Tuesday, February 24, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldالوداع 2017

الوداع 2017

प्ले स्टोर से डाउनलोड करे
 AVADHNAMA NEWS APPjoin us-9918956492—————–
अवधनामा के साथ आप भी रहे अपडेट हमे लाइक करे फेसबुक पर और फॉलो करे ट्विटर पर साथ ही हमारे वीडियो के लिए यूट्यूब पर हमारा चैनल avadhnama सब्स्क्राइब करना न भूले अपना सुझाव हमे नीचे कमेंट बॉक्स में दे सकते है|

مشرف عالم ذوقی

For Last Year’s Words Belong To last  Year’s language And next Year’s  Words await another Voice

T.S. Eliot-

2017کے ادبی افق کا جائزہ لیناچاہتا ہوں تو کچھ شاہکار کہانیوں کے مختصر مختصر مکالمے موسیقی بن کر کانوں میں گونجنے لگتے  ہیں ۔ ایک فوجی نے ایک معصوم سی بچی سے دریافت کیا ، جب ہماری یہ چھوٹی سی دنیا آگ اور دھویں سے کھیل رہی تھی،اس وقت تم کیا کررہی تھیں؟ ننھی بچی کا جواب تھا۔ میں اپنے لئے ریشمی اون سے دستانے بن رہی تھی ۔ ایک دانشور نے ایک چھوٹے سے بچے کو روک کر پوچھا ۔سڑک کے اس طرف عظیم الشان عمارتیں ہیں اور دوسری طرف غربت و اغلاس کا ملبہ ، تم کیا کروگے؟کہاںجائوگے؟ بچے نے چلتے چلتے جواب دیا… فی الحال میں اپناسفر جاری رکھناچاہتا ہوں۔

ہلاکت ، خوں ریزی ،جنگ عظیم کی وحشتوں کے درمیان بھی انسانی سفر ختم نہیں ہوتا ،جیسا کہ اس بچے کا جواب تھا۔سفر جاری رہتا ہے ۔ ہر نیا دن ہماری زندگی کی عمرسے ایک دن چھین لیتا ہے ۔ مگر سفر ختم نہیں ہوتا ۔ ہم چلتے جاتے ہیں ۔ اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اسموگ اور دھول کی چادر میں لپٹی ہوئی زہریلی گیس تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے ، یہ ہماری اس نئی دنیا کا سچ ہے ،جہاں تمام تر اقدامات کے باوجود ماحولیات کے تحفظ میںہم ناکام رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا اور سیاسی نظام سامنے ہے جہاں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے خوفناک اثرات کو دیکھتے ہوئے کتنی ہی امن پسند تنظیموں کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ تیسری جنگ عظیم کی صورتحال کو پیداہونے سے روکا جاسکے ۔ آج انسانی حقوق و تحفظ سے وابستہ تنظیمیںلاچارہیںاور ہم آہستہ آہستہ جنگی کہرے میں گھرتے جارہے ہیں۔ صیہونی فوجیوں کی انتقامی کارروائی، میانمار کے مظالم ، روہنگیائی مسلمانوں کی بربادی ، کابل میں مسلسل ہونے والے خودکش حملے، شام اور فلسطین میں ہونے والی انہدامی کارروائی ، سعوی عرب کے ولی عہد کا امریکہ کے اشارے پر اپنے بھائیوں کی ہلاکت اور گرفتاری ، لیبیا ، عراق ،افغانستان کے بعد قطر اور ایران کا نشانے پر ہونا، پاکستان کا کرپشن اور دہشت گردی میں گھراہونا ، چین ، جاپان ، امریکہ اور روس کی حکمت عملیاں …غور کریں تو سیاسی میزائل تاناشاہوں کے حرم سے باہر نکل کر ایک دوسرے پر یلغار کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس بات سے واقف ہیں کہ عالمی سیاست پر آہستہ آہستہ جنگ عظیم کے خطرات منڈرانے لگے ہیں۔

