Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldایک سچا فنکار ہی انسانی درد کوکاغذ پر کامیابی سے اتار سکتا...

ایک سچا فنکار ہی انسانی درد کوکاغذ پر کامیابی سے اتار سکتا ہے :گورنر رام نائک

ناول کئی چاند تھے سر آسماں اپنے طرز و تکنیک کے اعتبار سے ایک مہا بیانیہ ہے:پروفیسر عتیق اللہاردو فکشن اور کئی چاند تھے سر آسماں پرلکھنؤ یونیورسٹی میںڈاکٹرشمیم نکہت یادگاری خطبہ
معروف فکشن نگار ذکیہ مشہدی کو پچاس ہزار روپے ،شال اور مومنٹو پر مشتمل اردو فکشن ایوارڈ

ڈاکٹر ہارون رشید

ایک سچا فنکار ہی انسانی درد کوکاغذ پر کامیابی سے اتار سکتا ہے :گورنر رام نائکایک سچا فنکار ہی انسانی درد کوکاغذ پر کامیابی سے اتار سکتا ہے :گورنر رام نائکناول کئی چاند تھے سر آسماں اپنے طرز و تکنیک کے اعتبار سے ایک مہا بیانیہ ہے:پروفیسر عتیق اللہاردو فکشن اور کئی چاند تھے سر آسماں پرلکھنؤ یونیورسٹی میںڈاکٹرشمیم نکہت یادگاری خطبہمعروف فکشن نگار ذکیہ مشہدی کو پچاس ہزار روپے ،شال اور مومنٹو پر مشتمل اردو فکشن ایوارڈ  ڈاکٹر ہارون رشیدلکھنؤ۔۱۱؍مارچ۔ایک سچا فنکار ہی انسانی درد کوسمجھتا ہے اور وہ درد اسے بے چین کرتا ہے۔اور پھر وہ اسے کاغذ پر کامیابی سے اس طرح اتار ستا ہے ہے کہ پررھنے والا بھی اسے ویسے ہی محسوس کرتا ہے۔یہ آسان کام نہیں ہے۔جدائی کے بعد جو درد ہوتا ہے اسے بھی وہی سمجھتا ہے جس سے کوئی جدا ہوتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار اتر پردیش کے گورنر رم نائک نے آج لکھنؤ یونیورسٹی کے مالویہ ہال میں شعاع فاطمہ ایجوکیشنل ٹرسٹ و سوسائٹی کے زیر اہتمام ’’اردو فکشن ایوارڈ اور ڈاکٹر شمیم نکہت میموریل لکچر‘‘عنوان سے ہونے والی باوقار تقریب میں کیا۔تقریب میں بطور مہمان خصوصی سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے رام نائک نے ایوارڈ یافتہ افسانہ نگارذکیہ مشہدی کو’’اردو فکشن ایوارڈ‘‘ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میںنے الیکشن بھی جیتے اور وزیر بھی بنا۔ اس کی خوشی بھی ہوئی لیکن جب میری کتاب کو مہاراشٹر سرکار نے ایوارڈ کے لئے منتخب کیا تو اس وقت جو خوشی ہوئی وہ الگ ہی تھی۔اس لئے میں سمجھ سکتا ہوں کہ کہ جب کسی مصنف کو ایوارڈ ملتا ہے تو اس کے احساسات اور جذبات کیا ہوتے ہیں۔گورنر رام نائک نے بر سبیل تذکرہ پروفیسر شارب ردولوی سے سوال بھی کیا کہ آپ اور شمیم نکہت جی میں کون زیادہ خوش نصیب رہا ایک دوسرے کے کو پاکر۔ انھوں نے کہا کہ آج یہ خاص بات ہے کہ جس شخصیت کو ایوارڈ دیا گیا وہ بھی لکھنؤ یونیورسٹی کی طالبہ رہی ہیں اورجس کے نام پر دیا جا رہا ہے وہ بھی لکھنؤ یونویرسٹی کی طالبہ رہی ہیں۔اور جہاں دیا جا رہا ہے وہ بھی لکھنؤ یونیورسٹی کا مالویہ ہال ہے اور جو دے رہا ہے وہ بھی لکھنؤ یونیورسٹی میں پڑھ چکے ہیں یعنی پروفیسر شارب ردولوی۔اور یہ بھی بڑی بات ہے کہ اس تقریب میں لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور چانسلر بھی موجود ہیں ۔اس لحاظ سے بھی یہ تقریب بہت یادگار اور تاریخی ہو جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ میں شعاع فاطمہ کے اردو فکشن ایوارڈ کی پہلی تقریب میں بھی شریک ہوا تھا اور آج بھی یہ اعزاز میرے حصے میں آیا ہے اس کے لئے میں شارب ردولوی اور ان کے رفقائے کار کا شکر گذار ہوں۔انھوں نے کہا کہ یہ کہاجاتا ہے کہ عورت ہی عورت کا درد محسوس کر سکتی ہے ۔کیوں بھئی؟ کیا مرد محسوس نہیں کرسکتا۔انھوں نے کہا کہ دراصل ایک فنکار ہی کسی انسان کے درد کو بہتر طور پر محسوس کرتا ہے اور اسے دوسروں کو بھی محسوس کرانے کا ہنر جانتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔انھوں نے پروفیسر شارب ردولوی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ فکشن کے میدان میں کسی طرح کا ایوارڈ نہیں تھا پروفیسر شارب نے پروفیسر شمیم نکہت کی یاد میں اس ایوارڈ کو شروع کر کے ایک بڑا اور لائق تقلید کارنامہ انجام دیا ہے۔ تقریب گاہ میں گورنر کی آمد کے ساتھ ہی شعاع فاطمہ کی طالبات نے قومی ترانے سے تقریب کا آغاز کیا ۔مہمانوں کو گلہائے محبت پیش کئے گئے ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر عباس رضا نیر نے اپنے مضبوط شانوں پر لیا۔پروفیسر شارب ردولوی نے اپنے مختصر خطبہ استقبال میں مہمانوں کا خیر مقدم بھی کیا اور ان کاتعارف بھی کرایا۔انھوں نے کہاذکیہ مشہدی کے بارے میں کہا کہ آج جس شخصیت کو یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے ۔ان کی پیدائش ۱۹۴۴ء میں ہوئی باقاعدہ افسانہ نگاری کی ابتدا۱۹۷۴ء میں کی اور آج وہ اردو کی مشہور و معروف فکشن نگار ہیں ان کے چھہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں علاوہ بریں ان کا ایک ناول ’’پارسا بی بی کا بگھار‘‘ قسط وار شکل میں شائع ہو چکا ہے اور اب زیر طبع ہے۔پروفیسر شارب نے کہا کہ اس ایوارڈ کے لئے ملک کے بارہ ناقدین سے نام مانگے جاتے ہیں پھر ان ناموں پر لوکل جیوری غور و خوض کے بعد کسی ایک شخصیت کو منتخب کرتی ہے ۔اس سے پہلے  اردو فکشن ایوارڈڈاکٹر ترنم ریاض،سید محمد اشرف اور اقبال مجید کو دیا جا چکا ہے۔ذکیہ مشہدی نے ایوارڈ پاکر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک فنکار کی خدمات کا اعتراف اور اس کی حوصلہ افزائی کے لئے ہوتا ہے۔معروف ناقد پروفیسر عتیق اللہ نے ڈاکٹر شمیم نکہت یادگاری خطبہ بعنوان’’فکشن کی تنقید اور کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری نظر سے اب تک جتنی تحریریں اس ناول کے تعلق سے گذری ہیں ان کو پڑھ کر یہی گمان ہوتا ہے کہ بہتوں نے ناول کا بالاستیعاب مطالعہ کئے بغیر اپنی اچھی بری رائیں دی ہیں۔انھوں نے کہا کہ  سچ تو یہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کا ناول’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘اپنے طرز و تکنیک کے اعتبار سے ایک مہابیانیہ ہے جو چھوٹے چھوٹے بیانیوں کے درمیان اپنی ایک الگ ہی ڈھب دکھا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ فاروقی کے احساس جمال میں جو شدت ہے اس کا مظاہرہ وہ بار بار کرتے ہیں۔جہاں موقع ملتا ہے وہ وزیر خانم کی ایک نئے زاوئے سے شبیہ سازی کرنے لگتے ہیں اس طرح انھ وں نے وزیر خانم کے ایک ایک عضو ایک ایک  جنبش اور ایک ایک پہلو اور ایک ایک رخ کو اپنے تخیل کی غٰر معمولی قوت سے کچھ اس طور پر کھینچا اور سینچا ہے کہ ان کی سانسوں کی دھمک تک اس میں سنی جا سکتی ہے۔پروفیسر عتیق اللہ نے فاروقی کی کردارنگاری کا بھی بھر پور تجزیہ کرتے ہوئے کہا ’’وزیر خانم‘کے بارے میں کہا کہ ایک طرف تو حسن اس پری وش کا اور پھر بیاں فاروقی کا۔انھوں نے کہا کہ فاروقی کی لفظی شبیہ سازی شعریت سے بھر پور منھ بولتی صناعی کا نمونہ ہے جس میں جتنی لطافت ہے اتنی ہی وہ پر جلال بھی ہے ۔پروفیسر عتیق اللہ نے کہا ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘کی زبان موجودہ فکشن کی زبان سے مختلف اور ہماری داستانوی زبان اور اسلوب کی باز کشی کا تاثرزیادہ فراہم کرتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ پہلا ڈاکٹر شمیم نکہت میموریل لکچر نظریہ ساز نق اد شمس الرحمن فاروقی نے دیا تھا اور دوسرا ڈاکٹر شمیم نکہت میموریل لکچر شمس الرحمن فاروقی کے مشہور زمانہ ناول کے حوالے سے فکشن کی تنقید پر ہوا۔ حیدر آباد سے آئے مہمان پروفیسر محمد ظفر الدین نے ڈاکٹر شمیم نکہت کے تعارف میں اپنا مقالہ بعنوان ’’شجر سایہ دار پروفیسر شمیم نکہت:ہجرت نہیں مراجعت‘‘ پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمیم نکہت لکھنؤ میں پیدا ہوئیں اور یہیں تعلیم حاصل کی ۔پروفیسر احتشام حسین کی نگرانی میں انھوں نے ’’پریم چند کے ناولوں میں نسوانی کردار‘کے موضوع پر ۱۹۶۳ء میں پی ایچ ڈی کی اور اسی برس وہ دہلی یونیورسٹی میں لکچرر بھی ہو گئیں۔ انھوں نے شمیم نکہت کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  پروفیسر شمیم نکہت کی تخلیقی علمی اور تحقیقی زندگی پر نظر ڈالیں تو ان کی سات کتابیں شائع ہوئیں،سینکڑوں مضامین رسائل و جرائد اور سمیناروں کے لئے لکھے۔لیکن ان سب کاموں پر سوا  ان کے وہ کام ہیں جو انھوں نے سماجی  و تعلیمی میدان میں انجام دئے ہیں۔دہلی کے طلبہ کبھی انھیں بھلا نہیں پائیں گے۔اور میرا یقین ہے کہ شعاع فاطمہ اسکول اور کالج کے طلبہ بھی کبھی انھیں زمانے کی یادوں سے مٹنے نہیں دیں گے۔یہی ان کی سب سے بڑی کمائی ہے۔ لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایس پی سنگھ نے منتظمین تقریب اور ایوارڈ  یافتہ ذکیہ مشہدی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک وائس چانسلر کی حیثٰت سے کتنی خوشی ہو رہی ہے یہ بتانے کے لئے میرے پاس لفظ نہیں ہیں کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبہ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہند بھی اپنی علمی و ادبی خدمات سے لکھنؤ یونیوسٹی کا نام روشن کیا ہے۔پروفیسر شمیم نکہت،پروفیسر شارب ردولوی اور ذکیہ مشہدی جیسی شخصیات ایک روشن مثال ہیں ۔انھوں نے اس موقع پر لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر اور ناظم پروگرام ڈاکٹر عباس رضا نیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ کی سرپرستی اور نگرانی میں بھی شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی نئی نسل کی ایسی ہی تربیت کرتا رہے گا ۔ شعاع فاطمہ ایجوکیشنل اینڈ چیرٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے اس موقع پر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر افسانہ نویسی کا مقابل بھی کرایا گیا جس میں کل پچاس کہانیاں شامل ہوئیں ان میں سے چھہ کہانی کاروں سامعہ فہیم،مریم اعظمی،عابدہ کلیم،شاداب براہیم،بشریٰ ظفراورشمس العارفین کوانعام کے طور پر نقد رقم اور توصیفی سند سے نوازا گیا ۔ان طلبہ نے اپنی کہانیوں کے خلاصے بھی پیش کئے۔ساتھ ہی ڈاکٹر ریشماں پروین،اجے کمار سنگھ،یاس جمال اور میرا ترپاٹھی کو بھی تقریب میں اہم معاونت کے لئے اعزاز سے نوازا گیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر یاسمین انجم نے کلمات تشکر اداکئے۔اس موقع پر ڈاکٹرعمار رضوی،پروفیسر آصفہ زمانی،رضوان احمد،(سابق ڈی جی پی)ڈاکٹر انیس انصاری،پروین طلحہ،ولایت جعفری،ڈاکٹر رخسانہ نکہت لاری،پروفیسر صابرہ حبیب،ڈاکٹر صبیحہ انور،پروفیسر سید شفیق اشرفی،ڈاکٹر اقتدارحسین فاروقی،ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی،ڈاکٹر احمد عباس ردولوی،ابوالحسنات،ڈاکٹر اکمل،ڈاکٹر جہاں آرا سلیم ،ڈاکٹر طارق قمر،ڈاکٹر عشرت ناہید،ڈاکٹر نور فاطمہ،ڈاکٹر سلطان شاکر ہاشمی،ڈاکٹر جاں نثار جلال پوری،ڈاکٹر فردوس جہاں،ڈاکٹر شبنم رضوی،عارف محمود،عائشہ صدیقی،سلام صدیقی،ڈاکٹر پروین شجاعت،احمد عرفان علیگ،سلمہ حجاب،سعید مہدی،شنے نقوی،پردیپ کپور،غزالہ انور،شہانہ عباسی،ڈاکٹر خورشید جہاں،ڈاکٹر ارشاد،ایچ ایم یاسین،روبینہ مرتضیٰ،شکیل صدیقی،یاسمین انجم،ڈاکٹر اسلم اور ڈاکٹر بیگم نور جہاں کے علاوہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور شہر نگاراں کے صاحبان ذوق کی بڑی تعداد موجود تھی۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular