عارف نقوی، برلن
میں نے سفید قمیض اور پتلون پر ایک کالا مخملی کوٹ پہنااور گھر سے باہر نکل کر رکشا کی تلاش کرنے لگا۔ لکھنؤکے نشیبی علاقے علی گنج کی کالونی کا یہ سیکٹر ابھی زیرِ تعمیر تھا۔ بہت سے نئے مکانات کھڑے ہو گئے تھے۔ دوکانیں اور ریستوراں ابھی نہیںتھے۔ میدانوں میں گھاس ابھی نہیں اُگی تھی۔ جگہ جگہ پر اینٹوں اور ملبوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ درختوں اور پارکوں کے بارے میں شاید ابھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ سڑکیں بھی زیادہ تر کچّی تھیں۔ اس لئے رکشے ٹانگے بہت کم ادھر آیا کرتے تھے۔ حالانکہ آج کل تو لکھنؤ میں انسانوں سے زیادہ رکشے ہی نظر آتے ہیں۔ بسیں اور اسکوٹر بھی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہی ملتے تھے۔میں نے سفید قمیض اور پتلون پر ایک کالا مخملی کوٹ پہنااور گھر سے باہر نکل کر رکشا کی تلاش کرنے لگا۔ لکھنؤکے نشیبی علاقے علی گنج کی کالونی کا یہ سیکٹر ابھی زیرِ تعمیر تھا۔ بہت سے نئے مکانات کھڑے ہو گئے تھے۔ دوکانیں اور ریستوراں ابھی نہیںتھے۔ میدانوں میں گھاس ابھی نہیں اُگی تھی۔ جگہ جگہ پر اینٹوں اور ملبوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ درختوں اور پارکوں کے بارے میں شاید ابھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ سڑکیں بھی زیادہ تر کچّی تھیں۔ اس لئے رکشے ٹانگے بہت کم ادھر آیا کرتے تھے۔ حالانکہ آج کل تو لکھنؤ میں انسانوں سے زیادہ رکشے ہی نظر آتے ہیں۔ بسیں اور اسکوٹر بھی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہی ملتے تھے۔میں برلن سے چھٹیوں پر اپنے آبائی شہر میں آیا ہوا تھا اور اپنی چچازاد بہن اور اس کی فیملی کے ساتھ ٹھیرا تھا۔ شہر کےمرکز تک جانے کے لئے رکشا کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا اور کافی وقت ضائع ہو جاتا تھا۔ حالانکہ صبیحہ جو ایک اسکول میں پڑھاتی ہے یہ کہکر تسلّی کر دیا کرتی تھی کہ ’’بھائی جان ، مجھے تو روز ہی رکشا سے کشمیری محلّے تک دس کلو میٹر تک جانا پڑتا ہے۔ اس کے چاروں چھوٹے چھوٹے بچے بھی رکشا ہی سے اسکول جاتے تھے اور صبیحہ کے شوہر تو رکشے کے ایسے عاشق تھے کہ ایک رکشا دن بھران کے دروازہ پر کھڑا رہتا تھا۔علی گنج سے میں نے ایک رکشا لیا۔ رکشاوالا کم عمر اور محنتی لگتا تھا۔ اس کا رکشا ہوا سے باتیں کرنے لگا اور میں سنگترےاور مونگ پھلیاں کھاتا ہوا تھوڑی دیر میں میڈیکل کالج ، جسے لوگ شاہ مینا اسپتال بھی کہتے ہیں، پہونچ گیا۔ کئی میل کا سفر آناً فاًکٹ گیا۔ وارڈ کے سامنے کچھ دور پر اسپتال کی دیوار سے شاہ مینا صاحب کا مزار لگا ہو تھا۔ کچھ عورتیں برقہ اوڑھے اور آدھی نقاب اٹھائے، ہاتھوں میں پھول لئے اس طرف جا رہی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑے بزرگ کا مزار ہے۔ کہتے ہیں بہت سی مرادیں وہاںپر پوری ہو جایا کرتی ہیں۔ ہر جمعرات کو فقیروں اور حاجتمندوں کی بھیڑ ہوتی ہے اور رات بھر قوالیاں ہوا کرتی ہیں۔مجھے یاد آیا اسی اسپتال میں مرے والد کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت میری عمر سات آٹھ برس کی رہی ہوگی۔ ان کا کسرتی بدن ،بغیر مانگ کے الٹے بال، چہرے پر چھوٹی سی مونچھ آج تک مجھے یاد ہے۔ وہ حیدرآباد میں ایک فزیکل کالج میں پرنسپل تھے اور عید کی چھٹیوں میں مجھے اور میری والدہ کو لے کر لکھنئو آئے تھے اور میرے بڑے چچا کے ساتھ چکبست روڈ پر ٹھیرے تھے۔ عید کے دن انھوں نے اپنے ہاتھوں سے مجھے نئی شیروانی پہنائی تھی۔ سر پر پھنّے دار ترکی ٹوپی رکھی تھی اور عید کی نماز سے لوٹ کرمجھے اور میری والدہ کو لے کر میرے نانا کے گھر پنجابی ٹولے میں عید ملنے کے لئے گئے تھے اورکھانا کھانے کے بعد کوٹھے پر جا کر میرے ماموئوں کے ساتھ پتنگ اڑانے لگے تھے۔ پھر کچھ دیر کے بعد نیچے اتر کر بستر پر لیٹ گئے تھے۔ ان کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ شہر کے سب سے معروف طبیب ڈاکٹر حمید کے کہنے پر انھیں شاہ مینا اسپتال میں بھرتی کر دیا گیا، جہاں وہ ایک پرائویٹ وارڈ میں ڈاکٹرحمید کے ہی زیر علاج رہے۔ میری والدہ اور ممانی اسپتال میں روز ان کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ میں روز اپنی دادی کے ساتھ انکو دیکھنے جاتا اور وہ دیر تک میرے سر پر ہاتھ پھیرتے رہتے۔ مگر ایک دن دادی امّاںسے بولے: ’’ آپ کل عارف کو نہ لائیے گا۔تکلیف ہوتی ہے۔‘‘دوسرے دن جب دادی امّاں ان کو دیکھنے گئیں تو ان کی نظرین مجھے تلاش کر رہی تھیں۔ اور پھر جیوں ہی دادی امّاں وہاںسے رخصت ہوئیںمیرے والد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ بستر سے گر پڑے۔نرسیں اور ڈاکٹر بھاگے ہوئے ان کے پاس پہنچے ۔ میری والدہ شاہ مینا صاحب کے مز ا ر کی طرف بھاگیں اور گڑ گڑانے لگیں مگر انھیں ہوش نہ آیا۔ میں نے بھی جب دوسرے دن ان کو گھر پر دیکھا تو وہ ایک چارپائی پر سفید چادر میں لپٹے ہوئے اطمینان سے سو رہے تھے۔ جسم سے کافور کی خوشبو آرہی تھی۔ تب سے جب بھی میں اس اسپتال میں آتا ہوں یا ادھر سے گزرتا ہوں تو شاہ مینا صاحب کے مزار کے قریب پہنچ کر قدم رک جاتے ہیں اور کمرہ نمبر ۱۸ یاد آجاتا ہے۔’’ صاحب چار روپئے نہیں پانچ روپئے ہوئے ہیں۔ علی گنج سے لایا ہوں۔ کئی چڑھائیاں پڑی ہیں۔ ڈالی گنج والی چڑھائی کم نہیں ہے۔ جان نکال لیتی ہے۔‘‘رکشے والے نے نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا۔ میں نے بحث نہ کی اسے پانچ روپئے دیدئے۔ حالانکہ اس نے خود کہا تھا:’’ صاحب جو سمجھ میں آئے دیدیجئے گا۔‘‘اسپتال میں وارڈ نمبر آٹھ کے بیڈ نمبر بیالیس پر کوئی اور عورت لیٹی ہوئی تھی۔ آس پاس کے کسی بیڈ پر بھی نکہت نہیں تھی۔نکہت میری خالہ زاد بہن ہے اور مجھے بتایا گیا تھا کہ اس کے گلے میں گلٹیاں پڑ گئی ہیں اور وہ آپریشن کے لئے شاہ مینا اسپتال میںبھرتی کی گئی ہے۔ میں جلدی سے باہر نکل آیا۔ دوسرے کمرے میں بیٹھی ہوئی نرس سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نکہت کو خارج کردیا گیا ہے۔ وہ گھر چلی گئی ہے۔کیوں؟ یہ نرس نے نہیں بتایا۔ بولی: ’’ ڈاکٹر سے پوچھئے گا۔‘‘ میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا ۔ سوچا نکہت کے گھر جا کر اسے دیکھ لوں۔وارڈ سے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے کئی رکشے کھڑے نظر آئے۔ میں نے ایک رکشے والے سے پوچھا:’’راجہ بازار چلنا ہے؟‘’’’ ضرور چلوں گا صاحب۔‘‘یہ ایک لمبا تڑنگا رکشے والا تھا۔ گالوں میں کچھ گڑھے ضرور پڑے ہوئے تھے۔ لنگی اور کرتہ پہنے۔ کندھے پر ایک انگوچھا ڈالے۔ اس کا رکشا بھی دوسرے رکشوں کے مقابلے میں کچھ صاف ستھرا لگ رہا تھا۔ سوچا جلدی پہنچا دے گا۔’’ کتنے پیسے لوگے؟‘‘’’ دیدیجئے گا بابو جی۔ جو آپ کی مرضی ہو۔‘‘بڑا چالاک ہے۔ میں نے سوچا ۔ ضرور زیادہ دینا پڑیں گے۔’’ دو روپئے؟‘‘ میں نے الفاظ پر زور دیا۔’’ ارے دیدیجئے گا ، بابو جی۔ جو آپ کی سمجھ میں آئے۔ اب ہم آپ سے بحث تھوڑے ہی کریں گے۔‘‘میں نے بحث نہ کی جھٹ اس کے رکشے پر بیٹھ گیا۔ رکشا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ خنک ہوا تیزی سے میرے گریبان سے گزر کر سینے تک پہنچنے لگی۔ میں نے اپنے کوٹ کے کالر کھڑے کرکے گلا ڈھانپ لیا۔ دھوپ میں ابھی تیزی نہیں آئی تھی۔ رکشا اسپتال کی بائونڈری سے نکل کر سڑک پر دوڑ رہا تھا۔ راجہ بازار کو لے جانے والی سڑک پر بہت سی بوسیدہ عمارتیں تھیں۔ کئی نئی عمارتیں بھی بن رہی تھیں۔ ایک طرف ایک لمبی سی دیوار پر طرح طرح کے کارٹون بنے ہوئے تھے۔ جیسے بہت سے اناڑی مصوروں نے سرِ عام اپنے فن کی نمائش کی ہو یا جیسے وہ روز یہاں آکر اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے ہوں۔رکشا کی رفتار اچانک کم ہونے لگی۔ رکشا والے کے ہانپنے کی آواز نے میری توجہ اپنی طرف کر لی۔ اس کے چہرے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔ وہ بار بار جھاڑن سے اپنا مہنہ پونچھ رہا تھا۔ کئی دوسرے رکشے تیزی سے آگے نکل گئے۔ مجھے کوفت ہونےلگی۔ کہاں پھنس گیا ہوں۔ میں نے سوچا۔ دھوپ کی تمازت بھی محسوس ہونے لگی ۔ میں نے کوٹ کے بٹن کھول لئے۔’’ کمبخت بڑھتا ہی نہیں۔‘‘اچانک رکشے والے نے میری طرف گردن پھیری:’’ بابو جی ، آپ ڈاکٹر ہیں؟‘‘زندگی میں پہلی بار کسی نے مجھے ڈاکٹر سمجھا تھا۔ ہنسی آگئی۔ مجھے تو انجکشن تک لگانا نہیں آتا۔ انلجین اور جیلو سین سے زیادہ دوائوں بھی تمیز نہیں۔ بچپن میں جب کوئی باز میرے کبوتر کو پکڑ لیتا تھا اور میں غلیل کی مدد سے اسے چھڑانے میںکامیاب ہو جاتا تھا تو اس وقت اس کے پھٹے ہوئے پوٹے کو سوئی سے سینے اور اس پر کبوتر کی بیٹ لگاکر ٹھیک کرنے میں ضرورکامیاب ہو جایا کرتا تھا۔ حالانکہ اس وقت مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ سوئی کو پہلے جلا کر اس کا زہر مار دینا چاہئے۔’’ نہیں بھائی مجھے ڈاکٹری واکٹری نہیں آتی۔‘‘رکشے والے نے پھر کچھ نہ پوچھا۔ رکشا سے جدوجہد کرتا رہا۔’’ آخر تمھیں یہ خیال کیسے آیا، کہ میں ڈاکٹر ہوں؟‘‘ میں نے خود ہی بات آگے بڑھائی۔’’ بابو جی آپ کالا کوٹ پہنے ہیں اور سفید پتلون۔ میںسمجھاشاید آپ کوئی وکیل یا ڈاکٹر بابو ہوں گے۔ شاید میری مدد کرسکیں۔ شاید آپ کسی ڈاکٹر بابو کو جانتے ہوں۔ بابوجی۔۔۔‘‘’’کیا تمھارا کوئی رشتے دار اسپتال میں بھرتی ہے؟‘‘’’ نہیں بابو جی۔۔۔اس نے بڑی حسرت سے کہا۔ میں خود بیمار ہوں۔ آپ کا کوئی جاننے والا ہو تو مدد کر سکتا ہے۔ ٹھیک سے علاج ہو جائے گا۔‘‘’’ کیا بیمار ہو؟ ‘‘ مجھے اب اس میں دلچسپی محسوس ہونے لگی تھی۔’’ بابو جی، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ میرے پیٹ میں پھوڑا ہے۔‘‘مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔’’پھوڑا؟‘‘’’ ہاں بابوجی، پیٹ میں۔ وہ ایک ڈاکٹر بابو ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اسپتال میں دکھائو۔ شاید آپریشن کرنا ہوگا۔‘‘پیٹ میں پھوڑا ۔۔۔اور رکشا گھسیٹ رہاہے اور میں اس پر بیٹھا ہوں۔ ایسا لگا جیسے شرم سے گڑ جائوں گا۔ نہیں بلکہ ایسالگا ،جیسے اب وہ رکشے والا اپنی لنگی اور کرتا پہنے، جھاڑن سے پسینہ پونچھ کر میرے اوپر سوار ہو گیا ہے اور میں اس کا رکشا گھسیٹ رہا ہوں اور میرے ماتھے سے پسینے کے جھرنے پھوٹ رہے ہیں۔ رکشے والا کہہ رہا تھا:’’ بابو جی میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں کہ علاج کروا سکوں۔ اسپتال میں بھرتی ہونے کے لئے رسوخ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہاں بابو جی سرکاری اسپتال ہے۔۔۔مفت دواخانہ ہے، مگر رسوخ اور پیسے نہیں ہیں۔ میں تو صرف ایک رکشے والا ہوں۔‘‘اس نے بتایا کہ دن بھر رکشا چلانے کے بعد شام کو مالک کو رکشا کا کرایہ دینا ہوتا ہے۔ روٹی کھانی ہوتی ہے۔ اس کی بیوی اور تین بچّے گائوں پر ہیں۔ انھیں پیسے بھیجنے ہوتے ہیں۔’’ ہومیو پیتھک علاج کرائو۔ بہت سستا ہوتا ہے۔ حکیمی علاج کرائو۔ کسی وید کو دکھائو۔‘‘میں اسے یہ سب مشورے دے سکا ، مگر اسپتال میں بھرتی نہ کرا سکا۔ کچھ دور چل کر میں نے اسے دس روپئے کا ایک نوٹ دیا اور رکشا سے اترگیا۔ بغیر اسے یہ بتائے کہ کیوں اتر رہا ہوں۔’’ بابو جی۔۔۔ٹوٹے پیسے دیجئے!‘‘اور پھر وہ مجھے حیرت سے دیکھتا رہا۔ میں آگے بڑھ گیا۔مجھے آج تک یہ سوچ کر شرم آتی ہے کہ میں اسکی مدد نہ کر سکا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کہیں میرے رکشا سے اتر جانے سےاس کا دل نہ ٹوٹ گیا ہو۔ نہ جانے اب وہ کس حال میں ہوگا۔ اس کا چہرہ شاید اب اور زیادہ پچک گیا ہوگا۔ پھوڑا شاید پھٹ چکا ہوگا یا پھٹنے والا ہوگا۔ اس کا رکشا اب کوئی اور چلا رہا ہوگا۔۔۔اور اس کے بیوی بچّے۔۔۔؟ اور میں اس وقت برلن کے ایک کافی ہائوس میں بیٹھا یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور اسے یاد کر رہا ہوں۔ اپنے ملک کی ایک حقیقت کو۔۔۔رکشے والا۔۔۔جو اکیلا نہیں ، میرے ہم وطنوں میں سے ایک ہے۔





