جرار رضا جائسی

آج ہندوستان میں اگر تمام افراد اگر کھلی ہوئی فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس میں مسلمانون کا بڑا کر دار ہے اس لئے کہ جس وقت آزادی کا نعرہ گونجا تو مسلمانوں نے اس آواز میں اپنی آواز ملا کر نعرئہ آزادی کو مظبو ط بنایا اور سب کے پہلے میدان عمل میں آئے ۔ٹیپوسلطان سے لیکر اشفاق اللہ خاں اور ان سے لیکر بیگم حضرت محل اور بیگم حضرت محل سے لئے کر مولانا آزاد تک تمام لوگوں نے آزادی کی لڑائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے پیارے وطن ہندوستان کو انگریزوں کے جال سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے اس آزادی کو حاصل کرنے میں جہاں مسلمانوںنے کارنامے پیش کئے وہیں ہندوستان کی اور بھی قومیں شریک رہیں مگر ان قوموں اور مسلمانوں میں ایک بنیادی فرق یہ تھا کہ وہ اپنی ریاستوں میں زیادہ محو رہتے اور مسلمانوں نے جنگ آزادی کے لئے نہ تو اپنی جان کی پرواہ کی اور نہ ہی اپنی حکومت کی یہاںتک کہ ایک کے بعد ایک مسلمانوںکی ریاست انگریزوںکے قبضہ میں جاتی رہی مگر ایک سچا وطن پرست اپنے ملک کو آزاد کرنے کی ہر ایک کوشش کرتا رہا اور یہی ایک سچے او ر عاشق وطن کی پہنچان بھی ہونا چائے کہ جان چلی جائے ، ریاست ختم ہوجائے ، تخت خاق میں مل جائے مگر دشمنوںکو اپنے ملک سے باہر نکال کر ہی دم لیا جائے او ر یہی ہو ابھی سب متحدہوئے ایک نے دوسرے سے ہاتھ ملایا نہ ہندو کا فرق رہا نہ مسلمان کا بس ایک سچے ہندوستانی ہونے کا ثبوت سب نے دیا جب ہاتھ ہاتھ سے ملا تب ایک دوسرے کے بازو مظبوط ہوئے اور جب بازو مظبوط ہوئے تو انگریزوں کی سمجھ میں یہ آگیا کہ یہ اب ہمارے مکر فریب میں آنے والے نہیں ہیں خیریت اسی میں ہیکہ ان کے ملک کو چھوڑ کر اپنے ملک کی طرف کوچ کیا جائے آخر وہ مبارک گھڑی بھی آئی جب فرنگیوں نے بھارت چھوڑا اور ہمارا ملک قید کی بندیشوںسے آزاد ہوا سب میں الفت تھی ایک جوش تھا ایک ولولہ تھا جشن آزادی منانے کا یعنی نہ کوئی ہندو نہ کوئی مسلمان بلکہ سب ایک ہی دھاگے میں پیروئے ہوئے موتی جس کو دیکھ کر یہ پتہ لگانا بہت مشکل تھا کہ ان میں کون کیا ہے ہندوستان آزاد ہوا اقتدارکی جنگ بھڑکی نتیجہ میں اقتدار کی حوس نے ایک بڑے ملک کو دو حصوںمیںتقسیم کر دیا ، جو تخت و تاج کے لالچی تھے انہوںنے ڈیڑ اینٹ کی مسجد الگ بنائی اور اس کا نام ہندوستان سے ہٹا کر رکھا جس کو وہاں جانا تھا وہ چلاگیا اور جو حقیقی محبت اپنے ملک سے کرتے تھے وہ آج بھی یہاں ہیں اور اگر آج بھی کوئی بات ملک پر آتی ہے تو وہ اپنی جان تک دینے کو تیار ہیں دوسر ا ملک ضرور بنا اکثر مسلمان حضرات وہاں پہونچ گئے اور کچھ یہاں رہ گئے اور جو یہاں رہ گئے انہوںاپنے ملک سے وفاکی اور جو چلے گئے کسی سبب سے انکے بارے میں تو نہیںکہا جا سکتاہے کہ انہوںنے ملک کے ساتھ غداری یا دھوکہ کیا ہے ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتاہے بازبان شاعر ،؛
کچھ تو مجبوریاںرہی ہونگیں
