شدہ پھول کی جستجومیں محو ہے ۔دیکھئے کیا ہو۔
ضضض





