9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

عالم نقوی
مشہور بیو روکریٹ کالم نگار اُورِیا مقبول جان نے سات سال قبل (منگل ۸ مئی ۲۰۱۲ کوشایع) اپنے کالم میں لکھا تھا کہ آزادی اظہار اور آزادی تحریر و تقریر جیسے خوش نما الفاظ کا آج اس قدر زور و شور سے استعمال کیا جاتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ یہ دونوں لفظ اپنی حرمت کی سر بلندی کے نام پر جب کسی دوسرے کی عزت شہرت ،حیثیت اور ذاتی زندگی اور خاندانی شرم و حیا سے کھیل رہے ہوتے ہیں تو ہم سب لکھاری کس قدر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے کتنا بڑا راز طشت از بام کر دیا گویا ہم نے بہت بڑا تیر مارلیا ،صحافت کو چار چاند لگا دیے ،اپنے سینے پر خود ہی ایک بے لاگ محقق کا تمغہ بھی سجا لیا ! آج کل خبروں کی چاشنی ایسی چیز بن چکی ہے کہ اس میں جتنا زیادہ کسی کی عزت کی نیلامی کا گڑ ڈالا جاتا ہے وہ اتنی ہی لذیز ہوتی ہے !
ایسے تمام لوگ جو دنیا بھر میں فحش لٹریچر کو آزادی افکار و اظہار کے نام سے جاری رکھنے کے حق میں لچر دلیلیں دیتے پھرتے ہیں اُن میں سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ادیب شاعر ڈرامہ نگار اور فلم ساز وہی کچھ تو دکھاتا ہے جو معاشرے میں ہورہا ہوتا ہے اگر معاشرہ ہی گندہ سڑا ہوا غلیظ اور فحش ہے تو وہ تہذیب و اخلاق کے پھول کہاں سے کھلائے ؟ اس کی کہانیاں غزلیں ،نظمیں اور فلمیں تو معاشرے کا آئینہ ہوتی ہیں جیسا معاشرہ ہوگا ویسی ہی تصویر تو آئینے میں نظر آئے گی !
مثلاً سعادت حسن منٹو سے کسی نے پوچھا :کیا حال ہے آپ کے ملک کا ؟ انہوں نے کہا بالکل ویسا ہی جیسا جیل میں ہونے والی جمعے کی نماز کا ہوتا ہے کہ اذان ،فراڈیا دیتا ہے ،امامت قاتل کراتا ہے اور نمازی سب کے سب چور ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر آپ میری کہانیوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو سمجھ لیجیے کہ زمانہ ہی ناقابل برداشت ہے ۔‘
لیکن یہ ادھوری سچائی اور باطل کے لیے باطل کے استعمال کا بدترین نمونہ ہے ۔ معاشرہ کتنا ہی زوال آمادہ اور زوال پذیر کیوں نہ ہو اُس میں خیر اور شر دونوں ہر زمانے میں اور ہمیشہ موجود ہوتے ہیں اور اکثر ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔لوگ اچھائی کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں اور برائی کی طرف بھی ۔ فی ا لواقع کسی بھی معاشرے میں برائی کا غلبہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے لکھنے والے عام کرتے ہیں ۔ کل کے نام نہاد ادب عالیہ والے لکھاریوں کی طرح آج کے دور میں الکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا بھی ۔اَن تشیع ا لفاحشۃ۔ کے سیلِ بلا میں بہا چلا جا رہا ہے اور اپنے ساتھ ساری مثبت انسانی اخلاقی اور بنیادی اقدار کوبھی بہائے لیے جا رہا ہے ۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے آغاز سے آج تک ہر طرح کی بد اخلاقی اور بے لگامی کو کنٹرول کرنے کے ضابطے اور قانون بھی بنائے اور نافذ کیے جاتے رہے ہیں ۔ کسی بھی عہد میں کسی بھی سماج نے انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے نام پر انہیں من مانی کرنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑا ہے ۔ آج انٹر نٹ پر لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں فحش مواد روزانہ اپلوڈ ہوتا ہے لیکن یہ ۔۔نام نہاد دانشور ۔کہتے ہیں کہ حکومت کو ان پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہے یہ اظہار کی آزادی پر پابندی ہے ! جبکہ امریکہ تک نے ۱۹۹۶ میں کمیو نی کیشن ڈی سنسی ایکٹ Communication Decsncy Actپاس کیا جو پوری طرح ضرورت کے مطابق تو نہیںتھا لیکن پھر بھی اس میں بچوں کو اس کی زد سے بچانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن انہی نام نہاد عظیم دانشوروں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔ لیکن امریکی سپریم کورٹ نے ان کی بات نہیں مانی اور فحاشی کے حدود متعین کیے اور بچوں کو فحش میسج بھیجنے کو قابل دست اندازی پولیس جرم کے طور پر بر قرار رکھا ۔ لیکن انٹر نٹ پر فحاشی کا سیلاب رکا نہیں ۔ اور یہ حال ہو گیا کہ بچوں تک کی فحش فلمیں انٹر نٹ پر آنے لگیں اور انکو بلاک کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ۲۵ لاکھ امریکی بچے اس سے متائثر ہو ئے تو ۱۹۹۸ میں تب پارلیمنٹ نے Childonline Protection Act پاس کیا اور حکومت کو اختیار دیا گیا کہ وہ بچوں کو اس عذاب سے بچانے کے لیے سختی سے قانوں کو نافذ کرے لیکن ۔آزادی اظہار کے یہ دیوانے پھر عدالت میں چلے گئے ۔لیکن عدالت ان کی سننے کے بجائے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ قانون کو اور زیادہ سخت بنائے ۔نتیجے میں سن ۲۰۰۰ ء میں Child on line Protection Act کو مزید سخت بنا یا گیا اور اس کے تحت تمام انٹر نٹ سروس مہیا کرنے والوں ،لائبریریوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو Filtering Software لگانے کے لیے پابند کیا گیا تاکہ بے لگام فحاشی اور عریانی پر قدغن لگائی جا سکے۔
امریکہ میں پچھلے انیس برسوں سے یہ قانون نافذ ہے اور کسی بھی عوامی جگہ یا ادارے میں انٹر نٹ پر فحش مواد مہیا نہیں ہو سکتا ۔ برطانیہ میں یہی اختیار قانوناً ایک ادارے ۔انٹرنل واچ فاؤنڈیشن کے پاس ہے۔
آسٹریلیا میں بھی فحش سائٹس کو کنٹرول کرنے کا اختیارAustralian Communication Authorityکے پاس ہے جسے فحش سائٹس کو بند کرنے مقدمہ چلانے اور سزا دینے کا حق حاصل ہے ۔
دنیا بھر میں انٹر پول کے ایک سو ستاسی (۱۸۷)ممبر ممالک ہیں جن میں سے ۹۷ ملکوں نے ایسے قوانین نافذ کیے ہوئے ہیںجن کے تحت چائلڈ پورنو گرافی ممنوع اور قابل سزا جرم ہے ۔ بھارت سمیت ان تمام ممالک میں فحش فلمیں انٹر نٹ پر چلانا ،انہیں اپنے پاس رکھنا اور انہیں دوسروں تک پہنچانا جرم ہے ۔ ایسے ممالک جن کی حکومتوں نے ایک مخصوص URLنظام لگایا ہوا ہے جو لوگوں تک فحش فلمیں پہنچانے پر پابندی لگاتا ہے اور انہیں کنٹرول کرتا ہے ان کی تعداد ۵۴ سے زیادہ ہے ۔ان ملکوں میں کسی فحش سائٹ تک رسائی ممکن نہیں ۔ لیکن فرزندان ابلیس جو بے روک ٹوک فحاشی کے فروغ میں مصروف ہیں اپنی ان کوششوں سے مایوس نہیں ہوئے ہیں کہ انٹر نیٹ کی فحش سائٹوں تک رسائی پر جہاں جہاں کوئی پابندی ہے اسے بنام آزادی اظہار ہٹا لیا جائے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کا کیا علاج کیا جائے ؟