خیر جو گئے ان کا ذکر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ،ہاں جو رہ گئے انہوں نے ایک سچھے ہندوستانی ہونے کا ثبوت ضرور دیاجس طرح جنگ آزادی میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا اسی طرح آزادی کے بعد بھی جب ملک پر آنچ آئی تب بھی مسلمانوں نے ہی اپنی جان دے کر اپنے ملک کی حفاظت اس انداز میں کی جس کی مثا ل شاید کہیں نظر آئے کہ جب خود ساختہ ملک نے ہمارے وطن پر حملہ کیا تب ویر عبد الحمید نے اپنی جان کی بازی لگا کر ملک کو نئی آزادی سے نوازا اور ایک بات یہ بھی واضع کر دی کہ مسلمان آج بھی اپنے ملک سے اتناہی پیار کرتاہے جتنا تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان آزاد ہوا آزادی کا جشن ہر قوم نے ایک ساتھ منایا یعنی سب ایک ساتھ تھے تو یہ اچانک ہندو ،مسلم کی جنگ کہاں سے شروع ہوئی جب کی آزادی کی لڑائی میں دونوںقومیں برابر کی شریک تھیں تو بعدمیں یہ فرق کیوں؟ ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ چونکہ تقسیم ہند کے وقت تمام مسلمانوںکو ان کا حق دے دیا گیا اور ان کو ایک الگ ملک میں قیام پزیر کیا گیا لہٰذ ا ان کا تعلق اب یہاں سے ختم ہوتا ہے ٹھیک ہے بات سمجھ میں آتی ہے مگر یہ بات بھی قابل غور ضرور ہے کہ جمہوریت جب سے قائم ہو ئی ہے ہندوستان میں اس میں مسلمانوں کا ایک اہم کردار ہے اور آج بھی کوئی حکومت بغیر مسلمانوںکی حمایت کے عمل میں نہیںآتی تو جب حکومت بغیر مسلمانوں کی حمایت کے آنے سے قاصر ہے تو پھر یہ فرق کیسا کہ بے چارے مسلمان حکومت بھی بنائیں اور ریزرویشن کی بھیک بھی مانگیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہیکہ مسلمانوںمیں آج جتتی علم کی کمی ہے اتنا شائد ہی کوئی قوم علمی میدان میں پیچھے ہو اس کی بھی دو وجہ ہیں ایک حکومت کی پالیسی دوسرے خود انکی لاپرواہی ۔
حکومت کی پالیسی ایسے کہا جا سکتاہے کہ آزادی کے وقت مسلمانوںکی ریاستوںکی ایک بڑ ی تعداد تھی اور مسلمان حضرات بڑے بڑے عہدوںپر فائز تھے مگر جب یہ دیکھاگیا کہ اکثرعہدے ان کے پاس ہیں اور ریاستیںبھی ان کے پاس ہیں تو ان کا تسلط ختم کرنے کے لئے ریاستوں کو ختم کر دیا گیا اور سب کو ایک ریاست کے تحت کر دیا گیا جب ایک ریاست کے تحت ہوئے تو اقتصادی حالات کمزور ہوئے تو ہر میدان میں آخری صف میں جگہ نصیب ہوئی نتیجہ ہر جگہ ناکامی مقدر کا حصہ بن کر رہ گی مگر ہونا یہ چائے تھا کہ مسلمان ان حالات کا سامنا کرتا اور اپنے حالا ت کو سدھارتا بجائے اس کے اور حالات کاشکاار ہوتا چلاگیا کھبی ریزرویشن کے چکر میںتو کھی ووٹ کے چکر میں اپنے وقارکو کھوتا چلا گیا اب ضرورت اس بات کی ہیکہ ہر میدان میں اپنے قدم کو جمانا ہوگا اور ہر باطل طاقت کو اپنے پیروںتلے روند کر اپنی کھوئی ہوئی وراست کو حاصل کر نے کی بھر پور کوشش کرنا ہوگی یہ تب ہی ہوگا جب تمام پرستار توحید یکجہتی کا ثبوت دینگے کیونکہ ظالم کی طاقت اس بات پر کمر بستہ ہے کہ انکو فرقہ وارانہ فساد میں الجھائے رکھو اور اپنے مقصد میں کامیاب رہو کاش کی مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہو اور دشمن کی طاقت کو سمجھنے کی کوشش کرئے۔
مسلمانوںکی لاپرواہی ایسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اپنی ریاستیں لٹتے ہوئے دیکھ رہے تھے مگر کچھ کہنےسے قاصر تھے ریاست ختم ہوئی مگر صرف مسلمانوں کی نہیںبلکہ اور بھی قوموںکی بھی اور اگر آج اندازہ لگایا جائے تو معلوہوگا جن اور اقوام کی ریاستیں ختم ہوئیں وہ آج کہاںسے کہاں ہیں اور بے چارے مسلمان آج بھی وہیں ہیںجہاںپہلے تھے مگر نہ امید نہ ہونا چائے خدا مہر بان ہے اور سب کی مشکلیںحل کرنے والا ہے اور شاید یہی ہوابھی کہ مسلمانوںنے اتنے ستم اٹھانے کے بعد بھی امید کادامن نہیںچھوڑا ور خداپر بھرسہ کیا یہی وجہ ہیکہ ایک بار پھر مسلمانوںکی طاقت ابھر کر سامنے آرہی ہے ہر فرد ترقی کے منارے کو چھونے کی للک رکھتاہے او ر دشمن کو سبق سیکھانے کی امید کیونکہ آج کامسلمان بہ نسبت کاکے زیادہ بیدار ہے اور میدان عمل میں سرگرم بھی کیونکہ وہ یہ بات سمجھ چکا ہیکہ اگر آج بھی بیداری کا ثبوت نہیںدیا گیاتو حالات بد سے بدتر ہوجائینگے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جائنگے آج اس کی آواز پارلیمنٹت سے لیکر پوری کائنات میں گونج رہی ہے ساتھ ہی ساتھ نمائندگی کرنے والے افراد بھی نظرآتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح ہم نے آزادی کی لڑائی میںاتحادکا پیغام دیا تھا اور دشمن کو ملک سے باہر نکال پھینکا تھا اسی طرح آج بھی فرقہ پرستی کے نچلے او ر گھینونے حصہ سے اٹھ کر مسلمانوںکی فلاح کے لئے بیداری کاثبوت دیناہوگا اور ان لوگوں کو راہ دیکھانا ہوگی جو ہم کو آپس میں بانٹنا چاہتے ہیں مگر اس کو حالات کی مار ہی کہا جائے گا کہ بے چارے سیدھے سادھے افراد ان کے بہکاوے میں آکر ایسا کرتے ہیں مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو نظارہ کچھ اور ہی ہوتاہے یہی وجہ ہیکہ آج نہ جانے کتنے ایسے افراد ہیںجو بے جرم و خطا سلاخوںکے پیچھے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ صرف مسلماہیں۔وہ افرد جو محض شک کی بنا پرایک انسان کو ما ر دیتےہیں کہ اس نے ایک جانور کو قتل کیا ہےیا اس کا گوشت کھا رہا تھا اور اس کے جواب میں وہ انتظامیہ جو چابیس گھنٹہ میں اس مجرم کو بھی حاضر کر دیتی ہے اور اور جانور کو بھی مہیا کر ا ددیتی ہے جب کہ اسکی شناخت نہیںہوسکتی اور اگر وہ نہ ملے تو کسی کو کوئی دکھ بھی نہ ہوگا مگر داد و تحسین دینی ہوگی انتظامیہ کو کہ کوئی پہنچان نہ ہونے کے باوجود بھی وہ اس جانور ں کو ڈھونڈ نکالتی ہے مگر وہی انظامیہ جس نے اتنی بیداری کا ثبوت دیا آج اچانک اس کو کیا ہو جاتا ہے کہ ایک عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نجیب کا پتہ لگانے سے قاصرہے آخر اس کو کیا کہیں گے ؟کیا مسلمانوںکی اہمیت جانورں سے بھی بدتر ہے ؟ آخر نجیب کے گھر والوںکی آواز کیوںنہیں سنی جارہی ہے؟ اس سب کے پیچھے کیا سازش ہو سکتی ہے ؟اب بھی وقت ہے آنکھ کھول کو زندگی بسر کرنے کا عزم کریں اور آپس میں آواز ملاکر ایک دوسرے کو تقویت پہونچائیں تاکہ دشمن اپنی چال میں کامیاب نہ ہوسکے اور مسلمان پر امن و پر سکون زندگی گزارنے پر آمادہ ہو سکے۔