جواب لکھا جارہا ہے /وہ اسی کہرے سے برآمد ہوا ہے ۔

جو لفظ ابھی وجو د میں نہیں آیا /وہ اسی اسموگ سے عالم وجود میں آئے گا۔

سوچنا ضروری ہے کہ یہ خوفناک وحشتیں ، ہمیں کہاں لے کر آگئی ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا۔؟سال کے آخر ی دنوں میں ، ایک پورے برس کے ادب کااحاطہ کرنے بیٹھا ہوا ہوں تو ساحر کی نظم پرچھائیاں مجھے گھیر لیتی ہے ۔ نئی صدی کے 17برسوں میں ایک دنیا تبدیل ہوچکی ہے ۔ سیاست ، ثقافت ، مذہب ، معاشرہ ، مرد اور عورت کے تعلقات ، بچوں کے مزاج ، ہر جگہ بڑی تبدیلیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان کے اثرات ادب پر بھی مرتب ہوئے ۔ اردو افسانوں کی عالمی بستی بھی موجودہ عالمی فضا سے متاثر نظر آتی ہے ۔ ہندوستان کے ادبی ماحول کے تذکرہ سے قبل سیاسی وسماجی تبدیلیوں پر مختصر میںروشنی ڈالنا ضروری ہے ۔ ملک کی معیشت میں غیر معمولی تبدیلی آئی ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر مکالمے ہوئے ۔ ستر برسوں کی سیاست پر مذہبی رنگ حاوی رہا ۔ عدم برداشت اور عدم تحمل پر بحثیں ہوئیں۔ ملک کے ادیب دو حصوں میں تقسیم نظر آئے ۔ سیاست کی اس روشنی سے اردو گھر کے ادبی کمرے گلزار نہیں تھے۔ 2018کا خیر مقدم آتے ہوئے اور 2017کو الوداع کہتے ہوئے یہ سوال ضروری ہوجاتا ہے کہ کیا یہ وہی نہ ختم ہونے والی اداسی ہے جس نے پچھلے ستر برسوں سے اردو دانشوروں کو سیاسی فضا سے دور رکھا ہے ؟ کیا سیاست کے بغیر عمدہ ادب ممکن ہے ؟ صرف ارون دھتی رائے کی مثال پر اکتفا کروں توہمارا نظام تھرڈ جینڈر کے ہاتھوں میں ہے ۔ قدرت کا ستم ہے کہ اس مخلوق کے پاس نہ بغاوت ہے نہ احتجاج ۔ اردو ادیبوں کے سرد ترین رویوں نے اردو کو بڑے عالمی بازار سے دور رکھا ہے ۔ اور اسی لئے مستنصر حسین تارڑ اور شمس الرحمن فاروقی کی کتابیں اگر مین بکر انعامات کی فہرست میں شامل بھی ہوتی ہیں تو انعام کی مستحق نہیں سمجھی جاتیں۔ ایوارڈکمیٹی میں بیٹھے ہوئے مبصرین برصغیر کی قدیم تاریخ اور موجودہ سیاسی پس منظر میں جو موضوعات دیکھنا چاہتے ہیں وہ انہیں ارون دھتی رائے ، اوہان ،مک ،جارج سانڈرس ، نائپال ،سلمان رشدی ، کرن ڈیسائی کے یہاں آسانی سے مل جاتا ہے ، لیکن ارو والوں کے یہاں ان موضوعات کا فقدان اور مارکیٹنگ کی کمی بھی نظر آتی ہے ۔ قرۃ العین حیدر کے آگ کادریا ، مستنصر حسین تارڑ کے حسن وخاشاک زمانے ، رضیہ فصیح احمد کے ناول صدیوں کی زنجیر اگر عمدہ انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع ہوتے تو ممکن ہے انعام کا حقدار ثابت ہوتے ۔ قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا کا ترجمہ خود ہی کیاتھا، کچھ ان کاتعصب ،کچھ ہماری کمی ۔

