زبیر احمد قادری، دہلی
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اقبال جیسی نابغہ روزگار شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے اگرچہ اقبال پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن آج بھی ان کے کارناموں کا تذکرہ نامکمل ہے انھوں نے نیم مردہ ہوچکی قوم کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا اور پستی کے غار سے نکالنے کے لئے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا ۔اقبال کی شخصیت کثیرالجہت تہہ دار اور دلکش تھی وہ بیک وقت اصلاح معاشرہ کے علمبردار ہمدرد مصلح ،منفرد مکتوب نگار ،شاعر ،ادیب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ وہ ایک ایسی باوقار شخصیت تھے جو تمام ہندوستانیوں کی حالت زار ہر بالمعموم اور مسلح قوم کی پستی پر بالخصوص مثل سیماب بن گئے اور تادم آخر تک ان کی تحریریں بانگ درا کا کام دیتی رہیں ۔ اقبال کی عظمت یقیناً مسلم تھی اس ضمن میں سید عبداللہ لکھتے ہیں ؎
’’ اقبال ندرت سے ایک دانائے راز ،ایک مفکر اور ایک عارف کا مقدر لے آئے تھے جو مذہب تفویض کیا گیا تھا اس میں خلوت گزینی غور و فکر مراقبہ و تفکر لازمی تھے فکر کےموتی خلوت کے غواصی سے ہاتھ آتے ہیں محض فکر شعر بھی اس کا متقاضی ہوتا ہے اور حکمت عرفان تو دل کے بحرعمیق میں غوطہ لگائے بغیر دشواری سے ہاتھ آتے ہیں ۔ ‘‘(گیسوئے اردو صفحہ نمبر228)
اقبال ایک قادرالکلام شاعر اور مایہ ناز مفکر تھے انھوں نے اپنی شاعری سے ایک صور پھونکا جو مردہ تنوں میں جان ڈالنے کے لئے کافی تھا علامہ اقبال نے شعر وادب کے ذریعہ نہ صرف زبان اردو کی خدمت کی بلکہ کل انسانیت کے لئے فلاح کا راستہ دکھایا ۔
اوروں کا پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے دردمندوں کا طرز کلام اور ہے
اقبال نے اپنی شاعری میں کچھ فلسفے پیش کئے ہیں بعض انگریزی ادب سے بھی مستعار لئے ہیں جس کا ذکر علامہ اقبال نے صاف طور پر کیا ہے انہوں نے فلسفہ خودی، تصور شاہین ،تصور انسان ،تصور فلسفۂ حیات ،فلسفۂ حقیقت کائنات ،نظریہ وحدت الوجود ،فلسفہ عقل وعشق وغیرہ ہیں ۔

اقبال نے ابتداء میں حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنے وطن ہندوستان کی شان میں کئی نظمیں لکھیں وطنی اور قومی شاعری میں انھوں نے حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے کی کوشش کی ہے اور قوت کو دعوت عمل دی ہے ہندوستانی بچوں کا گیت ترانہ ملی، نیاشوالہ ،وطنیت ،خطاب بہ نوجانان اسلام،ہلال عید ، صدائے درد ،تصویر درد ، ترانہ ہندی اس کی عمدہ مثالیں ہیں ۔
اے ہمالہ ،اے صفیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
اقبال کی یہ نظمیں وطن سے والہانہ محبت اور عالمگیر اخوت کا جذبہ پیدا کرتی ہے ان نظموں میں اقبال نے قوم کو اتحاد کا پیغام دیا ہے اور خبر دار کیا ہے کہ اگر وہ متحد نہ رہیں تو قوم کا شیرازہ بکھر جائے گا ۔
اقبال کی شاعری قلب کو گرماتی اور روح کو تڑپاتی ہے ان کی شاعری میں ایک پیغام ہے درس ہے سبق ہے فلسفہ ہے جو انسان کو خدا پرستی کی طرف مائل کرتا ہے اپنی قوم سے ناامید نہیں تھے بلکہ وہ ہمیشہ عزم وحوصلہ دیتے نظر آئے ۔
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کا مل نہ بن جائے
ان کے تصورحیات میں عشق اور خودی کو بڑی اہمیت حاصل تھی وہ مرد مومن کو ان کی دوصفات سے لیس کرنا چاہتے تھے ۔ اقبال نے خودی کے ذریعہ خود شناسی اس کی حقیقت اور مقصد حیات کی طرف قوم کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے خودی اقبال کے الفاظ میں ۔۔
خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں سنجرل وطغرل سے کم شکوہ فقیر
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خودی کیا ہے راز درون حیات
خودی کیا ہے بیداری کائنات
خودی کے بعد اقبال کے مرد مومن میں عشق کو بڑی اہمیت حاصل ہے اقبال نے عشق کو وسیع معنوں میں استعمال کیاہے ان کے نزدیک عشق پاکیزہ اور طاقتور جذبہ ہے جو انسان کو عظمت انسانی کا درجہ عطا کرتا ہے اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کی طرف راغب کرتا ہے ب غور عشوق کا اشعار ملاحظہ کریں۔
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیرو بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزدم بدم
عشق کے مضراب سے نغمہ تار حیات
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں جو غلاموں پر اسرار شہنشاہی
اقبال کی شاعری میں تشبیہات و استعارات کی اپنی دنیا آباد ہے ان کی شاعری ذات سے کائنات کا احاطہ کرتی ہے اس لئے آفاقی شاعری کے زمرے میں آتی ہے اقبال کی شاعری دیم و جدید کا سنگم ہے جس میں عظیم ،عمیق جذبہ ،مشرق و مغرب سے واقفیت ،اسلامی و غیر اسلامی تصورات پر گہری نظر اور فلسفیانہ فکر وغیرہ شامل ہیں کلام میں اتنا درد پایا جاتا ہے کہ قاری کو بیچین و مضطرب کردیتا ہے اور یہی بے چینی اسے حب الوطنی انسانیت سے محبت، انسانیت اور انسانیت کا درد سکھاتی ہے بحر فن اقبال کی شاعری آفاقی شاعری ہے اقبال نے اردو شاعری کو ایک مقام اور ایک سند رطا کی ہے ۔
Mob:9990372105





