Sunday, April 19, 2026
spot_img

حادثہ

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

شہاب الدین شفیق

ہر روز کی طرح جب میں آج صبح نیند سے بیدار ہوا تو دل کچھ بےچین سا لگ رہا تھا سامنے آیئنہ رکھ کر اپنے چہرے کے خدو خال کا جائزہ لیا تو پیشانی کا سوکھا پن اور چہرے کی رنگت پریشانی کی گواہی دے رہی تھی اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کیا سب کچھ ٹھیک تھا خوشبودار ہوا دینے والی کھڑکی کا ایک پٹ کھولا تو وہ بھی کچھ روٹھا سامعلوم پڑ رہا تھا ہوا کے اندر کی انبساط و تازگی ندارد تھی مجھے اپنے آپ میں اپنی ذات کے اندر کچھ کمی کا احساس ہو رہا تھا خیال آیا کہ شاید صبح کا ناشتہ نہ کرنے کی وجہ سے ان سب حالتوں سے دوچار ہو رہا ہوں فورا ناشتہ کیلئے آرڈر کیا قبل اس کے کہ میں کچھ اور سوچتا پل بھر میں ناشتہ میرے سامنے حاضر تھا میں طوعا و کرھا ناشتہ کا ڈبہ کھولا اور بغیر کسی تاخیر کے پورا ناشتہ صفا چٹ کرگیا صرف اس وجہ سے کہ شاید میری شکم سیری میری گھبراہٹ وپریشانی کو ہمیشہ ہمیش کیلئے ناپید کردے پر میری حالت کے اندر ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی میں بار بار سامنے رکھا ہوا آئینہ کے اندر اپنے عکس کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا شاید اپنی زندگی میں آج میں سب سے زیادہ آئینہ کے قریب گیا تھا،اپنی حالت کو سدھارنے اور اپنے ذہن کو راحت وسکون کی پٹری پر لانے کیلئے میں طرح طرح کے وسائل اور حربہ کو اپنا نے میں جٹ گیاپر تمام وسائل میرے اندر تبدیلی لانے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے
ہاں پچھلے کئی مہینوں سے مایوسی اور غمگینی نے اپنی چادر میرے اوپر تان رکھی تھی پر اس قدر پریشانی میں تو آج تک کبھی نہیں گھرا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی مصیبت کا پہاڑ مجھ پر پل پڑنے والا ہو یا غم و اندوہ کا بادل میرے سر کے اوپر پھٹنے کیلئے منڈلا رہا ہو کیا میری پریشانی کی وجہ ناہدہ تھی؟ نہیں وہ نہیں ہو سکتی ہے وہ بیچاری کیوں ہو گی وہ تو دوسال سے میرا خیال رکھ رہی ہے میرے اندر کے احساس کی قدر کر رہی ہے، میرے دکھ درد اور بےچینی کو اپنے سر لیکر میری زندگی میں خوشیوں کا بہار لا نے کیلئے نت نئے طریقہ اپنا رہی ہے، اپنی چاہت کا دروازہ کھول کر میری ہر تلخی کا جواب اپنی بےلوث اور لازوال محبت سے دے رہی، ہر چھوٹی بڑ ی خواہش کی تکمیل اور میری پسندیدہ چیزوں کی بھرپائی کیلئے شب و روز ایک کر رہی پھر میری پریشانی کا سبب وہ کیوں کر ہوسکتی ہے؟ پر میں پریشان کیوں ہوں؟ اور وقت کے ساتھ میری پریشانی کیوں بڑھ رہی ہے؟ میرے گھر پر کوئی حادثہ توپیش نہیں آیا میری ماں کی طبیعت کچھ دنوں سے ناساز چل رہی تھی ہو نہ ہو۔۔۔ یہ خیال آتے ہی فورا موبائل کی طرف دوڑ پڑا اور پلک جھپکتے ہی ماں کے نمبر پہ کال لگایا دو گھنٹی بھی اچھی طرح سے نہیں بج پائی تھی کہ ماں کال ریسیو کرلی، ہیلو! شاداب! بیٹا کیا حال ہے؟ ماں کی پیار بھری آواز سن کر قدر اطمینان ہوا،ماں! آپ کیسی ہیں؟ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ آپ کو کچھ ہوا تو نہیں؟ گھر کے لوگ کیسے ہیں؟ سب لوگ ٹھیک تو ہیں؟ ماں کی آواز سنتے ہی کئ سوالات داغنے شروع کردیئے ہاں بیٹا میں ٹھیک ہوں گھر کے سب لوگ ٹھیک ہیں کوئی پریشانی نہیں ہے پھر ایک غیر مانوس گھبراہٹ میرا پیچھا کیوں کر رہی ہے ماں؟ میرے حلق سے یہ سوال نکلنے ہی والا تھا پر میں اس سوال کو اپنے حلق کے نیچے دابنے میں کامیاب ہو گیا تھا اپنی ماں کو کسی بھی طرح کا ٹینشن نہیں دینا چاہتا تھا قبل اس کے کہ میں فون رکھتا میری ماں سوال کر بیٹھی بیٹا تم ٹھیک تو ہو؟ ہاں ماں میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے پہلی مرتبہ میں اپنی ماں سے اتنا بڑا جھوٹ بولا تھا کیا کرتا وقت ہی کچھ ایسی موڑ پر لاکھڑا کیا تھا کہ جھوٹ بولنا میری مجبوری اور ضرورت دونوں تھی بڑھاپے کی عمر میں اپنی ذاتی پریشانی بتاکر میں اپنی ماں کو اضطراب کے چھت تلے کیسے چھوڑ دیتا ماں سے بات کرنے کے بعد از سر نو اپنی پریشانی کے اسباب تلاش کرنا شروع کر دیئے کہیں میری پریشانی کا سبب ناہدہ سے کچھ دنوں کی جدائی تو نہیں ہے؟ نہیں… یہ کوئی معقول سبب نہیں ہوا کیوں کہ اس سے پہلے بھی تو ہم دونوں کے بیچ کئی دفعہ گرما گرم بحث ہوئی تھی ایک دوسرے پر دوستی کی ڈوری توڑنے کا الزام لگا ئے تھے تلخی کے دوچار کلمات ایک دوسرے کی جانب پھینک دیا کرتے تھے کچھ دنوں تک بات چیت کا سلسلہ بند ہوجاتا پر ہفتہ بھی نہ گزرتا کہ ہم دونوں کسی بہانے ایک دوسرے سے معافی مانگ کر ماضی کی متنازع باتوں کو یوں بھول جاتے گویا کچھ ہوا ہی نہیں پر یہ وقتی جدائی سے آج تک میں اتنا پریشان تو نہیں ہوا تھا… ہاں! ایک بات تھی ہم دونوں کے بیچ باتوں کےسلسلہ کا انقطاع اتنا لمبا کبھی نہیں رہا اس سے قبل ہم دونوں اتنے دنوں تک ایک دوسرے سے بات کئے بغیر نہیں رہتے تھے میں نے ایک دن اسے کال کرنے کی کوشش بھی کیا تھا پر اس کا فون بند بتایا تو میں کیا کرتا میری پریشانی کی اصل وجہ یہی تھی شاید۔۔۔۔ نہیں۔۔ یہ کوئی وجہ ہوئی؟دو متصادم افکار میرے ذہن میں گردش کرنے لگے اور میری بے قراری مزید بڑھنے لگی اب مجھے ناہدہ پر غصہ آرہا تھا میں اندر ہی اندر بڑبڑانے لگا اتنے دن ہوگئے کم سے کم ایک بار کال تو کرنی چاہیئے تھی اتنے دنوں تک بات نہیں کی پتہ نہیں اسے اس بات کا احساس بھی ہے یا نہیں؟ اتنا غیر ذمہ دار وہ کب سے ہوگئی ؟ پر وہ اتنےدنوں تک مجھ سے بات کئے بغیر کیسے رہ سکتی ہے میری برسوں کی محبت اور باتوں کو اتنا جلد کیسے بھول سکتی ہے وہ میرے ان گنت احسان کو کیسے پل بھر میں فراموش کر سکتی ہے؟ میں اپنے آپ سے سوال کرنے لگاکہیں اس کی سوچ بدل تو نہیں گئ؟ اس کا دل بھٹک تو نہیں گیا؟ کسی کی نظر اسے اچک تو نہیں لے گئی؟ ہاں وہ بلا کی خوبصورت تھی ہو سکتا ہے کسی نے اسے پسند کر لیا ہو اور وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے کسی دوسرے کی امانت۔۔۔ نہیں! ایسا نہیں ہو سکتا ہے ناہدہ ایسا نہیں کر سکتی ہے اتنی بڑی بے وفائی کی سوغات وہ مجھے کیسے تھما پائے گی مجھے اس سے بات کرنی ہوگی یہ خیال آتے ہی میں موبائل کی طرف لپکا اور فورا ناہدہ کو کال لگایا پر ہر بار اس سے بات کرنے میں ناکام ہو رہا تھا کیونکہ لگاتار اس کا موبائل بند بتا رہا تھا مجھ پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح بےچینی طاری تھی میں اپنی حالت کو سدھارنا چاہ رہا تھا پر میری حالت میری بساط میں نہیں تھی اسی کشمکش میں اچانک میرے موبائل کی گھنٹی بجی میں موبائل کی طرف دوڑا۔۔ دیکھا ناہدہ کی سہیلی واجدہ کی کال تھی ایک لمحہ تاخیر کئے کال ریسیو کی قبل اس کے کہ میں کچھ بولتا اور پوچھتا واجدہ کی ایک مدھم سی آواز میرے کان سے ٹکرائی؛ ہیلو! شاداب بھائی!
جی!میں شاداب بول رہا ہوں، میں اس کی پوری بات سننے کیلئے فورا بولا، شاداب بھائی!وہ ناہدہ!!! ناہدہ!!!! اتنا بولتے ہی اس کی آواز بھنسنے لگی تھی، میں اس کی آگے کی بات سننے کیلئے بےتاب ہوگیا تھا، میں استفسار کر بیٹھا واجدہ! ناہدہ کو کیا ہوا؟ وہ کیسی ہے؟ کہاں ہے ابھی وہ؟اسے کچھ ہوا تو نہیں؟ واجدہ کچھ بولو پلیز!!!!!تمہیں میری ۔۔۔۔۔۔قبل اس کہ کے میں اپنی بات مکمل کرتا ادھر سے آواز آئی شاداب بھائی!ناہدہ ایک سڑک حادثہ کے شکار ہوگئی جس میں اس کی جان!!!!! جان!!!!!!اتنا سنتے ہی میرا جسم مضمحل ہوگیا ایسا لگا جیسے میرے جسم سے ایک ایک حصہ کٹ کے گررہے ہوں،میری زندگی کی خوشیوں کا دروازہ ہمیش ہمیش کیلئے بند ہو گیا اس طرح میری زندگی بھی ایک حادثہ کے بھنور میں بھنس گئی جس میں صرف ناہدہ کی یادیں ہیں اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular