9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

مصباحی شبیر احمد
مسعود الحسن ساموں ریاست جموں و کشمیر کے ایک دور افتادہ ا ور پسماندہ سرحدی علاقہ وادی گریز سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مسعود الحسن کا قلمی نام مسعود ساموں ہے ۔ مسعودالحسن ساموں 2009میں ڈویژنل کمشنر کے عہدے سے رٹائر ہوئے اور اس کے بعد ان کی کتابوں کی اشاعت کا مرحلہ کافی تیزی سے چل رہا ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ملازمت کی مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد وہ کافی تیزی سے محنت کررہے ہیں اور اپنی مادری زبان کے لئے وقف ہیں ۔ ۔
بحیثیت ِ مصنف جب ہم اُن کی تصنیفی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ اپنی عمر کے اس حصے میں آکر جس میں بہت سارے لوگ آرام کے طالب ہوتے ہیں وہی مسعود الحسن ساموں اپنی محنت ِ شاقہ کے ساتھ مسلسل کتابیں لکھنے میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے اب تک جو کتابیں لکھی ہیں ان کے نام کچھ یوں ہیں ۔ ’’شینا محاورے گہ مثالیے ‘‘ ’ شنآ گرائمر ‘‘ ’’ سخنائے آشنا ‘‘ شنا زبان رسم الخط اور صوتی نظام ‘‘ ریشی نامہ از ملا بہا ئو الدین متو مع مقدمہ و تدوین و متن ‘‘ ( بہ اشتراک پروفیسر محمد اسد اللہ وانی )’’ گلستان ِ سعدی ‘‘ (شنا ترجمہ)اور جو کتابیں ابھی زیر ترتیب ہیں اُن میں ’’لیئی لومے تھیے ‘‘ ( شنا مجموعہ کلام )’’ سورِ جل بئیی‘‘ ( شنا افسانے ) اور’’ مضامین مسعود‘‘ ( تحقیق و تنقید ) شامل ہیں ۔
مسعودالحسن ساموں اُردو ادب میں جموں و کشمیر کا ایک قابل ِ ذکر نام ہے ۔ سخنائے آشنا اُن کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔اُن کاشمار اُردو زُبان کے معتبر شعراء میں ہوتا ہے ۔ ۔اُن کی غزلیں اور رُباعیات ’’ ہمارا ادب ‘‘ کلچرل اکاڈمی جموں وکشمیر ’’ ماہنامہ آج کل ‘‘ اور ’ ’ شب خون ‘‘ جیسے عہد ساز اور مشہور و معروف رسائل و جرائد میں چھپتی تھیں ۔ ۔ اُن کا اُردو کلام کس پائے کا ہوتا تھا اس متعلق کشمیر کے مشہور زمانہ استاد شاعر عرش صہبائی کی یہ رائے بہت اہم ہے جو انہوں نے اسی مذکورہ مجموعے میں ظاہر کی ہے ’’ میں جب بھی کسی شعری مجموعہ کا جائزہ لیتا ہوں تو سب سے پہلے میری نظر کلام کی پختگی اور پاکیزگی پر پڑتی ہے اور اشعار کی شعریت مجھے اپنی طرف کھنچتی ہے ۔ میں کلام میں سطحی پن برداشت نہیں کرسکتا اور بے ہنگم کلام میرے دل پر بار گزرتا ہے ۔آپ اسے میری کمزوری پر محمول کر سکتے ہیں ۔میری رائے میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ کلام کا معیاری ہونا ہے ۔ اگر مجھے کسی شاعر کا کلام اپنی طرف متوجہ کرتا ہے تو وہ ایسا کلام ہوتا ہے جس میں فنی خوبیاں ہوں ۔ اور وہ بھی صرف خیال تک ہی محدود نہ ہوں ۔ چنانچہ زیر نظر مجموعہ کو جب میں نے پڑھنا شُروع کیا تو بس پڑھتا ہی چلا گیا ۔ مطالعہ کے دوران کسی قسم کے کوفت کا احساس ہونا تو دور کی بات ہے بس طبیعت باغ باغ ، بحال اور نہال ہو گئی‘‘ انہوں نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ سب کتابیں ایسے موضوعات میں ہیں جو اپنے آپ میں بہت دلچسپی کے باعث ہیں ۔ ۔لیکن چونکہ اُن کواپنی مادری زُبان شناسے ایک خاص لگائو ہے تو وہ فی الحال اپناپورا وقت اسی زُبان کے لئے دے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی زیادہ ترکتابیں شنا زبان میں ہیں اورزیر ترتیب کتابوں میں بھی اکثریت شنا زبان کی ہے۔ بات اگراپنی مادری زبان کے لئے اُن کی خدمات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس زبان کو متعارف کرانے اور رسم الخظ کو وجود میں لانے میں مرکزی کردار انہی کا ہی رہا ہے۔ ۔
ترجموں کے باب میں ہم دیکھیں تو اُنہوں یہاں بھی معمولی کتابوں کا ترجمہ نہیں کیا ایک کتاب جن کا انہوں نے ترجمہ کیا ہے اس میں شیخ سعدی کی مشہور زمانہ تصنیف ’’ گلستاںسعدی ‘‘شامل ہے ۔ اس مایہ نازکتاب کا ترجمہ انہوں نے شنآ زبان میں کر کے اس زبان میں عمدہ لٹریچر وجود میں لانے کی شروعات کی ہے ۔ دوسری طرف جن لوگوں کو اُردو اور فارسی نہیں آتی ہے ان کو بھی اس مایہ نازتصنیف سے فائدہ اُٹھانے کا ایک موقعہ دیا ہے ۔ ایک کتاب شنآ زبان رسم الخط اور صوتی نظام ہے اس کتاب میں انہوں اپنی زبان کے رسم الخط اور اس زبان میں رائج محاروں کو جمع کرکے لوگوںکو شنا ٓ زبان سیکھنے میں آسانی پیدا کی ہے ۔ ۔اسی طرح شنا ٓ گرائمر نامی کتاب میں بھی انہوں اپنی مادری زبان کے تمام اصول و ضوابط ترتیب دئے ہیں تاکہ لوگوں کو دقت نہ ہو ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کتاب انہوں شنا زبان میں لکھی ہے تاکہ اس زبان کے متوالوں کو اپنی مادری زُبان میں کسی مستندگرائمر کے نہ ہونے کی کمی محسوس نہ ہو۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو اُن کے اس لا جواب کام کو اس زبان کے بولنے والے زمانہ در زمانہ یاد رکھیں گے اور تاریخ میں اُن کی اس عرق ریزی کو زریں الفاظ سے لکھا جائے گا ۔ اللہ ان کی کی عمر میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔۔
misbahishabir2@gmail.com