2017میں اردو کی رنگا رنگ دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو جشن کا ماحول نظر آتا ہے ۔ ریختہ آن لائن اردو کتابوں کے مطالعہ کے لئے عالمی اردو بستی کا سب سے بڑا بازار بن چکاہے ۔ جشن ریختہ کی دھوم پوری دنیا میں رہی ہے ۔ ریختہ کیساتھ اب جشن اردو ، نے بھی پچھلے دو برسوں سے اردو والوںکو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔ ان دونوں نے سوشل ویب سائٹس پر بھی اپنی خاص جگہ بنالی ہے ۔ اردو زبان اب پرنٹ میڈیا سے نکل کر سوشل ویب سائٹس کو فتح کررہی ہے ۔ یہ زمانہ ویسے بھی سوشل میڈیا اور ای بکس کا ہے ۔ اعجاز عبید کی بزم اردو لائبریری کے ساتھ آج زیادہ تر اردو رسائل ویب سائٹس پر اپنی چمک دکھلارہے ہیں۔ مہر افروز ،سبین علی ، قاسم یعقوب ،ابرار مجیب نے سوشل ویب سائٹس پر اردو کو فروغ دینے میں نمایاں کام کیاہے ۔ اس برس پبلی کیشنز ڈیویزن کی میگزین آج کل نے 75برس پورے کئے ۔ ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات دھوم دھام سے منائی گئی ۔ پرانی دہلی سے نکلنے والے رسالہ دین دنیا نے 96سال پورے کئے ۔ مالی دشواریوں کے باوجود اعظم گڑھ کے دارالمنصفین نکلنے والے رسالہ معارف نے سوسال پورے کئے ۔ دلی سے رہنمائے تعلیم 113برسوں سے مسلسل شائع ہورہا ہے ۔ لکھنؤ سے محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کا رسالہ نیا دور جب مدیر سہیل وحید کے ہاتھوں میں آیا اس کی دھوم مچ گئی ۔ وہاٹس اپ ، فس بک اور سوشل ویب سائٹس پر اس نے ہزاروں قاری پیدا کئے ۔ منصور خوشتر نے دربھنگہ ٹائمس کے لگاتار تین خصوصی نمبر افسانہ نمبر ناول نمبر اور غزل نمبر شائع کرکے اردو کتابوں کو امیزن اور فلپ کارڈ سے جوڑنے کا نیا سلسلہ شروع کیا ۔ دسترس ، امروز ، ادب سلسلہ ، اردو چینل ، تفہیم ، استفسار کی اشاعت نے معیاری رسائل کی فہرست میں اضافہ کیا ۔ کونسل ، اردو ادارے اور اردو یو نیورسٹیاں اردو کے پروگرام سال بھر کرتی رہتی ہیں لیکن دشواری یہ ہے کہ ایسے تمام پروگرام پر کچھ پروفیسر حضرات کا قبضہ برقرار ہے ۔ ان پروگراموں میں سال بھر یہی پروفیسر حضرات نظر آتے ہیں۔

2017میں بہار اردو اکادمی کے روح رواں مشتاق احمد نوری نے ہندوستان کی تخلیق کار عورتوں کو اکادمی کا بڑا پلیٹ فارم دیا۔ عورتوں کی آواز گونجی تو یہ بات شدت سے محسوس کی گئی کہ عورتوں کا اپنا ایک منچ ہونا چاہئے ۔ بنات کے نام سے خواتین قلمکاروں کی تنظیم سامنے آئی ۔ اب وومن امپاورمنٹ کو لے کر ڈاکٹر عالمہ نوہیرہ شیخ نے میپ (آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ )کے نام سے سیاسی پارٹی بنالی ۔ یہ پارٹی انتخابات میں بھی اترے گی اس کا ایجنڈا ہندوستانی خواتین کا تحفظ ہے ۔اکتوبر کے آخر میں مالیگائوں میں اردو کتب میلہ میں صرف تین دنوں میں 22لاکھ سے زیادہ کی اردو کتابیں فروخت ہوئیں ۔ اردو کو مردہ تصور کرنے والوں اور قاری کے نہ ہونے کا الزام لگانے والوں کو مالیگائوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ اردو بھی زندہ ہے اور قاری بھی ۔

 ادب کی نئی آوازوں میں گم گشتہ تاریخ کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ غور کریں تو ہم ایک ایسی دنیامیں ہیں، جسے سمجھنے کے لئے ہمارے ادیب اور دانشورقدیم تاریخ کے بکھرے ہوئے صفحات کا تعاقب کرتے ہیںتووہاں بھی سماجی ، سیاسی ، ثقافتی ، معاشرتی ڈھانچے میں وہی عکس نظر آتاہے ، جس کی دھند ان دنوں ہماری نئی دنیا پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ جارج سانڈرس کو 2017کا مین بکر ایوارڈ ملا۔ اس کے ناول لنکن ان دی بارڈو میں امریکی صدر ابراہیم لنکن اپنے بیٹے ولی لنکن سے ملنے شب کی تاریکی میںشہر خموشاں میں داخل ہوتا ہے تو جنگ عظیم اور بے گناہ انسانوں کی ہلاکت پر مشتمل ایک آسیبی دنیا کے دروازے اس کے سامنے کھل جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنے لامتناہی ، وسیع تر بلیک ہول کا زرا سا پردہ ہٹاکر نئی دنیا کے انسانوں سے کچھ کہنا چاہتی ہے ۔ 2017کے نوبل انعام یافتہ جاپانی نژاد کا زئوواشی گورو اپنے ناول نیور لیٹ می گو،میں جنگل کی پراسرار وادیوں کاتعاقب کرتے ہیں تو وسیع تر تاریخ کا مشاہدہ جنگل کو موجودہ تہذیب سے قدیم تہذیب کی طرف لے جاتا ہے جہاں زو واشی گور ایک داستان گو کے طورپر سامنے آتے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو فکشن نے داستان اور حکایتوں سے اپنا رشتہ کبھی منقطع نہیں کیا ۔ یہ داستانیں رنگ بدل بدل کر ہماری کہانیوں کا حصہ رہی ہیں۔ 2017کا سب سے اہم واقعہ یہ ہے کہ پروفیسر گوپی چندنا رنگ کی شہرہ آفاق کتاب کا انگریزی ترجمہ غالب کے نام سے سامنے آیا ۔ اشاعت کے فورابعد اس کتاب کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں دھوم مچ گئی ۔ مولانا رومی کے ساتھ غالب بھی انٹرنیشنل مارکیٹ کیلئے ایک بڑا برانڈ بن چکے ہیں۔ ادبیات (اسلام آباد)اور عالمی اردو ادب (نند کشور وکرم )نے انتظار حسین پر مفصل کتاب شائع کی ۔ کلیات احسن سلیم ، تصویر سخن ، کلیات ثروت حسین نے اردو قاری کو متوجہ کیا۔ رابعہ نے الرباء اردو افسانہ عہد حاضر میں دو حصوں میں شائع کیا۔ اسے ہم اردو افسانے کا انسائیکلو پیڈیا کہہ سکتے ہیں۔ لوح (ممتاز شیخ )نے اردو افسانے کے 117برسوں کا انتخاب شائع کیا ۔ اس میں 167اہم افسانہ نگاروں کی نگارشات شامل ہیں۔

کتابیات2017/

آہٹ پانچویں موسم کی (غزلیں )’عباس رضا نیر ،برگد (افسانے)‘جاوید انور ، منزہ احتشام (آئینہ گر ،افسانے)،قمر سبز واری (پھانے ، افسانے)شادعارفی حیات وجہات (فیروز مظفر ، تنقید)بات کہی نہیں گئی (سیمیں کرن ،افسانے)نیا افسانہ نئے نام (نورالحسنین ، تنقید)اماوس میں خواب (حسین الحق ، ناول)تصریحات(رقیق الاسلام،تحقیق وتنقید)فکشن ، تجزیہ اور موہوم حقیقت (انوارالحق ،تنقید)،اردو افسانہ ۔ مزاج ومنہاج (محمد سلیم سالک ،تنقید)،تخم خوں (ناول ،صغیر رحمانی)داڑھی (افسانوی مجموعہ صغیر رحمانی)،حیات غامدی(شاہ عمران حسین :تاریخی مطالعہ )منٹو کے نادر خطوط (فاروق اعظم قاسمی :تحقیق )،ہمجان (ناول :فارس مغل)،یہ راستہ کوئی اور ہے (ناول، اقبال حسن خاں)،بے رنگ پیا (ناول :امجد جاوید)،عین سر پہ ستارہ (نظمیں :اقتدار جاوید)،اینکر (ناول :وقاص عزیز )،دکھ دان (ناول :اسلام اعظمی)،جرس (برقی مجلہ :محدز ببر مظہر پنوار)،جج صاحب (ناول :اشرف شاد)کھویا ہواجزیرہ (افسانے :عبدالقیوم خالد)بھائی گیٹ کا روبن گھوش (افسانے :امین بھائی )اور جہان گم گشتہ (افسانے :نگہت سلیم)

کتابیں تو بہت ہیں ۔ اردو کی عالمی بستی سے میں نے کچھ ہی نام لئے ہیں ۔ اب برقی مجلّے بھی شائع ہورہے ہیں۔ نند کشور وکرم پابندی سے عالمی ادب کا انتخاب ہر برس شائع کرتے ہیں۔ جرس ، دیدبان جیسے برقی مجلے نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اردو مری نہیں زندہ ہے اور زندہ رہے گی ۔

2017:نئی نسل کی تلاش

ہندوستان کوئی بیجنگ نہیں ہے ،جہاں کسی لائبریری کے باہر اندر جانے کے لئے لمبی قطار لگتی ہو . ابھی یہ کتاب کلچر ہندوستان میں عام نہیں ہے ۔نئی اور تیز رفتار دنیا میں اس کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں .ٹی وی ،موبائل ،انٹرنٹ ،لیپ ٹاپ۔ تہذیب نے ہمارے یہاں اگر سب سے زیادہ نقصان پہچایا ،تو وہ ریڈنگ ہیبیٹ ہے .کتابیں تیزی سے گھروں سے غایب ہونے لگیں .ٹی وی چننلز نے وہ وقت اپنے نام کر لیا ،جو روزمرہ میں ہم کتابوں کو دیا کرتے تھے۔گھر کی عورتیں گھریلو کام کاج سے فارغ ہو کر کتابوں میں زندگی بسر کیا کرتی تھیں۔ایک وہ بھی زمانہ تھا ،جب ہر گھر میں کھلونا ،پیام تعلیم ،نور ،ٹافی ،خاتون مشرق ، جرائم ،شمع ،روبی ، مجرم ، تھذیب نسواں جیسے رسائل پڑھے جاتے تھے۔ ھما ، ھدیٰ ،شبستان جیسے رسائل کی دھوم تھی۔ابن صفی سے اکرم الہٰ بادی ،جاسوسی ڈائجسٹ لائبریری سے حاصل کیے جاتے تھے۔محلے میں چھوٹی چھوٹی لائبریریاں ہوتی تھیں ۔رومانی ناولوں کی بھی دھوم تھی۔خالی وقت میں اسی کتاب کلچر کا سہارا تھا ۔آج یہ تھذیب ماضی کی داستان بن چکی ہے ۔گھر گھرانے بدل گئے ۔بچوں اور نوجوانوں کے شوق بدل گئے —

