Wednesday, April 15, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldشنگرفی آسمان پر ابھرتے ہوئے تارے!

شنگرفی آسمان پر ابھرتے ہوئے تارے!

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

ملکؔ محی الدین

بیدر ، کرناٹک
اردو ادب میں افسانہ نگاری کا فن بظاہر جتنا آسان نظر آتا ہے درحقیقت ہے نہیں ایک کامیاب افسانہ کے لیے جو فنی لوازمات درکار ہوتے ہیں ان ہربیک وقت ایک افسانہ نگار کا دسترس رکھنا ناممکن نہیں ہے تو بہت دقت طلب ضرور ہے ۔ کہانی پن ، موضوع کی وحدت ، کردارنگاری ، منظرکشی اورزبان و بیان کی ایسی چاشنی کہ آخرتک قاری کو باندھے رکھنا یہ سب ایک کامیاب افسانے کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں ۔ اگر اردو میں افسانہ نگاری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو منشی پریم چند ، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی کے علاوہ بہت سے سرکردہ افسانہ نگاروں کے نام سہرفہرست نظر آتے ہیں ۔
زیرنظر افسانوں کا مجموعہ شنگرفی آنچل کے سائے ، جس کی خالق محترمہ فرید نثار انصاری صاحبہ ہیں میں کئی ایک ایسے کامیاب افسانے ملتے ہیں جن کو پڑھ کر ذہن پر ایک تاثر قائم ہوتا ہے ایسا تاثر جو زندگی کی گوناگوں کشمکش میں مبتلا قاری کو ایک مثبت راہ دکھائے جیسے اندھیری راہ میں مشعل ۔ میں سمجھتا ہوں یہی مصنفہ کی کامیابی ہے۔
عموما ایسا بھی ہوتا ہےکہ ناقدین ادب کی جانب سے کوئی افسانہ کامیاب قرار دیا جاتا ہےلیکن وہ قاری پر اپنا اثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوتا میرے خیال میں کامیاب افسانہ وہی ہے جس میں اگرچہ کچھ حد تک فنی خامیاں موجود ہوں تو ہوں لیکن وہ قاری کو سوچنے اور اپنا جائزہ لینے پر مجبور کردے اور یہ بات فریدہ صاحبہ کے بیشتر افسانوں پر صادق آتی ہے۔
فریدہ صاحبہ کے ہاں مضوعات کا تنوع ہے ان کا ہر افسانہ ایک اچھوتے موضوع کا احاطہ کرتا ہے اور تمام موضوعات میں جو اقدار مشترک نظر آتی ہیں وہ انسانیت ، رواداری ، اسلامی طرز زندگی اور نظام اسلام کی حقانیت کا برملا اظہار ہیں۔ بے مقصد ادب کی اس بھیڑ میں ان کی صالح نگارشات ایک تازہ ہوا کا جھونکا جیسی ہیں۔
وطن سے دور برسوں خلیج میں مقیم فریدہ صاحبہ کے احساسات اور تخیل میں کچی مٹی کی خوشبو اور گاؤں دیہات کی سادہ زندگی کی مہک اتنی ہی تازہ ہے جیسے وہ کل کی بات ہو اور جس کا اظہار انہوں نے مجموعے میں شامل افسانے ایک مہمان نوازی ایسی بھی ، کوئی دے گفتار کی آزادی میں بڑی خوبی سے کیا ہے۔ یہ ان کی وطن عزیز سے محبت کی مثال بھی کہی جاسکتی ہے ۔
فریدہ صاحبہ نے خلیج میں اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزارا ہے ۔ چونکہ وہ ایک حساس دل اور سوچنے والے ذہن کی مالک ہیں اس لیے اپنے اطراف رونما ہونے والے واقعات کو نہ صرف محسوس کرتی ہیں بلکہ وہاں موجود تارکین وطن کے کرب اور درد سے خوب آشنائی بھی رکھتی ہیں جس کو انہوں نے کیا سات سمندر پار صدائیں جاتی ہیں؟ میں بڑی خوبصورتی سے پینٹ کیا ہے کہ خوشی ، غم ، محرومی کے رنگوں سے زندگی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ابھر آتی ہے۔
مجموعے میں شامل تقریبا سبھی افسانوں نے جہاں خوشگوار تاثرچھوڑا ہے وہیں ایک امر نے بڑی شدت سے اپنی طرف متوجہ کیا ہے وہ یہ کہ افسانہ نگارنے علامتی افسانہ نگاری پربھی توجہ دی ہے۔ مجموعےمیں شامل کچھ افسانے علامتی افسانے کہلائے جانے کے میعار پر پورے اترتےنظر آتے ہیں یہ فریدہ صاحبہ کی پختگیءفن کی دلیل ہیں۔
فرید ہ صاحبہ کے افسانوں کا اختتام جہاں عموما مثبت ہوتا ہے وہیں آخر میں راوی کی زبان سے ادا ہونے والا سوالیہ جملہ قاری کو بہت دیر تک سوچنے پر مجبور کردیتا ہے یہ ان کے اسلوب کا ایک حصہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جاے کم ہے۔
دیگرخواتین افسانہ نگارو ں کی طرح سماجی نا انصافی ، خواتین پر ظلم اور نسوانیت کی پامالی جیسے مضامین فریدہ صاحبہ کے ہاں بھی ملتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فریدہ صاحبہ کے افسانوں میں عصری حسیت اور سائنس کی غیرانسانی استعمال کےخلاف کافی غم وغصہ کا اظہاربھی پایا جاتا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہےکہ وہ اپنے خول میں بند رہنے والی قلم کار نہیں ہیں بلکہ وہ دنیا میں ہونے والے واقعات کو بڑے غور سے دیکھتی اور محسوس کرتی ہیں۔ اور جہاں کہیں ممکن ہے افسانے کو اپنے اظہار کا کامیاب ذریعہ بنانے پر دسترس رکھتی ہیں۔ حقیقت نگاری افسانوی ادب کا ایک اہم حصہ ہے فریدہ صاحبہ کے بیشتر کردار زمینی حقائق کے درمیان پھیلی نا انصافیوں پر آواز اٹھانے اور اس کے خلاف جہاد کا جذبہ لیے ہوتے ہیں ۔ جس کی مثال ان کے افسانے اللہ تو روک دے یہ دل آزاریاں میں موجود ہے ۔
ادب چاہے نثری ہویا شعری لیکن ایک بات جس کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ اس میں راست پند ونصائح کا تذکرہ نہ ہو میری مراد اس سے ہرگز نہیں کہ ادب میں پند و نصائح نہ ہوں بلکہ ادب اسلامی کے پلیٹ فارم سے جڑے قلم کاروں کا وطیرہ ہو کہ ہر تخلیق ایک مثبت پیغام اپنے قاری تک پہنچائے۔ صالح ادب کا اسلوب کچھ یوں ہو کہ قاری خود بخود اس پیغام تک پہنچ جائے زبان و بیان پر ادبی رنگ چڑھا ہو یا ایک ایسا مہین پردہ درمیان میں ہو کہ جس سے پڑھنے والے کو زیادہ لطف آئے اور بات موثر ہوجائے۔
میرے خیال میں ان کے پہلے افسانوں کا مجموعہ شنگرفی آنچل کے سائے ان کی پہچان نہ صرف ادبی دنیا میں بنائے گا بلکہ ان کے ادبی سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ میری دعا ہے کہ وہ اسی طرح اردو ادب کی خدمت میں تادیر مصروف رہیں ، اذہان و قلوب کو اپنی پاکیزہ افکار سے منور کرتی رہیں اور معاشرے کی اپنے قلم کے نشتر سے مسیحائی کرتی رہیں ۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular