جمیل ارشد خان

ختم ہوں گی نہ کبھی دل کی امنگیں شاید
یوں ہی پرواز کریں گی یہ پتنگیں شاید
وہ جو سرحد پہ ہیں مضبوط فصیلیں تعمیر
اُن کے نیچے بھی کئ ہوں گی سرنگیں شاید
ختم ہوجائے گی آبادئ انساں لیکن
ختم ہوں گی نہ کبھی آپسی جنگیں شاید
ڈور تھامے رہو امّید کی مرتے دم تک
لوٹ آئیں گی کٹی ساری پتنگیں شاید
کال پر کال مرے دل پہ اچانک ارشد!!
ہیں کسی شوخ کے دل کی یہ ترنگیں شاید