باہر دھند کی چادر پھیلی ہے .لیکن اس دھند سے باہر آنا بھی ضروری ہے ۔پرانے دن اب واپس نہیں آ سکتے ۔ مایوسی اس مسلے کا حل نہیں ۔ کوشش اس بات کی ہونی چاہیے کہ نئی دنیا کی سوغات کو سامنے رکھتے ہوئے ، جو ٹی وی ،موبائل ،انٹرنٹ ،لیپ ٹاپ کے طور پر بچوں سے بزرگوں تک کو حاصل ہے ،وہ جگہ کیسے تلاش کی جائے ،جہاں کتابوں کی بھی حکومت ہو — یہ عمل انفرادی کوشش سے کامیاب نہیں ہوگا ۔اردو اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ، بھیونڈی کتب میلے میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ قیمت کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ مالیگاؤں میں اردو کے نام پر جلوس نکالے گئے -ہر جگہ اردو سے محبّت کرنے والوں کا جوش و خروش دیکھنے لایق ہے۔جو احباب اردو کا مرثیہ پڑھ رہے تھے ،ان کے کلیجے کو ٹھنڈک ملی کہ اردو زندہ ہے ۔اردو سے کون محبت نہیں کرتا .جو محبت نہیں کرتے ،وہ بھی سیاست کی رسم نبھانے کے لئے اردو بولنے پر مجبور ہیں ۔لیکن یہ سلسلہ صرف مالیگائوں اور بھیونڈی تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔

اردو تنقید کی بات کریں تو یہ سوال لازمی ہو جاتا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ،گوپی چند نارنگ ،شمیم حنفی کے بعد کی نسل کہاں ہے ؟ ابو الکلام قاسمی سے مولا بخش تک کچھ اور نام شامل کر لیں تو یہ نسل بھی بزرگ ہو چکی ہے۔افسانے میں اقبال مجید سے لے کر حسین الحق ،سلام بن رزاق اور ابرار مجیب ،صغیر رحمانی تک ..یہاں زیادہ تر پچاس کی عمر سے آگے کے افسانہ نگار ہیں ..یہ کارواں بھی گزر گیا تو کیا اردو ادب کا سفر تھم جائے گا ؟2017کو الوداع کہتے ہوئے ان سوالوں پر غور کرنا ضروری ہے .شمس الرحمن فاروقی ،گوپی چند نارنگ ،شمیم حنفی کے معیار اور قد کا کویی ناقدہمارے سامنے نہیں .ہمارے بعد دور تک لمبی خاموشی کا بسیرا ہے۔ پاکستان میں کیی نام ہیں جو متاثر کرتے ہیں ۔سیمیں کریں ،منیزہ احتشام ،سبین علی ،اقبال خورشید .رابعہ الربا ،.فیس بک پر کہانیاں لکھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔ہاشم خاں،فارس مغل ،راجہ یوسف ،شہناز رحمٰن ،فائق احمد ،آدم شیر ،ہما فلک،حنیف خاں،نورین علی حق ،کئی نام ایسے ہیں جو تیزی سے راستہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ..مگر یہ سوال اہم ہے کہ انکی شناخت کب بنے گی ؟

ایک وقت آے گا جب ہماری نسل سے بیشتر نام نہیں ہونگے .کیونکہ موت ایک حقیقت ہے .لیکن لکھنے والوں کا کارواں موجود ہوگا .فیس بک ایک بڑی حقیقت ہے . فیس بک پر اچھے رسائل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے .سبین علی اور نقاط کے مدیر ، قاسم یعقوب ,ا عجاز عبید کا رسالہ سمت نے اس برس اچھی روایت شروع کی ہے .اس سلسلے میں اہم نام ابرار مجیب کا بھی ہے ۔

وفیات

اس برس کئی ادیب ہم سے پچھڑگئے ۔ نیر مسعود ، بلراج مینرا، بانو قدسیہ ، ڈاکٹر اسلم پرویز ، حیدر جعفری سید ، پروفیسر یوسف تقی ، ڈاکٹر تشنہ عالمی ، گوہر شیخ پوروی ، خورشیدکا کوی ۔ قصہ گو اٹھتے جاتے ہیں ۔ داستانیں گم ہوتی جارہی ہیں۔ گلیلیوں کو پھانسی دینے کے باوجود زمین گول رہی ۔ ان ناموں کے گزرنے کے باوجود ادب کا کاروبار جاری ہے ۔ بادہ کش اٹھے جاتے ہیں لیکن زندگی کا سفر جاری رہتا ہے ۔ان میں کچھ ایسے نام ہیں جنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔

نیر مسعود:

نیر مسعودکی موت ایک قصہ گو کی موت ہے ۔ رے خاندان کے آثار اور سیمیاجیسی کہانیوں کے خالق نے فکشن کے میدان میں قدم رکھا تو فکشن کی قدیم روایات ، اصولوں ، پیمانوں کی جگہ اپنی علیحدہ روش اختیار کی۔ ان کی کہانیوں کی پر اسرار فضا پر طلسمی حقیقت نگاری کا رنگ غالب تھا۔ لیکن یہ ان کا مخصوص رنگ تھا ۔ وہ نہ کھلتے تھے نہ ماجرا کو کھولنے پر یقین رکھتے تھے۔ انسانی ذات کے طلسم ہو شر با میں داخل ہوکر وہ چپکے سے کچھ کردار تراش لیتے تھے۔ کچھ واقعات گڑھ لیتے تھے اور پھر کہانی ایسی جگہ اختتام پذیر ہوتی کہ قاری کے پاس نہ چوکنے کیلئے کچھ ہوتا نہ جذباتی بننے کیلئے ۔ کبھی کبھی عام قاری مکمل کہانی کے طلسم میں جکرا ہوا ، اختتام پر آکر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتا ۔ نیر مسعود کی اسی انفرادیت نے ان کوعظیم فکشن نگاروں میں شامل کیا کیونکہ فکشن نگار کا کام نہ پیمانے بھرنا ہے نہ چھلکانا ۔ نیر مسعود زندگی کے رموزو اسرار سے ایک بھیدبھری ادھوری کہانی اپنے قاری کے سامنے رکھ دیتے۔ گو یا وہ یہ کہہ رہے ہوتے کہ ہم میںسے کوئی بھی مکمل کہاں ہے ۔ اس لئے کہانی بھی ادھوری رہی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ادھوری لگنے والی کہانیاں اپنی جگہ مکمل ہیں۔ ان کے افسانے اس قابل ہیں کہ مغرب کے شاہکار افسانوں کے مقابلے میں رکھے جاسکیں۔

بلراج مینرا

بلراج مینرا چلے گئے ۔بلراج مینرا ہمارے قبیلے کے تھے۔افسانے لکھتے تھے ۔انکے کئی افسانوں کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی – آتما رام اور ماچس کا ذکر خصوصی طور پرہوا۔پھر وہ گہرے سنّاٹے کے قیدی بن گئے– لوگوں سے ملنا ملانا کم ہو گیا ۔ قمر احسن بہت بڑے افسانہ نگار تھے . انکے ساتھ بھی یہی ہوا ۔۔آج وہ کہاں ہیں شاید یہ علم بھی کسی کو نہ ہو …جسمانی طور پر مین را ہمارے درمیان ضرور تھے ، لیکن ادبی دنیا سے وہ اپنے تمام رشتے ختم کر چکے تھے۔کبھی کبھی سننے میں آتا ،کہ کسی نے بلراج میںراسے ملاقات کی ۔کبھی کبھی مین را کے تعلّق سے کویی اڑتی پڑتی بات بھی سامنے آ جاتی–وہ اردو افسانے کے مستقبل سے نا خوش تھے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ بیس سے پچیس برس میں انہوں نے کسی کا کوئی افسانہ پڑھا تھایا نہیں ۔لیکن وہ خوش نہیں تھے ۔کیا وہ اختلاف کی حد تک اردو افسانوں سے مایوس ہو چکے تھے ؟ یا وہ بھیانک سطح پر ڈپریشن کا شکار تھے ؟اگر ایسا ہے تو کس بات کا ڈپریشن تھا ؟ قمر احسن بھی اسی ڈپریشن کا شکار ہوئے —بلراج اس معاملے میں خوش قسمت تھے کہ قاری اور نقاد دونوں نے انھیں مرنے نہیں دیا .جبکہ قمر احسن جیسے قد اور افسانہ نگار کو بھولے ہوئے زمانہ ہو چکاہے۔ بلراج میںرا کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ کم لکھنے کے باوجود اردو سے پیار کرنے والوں نے انھیں اس صف میں قبول کر لیا تھا جہاں افسانوں کی نمائندگی کرنے والے چند نام ہی ہیں۔اس مختصر فہرست میں آنکھیں بند کر کے انکے دو ایک افسانوں کا تذکرہ نا گزیر ہو گیا تھا .پھر کیا تھا کہ وہ افسانوں کی دنیا سے نکل کر لمبے بن واس پر چلے گئے ؟ اور ایسے گئے کہ واپس نہیںلوٹے —

بانو قدسیہ

بانوقدسیہ کی ہرتحریر مختلف تھی ۔انداز مختلف تھا .زندگی کو دیکھنے کا فلسفہ مختلف تھا ..آتش زیر پا، ایک دن،راجہ گدھ.. امر بیل ..کوئی لکیر سیدھی نہیں ۔ہر لکیر دل میں اتر جانے والی .گھنٹوں سوچنے پر مجبور کرنے والی ..مجھے یاد ہے ،راجہ گدھ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر دو صفحے کے بعد رک جاتا …خیالوں کی سنا می سے باہر نکلنا آسان ہوتا ہے کیا ؟ راجہ گدھ علامتی پیرائے میں انسانی تاریخ کا ایسا المیہ بیان کرتی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں …ہر قدم ایک نیا فلسفہ ایک نیا سوال ہم پر حاوی ہو جاتا ہے .. مشرق اور مغرب کی تفریق کو لے کر حاصل گھاٹ لکھا تو یہاں بھی الجھے الجھے فلسفوں کی دستک موجود تھی .اشفاق احمد کو ہم گڈریا کے حوالہ سے جانتے تھے ..پہلے یہ دنیا گلوبل نہیں ہوئی تھی .پاکستان سے خبریں ہم لوگوں تک تاخیر سے پہچتی تھیں .پھر معلوم ہوا ..اشفاق احمد ڈرامے بھی لکھتے ہیں .ٹی وی کی دنیا کا بڑا نام ہیں .ہم نے اشفاق احمد کو بانو قدسیہ کے حوالے سے نہیں جانا .بانوکو اشفاق احمد کے حوالے کی ضرورت نہیں تھی .دونوں کے اسلوب جدا تحریر مختلف ..گڈریا کا سرور آج بھی باقی ہے .راجہ گدھ کا نشہ آج بھی قایم ..یہ نہ ختم ہونے والا نشہ ہے ..بانو نے صرف راجہ گدھ لکھا ہوتا ،تب بھی یہ نام اردو تاریخ کا ایک اہم حصّہ ہوتا …

احمد جاوید :

2017میںاردو افسانے کی ایک بڑی آواز خاموش ہو گئی۔احمد جاوید چلے گئے –فکشن کی ایک مضبوط کڑی ٹوٹ گئی۔انیس سو ستر کے عشرے میں جدیدیت کے خیمے سے جو معتبر آوازیں گونجیں ،ان میں ایک بہت اہم نام احمد جاوید کا تھا ۔ آہستہ آہستہ اپنے دلچسپ اسلوب ،فکری روش ،ایک عجیب سا تیکھا پن ،سدھے ہوئے خوبصورت جملوں اور اسکے ساتھ انکے مخصوص بیانیہ نے قاری کا دل جیت لیا ۔کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیاں کے لئے ،کے مصداق ایک چھوٹی سی کہانی کو بھی علامتوں ،استعاروں کی مددے سے آفاقی بنانے کا جو ہنر انکے پاس تھا ،وہ کم لوگوں کے پاس تھا ۔اس لئے جدید شہسواروں کی بھیڑ میں بھی احمد جاوید کے یہاں کہانی پن اور فکر کی تازگی موجود تھی ۔انکے بیانیہ میں کویی الجھاؤ نہ تھا۔علامتیں اور استعارے قاری کے ساتھ ساتھ رقص کرتے ہوئے اپنے سارے بھید کھول دیا کرتے تھے۔میں نے احمد جاوید کو سب سے پہلے انکے افسانوی مجموعہ چڑیا گھر کے حوالے سے جانا۔احمد جاوید نے چڑیا گھر میں چوہے ،بھیڑ بکری ،بھیڑیے ،کووے ،کبوتر ،کتے ،کیڑے مکوڑے ،سانپ ،چڑیا ،جنگل ،جانور ،آدمی کی پوری فوج اکٹھا کر لی تھی۔یہ سب انکی کہانیوں کے عنوان تھے .یعنی چڑیا گھر حقیقت میں ایک ایسا چڑیا گھر تھا ،جہاں جانور اور انسان کا بھید مٹ گیا تھا۔احمد جاوید اس منظر ،پس منظر کے شاہد تھے۔بقول احمد جاوید ، انیس سو ستر کے عشرے میں سیاسی ماحول میں خاصی ہلچل پیدا ہوئی ،جس نے مختلف اذہان کو متاثر کیا۔تمثیل کے شہر سے پرندوں ،جانوروں ،حشرات الرض کو فنکارانہ چابک دستی سے،جنگل کی ویرانی کی جگہ داستانوی رنگ بھرنے کا جو سلیقہ یا قرینہ احمد جاوید کے یہاں تھا ،وہ اتنا منفرد تھا کہ وہ صرف انہی کا حصّہ تھا۔جانوروں اور پرندوں کی دنیا کو گویا وہ اپنے چاروں طرف آباد کر لیتے تھے ۔پھر ایک انوکھا داستان گو سامنے ہوتا جس کا سارا زور اس بات پر ہوتا کہ روایت سے الگ داستانوں کی ایک نئی دنیا آباد کی جائے –

پرندے ، ہجرت اور 2017

دیکھتے ہی دیکھتے یہ سال بھی رخصت ہوا… اردو کی ایک بڑی افسانہ نگار نگہت سلیم کے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتا ہوں کہ ایک مسافر گاڑی نے نیم پختہ سڑک پر اتارا اور دیکھتے ہی دیکھتے تہہ در تہہ پھیلے پہاڑی درّوں میں طائوس بلقیس کی طرح غائب ہوگئی (جشن مرگ :افسانہ )۔ہمارا قیام ایک مسافرگاڑی میںہے اور گزرتے ماہ وسال ہمیں خاموشی سے پہاڑی کے درّوں میںاچھال دیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نہ زندگی ختم ہوتی ہے ، نہ فلسفہ ۔ وہی پہاڑی درّے ،وہی نیم پختہ سڑک ،وہی مسافر گاڑی … اس برس کے خاتمے پر یہ مکالمہ ضروری ہے کہ ہم کہاںآگئے ؟ آنے والا برس ہمیں کہالے جائے گا؟سال کے ختم ہوتے ہوتے اسموگ آسمان کی نیلی چادر میں شگاف کیوں ڈال دیتا ہے ؟ میزائل اسلحے اور جنگ جنگ کھیلتے ہوئے ہم بونسائی ہوگئے اور مہاجر بھی۔ اسوقت یہ عالمی بستی مہاجروں کی بستی لگ رہی ہے ۔ انتظار حسین اپنی ایک کہانی میں سوال کرتے ہیں ۔ پرندے ڈار سے بچھڑگئے۔ طو طا اڑگیا۔ جواب ملتا ہے ، طوطا واپس بھی آسکتا ہے ۔ نگہت سلیم کہتی ہے ، انسان کبھی کبھی ہجر میں نئے قیام کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ یا خود اپنے اندر سے ہجرت کرجاتا ہے ۔ باب ڈیلن کی موسیقی بھی ان پرندوں کو ہجرت سے نہیں روک سکتی ۔ اور جیسا کہ ایک شاعر نے درد مندی سے لکھا،پرندے کو ماردو ، نغمہ خاموش ہوجائے گا۔ نئی صدی کے 17برسوں کا المیہ ہے کہ نغمہ خاموش ہے ۔ آسمان پرپھیلے اسموگ سے آگ برس رہی ہے ۔ پرندے اپنے ہی گھونسلے میں مہاجر اور در بدری کی خاک چھانتے ہوئے۔ یہ نئی تہذیب کا المیہ ہے ۔ جس کی پیشین گوئی برسوں پہلے ہرمن ہیسے نے اپنے مشہور زمانہ ناول ڈیمیان میں کی تھی۔’’ پرانی دنیا کا زوال نزدیک آرہا ہے ۔ پرندے مررہے ہیں‘‘۔ اس وقت سب سے بڑا حادثہ یہی ہے کہ انسان مہاجر پرندہ بن چکا ہے ۔ آسمان سے زہریلی گیس برس رہی ہے ۔ پرندرے مسلسل ہلاک ہورہے ہیں۔ جوزف براڈسکی کی نظم یاد آتی ہے ، جب تم ٹائی کی ناٹ باندھتے ہو ، لوگ مررہے ہیں ۔  ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ کے باوجود ادب زندگی سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کرتا ۔ ادب کی تلاش جاری رہتی ہے ۔ اردو کا ادبی افق کل بھی روشن تھا اور آج بھی روشن ہے ۔ ادب ان زہریلی گیسوں کے درمیان اپنی راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔

ہم اجڑیں گے/ پھر بسیں گے

ادب ناخوشگوار حالات میں ہی /زندگی کے بادبان کھولتا ہے

 

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular