محمد مجاہد سیدعشق میں تیرے نقل مکانی کرنے والے خوب رہے
جینے والے خوب رہے ، اور مرنےو الے خوب رہے
رنج و الم ، آزار محبت، تیری گلی کا تھے انعام
تیرے ہجر میں سارے آہیں بھرتے خوب رہے
عشق و جنوں کی حقیقت سمجھو کیسا شاہد کیا مشہود
لوگو! صورت موج، لہو میں ابھرنے والے خوب رہے
جلتی پھلتی ریت پہ خیمے، ہاتھ دعا کو اٹھائے تھے
نوک سناں پر ذکر خدا کا، کرنےو الے خوب رہے
کوفہ و شام پڑاؤ تھے راہ کے، منزل کوئی اور ہی تھی
جاں سے گزر کے فراتِ جاں پہ اترنے والے خوب رہے
میر تو میر ہیں سید صاب ایلیا جون بھی کیا کم ہیں
بحر طویل میں مشق سخن سب کرنے والے خوب رہے
غزل
RELATED ARTICLES





