رشتے

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

احتشام الحق آفاقیؔ

رشتوں کو انسانی زندگی میں ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ اگر انسانی زندگی میں رشتے نہ ہو تو یہ زندگی بے رنگ اور بے کیف ہوتی نظر آتی ہے ۔ رشتے کیوں نہ اہم ہوں کیونکہ رشتوں ہی کی وجہ سے تو ہماری زندی گل و گلزار ہے ۔ اشرف المخلوقات کی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ خوش حالی و رعنائی کی تلاش میں رہتا ہے ۔ رشتوں کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ہم پھر بھی اپنی انا کی خاطر رشتوںکو توڑتے بھی بہت جلد ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتو ں پر اپنے اندر غلط فہمیاں پیدا کرلیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے صدیوں پرانے رشتے میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں اور پل بھر میں ہی یہ رشتہ منقطع ہو جاتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے لئے رشتہ اہم ہی نہ ہو۔ آپسی رشتوں میں دو لوگوں کے مابین توازن کا بنا رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ رشتے ذرا سی عدم توازن سے ٹوٹ جاتا ہے جو کبھی نہیں جڑتا ہے۔رشتہ اگر ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ جڑنا بہت مشکل ہے ۔
رشتہ چاہئے دوستی کا ہو یا آس پڑوس کا یا پھر گھریلو ، یا خاندانی تما م رشتوں کو اہمیت دینا بہت ہی ضروری ہے ۔رشتوں کو اگر اہمیت نہ ملے تو وہ بہت جلد ٹوٹ جاتاہے ۔رشتوں کی اہمیت انسان کی زندگی میں ایسے ہی ہے جیسے پودے کے لئے پانی۔جیسے پانی کے بغیر پودے مرجھا جاتے ہیں ایسا ہی حال انسان کا ہوتا ہے کہ کوئی بھی رشتہ جب اس سے جدا ہوجائے تو وہ مرجھا جاتا ہے اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے ۔یہ رشتے دوستی کے ہو، بہن بھائی یا پھر والدین۔ مگر میرے خیال میں ان رشتوں میں بھی احساس کا ہونا ضروری ہے اگر احساس نہ ہو تو ہر رشتہ بے معنی ہوجاتا ہے۔یہ رشتے اس وقت مزید آگے بڑھنے سے کتراتا ہے جب اس میںاحساس ناپید ہو جاتا ہے ۔ احساس ہی تو ہے جو تمام رشتوں کو سنجو کر رکھتا ہے ۔ احساس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جتنا میرے لئے اور لوگ اہم ہیں اتنا ہی میں اوروں کے لئے اہم ہوں ۔ رشتوں میں احساس کمتری بھی ایک بری شے ہے ۔ رشتہ توجہ مانگتا ہے اگر توجہ نہ دی جائے تو رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔رشتے، توجہ، قربانی اور وقت دینے سے مضبوط ہوتے ہیں۔سننے اور سنانے کی عادت مضبوط کرتی ہے۔زندگی اور خربوزے میں اسی وجہ سے ایک قدر مشترک رکھی گئی ہے کہ پھیکی اور پھیکے ہونے پر بھی دل اسے پھینکنے یا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ انسان کھانے اور پانی کے بغیر چند دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن امید اور تمنا کے بغیر ایک پل جینا بھی محال ہوتا ہے، افسوس ہمارے ہاں لاکھوں دولخت انسان امید کے بغیر ہی جی رہے ہیں۔رشتوں کی حقیقت کے حوالے سے یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ رشتہ کتنا ہی پرانا خونی یا پھر دیرپا کیوں نہ ہو رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے میں ہوتی ہے افسوس ہم سبھی سے برداشت کی برکت رخصت ہوچکی ہے۔ ہمیں زندگی صرف اپنے لیے یا کسی اور کے لیے وقف نہیں کرنی چاہیے جن کے ساتھ ہم زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ زندگی ان کے نام ہونی چاہیے جن کے بنا ہم زندگی نہیں گزار سکتے۔
تعلق اور رشتے فرصت کے نہیں بلکہ عزت توجہ اور اہمیت کے محتاج ہوتے ہیں انھیں جتنی قدرومنزلت دی جائے اتنے ہی وہ گہرے اور مضبوط ہوتے جاتے ہیں، لیکن کیا ہے کہ ہم سب زندگی کے مسائل، مصائب اور بکھیڑوں میں پھنس کر اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر اہم خونی رشتوں کی خدمت سے محروم رہتے ہیں اور اس خدمت کا قرض کندھوں پر اٹھائے اپنی اپنی قبروں میں چلے جاتے ہیں۔ہمارے درمیان جو بھی رشتے قائم ہوتے ہیں وہ سب اللہ رب العزت کی عطیہ ہے ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر اہم رشتوں کو اہمیت نہیں دیں گے تو وہ رشتہ دن بہ دن کمزور ہوتا چلا جائے گا اور وہ اس میں کمزروی و لاتعلقی اپنا پیر جماتا چلا جائے گا ۔ ہم سب کو رشتہ نبھانے کی کوشش کرنی چاہئے نا کہ رشتہ توڑنے کی ۔ آپسی رشتوں میں بات چیت کریں ، اپنے خیر خواہوں کے ساتھ وقت گزاریں ۔ ان کو اپنی زندگی میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھیں ، ان کی قدر کریں ۔ تبھی یہ رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور رشتوں کی بحالی میں اعتماد کا سب سے بڑا رول ہوتا ۔ رشتوں میں اعتماد کی کمی کی وجہ سے بھی رشتہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اسلئے اپنی زندگی میں رشتوں کو اہمیت دینا سیکھئے ، یہی رشتے تو ہیں جو ہمیں زندہ رکھتا ہے اور ہم رشتوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔
eafaqui1995@gmail.com
ضضضضض

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular