Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldیاد اس کی اتنی خوب نہیں۔۔۔۔

یاد اس کی اتنی خوب نہیں۔۔۔۔

پروفیسرشارب ردولوی

1965 میری زندگی کا سب سے اہم سال تھا اس سال مجھے دو انعامات ملے شمیم نکہت میری زندگی کا حصہ بنیں اور مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی، یہ دونوں چیزیں ایسی تھیں جنہوں نے میری زندگی کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ میں ایک لاوبالی انسان تھا، بچپن ہی میں شعر کہنے لگا تھا۔ مشاعروں میں مارا مارا پھرتا، ابّا ( مولوی حکیم حسن عباس) کہتے تھے کہ ’’ تم نے بعض باتیں وقت سے پہلے شروع کردیں‘‘ میرے خیال میں وہ سبھی بچے جو اپنی سمت کا تعین نہیں پاتے ایسے ہوتے ہوں گے جن کی مائیں بچپن میں انتقال کرجاتی ہیں۔ ( میں ڈھائی تین برس کا تھا جب میری والدہ کا انتقال ہوا۔) میری اْس وقت کی یہ بے سمتیت اسی کا نتیجہ رہی ہوگی۔
دیال سنگھ کالج ( دہلی یونیورسٹی) میں ملازمت کے بعد میں نے مشاعروںمیں شرکت بند کردی تھی اس لئے کہ مشاعرے کی شب بیداری کے بعد طلباء کے نصاب کے ساتھ میں انصاف نہیںکرسکتا تھا لیکن حلیہ وہی شاعروں والا تھا جس کی طرف شمیم نے متوجہ کیا۔وہ خود بہت وضعدار، خوش اسلوب اور شائستہ تھیں وہ شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی میںلکچرر تھیں آخر میں پروفیسر اور صدر شعبہ ہوئیں۔ لیکن ان کے یونیورسٹی کے 38 سال کے تعلق میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھاکہ ان سے کسی کو تکلیف پہنچی۔ہر ایک کے ساتھ ان کا بے حد مخلصانہ برتاؤ تھا۔ انہوں نے اپنی عمر سے بڑے لڑکوں کو بھی پڑھایا۔ ہم عمر اور کم عمر کو بھی ، لیکن سب ان کا اتنا احترام اور ان سے اتنی محبت کرتے تھے کہ رٹائرمنٹ کے بعد ہر ایک کی یہی کوشش تھی وہ لکھنو واپس جانے کا فیصلہ ترک کردیں۔
شمیم بے حد سلیقہ شعار تھیں، ہم لوگ جب لکچرر ہوئے اس وقت ہمارے گھروں کی حالت بہت اچھی نہیںرہ گئی تھی۔ میرے والد ریٹائر ہوچکے تھے۔ جائیداد سے انہوں نے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا تھا اور وہ بھی خاتمہ زمینداری کی نذر ہوچکی تھی۔ شمیم کے والد بھی ضعیفی کی وجہ سے جنگلات کی ٹھیکیداری ختم کرکے لکھنؤ واپس آگئے تھے۔ان لوگوں کی کوئی ایسی ضرورت نہیں تھی جس میں انہیں ہماری مدد درکار ہوتی لیکن ہم لوگوں کو خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھا اسی لئے شادی (14اکتوبر 1965) کے بعد جب ہم لوگ دہلی واپس آئے تو دیال سنگھ کالج اور شعبہ اردو دونوںکے ساتھیوں کا مطالبہ ہوا کہ ولیمہ میں انھیں نہیں بلایا گیا تو یہاں تو ایک دعوت ہونی ضروری ہے۔ مطالبہ درست تھا۔ میرے پاس اس وقت لاجپت نگر میں ایک کمرے کا مکان تھا۔ شمیم نے کہا کہ کسی ہوٹل میں سب کی ایک ساتھ دعوت کرنا مشکل ہوگی اس لئے کیوں نہ قسطوں میں لوگوں کو بلایا جائے۔ 5۔7لوگ آسانی سے اس کمرہ میں بیٹھ سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اور کھانا۔۔۔۔۔
’’میں خود پکالوں گی۔ انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
بہت مشکل بات ہے : میں نے کہا
مشکل تو ہے لیکن ایک نئی بات کرنے میں کیا ہرج ہے۔ ہوٹل میں دعوتیں تو سب کرتے ہیں ، مزا آئے گا، کچھ آپ مدد کیجئے گا۔آخر ہم لوگوں نے خاندانی روایتوں کو توڑ کر شادی بھی تو کی ہے تو ایک روایت اور سہی، چلئے ٹھیک ہے پہلے شعبہ کے لوگوں کو بلائیں اس کے بعد کالج والوں کو۔
شعبۂ اردو کے اساتذہ کو مطلع کردیا۔ لوگوںکو بھی ان بے تکلف دعوتوں میں بڑا لطف آیا پھر شمیم کے کھانا پکانے کے ہنر کی بھی بڑی تعریف ہوئی۔ ان دعوتوںمیں ایک لطیفہ یہ ہوا کہ خواجہ احمد فاروقی صاحب کو گھر نہیں معلوم تھا اس لئے ان کو اور ڈاکٹرمغیث الدین فریدی وغیرہ کو لے کر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی اور ڈاکٹر صدیق الرحمن قدوائی آئے۔ ظہیر احمد صدیقی اور صدیق الرحمن قدوائی پہلے دعوت میں شرکت کرچکے تھے بس پھر کیا تھا فریدی صاحب نے جن کو موقع کی تلاش رہتی تھی فوراً ایک شعر کہہ دیا:
آفریں بر ظہیر و قدوائی
ایک دعوت تھی دو دفع کھائی
اور پھر اس شعر کی گونج بہت دنوں تک یونیورسٹی اور کالجوں میں سنائی دیتی رہی۔
شمیم بہت جرأت مند اور نڈر تھیں۔ میںمشکل موقعوں پر بہت جلد گھبراجاتا ہوں لیکن سخت سے سخت مرحلہ بھی ان کی قوت ارادی کو ہلا نہیں پاتا تھا ایک تو انہیں فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگتا تھا۔ شادی کے بعد چار چھ ہفتوں تک ہر اتوار کو دعوتوں کا سلسلہ رہا اور وہ پلاؤ ، زردہ ، فیرنی ، کباب ، شیر مال ، غرض سارے کھانے خود پکاتیں اور کبھی شکوہ نہیں کیا۔ اسی طرح ایک مشکل موقع ہم لوگوں کیلئے اس وقت آیا جب شعاع علی گڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی اور وہاں شہر میں فساد کی وجہ سے ہاسٹل طلباء سے خالی کرالئے گئے صرف چند لڑکیاں رہ گئیں علی گڑھ شہر میں کرفیو تھا۔ شعاع سے دن میں کئی بار ٹیلی فون پر بات ہوتی رہتی تھی۔ اس کو آفس میں بلوا کر فون کرنا ہوتا تھا ایک شام شمیم بات کررہی تھیں کہ اس نے کہا :
’’امّاں فسادی باہر کا گیٹ ڈھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں سب لوگ اِدھر سے گیٹ کو روکے ہوئے ہیں میں جارہی ہوں یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا۔ شمیم نے مجھ سے کہا میں کہ فورا ً علی گڑھ جانا چاہتی ہوں میں نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلوں گا انھوں نے کہا نہیں میں تنہا جاؤں گی آپ کا جانا مناسب نہیں۔ صبح 5 بجے پہلی ٹرین ہے آپ مجھے اس میںبٹھا دیں میں نے صبح انھیں ٹرین میںبٹھا دیا۔ وہ جب علی گڑھ اسٹیشن پر اتریں تو مسافر کوئی نہیں تھا صرف پولیس کے لوگ تھے ایک آفیسر نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کہاں جائیں گی شہر میںکرفیو ہے۔
مجھے آپ کے ڈی ایم کے گھر جانا ہے ، مجھے وہاں تک پہنچادیجئے۔
آفیسر نے چند پولیس والے اور جیپ فراہم کردی اور انہیں حکم دیا کہ انہیں ڈی ایم صاحب کے گھر چھوڑ دیں۔ ڈی ایم کی بیوی نے ایک اجنبی عورت کو اپنے سامنے دیکھا تو انہیں تعجب ہوا لیکن شمیم نے فوراً اپنا تعارف کرایا کہ میں دہلی یونیورسٹی میں لکچرر ہوں اور آپ سے ایک کام ہے اور پھر انہوں نے شعاع کے بارے میں اور اس کو یہاں سے واپس لیجانے کے سلسلے میں ان سے مددمانگی۔ انھوںنے مسکراکرکہا:’’آپ بہت ہمت والی ہیں۔ پہلے آپ ناشتہ کیجئے ، مَیں انتظام کرتی ہوں ‘‘۔ انھوں نے کیاکس سے کہا، یہ معلو م نہیں ، لیکن تھوڑی دیرمیں انھوںنے کہاکہ ’’آپ ہاسٹل چلی جائیں، گاڑی موجود ہے۔ لیکن ایک شرط ہے کہ آپ واپس یہیں آئیں گی، میرے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاکرجائیں گی‘‘۔
جب وہ خیریت سے شام کو دہلی آگئیںتومَیں نے دریافت کیاکہ’’ تمہارے ذہن میںڈی ایم کی بیوی کیسے آگئیں؟‘‘۔ انھوںنے کہا:’’جب مَیں یہاں سے نکلی تھی توفیصلہ کرکے نکلی تھی کہ اس کام میں ڈی ایم کی بیوی کاسہارالوں گی۔ ڈی ایم ایک سرکاری افسرہے۔ ان سے کچھ کہنا اس لیے بے کار ہے کہ وہ حالات کے مطابق جواب دیں گے۔’’یہ ممکن نہیں ہے آپ دوسری ٹرین سے واپس جائیے۔‘‘ لیکن ان کی بیوی ایک عورت ہیں، وہ میرے دکھ اورپریشانی کوسمجھ سکتی ہیں۔ اور یہی بات کام آئی۔ عبداللہ ہال میں بھی سب کوتعجب تھاکہ مَیں کیسے آگئی؟‘‘
شمیم کامزاج تھا کہ وہ جوکچھ طے کرلیتی تھیں اسے کرنے سے انھیں کوئی روک نہیں سکتاتھا۔ شعاع کہتی تھی میری اماں سب کچھ کرسکتی ہیں۔لیکن ان کی یہ سختی خود اپنے اورمیرے معاملے میں ہوتی تھی، باہروالوں سے نہیں۔ وہ عام طور پر افسانے یا مضامین رات میںلکھتی تھیں اورجب کوئی چیز شروع کردیں ، وہ افسانہ ہو، ریڈیوٹاک ہویامضمون ، بغیرختم کئے وہ نہ سوسکتی تھیں، نہ لیٹ سکتی تھیں۔ یہ اکثر ہی ہوتا تھاکہ انھیں ریڈیوکے لیے کوئی ٹاک یاافسانہ لکھناہے ، صبح ریکارڈنگ ہے ،رات میں لکھنے بیٹھتیں۔ گیارہ بجے تک میں بھی پڑھتالکھتارہتا، اس کے بعد میں کہناشروع کردیتاکہ اب اسے بندکرو، صبح مکمل کرنا۔ ریکارڈنگ گیارہ بجے ہے، بہت وقت رہے گا۔
سراٹھائے بغیرجواب دے دیتیں :’’آپ سوجائیں ، میں مکمل کرکے سوجاؤں گی‘‘۔ اورمیں صبح دیکھتا، نہ صرف یہ کہ انھوں نے افسانہ مکمل کرلیا، بلکہ اس کی فیئرکاپی بھی وہاں جمع کرنے کے لیے تیارکرلی۔ وہ افسانے بہت لکھتی تھیں۔ ان کے افسانے ہندی اورپنجابی میں بھی شائع ہوئے۔ لیکن کتاب کی اشاعت اوراپنی تحریرکے شورشرابے اوردکھاوے میں انھیں ذرابھی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے افسانوں کاایک مجموعہ’’ دوآدھے‘‘کے نام سے شائع ہوا۔ کہتی تھیں’’ہم لوگ آدھے آدھے ہیں،مل کرایک ہوئے ہیں۔‘‘ پنجاب میں ہندو، سکھ فسادات پر ان کا ایک افسانہ بھی اس عنوان سے تھا جو ہندی ،پنجابی اورکئی زبانوں میں شائع ہوا۔ لیکن شعاع کے انتقال کے بعد وہ بالکل ٹوٹ گئیں، بلکہ برسوں ان کی آنکھوں کے آنسونہیں رکے۔ وہ شمیم ہی نہیں رہ گئی تھیں۔ میں سمجھاتاتھاکہ شمیم قلم اٹھاؤ، اپنی زندگی اورشعاع پرہی ایک ناولٹ لکھ ڈالو، لیکن کوئی جواب نہیں دیتیں۔ ان کی پروفیسرشپ کاانٹرویوتھا، میں نے کہا:’’تمہارے بہت سے مضامین ہیں۔ انھیں اکٹھاکردو۔ انٹرویو سے پہلے میں چھپوادوں گا‘‘۔ کہتیں :’’مجھے ضرورت نہیں ہے۔ انٹرویوبھی میں کس کے لیے دینے جاؤں؟‘‘۔
’’ میرے لیے ‘‘، میں کہتا۔
آخرکارمیں نے ہی مضامین جمع کیئے۔ بڑی مشکل سے پیش لفظ لکھوایا۔ انتساب انھوںنے شعاع کے نام کیا اور ’’تاثرات ‘‘کے نام سے کتاب شائع ہوگئی۔ انھوںنے کام بہت کیا۔ اپنی تدریسی اورگھریلو ذمہ داریوں کے باوجود انھوں نے Non-Urdu Knowing Students کے لیے ابتدائی تین مدارج تک کی کتابیں لکھیں۔ ان کے تدریسی کلاسیز صبح آٹھ بجے ہوتے تھے۔ میں شروع میں لاجپت نگرمیںرہتاتھا۔ جو یونیورسٹی سے پندرہ بیس کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔ اوراس زمانے میں دوبسیں بدل کر یونیورسٹی پہنچنا ہوتاتھا۔ لیکن کبھی وہ ایک منٹ کی بھی تاخیرسے نہیں پہنچیں۔ اوریہ صورت ریٹائرمنٹ تک رہی۔کبھی کلاس میں نہ تاخیرسے پہنچیں ، نہ کلاس چھوڑا۔ جاڑوں میں کبھی کبھی وہ فیکلٹی کے دروازے کھلنے سے پہلے یونیورسٹی پہنچ جاتی تھیں۔ اورچوکیدارکوخود بلاکر دروازہ کھلواتیں۔
لکھنؤ آکر بھی وہ بہت فعال رہیں۔ ہم لوگوں نے شعاع کے نام سے ایک اسکول قائم کیا شروع میں تو اس میں 5 ہی بچے تھے لیکن رفتہ رفتہ بچے بڑھتے گئے ہم نے دہلی کا فلیٹ فروخت کرکے ایک بڑی زمین خرید لی اور رٹائر منٹ میں ملنے والی رقم سے شعاع کے نام سے ایک تعلیمی وفلاحی ٹرسٹ قائم کردیا اسکول، ہائی اسکول ہوا پھر انٹر کالج بن گیا تین کمروں سے تیس کمروں کی بلڈنگ ہوگئی،وہ بھی خوش رہنے لگیں اسکول کے بہت سے معاملات خود دیکھتیں۔صبح آٹھ بجے میرے ساتھ کالج آجاتیں بچوں کی تعلیم تمیزاورتہذیب کی طرف بہت سختی سے دھیان دیتیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دسویں اور بارہویں کی لڑکیوں کا رزلٹ سوفیصد فرسٹ ڈویزن آنے لگا۔انہوں نے خود کرامت حسین گرلس کالج میں پرائمری سے بی اے تک تعلیم حاصل کی تھی اس کی پرنسپل ڈاکٹرروشن جہاں ان کی آئیڈئیل تھیں ان کے سارے قوانین انہوں نے اپنے کالج میں نافذ کررکھے تھے۔
اِدھر 9 دسمبر 2015 سے گردوں کی بیماری اور ڈائیس نے انھیں بالکل توڑ دیا۔وہ بہت بہادر تھیں میرے سامنے یوں بھی اپنی تکلیفوں کاذکر بہت مجبوری میں کرتی تھیں انہیں معلوم تھا کہ میں بہت کمزور ہوں انہیں کئی بار ایسے آپریشن سے گزرنا پڑا جس میں مقامی طور پرنہ بے حسی کا انجکشن دیا گیا اور نہ بیہوش کیا گیا۔ایسے موقعوں پر میں اور میرے دوست وقار مہدی رضوی ہوتے تھے وہ تھوڑی دیر کراہتیں، ان کے آنسو نکل آتے لیکن ذرا دیر میں اپنے اوپر قابو کرلیتیں۔ان کے گلے پر ’پر ما کیپ‘ لگانے کے لئے جب آپریشن ہوا تو وقار صاحب بھی ان کی تکلیف کو نہیں دیکھ سکے۔
شمیم کہہ رہی تھیں۔’’یہ روز کا مرنا کہاں تک برداشت کروں آج مجھے جتنی تکلیف ہوئی اتنی زندگی میں کبھی نہیں ہوئی میری ڈائیلسس بند کرادیجئے معذور ہوکر جینے سے کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
’’تم معذور کہاں ہو آج تم کو تکلیف بہت ہوئی لیکن ’فسچولا ‘سے ہفتہ میں دوبار جو تکلیف اٹھا نی پڑی تھی وہ اب نہیں ہوگی۔
’’آپ کو کیا معلوم مجھے کتنی تکلیف ہے آپ کے پاس تو ہر بات کا جواب موجودہے۔‘‘وہ شکایتاً کہتیں ۔
ہر وقت انہیں سمجھانا اور ان کے ذہن کو بیماری کی شدت کی طرف سے ہٹانا میراکام تھامیں انھیں نہیں بتا سکتا تھا کہ اس طرح بات کرنے میں خود مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ ادھر چند ماہ سے ان کی طبیعت بہت ٹھیک تھی ہر وقت کوئی نہ کوئی پلاننگ کرتی رہتی تھیں کبھی کہتیں اجمیر شریف چلئے ،کبھی کہتیں دہلی چلیں ایک دن میرے پاس پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان کے لئے خط آیا میں نے ان کی بیماری کی وجہ سے باہر جانا چھوڑ دیا تھا۔دریافت کیا کہاں سے خط آیا ہے ! حید رآباد سے ، پی ایچ ڈی کا وائیواہے لیکن میں تو اب کہیں جاتاہی نہیں ہوں۔
’’ نہیں چلئے اس بار میں آپ کے ساتھ چلوں گی۔دودن رہ کرڈائیلسس کے دن واپس آجائیں گے۔وہاں ظفرالدین ہیں،نیلوہیں ،(ڈاکٹر مسرت جہاں) ہیں،کہکشاں ہیں (یہ سب ان کے اسٹوڈنٹس ہیں جو اب پروفیسر اور صدر شعبہ ہیں )بڑا اچھالگے گا۔‘‘
دوائیاں ان کی اتنی زیادہ تھیں کہ ان سے ہروقت عاجز رہتی تھیں۔صبح ناشتہ کے بعد دس ٹکیاں اور کیپسول،اسی طرح دوپہر اور رات میں دوائیں، میں دوائیں نکال کر ہتھیلی پر رکھ دیتا اورکہتا دوا کھا لو۔لیکن وہ آدھا آدھا گھنٹہ دوا لیے بیٹھی رہتیں۔
’’شمیم میں پانچ بار کہہ چکا ہوں اب دوا کھالو‘‘
میری طرف دیکھتیں اور پھیکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل جاتی
آپ کو سب معلوم ہے۔۔۔۔
اچھا ایک بار اور کہیے۔
میں ہنس دیتا اورکہتا اچھا دوا کھالو اور کسی بچے کی طرح دوائیں منھ میں ڈال کر ایک گھونٹ پانی سے اتار لیتیں۔
ان کے پانی پینے پر پابندی تھی اس لیے 250ایم ایل پانی کی بوتل ہی ان کو دی جاتی تھی تاکہ پانی کی مقدار کا اندازہ رہے۔کبھی اتنی دیر تک وہ دوا لئے رہتی تھیں کہ ایک دودوائیں ان کے ہاتھ سے گر جاتی تھیں اورانھیںپتہ بھی نہیں چلتا تھا ایک بار اسی طرح میں نے انھیں بستر سے دودوائیں اٹھا کر دیں، وہ ہنسنے لگیں میں نے مْنوّر رانا کا شعر سنایا۔
پہلے بھی ہتھیلی چھوٹی تھی اب بھی یہ ہتھیلی چھوٹی ہے
کل اس سے شکر گر جاتی تھی آج اس سے دوا گر جاتی ہے
’’میری ہی زندگی پر ہے بڑا اچھا زندگی کا مشاہدہ ہے ان کا۔‘‘
ان کی ایک عادت بہت عجیب تھی میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلے کر سوتی تھیں اگر اتفاق سے میں کوئی کتاب پڑھنے لگا یا دوسری طرف کروٹ لے لی تو بالکل بچوں کی طرح ناراض ہوتیں۔
’’آپ کو یہ بھی خیال نہیں ہے، ایک کتاب اٹھا لی اور بس۔ہاتھ ادھر لایئے‘‘ اور میںجلدی سے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور وہ آرام سے سو جاتیں۔
۲۸ ستمبر کو شام ساڑھے۶ بجے انھوں نے پیتھالوجی سے اپنی رپورٹ لانے کو کہا جبکہ میں خود کبھی رپورٹس لینے نہیں جاتا تھا۔ شایداسی بہانے وہ مجھے ہٹانا چاہتی تھیں۔ان کی سب سے چھوٹی بہن یاسمین انجم جسے بیٹی کی طرح وہ چاہتی تھیں وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں ان کے لیے انھوں نے چائے بنوائی۔دونوں باتیں کر رہی تھیں اور چائے پی رہی تھیںکہ اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی اور ذرا دیر میں انھوں نے آنکھیں بند کرلیں، مجھے آواز بھی نہیں دی کہ شارب ہاتھ لایئے مجھے نیند آرہی ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular