سکندر علی

میری آواز تم ہرگز دبا نہیں سکتے
میری آواز نکلتی ہے قلم کے ذریعے
ایسے ہی منفرد انداز میں اشعار لکھنے والےکلن بیرپوری 1جنوری 1930 میں اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں واقع بیرپور گاؤں میں پیدا ہوئے تھے ۔ان کے والد کا نام باؤر علی اور والدہ کا نام قدرتا تھا ۔ابتداء میں کلن اردو ہندی اور عربی زبان کی معمولی تعلیم ہی حاصل کر سکے بعد میں گھر پر وہ کتابوں سے علم حاصل کر تے رہے لہٰذا انکے علم میں اضافہ ہوتا رہا ۔وہ 1942میں جب ان کی عمر 12سال کی تھی جمیعتہ علماء ہند کے کارکنوں کی تقریر سے متاثر ہوۓ اور انکے اندر ملک کی خدمت کرنے کا حوصلہ پیدا ہو گیا ۔ ۔کلن بیرپوری ایک شاعر ایک مفکر اور ایک فلسفی بھی تھے کلن تاحیات اردو کی خدمت کر تے رہے ان کی زندگی مصیبتوں سے بھریں رہی وہ کہتے تھے کہ کوئی کام کرنے سے پہلے غور کرو کہ اس کام انجام کیا ہو گا۔
وہ ایک سچے محب وطن تھے اور عاشق رسول ﷺ بھی ۔
کلن بیرپوری کے چند اشعار پیش خدمت ہیں –
یہ عہد سیاست ہے اس عہد کو بھی دیکھو.
اس عہد میں کچھ کہنا تم سوچ سمجھ کر ہی.
نہ ہندی ہندو کی بھاشا نہ اردو ہے مسلماں کی.
یہ اردو برج نارائن کی تو ہندی جائسی کی ہے.
بھلا بدعنوانی کیسے ختم ہو ملک سے کلن
یہاں جب اکثریت سے ہو رہے اسکیم کے دھندھے.
اس عہد ترقی میں ہیں تو بہت وسائل
البتہ آدمی کی حاجت رواں نہ ہوتی.
سائنس سیکھئے اور فرنگی زبان بھی
مع اس کے علم دین کو حاصل بھی کیجئے ۔
کلن بیرپوری ایک بے لاگ اور بے باک شخص تھے ۔۔
جسکی ضمانت انکے مندرجہ ذیل اشعار دیتے ہیں ۔
میری آواز کے مدمقابل توپ کیا كلن
مسائل بم اور بارود سب خاموش ہوجاتے۔
كلن بير پپوری کے نظر میں سپاہی اورصحافی میں تھوڑا ہی فرق ہے سپاہی سرحد پر رہ کر ملک کی حفاظت کرتا ہے اور صحافی ملک کے اندر رہ کر ملک کی خدمت کرتا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو ۔
سپاہی اور صحافی میں فقط تفریق تھوڑا ہے
سپاہی سیما پہ لڑ تا صحافی ملک میں لڑتا۔
مگر انہوں نے کچھ صحافیوں کو تنقید ہدف بناتے ہوئے لکھا ۔
صحافی کا فریضہ ہے سچائی بیاں کرنا
مگر اب کچھ صحافی بق چکے ہیں عہد حاضر میں
کلن بیرپوری بھلے ہی ایک مشہور شاعر نہیں ہیں مگر انکے کچھ اشعار اردو زبان میں اہمیت کے حامل ہیں۔
بلآخر کلن بیرپوری 15فروری 2005مطابق 5محرم 1426ھجری بروز منگل کو اس جہان فانی کو الوداع کہ گئے۔
رابطہ نمبر ۔ 9519902612





