Sunday, April 19, 2026
spot_img

غزل

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

وُجودِ ذات میں اکثر سمٹ جانا پڑا ہے
مری ہستی کو موجوں کے اُلٹ جانا پڑا ہے
مجھے یوں بھی قدوقامت میں گھٹ جانا پڑا ہے
کہ چادر دیکھ کر خود میں سمٹ جانا پڑا ہے
عجب اِک رات کو کھینچی لکیر ایسی ہی اُس نے
کئی خانوں میں اِک ہستی کو بٹ جانا پڑا ہے
وہ جیسے چاہتا تھا اُس کی خواہش کے مطابق
لکیروں میں ہمیں ویسے ہی بٹ جانا پڑا ہے
عجب کیا ہے کہ گردن کو بھی کٹ جانا پڑے گا
مقابل پھر عدو کے ہم کو ڈٹ جانا پڑا ہے
نکلنا تھا مجھے ہر حال میں منزل کی جانب
ہُوا کچھ یوں کہ منزل کو سمٹ جانا پڑا ہے
اُسے آغوش میں اکثر سُلا لیتی ہیں موجیں
جسے اکثر ہی موجوں کے اُلٹ جانا پڑا ہے
کہ جس بحرِ عُمُق سے میں جُدا اِک موج سا تھا
اُسی بحرِ طلب میں ہی سمٹ جانا پڑا ہے
مری تنہائی میں شدّت کچھ ایسی ہی غضب تھی
مجھے اپنے بدن سے ہی لپٹ جانا پڑا ہے
کہ تابانی ہے اُس خورشید کی اِتنی زیادہ
فلک پر چاند کو اکثر ہی گھٹ جانا پڑا ہے
کِیا ہے پُر خطر منزل کو سر ہم نے ہمیشہ
مقابل پھر بگولوں کے ہی ڈٹ جانا پڑا ہے
مجھے تازہ نیا اِک معرکہ درپیش آیا
مری گردن کو میرے تن سے کٹ جانا پڑا ہے
مرا آنگن ترے چہرے کی لَو سے ہے منوّر
سو یوں بھی کیا فلک پر چاند گھٹ جانا پڑا ہے
تسلسل سے روایت پر جو چلتے ہی رہے ہیں
رہِ تہذیب سے اُن کو بھی ہٹ جانا پڑا ہے
فراتِ وقت کی آنکھوں نے دیکھا یہ ستم بھی
کسی تن سے کسی گردن کو کٹ جانا پڑا ہے
ہمیں منزل کو پا لینے کی اِتنی جُستجو تھی
*غبارِ راہ سے دامن کو اَٹ جانا پڑا ہے*
*تعجب کیا ہوا تیرہ شبوں میں تیرگی تھی*
*اماوس رات میں مہتاب گھٹ جانا پڑا ہے*

*صداقت کا بہر صورت بھرم رکھنے کی خاطر*
*مری گردن، مرے ہاتھوں کو کٹ جانا پڑا ہے*

*وہ رستہ جو مری منزل کو جاتا تھا اُسی سے*
*نبیل احمد بسا اوقات ہٹ جانا پڑا ہے*

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular