Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldاردو ادب کا طویل ترین ادبی تنازعہ

اردو ادب کا طویل ترین ادبی تنازعہ

صادق
اگر آپ سے کسی ایسی کتاب کے بارے میں پوچھا جائے جو کسی زبان کی سب سے زیادہ متنازعہ فیہ تصنیف رہی ہے تو آپ کے ذہن میں کس کتاب کا نام آئے گا؟
آپ کی سہولت کے لیے اگر یہ اوربتا دیا جائے کہ ایسی کتاب جو گزشتہ چند صدیوں سے برصغیر ہند کے مختلف علاقوں کے گھروں اور مدرسوں میں نصابی کتاب کی حیثیت سے پڑھائی جاتی رہی ہے۔جسے مختلف زمانوں میں بے شمار افراد زبانی یاد کرتے رہے اور اس کے کئی اشعار پرانی نسل کے تعلیم یافتہ افراد کو آج بھی ازبر ہیں۔مزید آسانی کے لیے اگر یہ بھی بتا دیا جائے کہ ہندوستان میں پرنٹنگ پریس کا چلن ہونے کے بعد اس کتاب کے ان گنت ایڈیشن ملک کے مختلف علاقوں کے مطبعوں سے چھپتے اور فروخت ہوتے رہے ۔بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میںپھر اردو اور فارسی کے ایک معروف و ممتاز محقق نے اس کا زمانۂ تصنیف مشتبہ قرار دے کر اُس کے مصنف کا نام بدل دیا اور اس پر محققین کے درمیان برسہا برس تک یہ بحث چلتی رہی کہ وہ کس کی تصنیف ہے اور یہ بھی کہ وہ عہدِ سلطنت میں تصنیف کی گئی تھی یا عہدِ جہانگیر میں۔
اس کتاب کا نام اب شاید آپ کے ذہن میں آگیا ہوگا اور اگر اب بھی نہیں آیا تو آپ زچ ہوکر سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی سوال ہے یا امیر خسرو کی پہیلی۔
امیر خسرو کو پہیلیاں لکھنے کا بڑا شوق تھا۔ فارسی زبان میں لکھی گئی ’’ چیستانِ امیر خسرو‘‘ کتابوں میں محفوظ ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ محفوظ ہونے اور چھپ جانے کے باوجود عوامی حافظے کا حصّہ بننے سے قاصر رہیں لیکن  ان کے برعکس ہندوی میں لکھی ہوئی پہیلیاں عوامی حافظے میں رچ بس کر تواتر کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی ہیں۔کہی‘سنی‘پوچھی اور بوجھی جاتی رہی ہیں۔ان پہیلیوں کی خوش نصیبی یہ ہے کہ صدیوں تک عوام نے انہیں اپنے سینوں میں محفوظ رکھا اور بدنصیبی یا المیہ یہ ہے کہ زبانی روایات سے حیطۂ تحریر میں آجانے کے بعدہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بالخصوص قلم قبیلہ اُنہیں شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ فیصلہ سنانے میں تاخیر نہیں کرتاکہ صاحب یہ پہیلیاں امیر خسرو کی نہیں اور اگر ہیںبھی تو ان میں اتنا حک والحاق ہو چکا ہے کہ ان انھیں امیر خسرو کی تخلیقات نہیں مانا جا سکتا۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ۔ امتدادِ زمانہ سے کئی الفاظ‘فقرے یا مصرعے تبدیل ہوجانے کی وجہ سے امیر خسرو کی تمام ہندوی تخلیقات کے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ سو برسوں سے یہی سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ اس وقت میں جس کتاب کا ذکر کیا چاہتا ہوں اس کا عنوان خالق باری ہے جو اس نظم کے پہلے مصرعے ’’خالق باری سرجن ہار‘‘ کی وجہ سے پڑ گیا ہے۔ یہ منظوم کتاب اگر چہ امیر خسرو کی تالیف ہے لیکن الحاقی قراردے کر ان کے ہم تخلص ایک مطلق گمنام شاعر کی طرف منسوب کر دی گئی ہے۔
خالق باری کے تعلق سے متنازعہ مسئلہ یہی ہے کہ وہ کس کی تصنیف ہے ۔عہد سلطنت کے نامور اور بے مثال شاعر امیر خسرو کی یا عہد جہانگیر کے ایک گمنام شاعر ضیاء الدین خسرو کی!اس بات کا فیصلہ فارسی اور اردو شعرا کے قدیم تذکروں اور کتابوں کی بنیاد پر کیا جا سکتا تھا لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ امیر خسرو کا ذکر تو کئی تذکروں میں مل جاتا ہے مگر خالق باری کا ذکر ان کے ہم عصریا عہدِ قریب کے کسی بھی قدیم تذکرے میں نہیں ملتا۔ وجہ بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ خالق باری امیر خسرو کی کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں ہے اور نہ ہی اس کا یہ عنوان خسرو کا دیا ہوا ہے۔ دراصل یہ نام اس کے پہلے مصرعہ ’’خالق باری سرجن ہار‘‘کی بنیاد پر عوام میں مشہور ہوگیا تھا۔
خالق باری کا نام تحریری شکل میں سب سے پہلے ڈپٹی نذیر احمد کی تالیف’’نصابِ خسرو معروف بہ خالق باری‘‘ میں اور پھر محمد حسین آزاد کی فارسی تصنیف ’’نگارستانِ فارس‘‘ میں ملتا ہے۔ ان دونوں سے پہلے سراج الدین علی خان آرزوؔ کے یہاں بھی اس کا حوالہ ملتا ہے لیکن انھوں نے اس کے مشہور عام نام خالق باری کی بجائے اسے ’’ رسالہ منظومۂ خسرو‘‘ لکھا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے غالباً نذیر احمد ہی کے قلم سے اس منظومے کا معروف نام’’خالق باری‘‘حیطۂ تحریر میں آیا ہے۔اس کے لیے لفظ نصاب کا استعمال بھی پہلی بار ڈپٹی نذیر احمد نے ہی کیا ہے۔ لکھتے ہیں’’نصابِ خسرو جو خالق باری کے نام سے مشہور ہے ہندوستان میں بہت مروّج ہے۔‘‘
محمد حسین آزاد نے ’’نگارستانِ فارس‘‘ میں محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے’’ بعض لوگ خالق باری کو بھی انہی (امیر خسرو)کی تصنیف سمجھتے ہیں۔ ‘‘آزاد کے اس جملے سے واضح ہے کہ اس وقت تک وہ خود خالق باری کو امیر خسرو کی تصنیف نہیں مانتے تھے ۔اس کے چند سال بعد ’’آبِ حیات‘‘ لکھتے وقت ان کا موقف تبدیل ہوگیا جو شاید اس ضمن میں ان کی مزید تحقیق کا نتیجہ ہوگا۔’’آبِ حیات‘‘ میں امیر خسرو کا ذکر کرتے ہوئے آزاد ؔ نے لکھا ہے کہ خالق باری بھی اُنہی (امیر خسرو)کی مخلوقاتِ فکر سے ہے۔انیسویں صدی میں خالق باری کے متعلق محمد حسین آزاد کے تعلق سے یہ متضاد تحریری بیانات تنازعۂ خالق باری کا نقطۂ آغاز قرار دیے جا سکتے ہیں۔
خالق باری سے متعلق اس تنازعے نے بیسویں صدی میں ایک نئی شکل اختیار کر لی۔انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں تو یہ تنازعہ صرف اس سوال پر تھا کہ خالق باری امیر خسرو کی تصنیف ہے یا نہیں؟ محمد حسین آزاد نے اسے امیر خسرو کے مخلوقاتَ فکر میں سے ایک قرار دے کر گویا اس پر مہر صداقت ثبت کردی تھی ۔ ان کے بعد محمدسعید احمد مارہروی نے اپنی کتاب’’ حیاتِ خسرو‘‘(۱۹۰۸ء) اوراور رام بابو سکسینہ نے’’ اردو ادب کی تاریخ‘‘(۱۹۲۹ء) اور محمد امین عباسی چریّا کوٹی نے’’لالیؔ عمان موسوم بہ جواہر خسروی(۱۹۰۸ء) میں اسے امیر خسرو ہی کی تصنیف لکھا ہے۔
محمد امین عباسی کا’’ مقدمہ خالق باری‘‘ اس موضوع پر پہلا باقاعدہ مضمون ہے جس میں قیاسات و دلائل اور داخلی شہادتوں کی بنیاد پر خالق باری کو امیر خسرو کی تصنیف ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے۔جواہرِ خسروی کی اشاعت کے دس برس بعد(۱۹۲۸ء) میں اردو اور فارسی کے ممتاز محقق حافظ محمود شیرانی کی معرکتہ الآرا تصنیف ’’پنجاب میں اردو‘‘ منظر ِ عام پر آئی۔ اس میں امیر خسرو اور خالق باری کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ اس کتاب میں محمود شیرانی نے خالق باری کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جہاں محمد امین عباسی چریّا کوٹی کے قیاسات و دلائل پر کاری ضرب لگائی وہاں اس شبہے کا اظہار بھی کیا کہ خالق باری امیر خسرو کی تصنیف نہیں ہے۔ان کے مطابق:
’’اس کتاب(خالق باری) میں ہر قسم کی ترتیب کا التزام مفقود ہے۔مضمون‘الفاظ اور وزن میں کوئی ترتیب ملحوظ نہیں ۔ہندی الفاظ کے صحیح تلفظ کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔عربی‘فارسی اور ہندی الفاظ کے مترادفات التزاماً نہیں دیے۔ کبھی فارسی عربی پر قناعت کر لی اور کبھی صرف ہندی الفاظ پر۔۔پھر بھرتی کے الفاظ اس کثرت سے لائے گئے ہیں کہ الفاظ برائے بیت خالق باری کا وقیع پہلو بن گئے ہیں۔‘‘
یہی نہیں ،حافظ محمود شیرانی نے خالق باری کے متن کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد نہایت واضح الفاظ میں یہ بھی لکھ دیا کہ خسرو تخلص کسی اور شاعر کا بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی کہ وہ اس کتاب کو امیر خسرو کی طرف منسوب کرنا امیر کی ہتک سمجھتے ہیں۔
محمود شیرانی بڑے محقق ہیں۔ان کی اس تحقیق کا جو اثر ہونا تھا سو ہوا لیکن بیشتر اردوداں اُن کے دلائل و براہین سے متاثر ہونے کے باوجود یہ ماننے پر راضی نہ ہوئے کہ خالق باری امیر خسرو کی تصنیف نہیں ہے۔ اسی اثناء میں’’اللہ خدائی‘‘ نامی ایک مخطوطے کی دریافت ہوئی اس پر مسعود حسن رضوی کا ایک مضمون رسالہ ’’ہندوستانی ‘‘الہ آباد کے شمارہ جنوری ۱۹۳۱ء میں شائع ہواجس میں بتایا گیا ہے کہ ’ـ’اللہ خدائی‘‘ تجلی نامی کسی شاعر کی مولفہ منظوم لغت ہے۔جو خالق باری کے تتبع میں ۱۰۶۰ھ میں تصنیف کی گئی تھی۔ اس میںشاعر تجلی نے ’’در بیانِ سخن و سبب تالیف‘‘ عنوان کے تحت لکھے گئے اشعار میں حضرت نظام الدین ؒاور امیر خسرو کی روحوں سے مدد مانگی ہے؎(جاری)
بعد ازاں سرکنم بیانِ سخن
فضلہ گرد آورم ز خوانِ سخن
بہرِ مرغِ سخن نہا دم دام
مددی خواستم ز روحِ نظام
شاہد از لطفِ رحمتِ باری
روحِ خسرو نما یدم یاری
 ان اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ تجلی نے خالق باری پڑھی ہے ۔ وہ اسے امیر خسرو کی تصنیف مانتا ہے اور اس نے خالق باری سے متاثر ہوکر ہی’’ اللہ خدائی‘‘ لکھی ہے۔
’’پنجاب میں اردو‘‘ کی اشاعت کے بعد شعرو ادب کے قارئین اسی تذبذب میں مبتلا ہوگئے کہ وہ خالق باری کو امیر خسرو کی تصنیف مانیںیا نہ مانیں۔ کسی اعتقاد کا ٹوٹنا آسان نہیں ہوتا ۔ چند سال بعد ۱۹۴۴ء میں حافظ محمود شیرانی نے اس اعتقاد پر ایک اور کاری ضرب لگائی۔ اس سال ان کی تالیف’’حفظ اللسان معروف بہ خالق باری‘‘ منظرعام پر آئی جس کے سرورق کی تحریر کے ذریعے ہی واضح کردیا گیا تھا کہ خالق باری جو اب تک حضرت امیر خسرو کی طرف منسوب کی جاتی رہی ہے دراصل عہد جہانگیر کے ایک گمنام شاعر ضیاء الدین خسرو کی تصنیف ہے اور اُس کا اصل عنوان’’حفظ اللسان ‘‘ ہے۔
پہلے’’ پنجاب میں اردو‘‘ میں صرف شک و شبہ کا اظہار کیا گیا تھا اب تو ثبوت بھی پیش کر دیا گیا۔ محمود شیرانی نے اپنی اس تالیف پر ایک چھوڑ دو دیباچے تحریر کیے جن پر’’عرضِ ضروری ‘‘کی حیثیت مستزاد کی سی ہے۔’’عرضِ ضروری‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ دیباچۂ اوّل اس عالمگیر اعتقاد کی تردید ہے کہ خالق باری حضرت امیر خسرو دہلوی کی تصنیف ہے۔دیباچۂ دوّم میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ خالق باری کا اصل نام ’’حفظ اللسان ‘‘ ہے۔ یہ کتاب ضیاء الدین خسرو نامی شاعر نے جہانگیر کے عہد میں کسی حلوائی کی فرمائش پر لکھی تھی اور بوجہہ دو شاعروں کے اشتراک سے اس میں یہ مغالطہ پیش آیا کہ لوگ ضیاء الدین خسرو کوامیر خسرو دہلوی سمجھ بیٹھے ۔
محمود شیرانی بلاشبہ اردو اور فارسی کے نامی گرامی محقق ہیں اُن کی اس تحقیق نے ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ بیشتر لوگوں نے اُن کے انکشاف و دلائل کو تسلیم کر لیا اور خوب دادِ تحقیق بھی دی۔
۱۹۴۹ء میں محمد وحید مرزا کی انگریزی کتاب’’امیر خسرو‘‘ اردو میں بھی شائع ہوگئی۔ جس میں انھوں نے خالق باری کے تعلق سے موافق اور مخالف دلیلوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد دو ٹوک انداز میں لکھا ہے :
’’خالق باری یا اس کا زیادہ تر حصّہ امیر خسرو کی تصنیف ضرور ہے یہ دوسری بات ہے کہ امتداد زمانہ سے اس میں تصرف اور تحریف ہوتا رہا ہے اور بعض ہندی الفاظ کی شکل بدل گئی ہے۔‘‘
محمد وحیدمرزا نے اگر چہ اس بیان میں محمود شیرانی یا ان کی مرتبہ کتاب کا بظاہر کوئی حوالہ نہیں دیا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محمود شیرانی کے موقف کی تردید میں اٹھائی گئی پہلی آواز ہے ۔دلائل و ثبوت کا فقدان وحید مرزا کی بات میں وہ زور پیدا نہ کر سکا جسے محمود شیرانی کے موقف کا کاری جواب قرار دیا جاسکے۔یہ کام چند سال بعد ۱۹۶۲ء میں صفدر آہ نے خالق باری کے دو نادر مخطوطوں کی بنیاد پر سر انجام دیا۔ مذکورہ دونوں مخطوطے اس نسخے کی نقل ہیں جو امیر خسرو کی وفات کے چند سال بعد ۷۳۶ھ میں لکھے گئے تھے ۔ان دونوں مخطوطوں میں منقول قطعۂ تاریخ میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا جو اصل ماخذ کی اہمیت پر دال ہے۔صفدر آہ کی اس تحقیق کی تردید کسی نے نہیں ۔
۱۹۷۵ء میں یونیسکو کی تحریک پر دنیا بھر میں امیر خسرو کی سات سو سالہ تقریبات منائی گئیں۔اس موقع  پر امیر خسرو کی حیات اور کارناموں پر لاتعداد مضامین اور کئی کتابیں بھی شائع کی گئیں ان میں ممتاز حسین کی ایک قابل قدر تحقیقی تصنیف’’ امیر خسرو دہلوی‘‘ بھی ہے۔اس کتاب میں پہلی بار خسرو سے متعلق جن نئے حقائق کا انکشاف کیا گیا ہے ان میں خالق باری کا قضیہ بھی شامل ہے۔
ممتاز حسین لکھتے ہیں کہ’’ حفظ اللسان معروف بہ خالق باری‘‘ جس کا متن بقول محمود شیرانی اکثر و بیشتر انڈیا آفس کے ایک قدیم مخطوطے نمبر ۲۲۵ فہرست، مخطوطاتِ ہندوستانی کا مقلد ہے۔‘‘اور جو اِن کے دعوے کے مطابق ’’ایک قابل اعتماد اورمنتقدانہ اشاعت ہے‘‘۔قطعی قابل اعتبار نہیں کیونکہ محمود شیرانی امیر خسرو سے منسوب خالق باری کو ایک گمنام شخص ضیاء الدین خسرو کی تصنیف ثابت کرنا چاہتے تھے:
’’اس لئے انھوں نے اس پیوند کاری سے کام لیا کہ انڈیا آفس کے مخطوطہ نمبر۲۲۵ میں مولوی عبدالحق کے نسخۂ حفظ اللسان کا دیباچہ جوڑ دیا اور اسے بالکل نظر انداز کر دیا کہ ان دونوں میں کس قدر فرق ہے۔‘‘
انڈیا آفس لائبریری کے مخزونہ مخطوطے میں کوئی ترقیمہ نہیں ہے ۔ اس میں تمہیدی کلمات یا حرفِ آغاز تو کجا مصنف اور تصنیف کا نام تک نہیں ہے جبکہ مولوی عبدالحق کے فراہم کردہ مخطوطے میں کتاب کا نام ’’حفظ اللسان‘‘ اور مصنف کا نام ضیاء الدین خسرو تحریر ہے۔یہی نہیں اس کے تمہیدی فقروںاور آخری بیت میں بھی ’’حفظ اللسان ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔
عاقبت انجام و آخر چیہہ دیوا انصرام
کرد ایں حفظ اللساں را خسرو آخر والسلام
لہٰذا ممتاز حسین یہ کہنے میں حق بجانب نظر آتے ہیں کہ یہ دونوں مخطوطے دو مختلف تصانیف ہیں اور یہ بھی کہ انڈیا آفس لائبریری والے مخطوطے کو ’’حفظ اللسان‘‘ کا نام دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔
۱۹۷۵ء ہی میں رسالہ ’’اردو‘‘ کراچی میں افسر صدیقی امروہوی کابھی ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا تھا جس میں ’’حفظ اللسان معرف بہ خالق باری‘‘کے تعلق سے اسی حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے۔
خالق باری سے متعلق حافظ محمود شیرانی کے تحقیقی کارنامے کو سراہنے والوں کی کمی نہیں۔اس کی تردید کرنے والوں میں سب سے پہلے صفدر آہ کانام آتا ہے ان کے بعد وحید مرزا ،ممتاز حسین اور افسر صدیقی امروہوی نے بھی جو حقائق پیش کیے وہ ناقابلِ تردید قرار دیے جا سکتے ہیں۔موخرالذکر دونوں محققین کے پیش کردہ حقائق کو منظر عام پر آئے ہوئے چالیس برس سے زیادہ عرصہ گذرچکا ہے۔اس دوران میں ان سے اختلاف کی کوئی مثال سامنے نہیں آئی۔جمیل جالبی اور گیان چند جین نے اردو ادب کی جو تاریخیں لکھی ہیں ان میں بھی ثبوت و دلائل کی بنیادپر خالق باری کو امیر خسرو ہی کی تصنیف قرار دیا گیا ہے۔
خالق باری کا تنازعہ تقریباً ایک سو سال تک جاری رہا اس تنازعہ میں فارسی اور اردو کے کئی اہم اور نامور محققین کے نام دیکھنے میںآتے ہیں جو تواتر سے اس پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں ان ناموں میں محمد حسین آزاد، محمد امین عباسی،حافظ محمود شیرانی،مسعود حسین رضوی، محمد وحید مرزا،صفدر آہ، ممتاز حسین،افسر صدیقی امروہوی،گیان چند جین،جمیل جالبی اور گوپی چند نارنگ وغیرہ شامل رہے ہیں ۔خالق باری کے علاوہ کسی اور ادبی تنازعے میں اتنے محققین کی خیال کی کوئی اور مثال ملنی مشکل ہے۔راقم الحروف کے نزدیک تنازعۂ خالق باری بلاشبہ اردو کاسب سے بڑا اور طویل ترین ادبی تنازعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
حواشی
۱؎۔’’ نصابِ خسرو معروف بہ خالق باری‘‘: چوتھا ایڈیشن،مطبوعہ ۱۳۳۰ھ،دہلی۔
۲؎۔’’نگارستان فارس ‘‘۱۹۲۲ء میں تصنیف ہوئی لیکن اس کی طباعت و اشاعت آزاد کی وفات کے بعد ہوئی۔
۳؎۔حافظ محمود شیرانی: پنجاب میں اردو، قومی اردو کونسل ،ایڈیشن نئی دہلی ۲۰۰۵ء،ص۱۳۲۔
۴؎۔ ’’حفظ اللسان معروف بہ خالق باری‘‘ اس مخطوطے کا نمبر ۲۵۲ درج ہے۔
۵؎۔ ممتاز حسین ،امیر خسرو دہلوی،نئی دہلی ،۱۹۸۲ء ،ص
Prof. sadiq/ AGI/47-C, VIKASPURI,
New Delhi-110018, Mob: 9818776459
سابق صدر شعبۂ اردو،
دہلی یونی ورسٹی،نئی دہلی
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular